مجسم برائی کا واہمہ ۔ ظالم دنیا۔۔۔۔وہارا امباکر

بامیسٹر نے انسانی ظلم اور تشدد پر کتاب لکھی ہے۔ جس میں برائی کو مظلوم اور ظالم، دونوں کی نظر سے دیکھا ہے۔ ان کے مطابق گھریلو تشدد سے لے کر بڑے پیمانے پر ہونے والے قتلِ عام تک نہ کرنے والے اور نہ ہی شکار ہونے والوں کو اس میں اپنی کسی قسم کی کوئی غلطی نظر آئی ہے۔ قتل کرنے والے بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ صرف جواب دے رہے تھے، جو ان کا حق تھا۔ بامیسٹر کی سٹڈی ایک اور نتیجہ نکالتی ہے (جو ہمیں اچھا نہیں لگے گا)، وہ نتیجہ مظلوم کی نظر سے ہے۔ بامیسٹر کے ریسرچ لٹریچر میں اس سب میں زیادہ تر مظلوم کا بھی کہیں نہ کہیں کوئی ہاتھ ہوتا ہے۔ زیادہ تر قتل ایسے ہوتے ہیں جو کسی جھگڑے سے شروع ہوئے ہوں اور بات ایک ایک قدم کر کے بڑھتی ہے۔ ان میں سے قاتل کون ہوا اور مقتول کون؟ کئی بار ان میں لکیر باریک ہوتی ہے۔ یہ بڑی آسانی سے الٹ ہو سکتا تھا۔ گھریلو جھگڑوں میں دونوں طرف سے کچھ نہ کچھ ہوا ہوتا ہے۔ خبریں دینے والے ایک سائیڈ کو مجسم برائی اس لئے دکھاتے ہیں کہ یہ لوگوں کی ایک ضرورت پوری کرتی ہے۔ یہ ضرورت دنیا کو سیاہ و سفید میں دیکھنے کی گہری خواہش ہے۔

بامیسٹر ایک غیرمعمولی سوشل سائیکولوجسٹ ہیں۔ اس وجہ سے کہ وہ سچ کی تلاش میں سیاسی درستگی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ ایسا ضرور ہوتا ہے کہ کبھی کبھار بالکل معصوم مظلوم پر صاف نیلے آسمان سے مجسم برائی ٹپک پڑے لیکن زیادہ تر واقعات اس سے زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں۔ بامیسٹر سچ کی تلاش میں “مظلوم کو الزام مت دو” کی ممنوع روایتی لکیر توڑتے نظر آتے ہیں جس پر کئی لوگوں کے منہ کھلے رہ جائیں گے۔ لیکن لوگوں کو سمجھنے کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے۔ تشدد کرنے والے ایسا کسی وجہ سے کرتے ہیں۔ اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا بدلہ، بے عزتی کا انتقام، اپنا دفاع۔ تشدد کرنے والے کوئی وجہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی وجہ ان کی حرکت کو جواز دیتی ہے۔ گالی کے جواب میں قتل کر دینا کوئی جواز نہیں، لیکن یہ وجہ ہے۔

بامیسٹر کے کام کا گہرا مطلب ہے۔ وہ یہ کہ تشدد اور ظلم کو “مجسم برائی” کے طور پر دیکھنا واہمہ ہے۔ اگر ہم اس کو سچ سمجھ لیں تو اس کے کچھ حصوں میں سے ایک گمراہ کن حصہ یہ ہو گا کہ برائی کرنے والوں کے پاس اس کی کوئی وجہ نہیں، صرف لالچ یا جلاد پن ہے۔ ظلم کا شکار ہونے والے اپنی مظلومیت میں خالص ہیں۔ برائی کہیں باہر سے ظلم کرنے والے شخص یا گروپ کے ساتھ آ کر چپک گئی ہے۔ حالانکہ انفرادی طور پر ہم ایسا جانتے ہیں کہ انسان ایسے نہیں ہوتے۔ انسانوں کے ایسے رویے کی وجہ سادہ لوح حقیقت پسندی ہوتی ہے یعنی کہ دنیا کو ہم صرف اپنی نظر سے دیکھتے ہیں اور اس نظر کو دنیا کی اچھائی برائی کا پیمانہ بنا لیتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بامسٹیر ایک اور بڑا ہی تنگ کرنے والا نتیجہ نکالتے ہیں۔ تشدد اور ظلم کی چار وجوہات ہوتی ہیں۔ پہلی دو تو واضح ہیں۔ لالچ (ڈکیتی اس کی مثال ہے) یا فطرت میں جلاد پن، یعنی لوگوں کو تکلیف پہنچا کر خوش ہونا۔ لالچ تھوڑے سے واقعات کی وضاحت کرتا ہے، جلاد پن تقریبا کسی کی نہیں۔ بچوں کے کارٹونوں اور ڈراوٗنی فلموں کے علاوہ کوئی بھی کسی دوسرے کو تکلیف خوشی حاصل کرنے کے لئے نہیں پہنچاتا۔

تشدد اور برائی کی سب سے بڑی دو وجوہات وہ ہیں جو ہم بچوں کو خود سکھاتے ہیں۔ خود اعتمادی اور اخلاقی آئیڈیلزم۔ حد سے زیادہ خوداعتمادی براہِ راست تشدد کا باعث نہں بنتی لیکن اگر یہ غیرحقیقی ہو یا نرگسیت کی طرف لے جائے تو اس انا کو حقیقت سے خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس خطرے سے ری ایکشن، خاص طور پر نوجوان لوگوں میں، تشدد کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ بامیسٹر اس پر سوال اٹھاتے ہیں کہ بچوں میں خوداعتمادی پیدا کرنے والے پروگرام مضر ہیں۔ اس کے بجائے ان میں وہ صلاحیتیں پیدا کرنے پر زور ہونا چاہیے جن پر وہ خود ہی فخر کر لیں گے۔ براہِ راست صرف اعتماد بڑھانا نرگیسیت کی طرف مائل کر سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انا پر خطرے کی وجہ سے کئی جانے والے واقعات انفرادی سطح پر کئے جانے والے پرتشدد واقعات کی سب سے بڑی وجہ ہیں لیکن بڑے پیمانے پر ظلم ڈھانے کے لئے ایک اور بڑا ہی خطرناک ہتھیار ہے۔ یہ ہتھیار آئیڈیلزم ہے۔ اخلاقی برتری کا یقین اور یہ تشدد اس اخلاقی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔ بیسویں صدی کے بدترین مظالم انہوں نے ڈھائے ہیں جن کا تصور یہ تھا کہ وہ جنتِ ارضی پیدا کر رہے ہیں یا وہ جن کو یقین تھا کہ وہ اپنے گروہ کے، اپنی زمین کے، یا اپنے قبیلے کے دفاع، ناموس اور برتری کے لئے ایسا کر رہے ہیں۔

آئیڈیلزم خطرناک اس لئے ہے کہ اس کے ساتھ ایک اور احساس پیدا ہونا بہت آسان ہے۔ وہ یہ کہ منزل اہم ہے، راستہ نہیں۔ اگر آپ کو مکمل یقین ہے کہ آپ ہی حق پر ہیں تو پھر اس تک پہنچنے کے لئے کوئی بھی کر راستہ اختیار کر لیا جائے، یہ ایک اچھائی ہے۔

ہم اصل میں قوانین کا احترام نہیں کرتے، اس اخلاقی اصول کا احترام کرتے ہیں جس کی بنیاد پر قوانین بنے ہوتے ہیں۔ اگر ہمارے اخلاقی مشن اور قوانین میں تضاد آ جائے تو عام طور پر جیت اخلاقی مشن کی ہوتی ہے۔

ماہرِ نفسیات لنڈا سٹکا کے مطابق، جب کسی متنازعہ مسئلے پر اخلاقی مینڈیٹ کے بارے میں جذبات کی شدت ہو تو ایسے لوگوں کے لئے کارروائی کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ “اچھا” آزاد ہو جائے، “برا” سزا پا جائے، اس سے آگے نہیں دیکھا جاتا۔ بدترین اخلاقی رویے کی وجہ اخلاقی آئیڈیلزم ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *