اُس نے کرسی کو چُھوا۔ کرسی ٹھوس نہیں تھی؛ وہ گوندھے ہوئے شک کی ایک ڈھیلی سی شکل تھی۔ وہ جانتا تھا کہ بیٹھنا ضروری ہے، کیونکہ یہ ایک ایسے عمل کا حصہ تھا جو ہمیشہ کیا جاتا ہے۔ بیٹھنا،← مزید پڑھیے
فیملی آف دی ہارٹ کے زیر اہتمام حبیب شیخ کی کتاب خاموش دستک کی تقریب رونمائی کہ موقع پر یہ مضمون پڑھا گیا تھا۔ آج کے برق رفتار دور میں جہاں دل اور دماغ کو قابو میں رکھ کر ادب← مزید پڑھیے
وہ کھڑکی نہیں تھی، ایک مربّع خلا تھا جس میں سے روزانہ “گزرتے” ہوئے رنگ در آتے تھے۔ مگر در آنے سے پہلے ہی کٹ کر، ایک دوسرے سے خلط ملط ہو کر، کھڑکی کے شیشے پر ایک بے معنی← مزید پڑھیے
ہر انسان کی زندگی میں ایسا ناقابلِ واپسی موڑ آتا ہے جب اس کے زندہ واقف کاروں کی تعداد سے مردہ شناساؤں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ ہر شخص اپنے اندر ایک قبرستان لیے پھرتا ہے جس کی آبادی ہر← مزید پڑھیے
ایک تلخ سچ یہ ہے کہ یہ آرزو انھیں بھی ہے جو گم نامی کی زندگی کی مدح کیا کرتے ہیں؛ وہ اپنی گمنامی کی شہرت چاہتے ہیں۔ کچھ اپنی بد نامی کو بھی شہرت ومقبولیت کا ذریعہ بنالیتے ہیں۔← مزید پڑھیے
میں اپنی بلڈنگ کی دوسری منزل پر کھڑا کھڑکی سے باہر جھانک رہا ہوں، اور میرے سامنے چمکتے سورج اور خاموش صحرا کے سوا کچھ نہیں ہے- اس ویران صحرا کے بیچوں بیچ ہمیشہ کی طرح چند آوارہ سراب محو← مزید پڑھیے
Guy de Maupassant موپاساں 11 سال کا تھا اور اس کے والدین کے مابین مستقل علیحدگی ہوئی، 13 سال کی عمر میں اسے سرکشی کرنے پر تعلیمی خانقاہ سے نکال دیا گیا! پیدائش : فرانس کے اشرافیہ خاندان میں 5← مزید پڑھیے
دنیا کے کسی بھی خطے میں جب جب عالمی اردو کانفرنس منعقد ہوتی ہے دل میں موہوم سا خیال آتا ہے کہ کاش اس کانفرنس میں ہمیں بھی مدعو کیا جاتا مگر پھر فوراً ہی اس خیالِ مشتبہ پر ہم← مزید پڑھیے
فراز نے کہا تھا، “اب کے بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں”, فیض نے کہا تھا، “اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا”, اور ناصر کاظمی نے لکھا تھا، “دل تو میرا اداس ہے ناصر، شہر کیوں← مزید پڑھیے
ہم اپنے بچوں، والدین، عزیزوں، دوستوں اور خود اپنی سالگرہ مناتے ہیں، تو کتابوں کی سالگرہ کیوں نہیں۔ ایک برس پہلے، آج ہی کے دن مجھے سنگ میل سے، اپنے پانچویں افسانوی مجموعے “جب تک ہے زمین” کے اعزازی نسخے← مزید پڑھیے
یہ سلسلۂ خطوط منطق الطیر کے جدید فکری مطالعے پر مشتمل ایک تخلیقی و علمی مکالمہ ہے، جو عبداللہ اور زہرہ کے درمیان خطوط کی صورت میں ترتیب دیا گیا ہے۔ اس میں فریدالدین عطار کی صوفیانہ تمثیل کو محض← مزید پڑھیے
یہ سلسلہ Charles Dickens کے ناول Great Expectations پر ایک مکمل ادبی مکالمہ ہے — خط اوّل — عبداللہ کی طرف سے زہرہ! آج میں نے پھر پپ کو اسی ویران قبرستان میں کھڑا دیکھا- وہ اپنے ماں باپ کے← مزید پڑھیے
صفدر رشید کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’’زبان اور تہذیب: جنوب ایشیائی اور مغربی تناظر‘‘ اُن انٹرویوز پر مشتمل ہے، جو انھوں نے دو درجن بھر افراد سے یوروپ میں رہتے ہوئے ادو زبان کی ضرورت،اہمیت اور← مزید پڑھیے
(یہ خطوط کا سلسلہ دراصل Ode to a Nightingale کی محض تشریح نہیں، بلکہ اس کے فکری، جمالیاتی اور وجودی مضمرات کے ساتھ ایک گہرا مکالمہ ہے، جس میں John Keats کی رومانوی حسّاسیت، انسانی فنائیت کا کرب، حسن کے← مزید پڑھیے
بچپن میں سمندر اور صحرا سے ہونے والی وہ پہلی ملاقاتیں میرے لیے محض مناظر نہیں تھیں، بلکہ یہ میرے باطن میں دو متوازی جہانوں کی بنیاد تھیں۔ ساحل کی موجیں کبھی پاؤں سے ٹکراتیں تو کبھی دل سے؛ اور← مزید پڑھیے
لینن کے پاس نیلی نوٹ بک تھی، جس میں اس نے ریاست اور انقلاب کے اشارات لکھے۔ وہ نوٹ بک دنیا کے لیے تھی۔ میرے پاس سرخ رجسٹر ہے۔ مجھے معلوم ہے، میں کوئی انقلاب نہیں لاسکتا۔ میں اس رجسٹر← مزید پڑھیے
عمامے سے عمامے تک/عماد جب دن بھر کی پرمشقت محنت و مزدوری کے بعد تھکا ماندہ گھر لوٹتا، تو سوچتا: “کاش میں بھی تعلیم یافتہ ہوتا یا کسی ہنر کا مالک ہوتا تو آج آرام کی زندگی بسر کرتا۔” عماد← مزید پڑھیے
“اکمل حنیف کا تخلیقی “ردِّ عمل گھر کی تقسیم اس طرح ہوئی ہے صرف رشتے بچا کے بیٹھ گئے کینیڈا کے قصبہ واٹر ڈاؤن میں سال دوہزار پچیس کے موسمِ خزاں کے کنارے بیٹھا آج میں پاکستان کے دل لاہور← مزید پڑھیے
فکشن میں ’اسرار، وہم و حقیقت کے امتزاج ‘ کی حقیقت اور نیّر مسعود کی ’’رویائی حقیقت نگاری؛اکثر کہا جاتا ہے کہ نیّر مسعود کے افسانوں کی فضا دھندلی ، خواب ناک اور پراسرارہے۔ ایک قسم کی مابعد الطبیعیات← مزید پڑھیے
راولپنڈی سے راجا محمد یوسف صاحب کا ایک مراسلہ موصول ہوا ہے۔ بعد دعا و سلام لکھتے ہیں: “اپنے شاگردوں کے لیے ایک مضمون کا انگریزی سے اُردو میں ترجمہ کررہا تھا۔ ایک جگہ آکر اُلجھ گیا۔ الجھن یہ ہے← مزید پڑھیے