کیا آپ اپنی عادتیں، سوچ، طرزِ زندگی کو بدلنا چاہتے ہیں؟؟ یقیناً ہم سب اپنی زندگی میں کچھ نہ کچھ ضرور بدلنا چاہتے ہیں۔ ہم میں سے زیادہ تر کو وہ زندگی/شخصیت چاہیے ہوتی ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے،← مزید پڑھیے
نفرت ایک جذبہ ہے، اور پاکستانی قوم اس جذبہ کو ضرورت سے زیادہ محسوس کرتی ہے دوسرے نظریات، اقلیت، ممالک اور مذاہب کے لیے، تو کیا اس میں پاکستانی قوم کا قصور ہے؟؟ ہرگز نہیں! نفرت فطرت کی طرف سے← مزید پڑھیے
ارشد ندیم نے جو مثال قائم کی ہے وہ لاجواب ہے، اب ان کی اس جیت کو جس طرح سے منایا جائے گا، جو اہمیت اور مواقع انہیں ملیں گے اس سے پاکستانی بچوں اور نوجوانوں میں اولمپکس کو لے← مزید پڑھیے
میں اکثر اپنی وڈیوز میں علمِ نجوم وغیرہ کا ذکر کرتی ہوں، مقصد لوگوں کا ردِ عمل جاننا ہوتا ہے کہ وہ کتنا سنجیدہ لیتے ہیں ایسے علوم کو جو ہزاروں سال پرانے ہیں،اور میری وڈیو میں جب میں نے← مزید پڑھیے
مجھے کسی نے ایک پوسٹ میں ٹیگ کیا جہاں لکھا تھا کہ سیلف ہیلپ کتابیں اور موٹیویشنل وڈیوز ایک انڈسٹری بن چکی ہے، یہ ایک بزنس ہے، یہ سب پڑھ کر ڈوپامین خارج ہوتا ہے دماغ میں اور یہ کتابیں← مزید پڑھیے
میں نے جب فلم “بھول بھولیاں” دیکھی تھی تو اس وقت تقریباً ایک ہفتہ تو یوں لگتا تھا کہ “مونجھولیکا” میرے پیچھے ہی کھڑی ہے اور مجھ پر حملہ کردے گی۔ اس وقت سوچا نہیں تھا کہ کبھی اس فلم← مزید پڑھیے
مجھے میرے اسسٹنٹ نے بتایا کہ میڈم آپ کو کسی نے واٹس ایپ پر میسج کرکے کہا ہے کہ “آپ کو کسی کی نظر لگی ہے اور کسی نے کالا جادو کیا ہے آپ پر”، اور وہ جناب یہ سب← مزید پڑھیے
“Psychology Behind Black Magic” فیس بک پر کومنٹ میں کالے جادو پر بات کرنے کی گزارش آئی، لیکن واٹس ایپ پر میسج بھی موصول ہوا جس میں کسی جناب نے مجھے کہا کہ “میڈم آپ پر کسی نے کالا جادو← مزید پڑھیے
ایک جناب نے طنز کے متعلق سوال پوچھا کہ وہ طنز کرتے بھی ہیں اور انہیں طنز سننے سے الرجی بھی ہے، ایسا کیوں ہے ؟اور اس رویے کو کیسے درست کیا جاسکتا ہے۔ ؟ طنز ایک بہت غیر صحتمندانہ← مزید پڑھیے
سب سے پہلے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تصوارات کیسے بنتے ہیں؟؟ تصوارات (فینٹسی) آپ کے ذہن کی ایک خصوصیت (فیچر) ہے، یہ خصوصیت ہر انسان کے ذہن میں پائی جاتی ہے۔ ہم چیزوں کو تصور تب کرتے ہیں← مزید پڑھیے
ہمارے یہاں لوگ ضرورت سے زیادہ ادویات کا استعمال کرتے ہیں لیکن کیا یہ ادویات آپ کو نفسیاتی یا جسمانی طور پر نقصان پہنچاتی ہیں؟؟ مجھے یہ آرٹیکل لکھنے کا خیال کبھی نہ آتا اگر میں خود اس درد سے← مزید پڑھیے
گورے بابو جب انڈیا پر حکومت کرتے تھے، تب ان کے پاس فارغ وقت بہت ہوتا تھا۔ چونکہ نوکر چاکر زیادہ تھے تو وقت گزاری کے لیے گورے بابو نے ایک کھیل ایجاد کیا جسے ہم “کرکٹ” کہتے ہیں۔ ٹینٹ← مزید پڑھیے
دا سیکریٹ” نامی کتاب نے اس کشش والے قانون کو عام عوام (مغرب ومشرق) میں بہت مقبول کروایا۔ یوٹیوب پر چینل بنے اور مزید کتابیں لکھی گئیں سوچ اور نیت سے اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے طریقوں پر۔ کئی← مزید پڑھیے
ایک دوست نے یہ وڈیو بھیجی کہ اس جانور کی زندگی دنیا میں موجود کئی انسانوں سے جسمانی طور پر زیادہ آرام دہ ہے۔ جبکہ ایک نفسیات دان ہونے کے ناطے میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ صرف جسمانی نہیں← مزید پڑھیے
یوگک کلچر (yogic culture) میں ایک تصور ہے جسے “نامکمل کرما” (incomplete karma) کہتے ہیں۔ جس میں کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کی کچھ خواہشات ہوں اور وہ ادھوری رہ جائیں تو آپ کا ذہن انہیں نہیں بھولتا، اسے← مزید پڑھیے
مجھے ایک ای-میل موصول ہوئی جس میں لکھنے والے نے ایک خاتون کا رویہ بیان کیا اور مجھ سے پوچھنا چاہا کہ آخر یہ رویہ کیا ہے اور وہ ایسا کیوں کررہی ہیں۔ ویسے کسی کا بھی رویہ ہوبہو معلوم← مزید پڑھیے
نیویارک ٹائمز میں سال 2016 کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا آرٹیکل “why you will marry the wrong person” میں فلسفی ایلن-ڈی-بوٹن نے جدید دنیا میں شادی اور اس سے متعلق مسائل پر قابلِ تعریف تبصرہ کیا ہے۔ ایلن← مزید پڑھیے
تاریخ دان یووال نوح ہراری سے انکی ہم-جنس پرستی کے متعلق انٹرویو میں پوچھا گیا کہ کیا ہم -جنس پرستی غیر فطری (unnatural) ہے؟ کیا ہم -جنس پرست فطرت کے قوانین کو توڑ رہے ہیں؟ جس پر انکا جواب تھا← مزید پڑھیے
سائیکالوجسٹ ڈروتھی ٹینو (Dorothy tennov)نے 1970 میں ایک کتاب لکھی جسکا نام تھا “لو اینڈ لمرنس” (love and limerence)، جس میں ڈروتھی نے ایک عجیب و غریب قسم کی محبت کو دریافت کیا جو عام محبت سے مختلف تھی اور← مزید پڑھیے
ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک ریسرچ کے مطابق لوگ دن میں ۴۷% وقت ان معاملات کے متعلق سوچنے میں گزار دیتے ہیں جو ہمارے اردگرد وقوع پذیر نہیں ہورہے ہوتے۔ یعنی آوارہ صفت دماغ یا تو ”ماضی“ میں رہتا ہے یا← مزید پڑھیے