کالے جادو کی نفسیات/ندا اسحاق

“Psychology Behind Black Magic”
فیس بک پر کومنٹ میں کالے جادو پر بات کرنے کی گزارش آئی، لیکن واٹس ایپ پر میسج بھی موصول ہوا جس میں کسی جناب نے مجھے کہا کہ “میڈم آپ پر کسی نے کالا جادو کیا ہے اور آپ کو بری نظر بھی لگی ہے”، جناب ان تمام چیزوں کو ٹھیک کرنے میں ماہر بھی ہیں، یہ آرٹیکل اس میسج کا جواب ہے۔ محض یہ کہہ دینا کہ کوئی جادو وغیرہ نہیں ہوتا کسی انسان کو اس پر یقین کرنے سے روک نہیں سکتا، اس لیے اس بات پر چرچہ کریں گے کہ کالا جادو کہاں سے آیا؟ اور یہ آپ کی نفسیات پر کیسے کام کرتا ہے؟ کون لوگ ہیں جو توہم پرستی کے جال میں پھنس جاتے ہیں؟؟اور اصل جادو ہے کیا؟؟

کالے جادو کا تصور مشرق اور مغرب دونوں ثقافتوں میں موجود ہے، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ قرون وسطیٰ کے اوقات(میڈیول ایجز) کی ایجاد ہے۔ چونکہ میں مشرق میں رہتی ہوں، اس لیے میں مشرق میں جادو کے جنم اور تاریخ پر بات کروں گی۔ اور اس کے لیے مجھے جانا ہوگا خدا کے ساتھ تعلق بنانے والے دو رستوں “دائیں” اور “بائیں” ہاتھ کے فلسفے کی جانب۔ خود احساس (سیلف -ریلائیزیشن) اور خدا کے ساتھ روحانی تعلق قائم کرنے کے لیے مذہب میں دو رستے ہیں، پہلا رستہ ہے خدا کا “دائیں ہاتھ”(رائٹ ہینڈ) اور دوسرا ہے “بائیں ہاتھ”(لیفٹ ہینڈ)۔ ان دونوں رستوں کا مقصد تو ایک جیسا ہے لیکن ان کے طریقہ کار میں واضح فرق ہے۔ سارے مذاہب خدا کے دائیں ہاتھ پر روحانیت حاصل کرتے ہیں، جبکہ بائیں ہاتھ کا فلسفہ ہندوازم سے آیا ہے جسے “تنتر ودیا” کہتے ہیں۔ تنتر ہندوازم (برِصغیر) کا علم ہے اور کالا جادو “تنتر ودیا”سے آیا ہے۔ تنتر میں بھی کئی فرقے موجود ہیں۔ “واشی کرن” (ہیپنوٹزم) کا علم بھی تنتر سے آیا ہے۔

دائیں ہاتھ والے اپنی زیادہ تر مذہبی رسومات کو دن میں انجام دیتے ہیں اور بہت ہی آسان اور عام سی رسومات ہوتی ہیں جبکہ بائیں ہاتھ والے اپنی “سادھنا” یعنی کہ عبادت رات کے وقت کرتے ہیں۔ یوں کہیے کہ دائیں والے اچھائی والی قوت سے خود-احساس کو حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ بائیں والے برائی کی قوت کو تجاوز(ٹرانسینڈ) کرکے خود-احساس اور روحانیت چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تنتر کرنے والوں کی رسومات نفسیات پر بہت گہرا اور اکثر برا اثر چھوڑ کر جاسکتی ہیں، تاریکی کے ساتھ کھیلنا بہت نقصان دہ ہوسکتا ہے کیونکہ ہماری نفسیات پر اسکا گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ (لیفٹ ہینڈ سے جڑی رسومات بہت خطرناک ہوتی ہیں آپ کی نفسیاتی اور ذہنی صحت کے لیے، جبکہ رائٹ ہینڈ والوں کی رسومات کافی حد تک محفوظ ہیں اور ذہن کو سکون دیتی ہیں جیسے کہ یوگا، عبادت، جوتش، منتر، نماز، روزہ، ورتھ، زکوٰۃ، دان، جاپ،تسبیح وغیرہ)

خواہ سائنس ہو یا مذہبی رسومات، انسان زیادہ تر اسے اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لوگوں نے دائیں ہاتھ ہو یا بائیں ہاتھ، ہر نظریے کو اپنے مادی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا، لیکن یہ آپ کے مادی مقاصد پورا نہیں کرسکتے (البتہ دوسروں کو بیوقوف بناکر ان سے پیسے لے کر مادی مقاصد ضرور پورے ہوتے ہیں) کیونکہ یہ محض لازوال طاقت کے ساتھ خود کو جوڑ کر روحانیت کے ذریعے اپنے دماغ کو پرسکون رکھنے اور اپنے ذہن کو سمجھنے اور قابو میں کرنے کے لیے ہیں، یہ آپ کی خواہشات یا مادی مقاصد کو پورا کرہی نہیں سکتے۔ آپ وظائف یا دعاؤں سے اپنا بزنس اچھا نہیں کرسکتے، یا محبوب آپ کے قدموں میں نہیں آتا۔ دعاؤں میں مہنگی گاڑی ، گھر یا محبوب مانگنے سے کبھی نہیں ملتے!! البتہ منتر یا وظائف آپ کو ذہنی سکون ضرور دے سکتے ہیں کیونکہ لفظ “منتر” کا مطلب ہوتا ہے “من” یعنی کہ آپ کا “ذہن” (مائنڈ)، اس سے زیادہ اور کچھ بھی چمتکار نہیں کرسکتے منتر اور وظائف۔

اب جادو پر واپس آتے ہیں۔۔
آپ صرف تصور کریں کہ آدھی رات کو قبرستان/شمشان گھاٹ میں کالے کپڑے پہن کر عجیب سی مالائیں پہن کر، منتر پڑھتے ہوئے انسان کے سامنے کوئی آپ کو بٹھا دے اور آپ سے کہے فلاں فلاں رسومات جس میں کسی لاش پر بیٹھ کر سادھنا کرنا، الکوحل، مختلف منتر، گوشت اور سیکس کا استعمال کرنا، آپ سے کہنا کہ فلاں روح، دیوی یا بھوت تمہارے آس پاس ہے وغیرہ وغیرہ…. سیکس اور الکوحل تو ویسے ہی آپ کی عقل پر تالے لگا دیتے ہیں تو سوچیں کہ اس سب سے آپ کا دماغ کس حد تک سن ہوسکتا ہے)۔
سوچیں کیسا لگے گا آپ کو؟؟؟
کچھ نہیں بھی ہوگا تو آپ کا دماغ اسے تصور کرنے لگے گا کیونکہ کگنیٹو (cognitive psychology)سائیکالوجی میں ہم “تصور “کے مختلف قوانین اور طریقوں کو پڑھتے ہیں اور انہیں پڑھ کر ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ “تصور” اور “خیال”(پرسیپشن) کتنی بڑی طاقت اور ضرورت ہے انسانی دماغ کی، لیکن یہی ہماری “کمزوری” بھی ہے، اور اسکا فائدہ اٹھا کر میں آپ کو کہیں بھی کچھ بھی دیکھنے پر مجبور کرسکتی ہوں۔ جیسے بادلوں میں آپ اپنے ہی تصور کے مطابق کوئی بھی شکل بنالیتے ہیں ، یا اندھیرے اور مختلف چیزوں میں آپ کو شکلیں دکھنے لگتی ہیں اسے نفسیات کی زبان میں “پیراڈولیا” کہتے ہیں جو آپ کے دماغ کے “تصور” (پرسیپشن) کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس لیے اکثر لوگوں کو تانترک کے پاس جاکر کچھ ہی عرصے میں بھوت بھی دکھنے لگتے ہیں اور جادو کا اثر بھی دکھنے لگتا ہے۔

کئی لوگ تو تنتر ودیا کرتے کرتے آدھے پاگل ہوجاتے ہیں کیونکہ ان چیزوں کا سیدھا اور گہرا اثر آپ کی نفسیات پر پڑتا ہے۔ کالا جادو ایک بکواس ہے جو آپ کی نفسیات کو ہمیشہ کے لیے تباہ کرسکتا ہے، ذہنی توازن خراب کرسکتا ہے خاص کر اس انسان کو جسکو ٹروما ہے یا جو جذباتی طور پر بہت کمزور انسان ہے۔ ایک بار نفسیات میں خوف اور وہم بیٹھ جائے تو اسے ہٹانا کتنا مشکل ہے آپ کو اندازہ بھی نہیں اس بات کا۔
جادو کن لوگوں پر زیادہ اثر کرتا ہے؟؟

انسان کا بچہ جب دنیا میں آتا ہے تب وہ لاچار اور کمزور ہوتا ہے، بالغ لوگوں کی دنیا میں وہ بہت معمولی محسوس کرتا ہے، ایسے میں “جادوئی سوچ” (میجیکل تھنکنگ) اس کو بچپن جیسے سفر کو طے کرنے میں مدد کرتی ہے اور یہ سب دماغ کا عمل ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ بچے کا منطق والا دماغ (لوجیکل برین) پختہ ہوتے لگتا ہے اور وہ سمجھ جاتا ہے کہ جادو نہیں ہوتا۔ لیکن جب بچہ ٹروما یا بچپن میں بہت برے تجربات سے گزرے تو اسکا دماغ ساری زندگی کے لیے “جادوئی سوچ” میں پھنس کر رہ جاتا ہے، اسکا منطقی ذہن کبھی پختہ نہیں ہوپاتا کیونکہ ٹروما اس کی  منطق ڈھونڈے والی صلاحیت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو جادو، فینٹسی، توہم پرستی، والہانہ عشق، نرگسیت پسند روحانی استاد، علمِ نجوم، پامسٹری وغیرہ جیسی چیزوں کو بہت سنجیدہ لیتے ہیں۔ ایسے لوگ جذباتی طور پر کمزور ہوتے ہیں کیونکہ انکا منطق والا دماغ انہیں حقیقت دکھانے میں ناکام رہتا ہے، انکا دماغ بچپن میں عادی ہوجاتا ہے حقیقت کو جادو کا رنگ دینے میں۔

اکثر لوگ کہتے ہیں کہ کالا جادو کی ہوئی چیز کھا کر کسی کو چکر آگئے یا اسے کچھ ہوگیا، ظاہر سی بات ہے جب آپ کسی چیز میں کوئی کیمیکل ملا کر کھلائیں گے کسی کو تو اسے چکر تو آئیں گے نا! یہاں تنتر اور کالے جادو کا نہیں بلکہ “کمیاء دان” کا کمال ہے جس نے اپنی لیب میں وہ کیمیکل بنایا جسے کھا کر چکر آگئے۔
انسان کے پاس جادو موجود ہے وہ بھی بنا کسی تنتر کے۔۔۔ کیسے؟؟

اگر آپ خوبصورت ہیں تو خوبصورتی میں جادو ہے۔ اگر آپ کے پاس بولنے کا فن ہے تو اندازِ بیاں بھی جادو ہے، لوگ کھچے چلے آتے ہیں۔ اگر آپ کسی کے ساتھ پُر اعتماد ہوکر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر (آئی کانٹیکٹ) بات کرنا جانتے ہیں تو یہ بھی جادو ہے۔ اگر تو آپ انسان کو پڑھنے یا اسکی نفسیات سمجھنے کا فن جانتے ہیں اور آپ اس انسان کو وہی بولتے ہیں جو وہ سننا چاہتا ہے(اسے مررنگ کہتے ہیں) تو وہ آپ کے وش میں آجائے گا۔ سیکس بھی جادو ہے، آپ کسی کو آفر کریں اور وہ ایک کمزور انسان ہے تو اپنا کردار، شادی، پیسہ سب تباہ کرنے پر تیار ہوجائے گا/گی۔ پیسہ کی لالچ بھی جادو ہے جسے آپ کسی کو بھی دکھا کر وہ سب کرواسکتے ہیں جو آپ چاہتے ہیں۔ سارے بابا اور روحانی استاد بھی پیسوں کے لیے ہی یہ سب کررہے ہیں۔ اور بھی کئی ایسے بیشمار جادو موجود ہیں۔
یہ کسی بھی انسان کو کنٹرول کرنے کے طریقے ہیں لیکن کب تک؟؟؟؟
جب تک اس جادو کا سحر ٹوٹ نہ جائے….. کون توڑتا ہے جادو کا سحر؟؟؟؟
“شعور، آگاہی، اپنی حرکتوں کی ذمہ داری اٹھانا اور حقیقت کو ویسے قبول کرنا جیسی وہ ہے۔۔”
جب انسان کو معلوم ہوجائے کہ یہ عورت/مرد خوبصورت ہے لیکن اس کے پاس سوائے خوبصورتی کے اور کوئی خوبی نہیں، میری زندگی کا معیار دن بہ دن اس کے ساتھ گرتا جارہا ہے تب خوبصورتی کے جادو کا سحر ٹوٹ جاتا ہے۔ یونہی جب جب شعور آئے گا جادو کا سحر ختم ہوتا جائے گا۔

مثال کے طور پر اکثر لوگ اپنے شوہر یا اپنے بوائے فرینڈ پر کالا جادو کراتے ہیں تاکہ وہ ان کے قابو میں رہے یا وہ کسی کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ اس حقیقت کو قبول نہیں کرتے کہ ان کے شوہر یا بوائے فرینڈ کو ان میں دلچسپی نہیں، بوائے فرینڈ کو بھول کر آگے بڑھنا ضروری ہے، جبکہ شوہر کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنا ضروری ہے کہ وہ اس رشتے میں کیوں دلچسپی نہیں دکھا رہا۔

حقیقت کو قبول کرنا وہ ایک ٹروما سے گزرے لوگوں کے لیے  مشکل ہوتا ہے تبھی دماغ اس قسم کی توہم پرستیوں پر یقین کرکے ایسے لوگوں کو تلخ حقیقت کی تکلیف سے بچاتا ہے کیونکہ یہ کمزور اور ٹروما سے گزرے لوگ ہیں، ان کا دماغ انہیں وہم اور فریب میں رکھتا ہے تاکہ انہیں نفسیاتی اور جذباتی اذیت نہ ہو۔ یہ دماغ کا ایک بہت اہم عمل ہے۔ لیکن برم اور فریب کا صرف نقصان ہے۔ اپنے درد اور حقیقت کر قبول کرکے زندگی میں آگے بڑھنا ضروری ہے جو شعور اور آگاہی سے ممکن ہے۔

یہ جادو تو انسان کے اندر کی دنیا میں پائے جاتے ہیں لیکن باہر کی دنیا میں بھی ایک جادو ہے جو چٹکی بجاتے کافی کچھ کردیتا ہے اور اسے کہتے ہیں……… “سائنسی ایجادات کا جادو”
سائنس ایک “تنتر ودیا” ہے جسے انسان نے انیسویں صدی میں تسخیر کیا۔ سائنس دان سب سے بڑے جادو گر/ تانترک۔ اور سائنسی فارمولے وہ “تنترودیا” ہیں جو سائنس کے جادو کو اس دنیا میں حقیقت کی شکل دیتی ہیں۔

قرون وسطیٰ کے لوگوں کو اندازہ نہیں تھا کہ سائنس کے جادو سے ہم سات سمندر پار موبائل فون کے ذریعے چند سیکنڈ میں کسی سے بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔ اسی سائنسی جادو کے ذریعے آپ کو سرمایہ دارانہ نظام، حکومتی ادارے اور طاقتور لوگ کنٹرول بھی کرتے ہیں، یہ ایجادات یہی لوگ بنواتے ہیں سائنسدان باباؤں سے عام عوام کو اپنے وش میں کرنے کے لیے۔(ہر جگہ کنٹرول نہیں ہوتا بلکہ کچھ کام انسانوں کی بھلائی کے لیے بھی ہوتے ہیں)

ہم سب کی چاہ اور خواہش ہے “جادو”، سائنس بھی جادو ہے، جس کے کالے اثرات ہیں لیکن سفید اثرات بھی۔ کالے اثرات نقصان دیتے ہیں، سفید اثرات فائدہ، جبکہ زندگی کالے اور سفید کا ملاپ ہے یعنی کہ “سرمئی”(گرے) ہے۔ ہم سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں اور پھر انہیں درست بھی کرتے ہیں۔ انسان نے سائنس کا جادو تسخیر کیا ہے جو لازوال طاقت کی بنائی اس کائنات میں پہلے سے ہی موجود تھا، لیکن اسے قرون وسطیٰ کے اوقات پر شاید تسخیر کرنا مشکل تھا کیونکہ انسان اپنی غلطیوں سے سیکھ رہا تھا حقیقت اور سچ تک پہنچنا۔

اور جہاں تک تانترک بابا کے آپ کو بھوت دکھانے کی بات ہے تو اس دنیا میں نفسیاتی بیماریوں ، وائیرس اور بیکٹریا (virus and bacteria) سے بڑے کوئی بھوت اور جن نہیں، ہمیں دکھتے نہیں اور جسم میں داخل ہوتے ہیں اور ہماری جان تک لے سکتے ہیں، زندگی کو برباد کردیتے ہیں۔ توہم پرستی، وہم، خوف، انزائٹی سے بڑا کوئی بھوت نہیں، ایک مرتبہ نفسیات میں پختہ ہوجائیں تو زندگی برباد کرسکتے ہیں۔ سائنسدان بابا نے ان بھوتوں کو مارنے کے لیے ادویات بھی بنائی ہیں اور نفسیاتی بیماریوں پر بھی کام چل رہا ہے، ٹروما پر ریسرچ ہورہی ہے کہ اسے ٹھیک کیسے کیا جائے تاکہ انسان اپنی زندگی منطق کے ساتھ گزار سکے نہ کہ جادوئی سوچ کے ساتھ۔

Advertisements
julia rana solicitors london

سائنس کوئی ہیرو نہیں ہے اور نہ ہی نجات دہندہ، محض ایک علم ہے، جس کے فائدے اور نقصان دونوں ہیں، اسے انسانوں کی بھلائی کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن انسانوں کو برباد کرنے کے لیے بھی! یہ فطرت کا قانون ہے، فطرت میں محض “توانائی” (انرجی) ہے، اس انرجی میں سے آپ کالا رنگ اخذ کرتے ہیں یا سفید، یہ آپ پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

Facebook Comments

ندا اسحاق
سائیکو تھیراپسٹ ،مصنفہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply