• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • تمہارا ووٹ مجھے سانس نہیں لینے دے رہا۔۔علی نقوی

تمہارا ووٹ مجھے سانس نہیں لینے دے رہا۔۔علی نقوی

جارج فلوئیڈ کون تھا؟؟
یہ جاننا شاید ضروری نہیں ہے، اس کا جرم کیا تھا؟
بظاہر اس کا جرم اگر کالا ہونا نہیں بھی ہے تو سفید فارم نہ ہونا ضرور ہے، آج کی دنیا میں ایسے چھوٹے چھوٹے جرم آپکی موت کے لیے کافی ہیں، جیسے پاکستان میں کریانے کی دوکان چلانا، یا انڈیا میں مسلم حمایتی ہونا۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے حواس ابھی کرونا کے جھٹکے کی سنسناہٹ سے بحال نہیں ہوئے تھے کہ امریکی پولیس کے ہاتھوں قتل ہوئے سیاہ فام جارج فلوئیڈ نے امریکہ کے لیے وہ مشکلات کھڑی کر دی ہیں کہ ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ فسادات امریکہ کو سول وار کی طرف دھکیل سکتے ہیں، اس وقت امریکہ کے تمام بڑے شہروں کے علاوہ یورپ اور آسٹریلیا کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں اس واقعے کے خلاف مظاہرے جاری ہیں، معاملہ یہاں تک پہنچا کہ لوگوں کے وائٹ ہاؤس پر حملہ کیا جس کی وجہ سے ٹرمپ اور پومپیو کو انڈر گراونڈ بنکرز میں پناہ لینی پڑی۔۔۔ میرے جیسوں کے لیے یہ سب کچھ باعثِ غم و اندوہ ضرور ہے لیکن باعثِ حیرت نہیں کیونکہ دنیا کے عوام نے جس طرح کے حکمرانوں کو اپنے اوپر مسلط کیا ہے وہ ان کو یہیں پہنچا سکتے تھے، جہاں پہنچا رہے ہیں، ہم دانشوروں سے سنتے ہیں ،کہ رائٹ اور لیفٹ کی بحث اب پرانی ہو چکی ہے، اب دنیا اور سیاست کو پرکھنے کے  معیارات تبدل ہو گئے ہیں لیکن کیا کریں کہ دو دن قبل ٹرمپ نے اپنے ایک خطاب میں یہ فرمایا کہ جارج فلوئیڈ کی موت ایک سانحہ ہے جس پر افسوس ہے یہ ایک حادثہ تھا کہ جس کو لیفٹ ونگ کے شر پسند عناصر نے ہوا دی ہے، اور اگر یہ سلسلہ یونہی چلا تو وہ امن عامہ کے نفاذ کے لیے کچھ بھی کریں گے، اب ٹرمپ کی لیفٹ سے کیا مراد ہے؟؟ یہ تو ٹرمپ ہی بتا سکتے ہیں لیکن اب مجھے یہ اجازت بھی دی جائے کہ میں ٹرمپ اور ان جیسے باقی حکمرانوں کو رائٹ ونگ کہوں اور اسی میں بریکٹ کروں۔۔۔

ہم جب رائٹ ونگ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو لوگ اس سے مراد مذہبی ہونا لیتے ہیں (جیسے لبرل مطلب لا دین ہونا نکال لیا جاتا ہے)، میرے خیال میں رائٹ ونگ  وہ ہے ,جو اپنے نظریات میں انتہا پسند ہے اس کا مذہب سے کسی قسم کا کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے، جس طرح اپنے آپ کو مسلمان کہلانے والے طالبان اور داعش رائٹ کے نمائندے ہیں بالکل اُسی طرح وہ ہندو کہ جنہوں نے بابری مسجد مسمار کی تھی وہ بھی رائٹ ونگ سے ہی تعلق رکھتے ہیں، ٹرمپ کا معاملہ اور بھی زیادہ مزے دار ہے ،ایک تو انکے مذہبی رجحان کا انٹرنیٹ پر کوئی واضح سراغ نہیں ملتا دوسرا یہ کہ33فیصد  امریکیوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا کوئی مذہب نہیں ہے،16فیصد  کی اس بارے میں کوئی رائے سرے سے ہے ہی نہیں اور34 فیصد کے خیال میں وہ پروٹسٹنٹ مسیحی ہیں، اور تشویشناک بات یہ ہے کہ24۔6 فیصد کی رائے میں انکی پالیسیاں بالکل ٹھیک ہیں۔۔

2008 میں امریکی عوام نے اوباما کو منتخب کیا تو دنیا کو لگا کہ شاید عوام کو اپنی بش کے ٹائم پر کی گئی غلطی کا احساس ہوگیا ہے کہ جس نے امریکی عوام کے ٹریلینز آف ڈالرز افغانستان اور عراق میں اُس جنگ میں جھونک دئیے ہیں کہ جس کا نہ تو کوئی نتیجہ نکلا اور نہ ہی کوئی فائدہ ہوا، لیکن اُسی  عوام نے ایک بار پھر دنیا کو حیران تب کیا، جب ہیلری کلنٹن کے مقابلے پر کھڑے مخبوط الحواس ٹرمپ کو کہ جس کی شہرت بوکسنگ کے مقابلوں میں موجود ایک جوکر کی تھی صدر منتخب کیا جبکہ اس کا پورے کا پورا بیانیہ شدت پسندی اور نفرت پر مبنی تھا، بالکل اُسی طرز پر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت میں 2014 میں مودی کی جیت نے شائنگ اور رائزنگ انڈیا کی ہنڈیا چاندنی چوک میں پھوڑ دی۔۔۔ اگر سعودی عرب کو دیکھیں تو اسی زمانے میں شاہ سلمان کے بیٹے محمد بن سلمان کی اٹھان ہوئی کہ جنہوں نے ہمسایہ ممالک میں تو جو اودھم مچایا سو مچایا، سب سے پہلے اپنے ہی ملک کے شہزادوں کو  قید کیا اور اسکے بعد مڈل ایسٹ میں دبی ہوئی چنگاریوں کو ہوا دینی شروع کی ،ساتھ ہی یمن پر بمباری شروع کر دی، اس پر کمال ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ تک فرما دیا کہ جو اسلام کا ورژن ہم لائے تھے ،وہ مغرب کے کہنے پر ہم نے پروموٹ کیا تھا، اسی زمانے کے آس پاس انگلینڈ میں بریگزٹ ہوتا ہے اور وہاں بورس جانسن جیسا قبیح شخص وزیراعظم بن جاتا ہے ، یہی وہ زمانہ ہے کہ جب تحریک انصاف جیسی فاشسٹ حکومت پاکستان میں قائم ہو جاتی ہے جو سیاسی مخالفین کو جانور اور زندہ لاش سمجھتی ہے، جس کے وزیر یہاں پانچ پانچ ہزار سیاست دانوں کو پھانسی کے پھندوں پر جھولتا دیکھنا چاہتے ہیں، ترکی کی بغاوتوں اور عوامی رد ِ عمل بھی انہی دنوں کی باتیں ہیں۔۔۔

یہ سب کیا ہو رہا ہے؟؟ کیا یہ سب آپس میں جُڑا ہوا ہے ،یا الگ الگ ہے؟؟ کیا پوری دنیا اس وقت انتہاپسندی کا شکار ہے؟۔تو ان سب سوالات کے جواب ہاں میں ہیں۔۔ اس وقت کے معروف بیانیے کی تشکیل جھوٹ، نفرت اور انتہا پسندی پر ہوئی ہے، اب اگر آپ مجھ سے اختلاف کریں گے تو میں آپ کو بُرا نہیں سمجھوں گا ،بلکہ آپ میرے لیے واجب القتل ہیں کیونکہ اگر آپ مجھ سے اتفاق نہیں کر رہے تو آپ نقص امن کا باعث ہیں اور چونکہ میں صحیح راستے پر ہوں تو مجھے ہی آپکو ٹھکانے لگانے کا کام بھی کرنا ہے، اور آپ کے ملک دشمن ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ آپ اس بیانیے سے اتفاق نہیں کر رہے جو ریاست کا بیانیہ ہے، مثال کے طور پر اگر آپ امریکی ہیں اور آپ امریکہ کو سب کی مشترکہ سر زمین مانتے ہیں ،یا آپ امریکی ہیں اور ایران کے مخالف نہیں ہیں تو بنیادی طور پر آپ غدار اور قیام امن میں رکاوٹ ہی نہیں بلکہ نقصِ امن کی وجہ بھی ہیں، اگر آپ پاکستان میں رہتے ہیں اور فوج پر تنقید کرتے ہیں تو آپ غدار ہیں اور اللہ نہ کرے اگر آپ انڈیا کو غلط  نہیں سمجھتے تو آپ ملک دشمن سے لیکر کافر اور واجب القتل سب ہیں، اس رویہ کے حامل افراد رائٹ ونگ  کہلاتے ہیں۔۔۔

آئیے ذرا امریکہ کی جانب دیکھتے ہیں ،موجودہ صورتحال پر صدر ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ اگر مظاہرین باز نہ آئیں  تو وہ فوج کو طلب کر کے طاقت کے استعمال سے ان کو روکیں گے، جبکہ اس وقت سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے کہ جو ہوسٹن کی پولیس کے ہیڈ کا انٹرویو ہے کہ جس میں میزبان ان سے پوچھتی ہے کہ آپ کی صدر ٹرمپ کے بیانات پر کیا رائے ہے تو وہ کہتے ہیں  کہ اگر ٹرمپ لوگوں کے حق میں کوئی بھلائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، تو اپنا منہ بند رکھیں کہ ایک واقعہ اگر ہو ہی گیا ہے تو بجائے اس کے آپ اس پر معذرت خواہ ہوں آپ لوگوں میں اشتعال انگیزی کیوں ابھارنا چاہتے ہیں ،کرونا سے ستائی ہوئی عوام اُس وقت کتنے غصے میں ہوگی کہ کرونا کی شدید ترین لہر کے باوجود وہ سڑکوں پر ہیں اور جان جوکھم میں ڈال کر وائٹ ہاؤس پر بھی حملہ آور ہو رہے ہیں، ہوسٹن پولیس کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب کی بار امریکی عوام کو سوچ سمجھ کر ووٹ دینا ہے، یہ وہی بات ہے جو ہم جیسے لوگ امریکہ کے عوام سے ہر روز کرنا چاہتے ہیں۔۔۔

ہمارے ملک میں ایک عمومی تاثر یہ ہی رہا ہے کہ مغربی عوام با شعور ہیں اور ہمارے یہاں کا اعلیٰ ترین دماغ بھی وہاں اسی لیے چلا جاتا ہے کیونکہ وہاں تعلیم اور شعور ہماری نسبت بہت زیادہ ہے اس بات پر سب سے زیادہ شک مجھے تب ہوا تھا کہ جب میں نے امریکہ میں ہونے والے عمران خان جلسے میں بیس، تیس، پچاس ہزار پاکستانیوں کی والہانہ شرکت دیکھی کہ کس طرح سے وہ دور دور سے اس جلسے میں عمران خان کی بڑکیں سننے آئے اور کچھ ہی دن بعد پاگل پن کا ایک اور مظاہرہ تب ہوا جب انڈین اور امریکی عوام ٹرمپ اور مودی کی پاگل پن پر مبنی تقاریر اس سے کہیں بڑی تعداد میں سن رہے تھے جو عمران خان کے جلسے میں آئی تھی، ہم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کہاں ہیں وہ ڈاکٹر صاحب کہ جو عمران خان کی پہلی تقریر سننے کے بعد سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر امریکہ سے پاکستان شفٹ ہو رہے تھے؟

میری رائے میں پوسٹ نائن الیون دنیا کے ڈائریکٹر نے اس دنیا کا ڈیزائن بنایا ہی انتہاپسندی کے رنگوں سے ہے، ورنہ یہ کیسے ہو سکتاہے کہ امریکہ کہ جہاں کرونا نے سب سے زیادہ تباہی مچائی ہے اس امریکہ کا صدر بجائے کرونا پر توجہ دینے کے اس بات پر پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہو کہ چائنہ کو کس طرح سبق سکھایا جائے؟؟ بالکل اسی طرح آپ نے دیکھا کہ ان ہی کرونائی دنوں میں انڈیا اور پاکستان کا باڈر بھی گرم ہے اور دونوں ملک کرونا کو چھوڑ کر ایک دوسرے کے دانت کھٹے کر رہے ہیں۔۔۔اسی طرح لداخ سے بھی انڈیا چائنہ مد بھیڑ کی اطلاعات ہیں۔۔۔ کیا ہی عجیب بات ہے کہ ایک ایسا ملک کہ جس کے اختیار میں دنیا کے بیشتر معاملات ہوں ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور یونائٹڈ نیشنز سمیت دنیا کا ہر ادارہ اس کی جنبش آبرو کا غلام ہو اور وہ ملک ہر بات کو صرف انتہا پسندی کی عینک کے پیچھے سے دیکھتا ہو؟؟ عجب نہیں ہے کہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے کسی دوسرے ملک کے ساتھ تعلق کی بنیاد اسلحے کی خرید و فروخت ہو؟؟ آپکو حیرت نہیں ہوتی کہ وہاں کے عوام امریکہ کو نہ صرف امریکیوں کے رہنے کی جگہ سمجھتے ہوں بلکہ انکے ووٹ  دینے کی بنیاد بھی یہی شدت پسندی ہو؟۔ یہ ہے وہ رائٹ کا بیانیہ جس پر اس ماڈرن دنیا بنانے والوں نے اس کی بنیاد رکھی ہے۔۔۔ اور اس کے اثرات ہم پوری دنیا پر دیکھ سکتے ہیں، کیا عمران خان اور مودی میں بھی ڈھٹائی کا تقریباً وہی عالم نظر نہیں آتا جو ٹرمپ میں ہے؟؟ کیا وہ ٹرمپ جو ایران کو دھمکیاں دیتا ہے اس میں اور اس عمران خان میں کوئی فرق ہے جو اپنے جلسے میں ایک سوال پوچھنے والے بچے کو رعونت سے بھرپور لہجے میں باہر نکال دئیے جانے کی دھمکی دیتا ہے؟۔ فرق ہے تو صرف اوقات کا ہے باقی دونوں ایک ہی سطح کے ذہنی مرض کا شکار ہیں، کیا وہ پاکستانی ایجنسیوں کے اہلکار جو ہر روز صحافیوں اور ٹی وی مالکان کو دھمکاتے ہیں ان میں اور ان سعودی اہلکاروں میں کوئی فرق ہے کہ جنہوں نے جمال خشوجگی کو ٹھکانے لگایا تھا؟؟ بالکل اسی طرح اس امریکی اہلکار کہ جس نے جارج فلوئیڈ کو مارا اس میں اور سانحہ ساہیوال میں شہید ہونے والی دس بارہ سالہ اریبہ کے قاتلوں میں کیا فرق ہو سکتا ہے، یا ان میں کہ جنہوں نے ماڈل ٹاؤن فتح کیا تھا؟؟

دنیا کی عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جن لوگوں اور جس نظام کو ان کا نجات دہندہ کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا وہ انکی گھٹن میں دن بہ دن اضافہ کرتا جا رہا ہے اور خصوصاً امریکی عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آپ وہ لوگ ہیں کہ جن کی دنیا تقلید کرتی ہے آپ نے دنیا کی سمت کا تعین کرنا تھا آپ کس طرف چل نکلے ہیں؟؟ آپ لوگوں نے بش کے بعد آنے والے ٹرمپ سے دنیا میں امریکی حملوں سے مرنے والے پندرہ لاکھ افراد کی موت اور اپنے ٹیکس کے ٹریلینز آف ڈالرز کا حساب مانگے بغیر کس طرح ووٹ دے دیے؟۔ ہم تھرڈ ورلڈ کے لوگ تو چلو جاہل اور نا بلد تھے ہمیں تو اپنے حقوق کی بھی پوری آگہی نہ تھی، آپ کو کیا ہوا کہ آپ نے ٹرمپ جیسے کو کیوں سربراہ مان لیا؟؟ آخر اس انگریز کہ جس کی ذہانت کی ایک دنیا معترف تھی اس کی نسلوں کو کیا ہوا کہ ان کا حکمران بورس جانسن بن گیا؟؟

آخر میں عرض وہی ہے جو ہوسٹن کی پولیس کے سربراہ نے کی کہ امریکی عوام کو اب ووٹ کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا ہے ،کرونا شاید یہی سمجھانے آیا ہے کہ مزید غلطی کی گنجائش نہیں ہے ورنہ آپ کے ووٹ سے ہر روز کسی نہ کسی جارج فلوئیڈ کا سانس رکتا رہے گا۔۔ کیونکہ دنیا کی نازک گردن پر رائٹ کے گوڈے کی گرفت مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”تمہارا ووٹ مجھے سانس نہیں لینے دے رہا۔۔علی نقوی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *