Salma Awan کی تحاریر

خدا کے منتخب لوگوں میں سے ایک سلطان محمد فاتح۔سفر نامہ/سلمٰی اعوان۔۔۔قسط8

اُس جیالے سلطان محمد فاتح کا مقبرہ،اس کی یادگار “مسجد فاتح” دیکھنے کی بڑی خواہش تھی۔یوں مسجدیں تو کم و بیش تھوڑے بہت فرق سے ایک جیسی ہی تھیں۔استنبول تو ویسے بھی مسجدوں کا گھر ہے۔مگر بات اُس قلبی تعلق←  مزید پڑھیے

سلطان احمت میں تھوڑی سی آوارہ گردی اور تھوڑی سی دل پشوری۔۔۔سلمٰی اعوان(سفر نامہ)قسط 7

یہ بڑا سنہری موقع تھا مجھ جیسی آپ پُھدری عورت کیلئے۔ میں سیماکے تسلّط سے آزاد تھی اورخود کو بے حد ہلکی پھلکی سی محسوس کررہی تھی۔جی چاہ رہاتھا وہ گیت گاؤں۔ پنچھی بنوں،اڑتی پھروں نیل گگن میں آج میں←  مزید پڑھیے

لُٹنا میرا استنبول کے کیپلی کارسی میں۔۔۔۔سلمٰی اعوان(سفر نامہ)قسط 6

استنبول کا لینڈ مارک توپ کپی میوزیم۔۔۔۔سلمٰی اعوان/قسط5 دوسو چوراسی لیرے تین دن چلے تھے۔چوتھے دن توپ کپی سرائے میوزیم کی آرمینیائی طرز تعمیر کی خوبصورتیوں،پچی کاری و تزئین کاری کی ہوش رُبا رنگینیوں سے طلسم زدہ سے باہر آئے←  مزید پڑھیے

استنبول کا لینڈ مارک توپ کپی میوزیم۔۔۔۔سلمٰی اعوان/قسط5

سچ تو یہ تھا کہ نئی اور اجنبی سرزمینوں پر اپنے وجود کو عجز کے جذبوں میں لپیٹ کر عبودیت کے گہرے احساس کے تحت جھکانا اور پیشانی کو زمین پر رکھنا ایک ایسا مسرورکن اور لطیف عمل ہے جس←  مزید پڑھیے

استنبول کی ایا صوفیہ۔۔۔۔سلمیٰ اعوان

پیٹ پوجا اور یاری دوستیاں نپٹا کرجب ہم واپس ہوٹل پہنچے.ریسپشن پر کھڑے لڑکے نے ایک بروشر ہمارے ہاتھوں میں تھما دیا۔یہ شہر کی خوبصورت جگہوں کی سیر کا پیکج تھا۔میں نے بے اعتنائی سے اُسے دیکھا۔چھوٹتے ہی انکار کردیا←  مزید پڑھیے

کیا چین سوپر پاور بننے جارہا ہے؟۔۔۔۔سلمیٰ اعوان

مکالمہ پیج پر   سائرہ نعیم کے ایک مضمون کی پوسٹ شیئر کی گئی ۔جسے پڑھتے ہی میری یادیں مجھے اُٹھا کربالائی ہنزہ کی وادی پھسو کے اُس گھر میں لے گئی جہاں میں سنکیانگ کے مشہور شہر اُرمچی سے1995ء←  مزید پڑھیے

بغداد،اُس کا کلاسیکل حُسن اور میں۔۔۔۔سلمیٰ اعوان

چور نالوں پنڈ کاہلی۔شاپنگ کے بارے میں میرا اور افلاق کا وہی حال تھا۔شام ڈھلے وہ ضرور کہتا۔ ”ایک چکر لگا لیجئے ۔کچھ خریدنا نہیں آپ کو۔بغداد کی کوئی سوغات، کوئی سوونئیر تو لے لیں۔چلیے سوق الغزل چلیے،سوق الجدید میں←  مزید پڑھیے

بغداد کی ال شابندر کافی گھرمیں بغدادیوں سے ملنا۔۔۔۔۔سلمی اعوان/قسط 4

نجف اشرف اور کوفے میں ڈاکٹر حمیدی دولانی سے ملنا۔۔۔۔۔سلمٰی اعوان/قسط 3 یہ کربلا معلی سے بغداد کیلئے واپسی کا سفر تھا۔گاڑی میں بیٹھنے سے قبل میں نے صبر و رضا کے پیکر امام عالی مقام و ذی شان کے←  مزید پڑھیے

نجف اشرف اور کوفے میں ڈاکٹر حمیدی دولانی سے ملنا۔۔۔۔۔سلمٰی اعوان/قسط 3

”بورسپہ Borsippa ایسی جگہ نہیں کہ جسے چھوڑا جائے۔ الفاظ اس کے گلے کے فوارّے سے نکلتے موتیوں کی طرح اچھلتے کودتے میری سماعتوں سے ٹکراتے تھے۔ رضاظہ جھیل Razzazeh Lakeکی مچھلی کھلانی ہے۔“ ”چلو ایک کریلا اوپر سے نیم←  مزید پڑھیے

دنیا ئے اسلام کے مقدس ترین شہر کربلا کی مزید جھلکیاں۔۔۔۔سلمیٰ اعوان

تین گھنٹے کی خجل خواری کے بعد جب واپس آئی۔جی چائے پینے کو چاہ رہا تھا۔مگر چائے نہیں قہوہ تھا۔میں نے بیگ سے اپنا گلاس نکالا۔قہوہ اُس میں ڈلوایا اور ہوٹل آگئی۔ریسپشن روم اس وقت خالی تھا۔صوفے پر بیٹھ کر←  مزید پڑھیے

دنیائے اسلام کا ایک مقدس ترین اور زائرین سے لبالب بھرا کربلا شہر۔۔۔۔سلمٰی اعوان/قسط 1

تو آج کربلا کے لیے روانگی تھی۔رات کو ہوٹل آنے پر نسرین سے پتہ چلا میں نے فکر مند سی ہو کر اپنے آپ سے کہا تھا۔ ”لو ان کا تو کوچ کا پروگرام ہے اور میری بغداد کے نوسٹلجیاکی←  مزید پڑھیے

مصر کا اسکندریہ شہر اورقلوپطرہ۔۔۔۔سلمٰی اعوان

”اسکندریہ کیلئے تو ہر گھنٹے بعد گاڑی جاتی ہے۔“ ہم نے تو نو بجے کی ٹرین کیلئے دڑکی لگائی تھی۔پر بکنگ کاؤنٹر پر پہنچ کر پتہ چلا کہ ٹرین تو چلی گئی۔وہی اپنی پرانی عادت کے اظہاریئے نہ چاہتے ہوئے←  مزید پڑھیے

ونٹر پیلس پیٹرز برگ کے نگرانوں سے ذرا سی ” تُو تُو میں میں”۔۔۔۔۔ سلمیٰ اعوان

خیال نہیں مجھے پُختہ یقین تھا کہ طے کردہ جگہ پر مہر النساء میری جان کا سیاپا کر رہی ہوگی پر جب میں اُ س کے قریب گئی وہ چیکنگ کے عملے میں سے ایک منحنی سی لڑکی کے پاس←  مزید پڑھیے

ہندوستان کے سفر کی میٹھی کھٹی یادیں۔۔۔سلمٰی اعوان

پہلے چھٹی ملی پھر تھوڑی دیر بعد ہی ہو ا میں تیرتی اُس دل کش و دلربا حسینہ کی آواز کانوں سے ٹکرائی تھی۔ یہ ڈاکٹر شائستہ نزہت تھی جو فون پر مجھ سے مخاطب تھی۔ ”وزیراعلیٰ پنجاب جنا ب←  مزید پڑھیے

کافرستان کی بریر وادی کی ایک دلچسپ اور حیرت انگیز رسم ”بودلک“ کا احوال ۔۔۔۔۔سلمیٰ اعوان

چترال سے یہ میری تیسری ملاقات تھی۔ پوڑ (ستمبر کے آخرمیں بالائی چراگاہوں سے مال مویشیوں کا نیچے وادی میں آنے اور اخروٹ وانگور پکنے کی خوشی میں منایا جانے والا تہوار) دیکھنے کی حسرت بھی اندر سے نکل کر←  مزید پڑھیے

پیٹرز برگ میں راسپوٹین کا محل اور اس سے میری ملاقات۔۔۔۔ سلمٰی اعوان

یہاں Moyka مویا کا کینال کے گدلے پانیوں کودیکھتے ہوئے زیرلب خود کلامی کے سے انداز میں تھوڑے سے ملال کی آمیزش کے رچاؤ میں گھُلے لہجے نے بے اختیار ہی کہا تھا۔ ”یاراب محل دیکھنے تو میں بھی آگئی←  مزید پڑھیے

رُوسی شادی بیاہ کی رسوم۔۔۔۔سلمٰی اعوان

البم کیا کھُلا۔ کلچر اور ثقافت کا ایک پٹارہ کھُل گیا تھا۔ انستاسیا پاکستانی نوجوان شاہد کی بیگم تو کِسی مقامی ڈریس کمپنی کی ماڈل لگتی تھی جو لتویاکی نمائندگی کرتی ہو۔ میں نے بھرپور ستائشی نظروں سے البم کے←  مزید پڑھیے

جان کیٹس شیلے میوزیم روم۔۔۔۔سلمی اعوان

جان کیٹس پانیوں پر لکھے ہوئے نام والا! o کیٹس، شیلے اور بائرن کو میں نے اپنی بیٹی کے ساتھ پڑھا اور ان کی محبت میں گرفتار ہوئی۔ o جوزف سیورن جیساپرستار بھی کہیں مقدر والوں کو نصیب ہوتا ہے۔←  مزید پڑھیے

بھلا سوویت کیوں ٹوٹا؟۔۔۔سلمیٰ اعوان

ینٹ پیٹرزبرگ میں اتنے دن؟ کوئی آپکا ہے وہاں؟ کراچی سے یہ آواز میرے ویزہ اور ٹکٹ ایجنٹ کی تھی۔وہ رُوس میں میرے قیام کے دنوں کی بابت پوچھتا تھا۔پیٹرز برگ میں ہفتے بھرکا سُن کر اُسکا حیرت بھرا یہ←  مزید پڑھیے

میرے دیش کی خوبصورت وادی چترال۔۔۔۔ سلمیٰ اعوان

اس وقت میں اپنے اِس پیارے سے ملک میں برپا ہونے والے الیکشن کے شوروغوغا،امیدواروں کی بھانت بھانت کی بولیوں،گالیوں اورکوسنوں کی یلغار میں پھنسی سوچے چلی جارہی ہوں کہ کہیں بھاگ جاؤں۔کہیں پہاڑوں میں سکون اور شانتی کے لئیے←  مزید پڑھیے