جاپانی کون ہیں؟۔۔۔۔وہارا امباکر

یہ سوال جاپانیوں کے اپنے بارے میں امیج اور اپنی شناخت کے لئے بڑا اہم ہے اور بہت حساس بھی۔ جاپانی یہ بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ سارے جاپانی کلچرلی اور بائیولوجیکلی ایک جیسے ہیں۔ ان میں لسانی یا نسلی طور پر فرق نہیں۔ ان کی زبان جیسے کوئی اور زبان نہیں۔ بس شمالی میں ہوکائیڈو کے جزیرے پر رہنے والی آئینو خاصے مختلف ہیں لیکن ان کی تعداد بڑی کم ہے۔

اگر آپ 1946 سے پہلے جاپان کی نصابی کتابوں میں جاپانی کی تاریخ کو پڑھتے تو اس کو جاپان میں 712 سے لے کر 720 کے درمیان لکھی داستوں کی مدد سے پڑھایا جاتا تھا۔ سورج کی دیوی اماتیراسو (جس نے عظیم ایزاناگی کی بائیں آنکھ سے جنم لیا تھا) نے اپنے پوتے نینیگی کو زمین پر جاپان میں ایک زمینی دیوتا سے شادی کے لئے بھیجا۔ ان دونوں کے پڑپوتے جمو نے ایک مقدس پرندے کی مدد سے حملہ آور دشمنوں کو لاچار کر دیا تھا اور پھر جاپانی بادشاہت کا تاج پہنا۔ یہ واقعہ 660 قبلِ مسیح میں ہوا تھا۔ اس کے بعد سے لے کر آٹھویں صدی کی داستانوں کے لکھے جانے کے بیچ میں تیرہ بادشاہوں کی تاریخی کہانیاں گھڑی گئی تھیں۔

دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے سے قبل جاپانی بادشاہ ہیروہیٹو نے اعتراف کیا تھا کہ وہ کسی دیوتا کی اولاد نہیں ہیں۔ جاپانی مورخین کو ان کے دئے گئے بیان کو توجیحات کرنا پڑی تھیں۔ اگرچہ آج کے جاپان میں مقابلتا بہت زیادہ آزادی ہے لیکن مکمل نہیں۔ چوتھی سے ساتویں صدی کے درمیان بنائے گئے 158بڑے مقبرے جن کو کوفن کہا جاتا ہے اور جس میں شاہی خاندان کی باقیات موجود ہیں، وہ ابھی بھی امپیریل ہاوس ہولڈ ایجنسی کی ملکیت ہیں اور ان کو کھولا نہیں جا سکتا۔

جتنا بڑا بجٹ جاپان میں آرکیولوجی کا ہے، اتنا کہیں اور نہیں۔ پچاس ہزار فیلڈ ورکر اس شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے جتنی نیولیتھک سائٹس جاپان میں دریافت ہو چکیں ہیں، چین میں ان کا محض دسواں حصہ دریافت ہوا ہے۔ ہر دریافت اخبار کی ہیڈلائن اور ٹی وی کی خبر بنتی ہے۔ جاپانی ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ یہاں قدیم وقتوں سے آباد تھے اور باقی سب دنیا سے زیادہ مہذب رہے ہیں۔ مثلا، کہیں ایک آرکیولوجسٹ اس بات پر توجہ دلا رہا ہو گا کہ دو ہزار سال پہلے کچرے کے دفن گڑھے بتاتے ہیں کہ دو ہزار سال پہلے کے جاپانی صفائی کا کس قدر خیال رکھتے تھے۔

جاپانی آرکیولوجی کو ڈسکس کرنے میں ایک رکاوٹ یہ ہے کہ جاپانیوں کے موجودہ رویے کی ایک وجہ یہ ماضی ہے اور اس کی ایک مثال ان کے کوریا سے تاریخی طور پر کشیدہ تعلقات ہیں۔ مثلا، آرکیولوجی سے یہ پتا لگتا ہے کہ چوتھی سے لے کر آٹھویں صدی تک جاپان اور کوریا کے درمیان اشیاء کا تبادلہ بہت ہوتا رہا۔ جاپانی اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جاپان نے کوریا کو فتح کیا تھا اور کورین مزدوروں اور آرٹسٹس کو غلام بنا کر کے آئے تھے۔ کورین اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوریا نے جاپان کو فتح کیا تھا اور جاپانی شاہی خاندان اصل میں کوریا سے آیا تھا۔

جب جاپان نے کوریا پر 1910 میں قبضہ کیا تو جاپانی ملٹری لیڈروں نے اسے “قدیم ارینجمنٹ پر واپسی” کہا۔ اگلے پینتیس برس تک جاپانیوں نے کوریا کے کلچر کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ سکولوں میں کورین زبان کی جگہ جاپانی زبان پڑھائی جانے لگی۔ جاپان میں آج بھی “ناک کے مزار” ہیں جہاں پر کورین افراد کی کاٹی ہوئی ناکیں ہیں جو سولہویں صدی میں ٹرافی کے طور پر کاٹی گئی تھیں۔

ایک اور مثال ایک پانچویں صدی کی شاہی تلوار کی ہے جو ٹوکیو نیشنل میوزیم میں ہے اور قومی ورثہ تصور کی جاتی ہے۔ اس کے چاندی پر لکھے الفاظ مدھم تھے۔ اس کو جاپانی الفاظ سمجھا جاتا رہا ہے۔ 1966 میں ایک کورین مورخ نے اس تجویز سے جاپانیوں کو شاک کر دیا کہ یہ الفاظ دراصل کورین ہیں اور یہ ثبوت ہے کہ کوریا سے آنے والے جاپان پر قابض تھے۔ (جاپان میں ایسی بات کہنا آپ کی عزت اور صحت کے لئے مضر ہو سکتا ہے) تو پھر “قدیم ارینجمنٹ” تھا کیا؟

آبنائے سوشیما آج کی ان دو اکنامک سپرپاورز کو الگ کرتی ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو تاریخ کے زہرآلود لینز سے دیکھتے رہے ہیں۔ جھوٹے قصوں اور سچے تاریخی مظالم کے عدسوں سے۔ ان دونوں کا ایک مشترک گراونڈ پر پہنچنا مشرقی ایشیا کے مستقبل میں امن کے لئے اہم ہے۔ جاپانی کون ہیں، ان کا کورین سے کیا تعلق ہے۔ ان میں مشترک کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر میں جاپانی یا کورین نہیں تو میرے لئے اس سوال کے جواب کو جاننا اتنا زیادہ مشکل نہیں کیونکہ اس سے نکلنے والے نتائج کے ساتھ میرے کوئی جذبات منسلک نہیں۔ کوئی بھی نتیجہ میری شناخت کو، میرے آج کو، میرے رویے کو اور دوست دشمن کے گروپ بنانے میں کوئی اثر ڈالتا ہی نہیں۔ جاپانیوں کے ماضی کے بارے میں ابھی تک ملنے والے جواب کورین اور جاپانی دونوں کے لئے ناپسندیدہ ہیں۔ ان کو جاننے کی اور اس کے پیچھے کے شواہدات کی ایک لمبی تاریخ ہے اور ابھی بہت سی چیزوں معلوم نہیں لیکن دستیاب شواہدات کا تجزیہ ہمیں کئی چیزیں بتا دیتا ہے۔

جاپان میں انسانوں کی پہلی آمد برفانی دور میں شمال میں ہوکائیڈو جزیرے سے ہوئی جب اس کا ساخالن جزیرے کے راستے روس سے خشکی کا راستہ موجود تھا۔ کوریا سے راستہ آبنائے سوشیما سے جنوب کی طرف موجود تھا اور جاپان خود خشکی کا ایک ٹکڑا تھا۔ (ییلو سمندر اور ایسٹ چائنہ سی کا بڑا حصہ خشکی تھی)۔ ان راستوں سے آنے والے بندر اور ریچھ وغیرہ بھی تھے اور پھر انسان بھی جو تیس ہزار سال قبل یہاں پر پہنچے۔ تیرہ ہزار سال قبل اس کا خشکی کا راستہ دنیا سے کٹ گیا۔

جاپان انتہائی زرخیز زمین ہے۔ آج کا جاپان ستر فیصد جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے (موازنے کے لئے: برطانیہ کا دس فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے)۔ اس کی زرعی زمین کی پیداوار بہت زیادہ ہے۔ زمین کی زرخیزی کی وجہ سے یہاں کے دریاوں اور سمندر میں مچھلیاں وافر مقدار میں ہیں۔ دنیا میں بننے والے سب سے پرانے برتن جاپان میں بنے جو 12700 سال پرانے ہیں۔ ان برتنوں نے خوراک کو وسیع کر دیا۔ پتوں والی سبزیاں، شیل فش، چیسٹ نٹ اور اکورن جیسے میوے جن کا زہر پکا کر ختم کیا جا سکتا تھا، بچوں کے لئے نرم خوراک، بغیر دانت والوں کے لئے خوراک، یہ سب ان برتنوں کی وجہ سے ممکن ہو گیا۔ آبادی تیزی سے بڑھنے لگی۔ ان لوگوں کو جومون کہا جاتا ہے۔ نقش و نگار والے برتن، ان کی بنی ہوئی رسیاں، نیزے، مچھلیاں پکڑنے کے جال ان کے نشان ہیں۔ خوراک کی فراوانی کے سبب ان کو زراعت کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔

دوسری طرف مشرقی ایشیا میں زراعت کی آمد تھی۔ باجرا، کریلا، خربوزہ، سیاہ گندم، خشخاش، شیشو (ایک مصالحہ) کی فصلیں اگنا شروع ہو گئی تھیں۔ کوریا کی طرف غریب کسان تھے، جاپان کی طرف خوشحال لوگ جو قدیم طریقوں پر بآسانی زندگی گزار رہے تھے۔ ان کی تجارت شروع ہو گئی تھی۔ کوریا، روس اور اوکیناوار سے تجارتی راستے کھل گئے تھے۔ جاپان میں جومون کی آبادی اڑھائی لاکھ تک پہنچ گئی تھی جو آج کے حساب سے تو بہت کم ہے لیکن ایسا طرزِ زندگی رکھنے والوں کے لئے بہت بڑا نمبر ہے۔ جومون کے پاس کتوں کے علاوہ کوئی جانور نہیں تھے، دھات نہیں تھی، لکھائی نہیں تھے، کپڑا بننے کا فن نہیں تھا۔ یہاں پر لوگ برابری کی زندگی گزارتے تھے۔ محل یا شاندار مقبرے بھی نہیں تھے۔ بڑے لیڈر اور بادشاہ نہیں تھے۔ دوسری طرف تبدیلیاں تیزی سے آ رہی تھیں۔ پھر چار سو سال قبلِ مسیح چین سے کوریا تک پہنچنے والی تبدیلیوں نے جاپان کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ ان کی دس ہزار سال سے الگ تھلگ دنیا بدلنے لگی۔

جومون کے لوگوں کے جگہ 400 قبلِ مسیح میں یایوئی لینا شروع ہو گئے تھے۔ یہ کسان مغرب میں کوریا سے آئے تھے۔ ایک کے بعد اگلے جزیرے پر یہ نیا طرزِ زندگی پہنچنا شروع ہو گیا۔ زراعت، جانور، گھروں کے نئے انداز، یایوئی اور جومون کے طرزِ زندگی سے نیا کلچر ابھرنے لگا۔ شمال میں ہوکائیڈو کا جزیرہ اور آئینو کے لوگ ابھی اس سے الگ ہی رہے۔

کوریا سے بڑی مقدار میں لوہا منگوایا جاتا۔ کچھ صدیوں کے بعد یہ بھی یہیں بننا شروع ہو گیا۔ معاشی ناہمواری کا آغاز ہمیں 100 قبلِ مسیح میں ںظر آنا شروع ہو گیا۔ چاول اب یہاں کی بڑی خوراک بن گئی تھی۔ شاندار مقبروں کا آغاز چوتھی صدی میں کوفون کے مقبروں سے ہوا جو قدیم دنیا میں مٹی کا سب سے بڑا سٹرکچر ہیں، جن کے لئے بڑی تعداد میں غلام اور غلام بنانے کے لئے مرکزی حکومت درکار تھی۔ یہ اب جاپان کی سیاسی یکجائی کے آغاز کا نشان ہیں۔ ایشیا کی طرف سے بدھ مت آیا، لکھائی، گھڑ سواری، سرامک اور دھات کی ٹیکنالوجی۔

اور یوں ہم 712 کی داستانوں تک پہنچتے ہیں۔ پہلی لکھی تاریخ جس میں کچھ حقیقت، کچھ فسانے۔ لیکن جاپان اب پوری طرح سے تاریخ کی روشنی میں داخل ہو گیا تھا۔ جاپان میں اب جاپانی آباد تھے۔ جاپان پر آج کے بادشاہ آکی ہیٹو ہیں۔ ان کا اس داستان سے اب تک 82واں نمبر ہے۔ جبکہ سورج دیوی اماتیراسو کے پڑپوتے جمو سے گنا جائے تو 125واں نمبر۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یایوئی نے سات سو برس میں جاپان کو جس قدر بدل دیا، یہ اس سے پہلے دس ہزار سال میں نہیں بدلا تھا۔ اگر آپ قوم پرست جاپانی ہیں تو کہیں گے کہ یایوئی بھی جومون تھے۔ انہوں نے کوریا سے محض کچھ چیزیں اور ان کے غلام “درآمد” کئے تھے۔ قوم پرست کورین نقطہ نظر یہ ہے کہ کورین لوگوں نے جب تک سمندر پار کر کے جاپان کو فتح نہیں کیا تھا اور اپنا علم وہاں لے کر نہیں گئے تھے، یہ جاپانی “مہذب” نہیں ہو سکے تھے۔ ان دونوں میں جھول ہیں۔

جب ہم جومون اور یایوئی کے ڈھانچوں کا موازنہ کرتے ہیں تو ہمیں سٹرکچر کا فرق نظر آتا ہے۔ اب جب ڈی این اے حاصل ہونا شروع ہوا ہے تو یہ نمایاں ہو گیا ہے۔ جومون اور یایوئی ایک نہیں تھے۔ یا آسان الفاظ میں جاپانی ہمیشہ سے جاپانی نہیں تھے۔ جاپان میں رہنے والے پرانے جاپانی وہ تھے، جو اب جاپان کی ایک چھوٹی سی اقلیت ہیں جو آئینو ہیں۔ جاپانی زبان کے کئی الفاظ آئینو سے آئے ہیں۔

لیکن یہ اس کی وضاحت نہیں کرتا کہ پھر جاپانی اور کورین ڈی این اے میں اور ان کی زبانوں میں مماثلٹ کیوں نہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے ساتویں صدی میں کوریا میں تین الگ سلطنتیں تھیں۔ آج کی کورین زبان ان میں سے سلہ کی سلطنت سے آئی ہے۔ سلہ کی سلطنت نے باقی دونوں کا خاتمہ کر دیا تھا، ان کی زبان اور شناخت مٹا دی تھی اور کوریا کو یکجا کر دیا تھا۔ جاپان پہنچنے والے لوگ سلہ کی سلطنت سے نہیں تھے۔ ان آنے والے لوگوں کا نام و نشان کوریا میں سلہ سلطنت نے مٹا دئے تھے۔ جاپان پہنچنے والوں کا آج کے کورین سے تعلق نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آئینو الگ شکل و صورت، الگ زبان اور کلچر ہونے کی وجہ سے جاپان میں بھی ایک ناپسندیدہ اقلیت رہے ہیں جن کے کلچر کو پالیسی کے تحت ختم کیا گیا اور ان سے تعصب برتا گیا۔ اس میں بڑی حد تک کامیابی ہوئی۔ یہ اب جاپان کی آبادی کا صرف ڈیڑھ فیصد ہیں۔ اپریل 2019 میں جاپان کی پارلیمنٹ نے یہ تعصب ختم کرنے کا قانون پاس کیا اور ان کو برابر شہری اور مقامی فرد کا قانونی درجہ ملا۔ اگلے برس جاپان میں ہونے والے اولمپکس میں آئینو کے کلچر کو بھی باقاعدہ دکھایا جائے گا۔ حالیہ برسوں میں جاپانی رویے میں ہونے والی یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاپانی کون ہیں؟ نہیں، یہ سورج دیوی کے پڑپوتے کے زمین پر آنے سے نہیں آئے۔ نہیں، یہ ہمیشہ سے یہاں آباد نہیں۔ یہ آبنائے سوشمیو کے پار سے آئے تھے۔ جنہوں نے یہاں پر بسنے والی بزی آبادی کو ختم کر دیا۔ ان کی زبان، ان کی روایات، ان کے کلچر کو ختم کر دیا۔ ان کے پاس بہتر ٹیکنالوجی تھی جس نے یہ ممکن کیا۔ یہ جہاں سے آئے تھے، وہاں پر ان کو کسی اور نے ختم کر دیا۔ اس قدر بری طرح کہ ان کا نام و نشاں بھی مٹ گیا۔ چین ہو یا آسٹریلیا، برِصغیر یا آسٹریلیا، سوڈان یا چلی، امریکہ یا زمبابوے، دنیا بھر کی تاریخ یہی رہی ہے۔

کس کا ماضی کیا تھا؟ کیا اس کو جانا جا سکتا ہے؟ اس سے جذباتی لگاوٗ اپنی جگہ لیکن ہاں، جذبات کو الگ رکھ کر ایسا بھی کیا جا سکتا ہے۔

کیا اس سے کوئی فرق پڑتا ہے؟ کوریا اور جاپان کے آپسی تعلقات ہوں یا مشرقِ وسطیٰ کے، ان میں تو جھگڑا ہی یہ ہے لیکن یہ عالمی سیاست تک محدود نہیں۔ ہر جگہ کی مقامی سیاست یہ بتاتی ہے کہ ہاں، اس سے فرق پڑتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قومی تشخص، کسی جگہ پر رہنے کے حق، دوسروں سے زندگی چھین لینے، کسی کو کمتر یا برتر سمجھنے میں لوگ ماضی کی ٹھیک یا غلط کہانیوں کو دلیل بناتے رہے ہیں۔ “دو ہزار سال پہلے ہمارے آباء دنیا کے سب سے صفائی پسند لوگ تھے” پر فخر یا پھر ان کہانیوں کی بنیاد پر دوسروں کی ناکیں کاٹ کر ٹرافیاں اکٹھی کرنے کا جواز بنانا صرف جاپان سے مخصوص نہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *