کالم

کیا پاکستان میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر ہماری قسمت بدل سکتے ہیں؟۔۔۔غیور شاہ ترمذی/حصہ اوّل

قدرت نے پاکستان کو وسیع پیمانے پر قدرتی وسائل سے نوازا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم نے ان ذخائر کو صحیح طور پر استعمال نہیں کیا۔ مثال کے طور پر ہمارے صوبہ سندھ میں کوئلے کے دنیا کے دوسرے بڑے←  مزید پڑھیے

لازمی فوجی تربیت۔۔محمد اقبال دیوان/دوسری ،آخری قسط

عجب معاملہء بے چارگی و کم مائیگی ہے۔ پچھلے مضمون میں ایک ذمہ دار افسر کے وہ مشاہدات بیان ہوئے ہیں جن کی روشنی میں ہم بھی ان خامیوں ،کوتاہیوں اور دکھ بھری مثالوں سے بارہا دوچار ہوئے ہیں ویسے←  مزید پڑھیے

ماتم کرو اے اہلِ پاکستان،ماتم کرو۔۔۔محمد اظہار الحق

افسوس! کوئی طہٰ حسین اس ملک کی قسمت میں نہیں! بنفشہ اور گلاب کے پودے جڑوں سے اکھاڑ دیے گئے۔ دھتورے کے بوٹے لہلہا رہے ہیں۔کہاں وہ ساون کے آم کے درختوں سے ٹپکا لگتا تھا۔ ہر طرف حنظل‘ نیم←  مزید پڑھیے

عمران ،ہم اور تم۔۔۔آصف محمود

ہم جیسے طالب علم تو عمران خان پر تنقید کریں تو بات سمجھ میں آتی ہے کیونکہ ہمیں اصلاح احوال کی امید تھی اور یہ امید بر آتی دکھا ئی نہیں دے رہی لیکن شریف اور زرداری خاندان کے دستر←  مزید پڑھیے

پاکستان کی تاریخ میری انگلیوں کی پوروں پر لکھی ہوئی ہے۔۔اسد مفتی

ہماری تاریخ کے سیاہ ابواب میں اضافہ ہوتا چلا جارہاہے۔حکمرانوں کی پیشانی کے داغوں کی تعداد بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔اور یہ بات پوری قوم کے لیے باعثِ ندامت ہے کہ بھارت کی آزادی کی عمر بھی اتنی ہی ہے←  مزید پڑھیے

پاکستانیوں کے مغالطے۔۔۔۔گل نوخیز اختر

ایک دور تھا جب مجھے اپنا آپ سو فیصد ٹھیک سمجھنے کی بیماری تھی۔مجھے لگتا تھا کہ جو کچھ میں سمجھتا ہوں وہی حقیقت ہے اور اس کے علاوہ ہر بندہ غلط ہے۔ پاک ٹی ہاؤس نے اس بیماری کا←  مزید پڑھیے

پاکستان اور لازمی فوجی تربیت۔۔۔ محمد اقبال دیوان/قسط1

دو اقساط پر مبنی مضمون قسط اوّل جنگ ایک مہنگا شوق ہے۔امریکہ سے پوچھیں اب تک افغانستان اور عراق کی جنگ میں ایک اعشاریہ سات ٹریلیئن ڈالر خرچ کرچکا ہے اور اس کے علاوہ 490بلیئن اپنے سابقہ فوجیوں کے بحالی←  مزید پڑھیے

جنرل ڈائر او ر ادھم سنگھ۔۔۔۔یاسر پیرزادہ

پہلی جنگ عظیم اپنے عروج پر تھی، ایک جانب برطانیہ اس جنگ میں الجھا ہوا تھا تو دوسری جانب ہندوستان میں بڑھتی ہوئی ’’بغاوت‘‘ نے اس کا ناطقہ بند کر رکھا تھا، ان باغی سرگرمیوں کو کچلنے کے لئے تاج←  مزید پڑھیے

جعلی کلیم، جعلی ذاتیں، جعلی اکاؤنٹس۔۔۔حسن نثار

کچھ لوگ کرپشن کو کرپشن سمجھتے ہی نہیں، اسی لئے قسمیں کھا کھا کر اس سے انکار کرتے ہیں اور احتساب کو انتقام قرار دیتے ہیں۔ ان لوگوں نے خود کو قائل کرلیا ہوتا ہے کہ جو وہ ’’وصولتے‘‘ ہیں←  مزید پڑھیے

’’گلہریاں اور استاد بشیر احمد‘‘

جی ہاں اُن دنوں یہ عین ممکن تھا کہ نیشنل کالج آف آرٹس میں مختصر مصوری کے استاد بشیر احمد کے کمرے میں آپ ایک بے ہوش گلہری پڑی دیکھ لیں تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخری←  مزید پڑھیے

آداب، اخلاقیات اور شمیم آراء ۔۔۔ معاذ بن محمود

  دو عدد مثالوں سے بات شروع کرتے ہیں۔ پہلی مثال: “آپ اخلاقیات کے معاملے میں شمیم آراء والی سسکیوں کے عادی ہیں”۔ دوسری مثال: “آپ کا یہ کمنٹ ہمیں برا لگا، وجہ بتانے کا میرے پاس وقت نہیں، یہ←  مزید پڑھیے

سیاسی ٹٹیریاں اور ’’ٹی ٹیوں‘‘ کا حساب۔۔۔۔حسن نثار

میرے ساتھ دلچسپ آنکھ مچولی جاری ہے۔ میں نیوٹرل ہو کر مکمل غیر جانبداری کے ساتھ پی ٹی آئی کے حوالہ سے حق تنقید ادا کرنا چاہتا ہوں لیکن پیپلز پارٹی، ن لیگ اور حضرت مولانا فضل الرحمٰن ٹائپ لوگ←  مزید پڑھیے

ایسے کیسے چلے گا؟

حکومت بنانے کے لیے اگر کمپرومائز کیے جا سکتے ہیں تو حکومت چلانے کے لیے کیوں نہیں کیے جا سکتے؟ حکومت بنانے کے لیے تو ہم سب نے دیکھا کہ اصولوں پر کمپرومائز کیا گیا، حکومت چلانے کے لیے تو←  مزید پڑھیے

جیفرلٹ کی پذیرائی سرکاری سطح پر کیوں نہیں کی جا رہی

کرسٹوف جیفرلٹ فرانس کے مشہور دانشور، عالم اور ماہر علم سیاسیات ہیں۔ وہ پیرس میں واقع معروف ’’سینٹر فار سٹڈیز ان انٹرنیشنل ریلیشنز‘‘ کے ڈائریکٹر ہیں۔ بیس برس کی عمر میں ڈاکٹر کرسٹوف جیفرلٹ پہلی بار بھارت گئے اور پھر←  مزید پڑھیے

احتساب اور سیاسی نظام۔۔۔داؤد ظفر ندیم

احتساب کے نام پر پاکستان میں نیب اس دور میں جس طرح فعال اور متحرک ہوا ہے ماضی میں اس کی کوئی ایسی مثال نہیں ملتی اگرچہ نواز شریف کے 1999کے دور میں احتساب کمیشن نے سیف الرحمان کی زیر←  مزید پڑھیے

کالے کوٹ کو کالے اعمال کی علامت نہ بنائیے۔۔۔۔سید عارف مصطفیٰ

بہت رنج پہنچا ہے ۔۔۔ اور دل بہت دکھا ہوا ہے ۔۔ ماڈل کورٹوں کے خلاف وکیلوں کے احتجاج نے میرے صبر کو سفاکی کی کھردری دیوار  پہ   دے مارا ہے اور اسی لیئے میں بہت کچھ ایسا کہنے←  مزید پڑھیے

بے آواز گلی کوچوں سے۔ صدارتی نظام کا بخار۔۔۔محمد منیب خان

ٹوئٹر کی راہداریاں اور فیس بک کی دیواریں گذشتہ چند دن سے بہت شد و مد کے ساتھ صدارتی نظام کے دل آویز نعروں سے لتھڑی ہوئیں نظر آر ہی ہیں۔ اس پہ مستزاد اسلام آباد میں حکومت کی غلام←  مزید پڑھیے

عہد جدید کے بہزاد کا”کارخانہ”۔۔۔۔مستنصر حسین تارڑ

کیا آپ جانتے ہیں کہ گلہریوں کا مصوری سے گہرا تعلق ہے‘ اگر خدانخواستہ گلہریاں نہ ہوتیں تو ایک مخصوص قسم کی مصوری بھی نہ ہوتی۔ اور مصوری کا لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس سے گہرا تعلق ہے۔ یوں←  مزید پڑھیے

فیس بک۔۔ مشتری ہشیارباش

چند دن پہلے فیس بک پر کچھ نوجوانوں کی ترتیب دی ہوئی ’’پسندیدہ‘‘ شعرا کی فہرست دیکھی! عباس تابش اور اختر عثمان کے سوا کوئی معتبر شاعر اس نام نہاد فہرست میں شامل نہ تھا۔ شعرا پرتو نہیں، شاعری پر←  مزید پڑھیے

رام چندر گہا کا کالم: جلیاں والا باغ –جس نے انگریزی حکومت کے زوال کی کہانی لکھ دی …

جلیاں والا باغ : اس قتل عام کے بعد ہندوستانیوں کو بھلے برے کی تمیز ہونے لگی تھی اور وہ اب مزید جی حضوری نہیں کرنا چاہتے تھے۔ 13 اپریل 1919، یعنی آج سے ٹھیک سو سال پہلے، ‘ریجینل ڈائر’ نام←  مزید پڑھیے