کشش کا قانون کام نہیں کرتا/ندا اسحاق

دا سیکریٹ” نامی کتاب نے اس کشش والے قانون کو عام عوام (مغرب ومشرق) میں بہت مقبول کروایا۔ یوٹیوب پر چینل بنے اور مزید کتابیں لکھی گئیں سوچ اور نیت سے اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے طریقوں پر۔ کئی لائف کوچ نے باور کروایا کہ ان کے پاس حقیقت کو بدلنے کے کئی ایسے طریقے موجود ہیں جن کو کرنے پر آپ کو “عمل” نامی لفظ سے روبرو ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی (عام انسان بیشک عمل کرنے سے بھاگنا چاہتا ہے)۔ لیکن آج ان تمام افراد جنہوں نے لکھاری اور فزسسٹ ودیم زیلینڈ کی کتاب “ریئلٹی ٹرانسرفنگ” کا مطالعہ کیا ہے اور “داسیکریٹ” کے بھی طالبعلم ہیں، ان کے اس نظریے پر سوال اٹھانے کے لیے یہ آرٹیکل لکھا ہے۔

سب سے پہلے تو یہ کہ تمام تر بصارتی شعور، تصور، ظہور پذیری ، مراقبہ (visualisation, manifestation, meditation) کی تکنیک جس سے آپ کو روشناس کروایا جاتا ہے یہ دراصل ہمارے پڑوسی ملک انڈیا سے درآمد ہوتا ہے اور یہ ہندوازم کا قدیم علم ہے۔ جنتر، منتر اور تنتر طریقے ہوتے ہیں جنہیں ہندو یوگی اور رشی نے ایجاد کیا “روحانیت” کو حاصل کرنے اور لازوال خدائی طاقت سے خود کو جوڑنے کے لیے۔ رشی اور یوگی گاڑی، نوکری، بنگلہ، بینک اکاؤنٹ میں پیسوں کے لیے منتر یا تنتر کا سہارا نہیں لیتے تھے، لیکن اب ماڈرن زمانے کے ہندو خود بھی ان اشیاء کے حصول کے لیے یہ سب کرتے ہیں لیکن حیرت ہے کہ پیسہ پھر بھی مغرب کے پاس زیادہ ہے، البتہ مغرب میں بھی اس قسم کے کشش والے قوانین کو بہت فروغ ملتا ہے کیونکہ سب ہی سوچ سوچ کر لگژری زندگی حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں۔

بیشک ہندوازم کی قدیم کتابوں میں آپ کو مراقبہ یا مختلف منتر کے متعلق پڑھنے کو ملے گا، اور ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ کسی بھی کام یا خواہش کو پورا کرنے سے پہلے آپ کو سوچ آتی ہے، آپ ٹھیک نیت بھی سیٹ کرتے ہیں لیکن پھر؟؟؟؟؟ پھر کیا ساری رات یا دن میں بیٹھ کر بس تصور کرتے رہنا اور وہ بھی بہت شدت کے ساتھ تاکہ کائنات اس خواہش کو آپ کے لیے پورا کرنے میں جتُ جائے؟؟؟؟

میری وڈیو لاء آف ریورس ایفرٹ (law of Reversed Efforts) میں آپ کو جاننے کو ملے گا کہ جتنا آپ کسی چیز کو چاہتے ہیں اتنی ہی عموماً وہ آپ سے دور جاتی ہے، یہ کوئی پیچیدہ سائنس نہیں ہے اگر انسان اپنا دماغ استعمال کرے تو اسے اندازہ ہوگا کہ جب کوئی ہم سے زیادہ چپکنے کی کوشش کرتا ہے یا کوئی بار بار ایک ہی چیز مانگتا ہے تو ہمیں کوفت ہوتی ہے، جہاں ضرورت سے زیادہ شدت ہوتی ہے وہاں عقل اور منطق عموماً گھاس چرنے چلی جاتی ہے(کیسے، کیوں اور شدت کی وجہ سے چیز مل بھی جائے تو اسکا کیا نقصان ہوتا ہے اس پر ایک الگ پوسٹ بنتی ہے)۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے بار بار سوچنے اور مانگنے پر کائنات کو بھی آپ سے کوفت ہورہی ہو ؛)

بہت سے لوگ اس کشش والے قانون کو جانتے تک نہیں لیکن انہوں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ حاصل کیا ہوا ہے؟؟ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیسے؟؟؟

ہندوازم میں جہاں مراقبہ، منتر اور تنتر کے جاپ کا علم موجود ہے تو ایک علم/ قانون اور بھی ہے جسے اس مذہب کی مشہور ترین کتاب “بھگود گیتا” میں کرشنا ہر قانون پر برتر بتاتا ہے اور ارجن سے کہتا ہے کہ اس سے بڑا کوئی قانون نہیں، اسے کہتے ہیں:
“کرم کا قانون” (law of karma/action)، “ عمل کا قانون”
بھگود گیتا میں پھر ارجن کو کرشنا “کرم” (عمل) کی مختلف اقسام بھی بتاتا ہے، اور یہ تک کہتا ہے کہ:

“ارجن میں چاہوں تو کیا کچھ نہیں کرسکتا چٹکی بجاتے لیکن میں پھر بھی ‘کرم’ کرتا ہوں!”

کرشنا کہتا ہے کہ اس کے لیے کچھ بھی کرنا مشکل نہیں لیکن چونکہ وہ انسانوں کی دنیا پر انسان کے روپ میں ہے اور یہاں “عمل” سے بڑا کوئی قانون نہیں۔ جہاں سے کشش کا قانون، مختلف مراقبہ اور تصور کی تکنیک درآمد ہوئے ہیں وہاں کی مذہبی کتابوں میں وہی لوگ “عمل” کو باقی کے تمام قوانین پر فوقیت اور برتری دیتے ہیں، لیکن اس پر کوئی کتاب نہیں لکھتا (لگتا ہے اس بوریت اور کشش سے عاری کام کی ذمہ داری مجھے اٹھانی پڑے گی)۔

کرشنا گیتا میں “کرما یوگی” کے نظریے سے ارجن کو روشناس کرواتا ہے یہ کہہ کر یہ سب سے عظیم اور برتر یوگا “کرما یوگا” (عمل کا یوگا) ہے جس پر میں نے آرٹیکل بھی لکھا ہے اور وڈیو بھی بنائی ہے۔

ریئلٹی ٹرانسرفنگ ہو یا دا سیکریٹ جیسی کتابیں، ہر قسم کے علم کا مطالعہ کریں لیکن پھر تنقیدی نگاہ بھی ڈالیں۔ یہ لوگ جہاں سے اپنا کانٹینٹ لیتے ہیں، اس اصلی اور ابتدائی ذرائع جہاں سے اس علم کو کاپی کیا گیا ہے، میں جاکر تصدیق کرلیں کہ اصلی علم کیا کہتا ہے۔ میں نے یہ آرٹیکل بہت ریسرچ کے بعد لکھا ہے، اصلی ذرائع کو پڑھ کر لکھا ہے (جو کہ یقیناً بہت بوریت کا کام تھا خاص کر سنسکرت کو سمجھنا)۔

سوچ اور نیت تک محدود رہ گئے تو کچھ بھی یا کسی کو بھی اپنی جانب اٹریکٹ نہیں کر پائیں گے، اصلی دنیا میں اصلی عمل کرنا، کوشش کرنا، رستے تلاش کرنا، سمجھنا، اپنے اندر ان خصوصیات کو پیدا کرنا وہ بھی حقیقی دنیا میں، یہی وہ کڑوی حقیقت ہے جو کرشنا سمجھاتا ہے ارجن کو، لیکن چونکہ ایسی باتیں سننے میں مزہ نہیں دیتیں اور ارجن کو بھی نہیں دے رہی تھیں تبھی وہ سنیاس لینا چاہتا تھا اور جنگ لڑنے (عمل) سے بھاگنا چاہتا تھا، لیکن کرشنا کے سمجھانے پر وہ سمجھ جاتا ہے، زندگی کی کٹھن حقیقت اورعمل سے بھاگنے کی بجائے اس کا سامنا کرتا ہے۔ تبھی لوگوں کو بوریت ہوتی ہے جب انہیں کہا جائے کہ شارٹ کٹ نہیں ہے آپ کو عمل کے لمبے اور کٹھن رستے سے گزرنا ہوگا، یودھا ارجن کی طرح۔ لیکن اگر میں یہ کہوں کہ آنکھیں بند کرکے یوں تصور کرنے سے آپ جو چاہو اٹریکٹ کرلو گے تو آپ سب کے کان کھڑے ہوجائیں گے!! ایسا کانٹینٹ سست لوگوں کے لیے بنتا ہے جو سوچ سوچ کر ہی سب حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

یہاں ایک بات واضح کرتی چلوں کہ “عمل” کی بات ہورہی ہے “جنونی طور پر محنت” کرنے کی نہیں۔ یہاں محض “کام” (work) پر بات ہورہی ہے “محنت” (hard work) پر نہیں۔
نوٹ:
اس پر میرے یو ٹیوب چینل Nida Ishaque پر وڈیوں بھی بنی ہے جو دلچسپی رکھتے ہے وہ وڈیوں دیکھ سکتے ہے۔

Facebook Comments

ندا اسحاق
سائیکو تھیراپسٹ ،مصنفہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply