وہارا امباکر کی تحاریر

بدن (86) ۔ درد کے علاج/وہاراامباکر

درد عجیب ہے کہ یہ متغیر رہتی ہے۔ صورتحال کے مطابق بڑھ جاتی ہے یا کم ہو جاتی ہے یا نظرانداز کر دی جاتی ہے۔ اور کسی انتہا کی حالت میں دماغ اسے محسوس ہی نہیں کر پاتا۔ اس کا←  مزید پڑھیے

بدن (85) ۔ درد کی اقسام/وہاراامباکر

ساخت کے لحاظ سے اعصابی نظام کے دو حصے ہیں۔ مرکزی اعصابی نظام جس میں دماغ اور ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اور وہ اعصاب جو اس مرکز سے باہر کو جاتے ہیں اور جسم کے تمام حصوں تک پہنچتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

بدن (84) ۔ درد کا احساس/وہارا امباکر

درد کام کیسے کرتی ہے؟ یہ سوال ابھی حل شدہ سوال نہیں۔ دماغ میں درد کا کوئی مرکز نہیں۔ کوئی ایک ایسی جگہ نہیں جہاں درد کے سگنل اکٹھے ہوتے ہیں۔ ایک سوچ کو ہیپوکیمپس سے گزرنا ہے تا کہ←  مزید پڑھیے

بدن (83) ۔ درد کے مسئلے/وہاراامباکر

درد ایک عجیب تنگ کرنے والی شے ہے۔ بیک وقت ضروری بھی اور ناپسندیدہ بھی۔ اور یہ انسانی تاریخ میں میڈیکل سائنس کے مرکز پر رہی ہے اور اس کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ کئی بار یہ ہمیں محفوظ←  مزید پڑھیے

بدن (81) ۔ روز کا ردھم/وہاراامباکر

زمین سورج کے گرد گھومتی ہے اور اس کے وقت ہونے والی روشنی اور تاریکی کے سائیکل کے ساتھ ہی جاندار خود کو تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ پھولوں کے خوشبو دینے سے تتلیوں کی اڑان تک سب کچھ اس آفاقی←  مزید پڑھیے

بدن (80) ۔ جسم کی گھڑی/وہاراامباکر

دس سال کی تحقیق کے بعد لندن کے امپریل کالج کے محقق رسل فوسٹر نے ایسی چیز کو ثابت کر دیا جو اس قدر حیرت انگیز تھی کہ بہت سے لوگوں نے پہلے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔ فوسٹر←  مزید پڑھیے

بدن (79) ۔ نیند کے مراحل/وہاراامباکر

نیند ہمیں جو کچھ بھی دیتی ہے، یہ صرف بحالی کے لئے آرام تک محدود نہیں۔ کچھ تو ہے جس کی وجہ سے ہم دنیا سے ناطہ توڑ دینے کی خواہش کرتے ہیں۔ اور اس دوران خطرات سے دفاع بھی←  مزید پڑھیے

بدن (78) ۔ نیند/وہاراامباکر

نیند بڑی پرسرار شے ہے۔ ہمیں یہ علم ہے کہ یہ انتہائی ضروری ہے۔ لیکن ٹھیک سے معلوم نہیں کہ ایسا کیوں ہے۔ ہم یقین سے نہیں بتا سکتے کہ نیند کس لئے ہے۔ ایسا کیوں ہے کہ کچھ لوگوں←  مزید پڑھیے

بدن (77) ۔ آنت/وہاراامباکر

نظامِ انہضام کا مرکز چھوٹی آنت ہے۔ یہ پچیس فٹ لمبی ٹیوب ہے جو لپٹی ہوئی موجود ہے۔ یہ ہضم ہونے کے کام کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ چھوٹی آنت کے تین حصے ہیں۔ ڈیودینم، جیجونم اور ایلیم۔ لیکن یہ←  مزید پڑھیے

بدن (76) ۔ مارٹن کا معدہ/وہاراامبار

بہت طویل عرصے تک معدے کے بارے میں ہمارا علم 1822 میں ہونے والے ایک بدقسمت حادثے کے مرہونِ منت تھا۔ اس سال کینیڈا کے ایک نوجوان ایلیکس سینٹ مارٹن ایک دوکان پر کھڑے تھے۔ ان کے ساتھ ایک شخص←  مزید پڑھیے

بدن (75) ۔ نظامِ انہضام/وہاراامباکر

اپنے اندر سے آپ بڑے ہیں۔ بہت بڑے۔ نہیں، یہ کسی حوصلہ افزائی کرنے والا کا محاورتاً بولا گیا فقرہ نہیں، یہ بائیولوجی کے نقطہ نظر سے سائز ہے۔ اوسط شخص میں غذائی نالی چالیس فٹ لمبی ہے۔ اور اس←  مزید پڑھیے

بدن (74) ۔ غذائی راہنمائی/وہاراامباکر

ہمیں کیا کھانا چاہیے، کتنا کھانا چاہیے اور کیا نہیں کھانا چاہیے۔ یہ اہم سوالات ہیں جن کے بارے میں اچھی ہدایات معتبر ذرائع سے مل جائیں گی لیکن یہاں پر ایک مسئلہ ہے۔ ہمیں اندازہ تو ہے لیکن ٹھیک←  مزید پڑھیے

بدن (72) ۔ فیٹ اور پانی/وہارا امباکر

فیٹ بھی کاربن، آکسیجن اور ہائیڈروجن سے بنے ہیں لیکن ذرا فرق تناسب میں۔ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ ان کو سٹور کرنا آسان ہے۔ جب یہ جسم میں ٹوٹتے ہیں تو کولیسٹرول اور پروٹین سے ملکر نیا←  مزید پڑھیے

بدن (71) ۔ پروٹین اور کاربوہائیڈریٹ/وہاراامباکر

ہم خوراک میں جتنی بھی چیزیں لیتے ہیں (نمکیات، معدنیات، پانی وغیرہ وغیرہ) ان میں سے صرف تین ایسی ہیں جنہیں ہاضمے کے نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت پڑتی ہیں۔ پروٹین، کاربوہائیڈریٹ اور فیٹ۔ ان کو اب باری باری←  مزید پڑھیے

بدن (70) ۔ وٹامن/وہاراامباکر

غذا کے لئے کیلوری کی پیمائش کے استعمال کے ساتھ کئی نقائص ہیں۔ یہ ہمیں اس بارے میں راہنمائی نہیں کرتی کہ کوئی غذا ہمارے لئے اچھی ہے یا بری۔ اور کیلوری کی روایتی پیمائش اس بات کا خیال نہیں←  مزید پڑھیے

بدن (69) ۔ غذائی سائنس کی ابتدا/وہاراامباکر

ہمیں معلوم ہے کہ کیک یا برگر یا نہاری یا پائے یا قیمے والے پراٹھے یا ایسے دوسری چیزیں اگر زیادہ مقدار میں کھائی جائیں تو ان کے اثرات ہماری توند پر نظر آنے لگیں گے۔ لیکن ان کے پیچھے←  مزید پڑھیے

بدن (68) ۔ دمہ/وہاراامبارا

فرانسیسی ناول نگار مارسل پروسٹ 1871 میں پیدا ہوئے۔ انہوں دمے کی بیماری تھی۔ انہیں پہلی بار دمہ کا اٹیک نو سال کی عمر میں ہوا اور اپنی بیماری کے غلام رہے۔ اپنی علاج کی کوشش کے لئے بے شمار←  مزید پڑھیے

بدن (67) ۔ سانس/وہاراامباکر

خاموشی سے اور ایک ردھم کے ساتھ، سوتے ہوئے اور جاگتے ہوئے، ہر روز آپ بیس ہزار سانس اندر اور باہر کرتے ہیں۔ اس میں تقریبا پندرہ ہزار لٹر ہوا کو پراسس کرتے ہیں۔ (ٹھیک عدد کا انحصار اس پر←  مزید پڑھیے

بدن (66) ۔ امیون سسٹم کے مسائل/وہاراامباکر

پچاس کے قریب معلوم آٹوامیون بیماریاں ہیں جو ہمیں امیون سسٹم کی وجہ سے لاحق ہوتی ہیں اور یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس کی مثال کروہن بیماری ہے۔ 1932 میں برل کوہن نے اسے شناخت کیا اور اس پر←  مزید پڑھیے

بدن (65) ۔ گردے کی تبدیلی/وہاراامباکر

دسمبر 1954 میں 23 سالہ رچرڈ ہیرک کے گردے فیل ہو چکے تھے۔ وہ موت کے دہانے پر تھے۔ انہیں ان کی زندگی لوٹا دی گئی، وہ گردے کا ٹرانسپلانٹ کروانے والے پہلے مریض تھے۔ وہ قسمت کے دھنی تھے←  مزید پڑھیے