سوال: وہ کیا ہے جو فولاد سے مضبوط، انسانی بال سے باریک اور کپڑے سے زیادہ لچکدار ہے؟ جواب: مکڑی کے جالے کا تار سوال: تو پھر ہم اس کی مدد سے اب تک سپائیڈرمین کی طرح عمارتوں سے جھولتے← مزید پڑھیے
کیا آپ میموگرام دیکھ کر پہچان سکتے ہیں کہ چھاتی کا سرطان کس کو ہے اور کس کو نہیں؟ ساتھ لگی تصاویر ان کی مثالیں ہیں۔ اگر آپ تربیت یافتہ پیتھالوجسٹ یا ریڈیولوجسٹ نہیں تو آپ کا جواب نفی میں← مزید پڑھیے
اس دنیا میں ہم سب اپنے نشان چھوڑتے ہیں۔ لیکن کچھ بھی بدل دینا یا اس چیز کا احساس ہونا کہ کچھ بدل دیا ہے۔ یہ ایک بات نہیں۔ بہت بار یہ محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ پر اثرانداز ہونا← مزید پڑھیے
آپ کے سامنے بہت سی تصاویر رکھی ہیں۔ کیا آپ ان میں سے اپنی تصویر پہچان سکتے ہیں؟ کیسے؟ اس کی وجہ ٹیکنالوجی ہے۔ وہ ٹیکنالوجی جو آج ہر گھر میں ہے اور جس نے معاشروں کی ہیئت بدل دی۔← مزید پڑھیے
آج سے سو سال قبل کلارنس برڈزآئی نے اپنے خاندان سمیت انتہائی سرد ٹندڈرا کے علاقے لیبراڈور میں رہائش اختیار کی۔ ہر چیز سرد لیکن مقامی انیوٹ کی طرح برڈزآئی نے بھی زندگی گزارنا سیکھ کیا۔ برف میں سوراخ کر← مزید پڑھیے
“میں ماننا نہیں، جاننا چاہتا ہوں”۔ یہ فقرہ کئی مرتبہ کارل ساگان سے منسوب کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ درست نہیں۔ کارل ساگان اس طرح کی سطحی اور بے کار باتیں نہیں کیا کرتے تھے۔ ایسے فقرے کئی سوڈوریشنلٹ استعمال← مزید پڑھیے
کوئی بھی پرائمیٹ گوشت خور نہیں۔ چمپینزی کچھ گرام دیمک یا کبھی کبھار کسی چھوٹے جانور کو ہڑپ کر جاتے ہیں لیکن زیادہ چربی یا کولیسٹرول والی خوراک انکی صحت تباہ کر دیتی ہے۔ پنجرے میں بند ایسے پرائمیٹ جن← مزید پڑھیے
اگر آپ وکیل ہیں تو معذرت لیکن وکیل اکثر لطیفوں میں نظر آتے ہیں۔ وکیلوں کی پسندیدگی زیادہ نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وکیل سچ کا متلاشی نہیں ہوتا۔ یہ اس کے پیشے کا مقصد نہیں ہے۔ وکیل← مزید پڑھیے
بامیسٹر نے انسانی ظلم اور تشدد پر کتاب لکھی ہے۔ جس میں برائی کو مظلوم اور ظالم، دونوں کی نظر سے دیکھا ہے۔ ان کے مطابق گھریلو تشدد سے لے کر بڑے پیمانے پر ہونے والے قتلِ عام تک نہ← مزید پڑھیے
سلیکون اور آکسیجن سے مل کر بننے ولا سلیکا ریت کا سب سے بڑا جزو ہے اور دنیا میں وافر مقدار میں کوارٹز کی صورت میں موجود ہے۔ یہ ایک کرسٹل کی صورت میں ہوتا ہے۔ برف کو پگھلائیں تو← مزید پڑھیے
بی ایف سکنر نے 1947 میں کبوتروں کے ساتھ بہت طرح کے تجربات کئے جو جانوروں کی نفسیات سمجھنے کے لئے بڑا اہم قدم تھا۔ ان میں سے ایک تجربے میں پنچرے میں بند کبوتروں کے آگے ایک بٹن لگا← مزید پڑھیے
ہم اپنی تاریخ میں ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا بدلتے آئے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی دو طرح کی رہی ہے۔ سبز اور گرے۔ سبز ٹیکنالوجی میں بیج اور پودے ہیں، باغ اور کھیت، گھوڑے اور بکریاں، دودھ اور پنیر، شہد اور ریشم،← مزید پڑھیے
زندگی کی پیچیدگی کہاں جنم لیتی ہے؟ اچھوتے خیالات کہاں سے آتے ہیں؟ زبانیں کہاں سے بدلتی ہیں؟ نئی رسمیں کہاں سے شروع ہوتی ہیں؟ ایجادات کہاں سے آتی ہیں؟ ان سب کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے← مزید پڑھیے
یہ سوال جاپانیوں کے اپنے بارے میں امیج اور اپنی شناخت کے لئے بڑا اہم ہے اور بہت حساس بھی۔ جاپانی یہ بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ سارے جاپانی کلچرلی اور بائیولوجیکلی ایک جیسے ہیں۔ ان میں لسانی یا← مزید پڑھیے
ڈائنوسار کے کھلونے سے کھیلنے والا چھوٹا بچہ بھی جانتا ہے کہ دنیا میں ایسے جاندار موجود رہے ہیں جو اب نہیں۔ چند صدیاں پہلے تک ایسا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ ارسطو کے “جانوروں کی← مزید پڑھیے
آخر میں آ کر مریض چھوٹی سے چھوٹی بات پر ہنس پڑتا تھا۔ ہنس ہنس کر دہرا ہو جاتا تھا، گر پڑتا تھا۔ اس سے پہلے کی علامات سستی، سردرد، جوڑوں کا درد وغیرہ تھیں اور چلتے ہوئے بے ڈھنگی← مزید پڑھیے
جانوروں کے پاس دماغ کیوں ہے؟ اس کا جواب کار پوپر کے الفاظ میں یہ ہے کہ “زندگی مسائل کا حل تلاش کرنے کا نام ہے”۔ پوپر کے یہ الفاظ بائیولوجی کے نقطہ نظر کے عکاس ہیں، جس میں جانوروں← مزید پڑھیے
رف اور آگ۔ یہ انجام ان دو سائنسدانوں کے کام کا تھا جنہوں نے جینیات کی پہلی بڑی دریافتیں کی تھیں۔ ان دونوں میں کئی چیزوں کی مماثلت تھی۔ دونوں کی موت کسی کے لئے خبر نہیں تھی، کوئی آنکھ← مزید پڑھیے
اگر آپ پہیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں تو پہلے آپ کے حل کرنے کے لئے چار سوال۔ ایک شخص کتاب پڑھ رہا ہے کہ بجلی چلی جاتی ہے۔ کمرے میں گھپ اندھیرا ہو گیا ہے لیکن وہ شخص کتاب پڑھنے← مزید پڑھیے
کیرالہ کے ساحل پر مچھیروں، جھونپڑیوں، ناریل کے درختوں کے گاوٗں پر ڈاکٹر وکرم کی نظر پڑی۔ یہ تھمبا کا گاوٗں تھا جو خطِ استوا کے قریب ہے اور یہاں پر خطِ استوا کے الیکٹروجیٹ زمین سے 110 کلومیٹر اوپر← مزید پڑھیے