Salma Awan کی تحاریر

کیلاش کی وادی بریر میں موت کا استقبال کیسے کیا جاتا ہے۔۔۔سلمٰی اعوان

پشاور روڈ سے آیون کسی ایسی دُلہن کی طرح نظر آتا ہے جس کا ایک ایک انگ حُسن دلربائی کی تصویر ہو۔ پر جونہی نیچے اُتر کر نقاب کشائی ہوتی ہے تو ایک بھدا بے رونق اُجڑا پُجڑا چہرہ دیکھنے←  مزید پڑھیے

آواز دو کہ حلب جل رہا ہے ۔۔۔سلمیٰ اعوان

16 دسمبر 2014ء کے دن کا گوآغاز ہوگیا تھا مگر وقت تین بجے صبح کا تھا جب میری آنکھ کھل گئی تھی۔ دوبار ہ سونے کی کوشش کی۔ دائیں بائیں بہتیرے پلسٹے مارے۔ مگر نیند پلاّ پکڑانے میں نہ آر←  مزید پڑھیے

لیو ٹالسٹائی اور صوفیہ ٹالسٹائی۔۔۔سلمی اعوان

اپنے ماسکو میں قیام کے دوران میں یاسنا یا پولیانہYasnaya ployanaجانے کی بڑی خواہش مند تھی۔ٹالسٹائی کا وہ گھرجہاں وہ پیدا ہوا۔جہاں اُس نے اپنے ادبی شہ پاروں کی تخلیق کی تھی۔پر جیسے وہاں حاضری دینی میری قسمت میں نہ←  مزید پڑھیے

گلگت میں بسین اور نوپورہ کی تہذیبی جھلک اور بدھ عقیدت مندوں کے شاہکار۔۔۔سلمٰی اعوان

دن کا پروگرام میں نے اپنی مرضی سے ترتیب دیا۔سرفہرست کار گاہ نالہ کی سیر تھی۔ شفقت نے چپ چاپ پیچھے چلنے میں عافیت خیال کی۔ ذرا بھی انتظار کی زحمت نہیں کرنا پڑی۔ سڑک پر قدم رکھے اور ویگن←  مزید پڑھیے

بغداد کا ڈاؤن ٹاؤن اور میرا بچپن۔۔۔۔سلمٰی اعوان

سچ تو یہ تھا میری آنکھوں میں میرے بچپن کی ساری ہنسی چھلکی تھی۔میرا وجود کسی معصوم بچے کی طرح کلکاریاں مارنے لگ گیا تھا۔مسرت کے بے پایاں احساس سے نہال میں نے اپنے سامنے چوک کو دیکھا تھا۔ اللہ←  مزید پڑھیے

قاہرہ میں لائٹ اینڈ ساؤنڈ شو۔۔۔۔سلمٰی اعوان

ناشتہ فندق بوستان کے ساتویں فلور کی چھت پر ہوتا۔ کوئی چھ مرلے کے رقبے پر محیط ایریا کھڑے اور بیٹھے راڈوں پر پڑی ترپال کے نیچے کُرسیوں میزوں سے سجا کچھ ایسا گھٹیا تاثر بھی پیش نہیں کرتا تھا۔←  مزید پڑھیے

پیٹرز برگ روس میں مسلمان اور تُرکوں کی تاتاری مسجد ۔۔۔سلمیٰ اعوان

وہ دن جُمعے کا تھا اور میں ظہر کی نماز پیٹر ز برگ کی اکلوتی مسجد جو پیٹر اینڈ پال فوٹریس کے قریب تھی میں ادا کرنے کی شدید خواہش مند تھی۔ یہاں کتنے مسلمان ہیں؟ رُوسی اور دیگر ممالک←  مزید پڑھیے

سری لنکن لڑکیوں سے باتیں اور کولمبو نیشنل میوزیم ۔۔۔سلمیٰ اعوان

چلو شُکر ناشتے میں پراٹھا آملیٹ تھا۔چائے تھی اور چھوٹے سے ٹرانسٹر پر دو شوقین لڑکیوں کے گانے سُننے کا چسکا تھا۔یہ سرزمین تو یوں بھی راگ و رنگ کی دلدادہ سمجھی جاتی ہے۔بّرصغیر کے پُرانے لوگوں کو اس کی←  مزید پڑھیے

مگر ہم بہت بھو کے تھے۔۔۔ سلمیٰ اعوان

گہرے سبز پردے کے تلے سانس لیتی سراندیب کی زمین سُورج فطرت کی پچی کاری پر خراج تحسین پیش کرتا ہے وہ اپنی دھرتی پر انسان اور چرند پرند کو محبت اور آتشی سے رہنے کا کہتی ہے گرچہ جنگوں←  مزید پڑھیے