پانچ شہزادے، جنہیں اپنے مستقبل کی امید نہیں رہی تھی، سب سے زیادہ پرجوش تھے۔ انہوں نے قسمت کے دئے گئے اس موقع کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا۔ ان پانچ میں سے چار گمنام رہے تھے اور خاص صلاحیتوں← مزید پڑھیے
انقلاب کا مقابلہ کرنے سب سے موثر جواب لاہور اور پشاور سے آیا۔ لاہور میں جان لارنس ایک اچھے منتظم تھے اور پشاور کے جان نکلسن اور ہربرٹ ایڈورڈز سخت گیر فوجی۔ انہوں نے فوری جواب کا منصوبہ بنایا۔ “ہمیں← مزید پڑھیے
سوموار کا دن تھا۔ عیسوی کیلنڈر میں 11 مئی 1857 جبکہ ہجری کیلنڈر میں سولہ رمضان۔ دہلی میں رمضان میں شہر کی زندگی بدل جایا کرتی تھی۔ دہلی کی بدترین گرمی کا دن تھا۔ دہلی کے مسلمان خاندان سحری سویوں← مزید پڑھیے
دہلی کی جامعہ مسجد کے دروازے پر 18 مارچ 1857 کو ایک پوسٹر چسپاں تھا۔ ایک ننگی تلوار اور ڈھال بنی تھی، جس کے ساتھ لکھا تھا کہ یہ شاہِ ایران کی طرف سے آنے والا پیغام ہے۔ فارس میں← مزید پڑھیے
”برٹش انڈیا جتنا طاقتور آج ہے، پہلے کبھی نہیں تھا۔ ہر طرف امن و سکون ہے۔ قانون کی بالادستی ہے۔ ملک محفوظ ہے۔ لوگ خوش ہیں۔ پچھلے کچھ برسوں میں برٹش راج اور ہندوستانی عوام نے بہت ترقی کی ہے۔← مزید پڑھیے
برٹش نے سکھوں کو جب 1849 میں بالآخر شکست دے کر پنجاب کا بڑا حصہ قابو کر لیا تو ان کے پاس جنوبی ایشیا میں کوئی مقابلہ نہیں بچا تھا۔ تمام عسکری حریفوں کو مات دے دی گئی تھی۔ بنگال← مزید پڑھیے
ریورنڈ مجلے جیننگز ہندوستان میں 1832 میں پہنچے تھے۔ وہ کرسچن کمیونیٹی کے مذہبی راہنما تھے اور ان کا ایک اپنا ہی خیال تھا۔ “برٹش سرکار نے ہندوستان سے کوہِ نور ہیرا لے لیا ہے۔ اس کا قرض چکانا ہے← مزید پڑھیے
بہادر شاہ ظفر کی کوشش تھی کہ وہ اپنے بعد اپنی مرضی کا جانشین کا تقرر کر سکیں۔ ان کے بڑے بیٹے دارا بخش کی وفات بخار آ جانے کے بعد 1849 میں ہو گئی تھی۔ اگلا نمبر مرزا فخرو← مزید پڑھیے
فرانسیسی مہم جو فرانسوئے بیمئیر نے شاہ جہاں کی بیٹی روشن آرا بیگم کے 1640 کی دہائی میں کئے گئے کشمیر کے سفر کی داستان لکھی ہے۔ ان کا تبصرہ تھا کہ انہوں نے ایسی شان و شوکت والا سفر← مزید پڑھیے
جب ایسٹ انڈیا کمپنی کے لوگ سب سے پہلے دہلی پہنچے اور بسے تو وہ اس جگہ سے اثر قبول کئے بغیر نہ رہ سکے۔ انہوں نے یہاں کی روایات اپنا لیں۔ جب برٹش کمانڈر انچیف کی اہلیہ لیڈی ماریہ← مزید پڑھیے
دہلی کا 1857 کا محاصرہ برٹش راج کے لئے ہندوستان میں آخری سٹینڈ تھا۔ اگر اس میں ہندوستانی انقلابی کامیاب ہو جاتے تو ہندوستان برٹش کے ہاتھ سے نکل جاتا۔ کالونیل دور کا سب سے بڑا پرائز ان کے پاس← مزید پڑھیے
نومبر 1862 کو دریائے رنگون کے کنارے انہیں دفنا دیا گیا۔ آخری رسومات میں دو بیٹے اور ایک معمر ملا نے شرکت کی۔ چھوٹے سے مجمع، جنہیں اس موت کا علم ہوا تھا، نے جمع ہونے کی کوشش کی تھی۔← مزید پڑھیے
اس کے لئے تین تجاویز ہیں۔ پہلا تجویز انکساری۔ دوسری، استاد والا رویہ اور تیسری، جرات۔ غلط کو غلط کہنے کی۔ آپ کے بچے کے استاد نے کچھ بتایا ہے، دفتر میں یا حلقہ احباب میں کوئی بات ہوئی ہے۔← مزید پڑھیے
تجسس پسند کی زندگی کا پہلا اصول کریٹیکل سوچ ہے۔ اس کے اصول سب سے پہلے اپنے بارے میں اپنائیں۔ ذہنی مغالطے، تعصبات، یادداشت میں خرابیاں، سمجھنے میں غلطیاں، جذباتی استدلال، اپنا علم کا اس سے زیادہ گمان جتنا وہ← مزید پڑھیے
فلسفے میں پوسٹ ماڈرن ازم ایک پوزیشن ہے جس کے مطابق حقیقت اور سچ ایک کلچرل بیانیہ ہے۔ فلسفے کے اس خیال کو سائنس مخالف استعمال سائنس کو ڈِس کریڈٹ کرنے کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں کہ ہر سائنسی← مزید پڑھیے
“حقیقت اور اپنے یقین میں مفاہمت کروانی ہو تو مجھے تبدیلی اپنے یقین میں کرنی پڑتی ہے۔ اس کا برعکس طریقہ ٹھیک کام نہیں کرتا۔” ۔علی زیر یدکوسکی مثبت سوچ کی طاقت کی تحریک سے سیلف ہیلپ کے کئی گرو← مزید پڑھیے
ہم اپنے کئی خوف اس وقت کم کر سکتے ہیں جب ہم چیزوں کو سمجھ لیں۔ ذہنی بیماریوں کو نہ سمجھنے کا ایک نتیجہ ایک قدیم روایت رہی ہے جو آسیب اتارنے کی ہے۔ دنیا میں بہت جگہوں پر اس← مزید پڑھیے
جب ہم قدرتی ماحول کے بارے میں سوچتے ہیں تو خالص، صحت بخش اور انسانی مداخلت سے پاک ماحول کا تصور کرتے ہیں۔ سرسبز جنگل، صاف پانی کے نیلگوں دریا اور اونچی گھاس والے وسیع میدان۔ اور یہ تصور ہمیں← مزید پڑھیے
یہ ایک حقیقت ہے کہ حقیقت سے اختلاف سے رکھنا زیادہ مشکل نہیں۔ اس سے انکار کے گُر۔ فلاں شے پر اختلاف ہے؟ چلو جی، کام بن گیا اس کے لئے پہلے سائنس کی ایک چیز کو سمجھنا پڑے گا۔← مزید پڑھیے
سوڈوسائنس کا سب سے کامیاب حصہ انکار (denialism) کا حربہ ہے۔ نہ صرف عام ہے بلکہ کامیاب بھی۔ اس وقت باقاعدہ نظریاتی تحریکیں موجود ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں کا، ماڈرن سنتھیسز کا، جراثیم کو بیماریوں کی وجہ کہنے کا، ذہنی← مزید پڑھیے