جنات یا نفسیاتی بیماری؟ -ندا اسحاق

میں نے  جب فلم “بھول بھولیاں” دیکھی تھی تو اس وقت تقریباً ایک ہفتہ تو یوں لگتا تھا کہ “مونجھولیکا” میرے پیچھے ہی کھڑی ہے اور مجھ پر حملہ کردے گی۔ اس وقت سوچا نہیں تھا کہ کبھی اس فلم میں جو بیماری ودیا بالن کو تھی اس پر تبصرہ بھی کروں گی۔ اس ذہنی حالت کو نفسیات کی زبان میں “ڈسوسی ایٹو آئیڈنٹٹی ڈساڈر” کہتے ہیں۔ میں اسے آرٹیکل میں ڈی-آئی-ڈی کہوں گی۔ پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ڈی-آئی-ڈی کیا ہے اور یہ کیسے جنم لیتا ہے کسی کی نفسیات میں، اور اسکا علاج کیسے ممکن ہے؟؟

سب سے پہلے تو یہ جان لیجیے کہ ڈی-آئی-ڈی ایک ذہنی کیفیت ہے، کسی قسم کے جن، بھوت یا برے سایہ کا جکڑنا نہیں۔

ہم سب انسانوں کی بیک وقت ایک ہی شناخت ہوتی ہے۔ لیکن جب کسی انسان کی ایک سے زیادہ شناخت ہوں تو ہم اسے ڈی-آئی-ڈی کہتے ہیں، اس بیماری میں کوئی بھی انسان اپنی ایک سے زیادہ شناخت بنا لیتا ہے جو کہ ایک نارمل کیفیت نہیں ہے۔

اگر مثال دے کر سمجھاؤں تو ڈی-آئی-ڈی میں ہوتا کچھ یوں ہے کہ اگر میں “ندا” ہوں، اور میری یہ شناخت لوگ جانتے ہیں لیکن اس سے ہٹ کر بھی میری ایک شناخت ہے،کبھی کبھار میں “صائمہ” نامی لڑکی یا کوئی “لڑکا” (بچہ، بوڑھا کچھ بھی ہوسکتا ہے) بن جاتی ہوں۔ صائمہ اور ندا دو بہت ہی مختلف شخصیات ہوسکتی ہیں، اتنی زیادہ مختلف کہ لوگوں کو اکثر ایسا لگتا ہے کہ شاید یہ کوئی بھوت یا سایہ ہے جو ندا کو اپنے گھیرے میں لے لیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر “ندا” پشتو بولتی ہے لیکن “صائمہ” کی شناخت حاوی ہونے پر ندا پنجابی زبان بولنے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ آواز، انداز، لکھائی، لہجہ ہر چیز میں تبدیلی آجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ گھبرا کر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ کوئی بھوت اور سایہ ہے۔ لیکن اس ذہنی کیفیت کو نفسیات کی زبان میں ڈی-آئی-ڈی کہتے ہیں۔
مثال کے طور پر ودیا بالن فلم میں بنگالی بولنے لگتی ہے، ڈانس کرتی ہے، جبکہ وہ امریکہ میں رہی ہوتی ہے، (دور دور تک ڈانس یا بنگالی زبان سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا)۔ کیونکہ اسکی دوسری شناخت “مونجھولیکا” بنگالی بولتی ہے اور ڈانسر ہوتی ہے۔

اکثر لوگ کہتے ہیں کہ کوئی انسان کیسے دوسری زبان جسکا اس سے کوئی تعلق نہیں اچانک بولنے لگتا ہے؟؟؟

ہوتا کچھ یوں ہے کہ بہت ممکن ہے کہ دوسری شناخت میں لوگ اس سے منسلک زبان اور کلچر کو سیکھتے ہیں لیکن یہ سب ان کے شعور میں نہیں ہوتا کہ انہوں نے یہ کب سیکھا، ودیا بالن کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کب کیسے محل کے کمرے میں جاکر ڈانس سیکھنے لگتی ہے(ایسا کیوں ہوتا ہے اسکی وضاحت آرٹیکل میں آگے کی گئی ہے)۔ اکثر لوگ تھوڑی بہت زبان سیکھتے ہیں اور زیادہ تر تو “جبرش” (gibberish) بولتے ہیں جسے سن کر لوگوں کو لگتا ہے کہ شاید یہ کوئی انوکھی زبان بول رہے ہیں۔ ودیا بالن بھی فلم میں حقیقت میں بہت ہی بے ڈھنگا ڈانس کرتی ہے لیکن اسکے تصور یعنی کہ دماغ میں وہ پرفیکٹ کتھک کررہی ہوتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی انسان کو کیا ضرورت پڑتی ہے کہ وہ اپنی اتنی ساری شناخت بنا لیتا ہے؟؟؟
اس سب کے پیچھے وجوہات ہوتی ہیں یقیناً!

ڈی-آئی-ڈی کے نوے فیصد سے زیادہ کیس میں لوگوں کے ساتھ بچپن میں “ابیوز” یا کوئی بھی “ ٹروما” سے گزرنے کو وجہ بتایا جاتا ہے۔ جنسی، جذباتی، جسمانی، زبانی ابیوز اور نظر اندازی کا ہونا اور وہ بھی بہت چھوٹی عمر میں یعنی کہ زیرو سے سات سال کی عمر میں (کچھ ریسرچ نو سال کی عمر تک کا بتاتی ہیں)۔ فلم میں ایک غلطی ہے کہ ودیا بالن میٹرک کلاس کی طلبہ ہوتی ہے جب اسے والدین دادی سے الگ کرکے امریکہ لے جاتے ہیں، اتنی بڑی اور سمجھدار بچی کے ساتھ ایک ہی واقعہ ڈی-آئی-ڈی کو جنم دے، اس پر سوال اٹھایا جاسکتا ہے، کیونکہ دماغ کی نشوونما کے وقت بہت ہی اولین  سالوں میں ٹروما یا ابیوز سے گزرنا اور وہ بھی بار بار، تب کسی بچے کے ذہن میں ڈی-آئی-ڈی جیسی حالت کے جنم لینے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ڈی-آئی-ڈی میں دماغ کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟؟؟
جب کوئی بچہ اپنے ابتدائی  سالوں میں کچھ ایسے حالات یا واقعات سے گزرتا ہے جسے سمجھنا یا معنی دینا اس کے ناپختہ ذہن کے لیے ممکن نہیں ہوتا تو بچہ اس مشکل حالت سے گزرنے کے لیے بہت ممکن ہے کہ “ڈسوسی ایشن” یعنی کہ “علیحدہ ہونا/بے تعلق ہونا” کو اپنا ہتھیار بنا لے۔ ڈسوسی ایشن میں ہمارا جسم تو اسی جگہ ہوتا ہے جہاں ہم ناخشگوار واقعات سے گزر رہے ہیں لیکن دماغ اس جگہ سے بے تعلق ہوجاتا ہے۔ ڈسوسی ایشن سے منسلک اور بھی مختلف ذہنی حالتیں موجود ہیں جن پر کبھی تذکرہ ضرور ہوگا کیونکہ ٹروما میں زیادہ تر لوگ “ڈسوسی ایٹ ہونا یعنی کہ آس پاس سے بے تعلق ہونا” سیکھ لیتے ہیں۔

مثال کے طور پر علی ایک بچہ ہے اور اس کے ساتھ جنسی ابیوز ہورہا ہے، علی بار بار اس تکلیف سے گزر رہا ہے، وقت گزرنے کے ساتھ اس کے دماغ نے ایک طریقہ ایجاد کرلیا ۔اس ابیوز سے نمٹنے کا کہ وہ ابیوز کے دوران “ڈسوسی ایٹ” ہوجائے گا، اور اسی دوران بہت ممکن ہے کہ علی نے اپنی ایک نئی شناخت “سلمان” بنالی، اب جب بھی ابیوز ہوتا ہے تو علی تبدیل ہوجاتا ہے سلمان کی شناخت میں، اور یوں علی ابیوز کے دوران یہ سوچتا ہے کہ یہ سب تو سلمان کے ساتھ ہورہا ہے، علی کے ساتھ تو نہیں۔ دماغ کا یہ علیحدہ اور بے تعلق ہونے والا عمل بھی ڈی-آئی-ڈی کو جنم دے سکتا ہے۔
جب بچہ علیحدہ/بے تعلق ہونا سیکھ لیتا ہے ارد گرد کے ماحول سے تو اس کے شعور اور یاداشت میں کچھ جگہیں خالی  رہ جاتی ہیں، اسے “امنیژیا” بھی کہتے ہیں، جس میں آپ کو ٹروما یا پھر اپنی زندگی کا کچھ بہت ہی اہم حصہ بھولا ہوا ہوتا ہے، یہ کوئی عام بھولنا نہیں ہوتا، بلکہ یاداشت اور شعور میں سے کچھ حصہ خالی ہوتا ہے۔ میرے کلائنٹ کے ساتھ ان کے استاد جنسی ابیوز کرتے تھے، وہ اس قدر “بے تعلق (ڈسوسی ایٹ)” ہوجاتے اس وقت ذہنی طور پر کہ اب کئی سالوں بعد جب سیشن کے دوران اس ابیوز کا ذکر آیا تو انہیں اس استاد کی شکل اور نام تک یاد نہیں حالانکہ یہ ابیوز کافی عرصہ چلتا رہا۔

ڈی-آئی-ڈی کی اقسام؟؟؟
ڈی-آئی-ڈی کی دو اقسام ہوتی ہیں۔
۱- پوزیشن ڈی-آئی-ڈی (possession did)
۲- نان- پوزیشن ڈی-آئی-ڈی (non-posession did)

پوزیشن والے ڈی-آئی-ڈی میں آپ کو یوں لگتا ہے کہ کوئی جن بھوت یا برے سایہ نے قبضہ کرلیا ہے۔
جبکہ نان-پوزیشن والے ڈی-آئی-ڈی میں آپ کو یہ بیماری ہے لیکن آپ کو معلوم نہیں۔ بہت ممکن ہے کہ ہفتے/مہینے کے کچھ دن آپ کی شخصیت بدل جاتی ہے، آپ کی لکھائی، آپ کی چیزوں میں پسند ناپسند مکمل طور پر بدل جاتی ہے۔ آپ کو آوازیں سنائی دیتی ہیں کہ جیسے کوئی آپ سے بات کرتا ہے، کوئی آپ کے دماغ میں رہتا ہے، آپ کے گھر میں کچھ چیزیں موجود ہیں جو آپ کو یاد نہیں کہ آپ کب لائے۔ آپ کو سمجھ نہیں آتا کہ آپ کے گھر میں یہ چیزیں کہاں سے آتی ہیں۔ اکثر لوگوں کو جب لگتا ہے کہ ان کے گھر میں کوئی بھوت ہے جو چیزیں رکھ کر چلا جاتا ہے، بہت ممکن ہے کہ ایسے لوگوں کو ڈی-آئی-ڈی ہو اور وہ خود سب کرتے ہوں لیکن ان کے “شعور” میں وہ شناخت نہیں ہوتی تبھی انہیں لگتا ہے کہ جن یا بھوت یہ سب کررہا ہے۔

خود-ایذا رسائی (سیلف ہارم) اور خودکشی کے رجحانات بھی پائے جاتے ہیں ایسے مریض میں۔ ایسے لوگ اپنی جسم پر کٹ لگاتے ہیں، خود کو نقصان اور تکلیف دیتے ہیں، یا پھر خود کشی کے متعلق بہت سنجیدہ ہوتے ہیں۔ ڈی-آئی-ڈی کے مریض زیادہ تر خود کو نقصان پہنچاتے ہیں ،دوسروں کو نہیں۔

ڈی-آئی-ڈی سیزرز (مرگی کے دورے)؟؟؟
اکثر لوگوں کو ڈی-آئی-ڈی سیزرز بھی ہوتے ہیں، ای-ای-جی بالکل صحیح ہے، نیورولاجسٹ بھی کہتا ہے کہ سب ٹھیک ہے لیکن پھر بھی اس انسان کو مرگی کے دورے پڑتے ہیں۔ اگر مریض کو ڈی-آئی-ڈی ہے تو پڑنے والے مرگی کے دوروں کو ڈی-آئی-ڈی سیزرز بھی کہتے ہیں۔

میں نے اپنی ڈی-آئی-ڈی والی وڈیو میں ایک خاتون کی ویڈیو کا کلپ شیئر کیا ہے، جس میں وہ بالغ عورت ایک تین سال کی بچی کی مانند بات کررہی ہیں، اس خاتون کی گیارہ شناخت ہیں، گیارہ ایسے لوگ ان کے دماغ میں رہتے ہیں جن کا کوئی وجود ہی نہیں حقیقی دنیا میں۔ ان خاتون کو بچپن میں ان کے والد اور والد کے دوستوں نے جنسی ابیوز کا نشانہ بنایا، یہ ابیوز کافی عرصہ چلتا رہا۔
ایسے دردناک حادثات سے نمٹنے کے لیے ہمارا دماغ مختلف طریقہ کار (میکانزم) کا استعمال کرتا ہے تاکہ ہم بحفاظت دنیا اور ثقافت کے روزمرہ کے معاملات کو سیکھ سکیں اور ان برے واقعات کو دبا دیتا ہے ہمارا دماغ(ختم نہیں کرتا)۔ لیکن یہی طریقہ کار بالغ زندگی میں زندگی کو دشوار بنا دیتے ہیں۔ تبھی ہمیں ٹروما کو شفایاب کرنا ہوتا ہے تاکہ ایک عام انسان کی مانند زندگی گزار سکیں۔ وہ واقعات جو ہوچکے لیکن ہمارا دماغ اور جسم آج بھی انہیں “جی” رہا ہے، وہ شفایاب کرنا آپ کو زندگی میں آگے بڑھنے کا موقع دیتا ہے۔

ڈی-آئی-ڈی کا علاج کیا ہے؟؟؟
سب سے پہلے تو وہ لوگ جو ایسے مریض کے ساتھ رہ رہے ہیں جسے ڈی-آئی-ڈی ہے تو ایسے میں گھر والوں کو سب سے پہلے اپنے اندر کے اضطراب اور خوف و ہراس کو کم کرنا ہے، کیونکہ یہ کوئی جن بھوت نہیں ہے بلکہ بیماری ہے۔ ڈی-آئی-ڈی کا مریض ویسے ہی تکلیف میں ہے اور آپ کا اضطراب اور پینک میں جانا اسکو اور بھی اذیت دے سکتا ہے۔ اس لیے اپنی توہم پرستی کو ختم کرتے ہوئے اپنے اضطراب کو نارمل کرنا سیکھیں۔

دوسری اہم بات، مریض کو اسکی حالت کے متعلق بتانا ضروری ہے۔ مریض کو اپنی شفایابی میں کردار ادا کرنا ہوگا، اسے خود کو اس بیماری پر تعلیم اور شعور دینا ہوگا۔ مریض کو اپنے ٹروما یا یاداشت میں بکھرے اور دھندلے حصوں کو جمع کرکے ایک مکمل تصویر بنانی ہوگی۔

ڈی-آئی-ڈی کے لیے کوئی ادویات موجود نہیں ہیں۔ اسکا علاج صرف ایک دیرپا تھراپی سے ممکن ہے، جس کے لیے آپ کو ایک ایسے سائیکاٹرسٹ کی ضرورت ہے جو اس میں ماہر ہو ، اسے سمجھتا ہو اور بہت ہمدردانہ طریقے سے مریض کا علاج کرے۔ ڈی-آئی-ڈی کے مریض کو فیملی کے بہت زیادہ سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ فلم میں ودیا بالن کو اس بیماری سے باہر اس کے شوہر کی محبت اور سپورٹ لے کر آتی ہے اور آخر میں وہ شکریہ ادا کرتی ہے کہ اس نے ودیا بالن کے پاگل پن کو جھیلا۔ اس سے بھی زیادہ پیار اور سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے ڈی-آئی-ڈی کے مریض کو۔
البتہ اگر ڈپریشن، انزائٹی یا کسی اور قسم کے ذہنی مسائل ہوں مریض کو تو سائیکاٹرسٹ ادویات دیتا ہے ان کو نارمل کرنے کے لیے لیکن ایسی کوئی دوا موجود نہیں جسے کھا کر آپ کے شعور میں موجود خالی جگہیں یا بنائی ہوئی مختلف شناخت ختم ہوجائیں۔ تھراپی واحد حل ہے۔

اس کے علاوہ دم درود پر اگر آپ ایمان رکھتے ہیں تو اس کو کروانے میں ہرج نہیں۔ لیکن جو بھی وظائف یا آیتیں ہیں انہیں خود پڑھ کر پھونکیں، کسی ڈھونگی بابا یا خاتون کے پاس نہ لے کر جائیں، اگر وہ اتنے ہی پہنچے ہوئے ہیں تو اپنی زندگی اور حالت درست کیوں نہیں کر لیتے!!!

فلم میں بھی اکشے کمار سائیکاٹرسٹ ہوتا ہے، لیکن اسے معلوم ہوتا ہے کہ ودیا بالن تنتر منتر پر بہت یقین رکھتی ہے، جادوئی سوچ والی پریوں کی کہانیاں سن کر بڑی ہوئی ہے اس لیے وہ تانترک بابا سے مدد مانگتا ہے۔ تانترک کہتا ہے کہ تم اپنے طریقے پر چلو ، میں ساتھ میں تنتر کا ماحول بناؤں گا، بہت ممکن ہے کہ اس سے تمہارا کام آسان ہوجائے، لیکن حقیقی دنیا میں اس طرح ڈرامائی علاج نہیں ہوتے، یہ محض ایک فلم ہے البتہ اس فلم میں ایک اہم پیغام نفسیات کے شعبے سے منسلک لوگوں کے لیے یہ ہے کہ” ہمیں کبھی کبھار لکیر سے ہٹ کر چلنے کے متعلق سوچنا چاہیے۔”

کیونکہ کچھ لوگوں کا بہت ایمان ہوتا ہے اس سب پر لیکن انکی نفسیات میں ہوشیاری اور چالاکی سے سائنس کی چنگاری جلانا بھی ضروری ہے۔ ڈاکٹرز کو بھی اپنے مریض کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسکی کیا نفسیات ہے اور علاج کا کونسا طریقہ زیادہ کام آسکتا ہے۔ کچھ لوگ جادوئی سوچ کے ہوتے ہیں تو کچھ بہت ہی منطقی۔ کارل یونگ (Carl Jung)سے سیکھنا چاہیے کہ وہ کیسے اپنے منطقی مریض کی نفسیات میں روحانیت کا قطرہ بھرتا اور روحانی لوگوں کی نفسیات میں منطق کی ایک چنگاری چھوڑ دیتا تاکہ توازن قائم ہوسکے۔ لیکن ایسے سائیکاٹرسٹ ڈھونڈنا آسان نہیں جنہیں اپنے کام سے عشق ہو، زیادہ تر ادویات کا انبار لگا دیتے ہیں۔

میں نے اپنی کالا جادو والی وڈیو/آرٹیکل میں کہا تھا کہ “نفسیاتی بھوت” سے زیادہ خطرناک اور کوئی بھوت نہیں، ایک بار نفسیات میں گھس جائے تو بہت محنت درکار ہوتی ہے انہیں باہر نکالنے کے لیے۔ قرونِ وسطیٰ میں بھی لوگ ایسی اذیتوں سے گزرتے تھے جہاں ان کے ساتھ بہت ناخشگوار واقعات ہوتے (ٹروما ، ابیوز) جسکا انکی نفسیات پر برا اثر پڑتااور پھر جب انہیں اسکی وجوہات معلوم نہیں ہوتیں تو وہ اسے جن بھوت کہہ دیتے۔ آج سائنس کے ذریعے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہ نفسیاتی بیماریاں ہیں۔ ٹروما پر ریسرچ نے مزید دروازے کھول دیے انسانی رویوں کو سمجھنے کے۔ انسان بہت پیچیدہ مخلوق ہے، نفسیاتی بیماریوں میں جنیات(جینیٹکس) کا بھی کردار ہوتا ہے، جب ٹروما سے بچہ گزر رہا ہو اور جنیات میں ڈپریشن کا جین(gene) بہت نمایاں ہو تو ڈپریشن ہونے کے امکانات زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

آج سے پندرہ سال پہلے اپنی موج مستی میں فلم دیکھی تھی اور اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ اس پر کبھی بات بھی کروں گی اور وہ بھی نفسیاتی اعتبار سے، بیشک زندگی غیر متوقع ہے۔

Facebook Comments

ندا اسحاق
سائیکو تھیراپسٹ ،مصنفہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply