معدومیت کی دریافت۔۔۔۔وہارا امباکر

ڈائنوسار کے کھلونے سے کھیلنے والا چھوٹا بچہ بھی جانتا ہے کہ دنیا میں ایسے جاندار موجود رہے ہیں جو اب نہیں۔ چند صدیاں پہلے تک ایسا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ ارسطو کے “جانوروں کی تاریخ”، پلائنی کی “قدرتی تاریخ” تو کچھ پرانی کتابیں ہیں، لیکن جب کارل لینائیس (جنہوں نے بائیولوجیکل نام رکھنے کا سسٹم بنایا) کی لکھی “فدرت کے نظام” کا دسواں ایڈیشن 1758 میں شائع ہوا تو اس میں سکاراب بیٹل کی 36 انواع، کون گھونگھے کی 34 انواع یا فلیٹ مچھلی کی 16 انواع کا ذکر تو ہے لیکن اس میں صرف ایک ہی طرح کی انواع موجود تھیں ۔۔ وہ جو اب موجود ہیں۔

لندن، پیرس، برلن میں میوزیم عجیب مخلوقات کے ڈھانچوں سے بھر رہے تھے جن کو کسی نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ٹریلوبائیٹ، بیلم نائیٹ، اور امومائیٹ جیسے جانداروں کی باقیات سے۔ سائیبیریا سے میمتھ کے ڈھانچے بھی مغربی یورپ تک پہنچ گئے تھے لیکن یہ مخلوقات اب رہی ہی نہیں ۔۔۔ یہ تصور آتے ہوئے بڑا وقت لگا اور یہ انقلابی فرانس میں پہلی مرتبہ امریکی ماسٹوڈونن کے دانت دیکھ کر ایک نیچرلسٹ کووئیے Cuvier کے ذہن میں آیا تھا، جو سائنس کی تاریخ کی ایک بہت اہم شخصیت رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چارلس لی موئین چار سو فوجیوں پر مشتمل فوجی دستہ لے کر مقامی چکاسا سے لڑنے نکلے تھے۔ ان کو دریائے اوہائیو کے قریب دلدلی علاقے میں 1739 ساڑھے تین فٹ لمبی ران کی ہڈی، بہت بڑا ہاتھی دانت اور چند بڑے دانت ملے۔ یہ موجودہ کینٹکی کی ریاست میں بگ بون لِک کا علاقہ تھا۔ یہ مشن تو شکست اور ناکامی پر متنج ہوا لیکن یہ ہڈیاں فرانس تک پہنچ گئیں۔ یہ ایک بحث کا باعث بن گئیں۔ آخر یہ کون ہو سکتا ہے۔ کسی نے رائے دی کہ یہ الگ جانوروں کی ہڈیاں ہیں لیکن اس کو “اوہائیو کا نامعلوم جانور” کہا گیا۔ جب امریکی صدر تھامس جیفرسن نے ولیم اور کلارک کو امریکہ کے مغرب میں بھیجا تو جیفرسن کو امید تھی کہ وہ اپنے سفر میں اس جانور کو بھی ڈھونڈ لیں گے جو ابھی بھی ان جگہوں پر گھومتا پھرتا ہے۔ انہوں نے لکھا، “قدرت کبھی کسی جاندار کو مرنے نہیں دیتی۔ اس عظیم نظام میں کوئی شے اتنی کمزور نہیں جو کہ ٹوٹ جائے۔ ہم اس جانور کو ڈھونڈ نکالیں گے”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پچیس سالہ کووئیے 1795 میں پیرس پہنچے تھے۔ دریائے اوہائیو کے کنارے ملنے والی ہڈیوں کو پیرس پہنچے نصف صدی بیت چکی تھی۔ ان کو پیرس کے میوزیم آف نیچرل ہسٹری میں کام ملا تھا۔ انہوں نے 4 اپریل 1796 کو میوزیم کی کلکشن کے تجزیے کے بعد اپنی تحقیق ایک پبلک لیکچر میں پیش کی۔

اپنا لیکچر انہوں نے سیلون اور افریقہ کے ہاتھیوں سے شروع کیا تھا۔ پھر وہ امریکہ، ارجنٹینا، جرمنی اور روس میں ملنے والی دریافتوں تک چلے گئے۔ ان سب کے موازنے سے انہوں نے ایک نتیجہ اخذ کیا کہ یہاں پر ملنے والے چار الگ جانور وہ ہیں جو اب نہیں رہے۔ اور پھر انہوں نے اس نتیجے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے سوال اٹھایا، “اگر یہ چار نہیں رہے تو نہ جانے کتنے اور ایسے ہوں گے۔ یہ قدیم اور ختم ہونے والی دنیائیں کیسی تھیں؟ کس انقلاب نے ان کو ختم کر دیا؟”۔ یہ ایک تہلکہ خیز لیکچر تھا۔ ایک نیا خیال۔ مٹ جانا ایک حقیقت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کسی نوع کی معدومیت کو تسلیم کر لینا ایک بات تھی لیکن یہ خیال کہ پوری گمشدہ دنیائیں رہی ہیں، جن میں الگ ہی انواع موجود تھیں ۔۔۔ یہ ہضم کرنا آسان نہیں تھا۔ کووئیے اس کی تلاش میں نکلے۔ پیرس میں ہونا اس کے لئے اچھی جگہ تھی۔ اس کی نرم پہاڑیاں (جن کی وجہ سے پلاسٹر آف پیرس مشہور ہے) اپنے اندر بہت کچھ لئے تھیں۔ کان کنوں کو عجیب ہڈیاں ملنا عام تھا۔ شوقین لوگ ان کو اکٹھا کیا کرتے تھے، یہ جانے بغیر کہ وہ اکٹھا کیا کر رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک شخص کی مدد سے انہوں نے ایک اور ناپید ہو جانے والے جانور کی ٹکڑے جوڑے، درمیانہ سائز کا جانور جسے مونٹ مارٹے کا جانور کہا گیا۔

انہوں نے یورپ بھر سے ان کو اکٹھا کرنے کا کام شروع کیا۔ ان کی شہرت کی وجہ سے لوگوں نے انہیں ملنے والی ہڈیوں کے خاکے اور ان کے ماڈل بھیجنا شروع کئے۔ اس لیکچر کے چار سال کے اندر 1800 تک فوسلز کے چڑیا گھر میں انہوں نے 23 انواع کی شناخت کر لی تھی۔ بونا ہپو، عظیم سینگوں والا بارہ سنگھا، جرمنی کے غار سے ملنے والا عظیم الجثہ ریچھ۔ مونٹ مارٹے کے جانور کی بھی چھ الگ انواع مل گئی تھیں۔ خرگوش کے سائز کا مارسوپئل جو انتہائی دلیرانہ دعویٰ تھا کیونکہ مارسوپیئل تو یورپ میں ہوتے ہی نہیں تھے۔

کووئیے نے سوال اٹھایا، “اگر اتنی جلد اتنا کچھ مل گیا ہے تو نہ جانے زمین اپنے اندر کیا کیا راز چھپائے ہوئے ہے”۔ کووئیے کو دوسرے میوزیموں نے اپنی کولیکشن کا تجزیہ کرنے کی دعوت دینا شروع کر دی۔

جس جس طرح نئے جانور مل رہے تھے، کہانی عجیب تر ہو رہی تھی۔ خشکی پر بڑے سیلامینڈر؟ اڑنے والے ریپٹائل؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معدومیت کی دریافت چھوٹی خبر نہیں تھی۔ اب زمین سے ملنے والی عجیب ہڈیوں کو نئی نظر سے دیکھا جا سکتا تھا۔ امریکہ سے ملنے والے جانوروں کی باقیات کو کووئیے نے ماسٹاڈون کا نام اپنے 1806 میں لکھے پیپر میں دیا۔ اس کی چار مزید انواع دریافت ہوئیں۔ 1812 میں انہوں نے چار جلدوں پر مشتمل فوسلز کا انسائیکلوپیڈیا شائع کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک نیا پیشہ وجود میں آیا۔ “فوسلٹ” وہ لوگ تھے جو زمین میں چھپی باقیات ڈھونڈتے تھے اور امیر لوگوں کو بیچا کرتے تھے۔ ایک نوجوان خاتون میری ایننگ کو برطانیہ میں ایک عجیب کھوپڑی ملی۔ چار فٹ لمبا جبڑا جو کسی پلاس کی طرح کا تھا۔ اس کو اکتھائیوسار کا نام دیا گیا (مچھلی جیسی چھپکلی)۔ انہی خاتون نے اس کے بعد اس سے بھی عجیب آثار دریافت کئے۔ ان کو پلائیوسار کا نام دیا گیا (تقریبا چھپکلی)۔

ابھی سٹریٹوگرافی کا فیلڈ نیا ہی تھا لیکن یہ سمجھا جا چکا تھا کہ پتھروں کی الگ تہیں زمین کے مختلف ادوار میں بنی ہیں۔ پلائیوسار، اکتھائیوسار اور ایک اور طرح کے باقیات، جن کو ابھی نام نہیں دیا گیا تھا، یہ ان جگہوں سے ملے تھے جو اس وقت سیکنڈری کہلاتے تھے (اب اس کو میسوزوئیک ایرا کہا جاتا ہے)۔ اسی قسم کے پتھروں نے دو اور عجیب جانوروں کی باقیات بھی اگلی تھیں۔ برطانیہ میں جا کر ان کا تجزیہ کرنے کے بعد کووئیے کے ذہن میں ایک عجیب خیال کوندا۔

کووئیے کا نیا اور اچھوتا خیال یہ تھا کہ “زندگی کی سمت ہوتی ہے”۔ وہ جانور جو ہمیں تہہ کے قریب ملتے ہیں، وہ موجودہ جانوروں سے ملتے جلتے ہوتے ہیں۔ جس طرح ہم کھود کر پرانی چٹانوں تک پہنچتے جائیں، یہ زیادہ مختلف ہوتے چلے جاتے ہیں، دوسرے جاندار نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ممالیہ کی جگہ دیوہیکل چھپکلیاں نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ ترتیب بس ایسے ہی نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انواع آتی کہاں سے ہیں؟ کووئیے کو اس میں دلچسپی نہیں تھی۔ ان کا فوکس معدومیت پر تھا۔ کووئیے کے ساتھ میوزیم میں ان کے ایک سینئیر ساتھی لامارک تھے۔ انہوں نے یہ سب دیکھ کر ایک اور نیا نتیجہ اخذ کیا۔ یہ کوویئے کی معدومیت سے مختلف تھا۔ ان کا خیال تھا کہ معدومیت کا تصور غلط ہے۔ جاندار بدلتے حالات میں اپنے آپ کو ڈھال لیتے ہیں۔ یہ سب تبدیلیاں نظر آنے کی اصل وجہ یہ ہے۔ ماحول بدلتا ہے تو اپنے ساتھ ان جانداروں کو بھی بدل دیتا ہے۔

کوویئے کی معدومیت کے انقلابی خیال اور لامارک کی بدلتی انواع کے انقلابی خیال کی لڑائی اب اگلے کئی برس تک ہونا تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زندگی کی تاریخ کے بارے میں کووئیے اور لامارک، دونوں کے خیالات مختلف تھے، آدھے غلط اور آدھے درست۔ یہ ایک نئی اور کہیں زیادہ بڑی حقیقت سے آشنائی کا پہلا قدم تھا۔ کووئیے کے مطابق ماسٹاڈون انسانی تہذیب کی سرحد پر مٹ گیا تھا اور بالکل ایسا ہی ہوا تھا۔ لامارک کے مطابق اس کا جدید ہاتھی سے رشتہ تھا اور بالکل ایسا ہی تھا۔

کوئی بھی باقی نہیں رہتا ۔۔۔۔ کوویئے کے خیال کا یہ حصہ ٹھیک تھا۔

ہر کوئی بدل جاتا ہے ۔۔۔۔۔ لامارک کے خیال کا یہ حصہ ٹھیک تھا۔

مٹ جانا اور بدل جانا زندگی کے چکر کی ایک ہی لڑی کا حصہ ہے، گمشدہ دنیائیں کسی کے تصور سے بھی کہیں زیادہ گہرائی رکھتی ہیں ۔۔۔ شواہد اکٹھے ہو رہے تھے۔ نقطے جوڑنا ابھی باقی تھا۔ اس میں اگلا بڑا خیال سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے جیولوجسٹ چارلس لائیل کی طرف سے ابھی آنا تھا۔ تھکی ہاری شکست خوردہ فوج کو دلدلی زمین سے ملنے والے دانتوں کے راز آہستہ آستہ کھلنا شروع ہو گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساتھ لگی تصویر میں امریکی ماسٹاڈون کا ڈھانچہ ہے۔ آج کسی کے لئے بھی اس کی تاریخ جاننا بہت آسان ہے۔ ڈائنوسار کے کھلونے سے کھیلتا چھوٹا بچہ بھی معدومیت کی حقیقت سے واقف ہوتا ہے۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں کہ دنیا میں کوئی بھی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *