ڈاکٹر مجاہد مرزا
ڈاکٹر مجاہد مرزا معروف مصنف اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ وائس آف رشیا اور روس کی بین الاقوامی اطلاعاتی ایجنسی "سپتنک" سے وابستہ رہے۔ سماج اور تاریخ آپکے پسندیدہ موضوع ہیں
سماج ایک زندہ نظم و ضبط کا نام ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیوں کا واقع ہونا ناگزیر ہوتا ہے۔ تبدیلیوں کا یہ عمل سست بھی پڑ سکتا ہے اور سریع بھی ہو سکتا ہے۔ کچھ تبدیلیاں تو← مزید پڑھیے
مارچ 1991 کی ایک رات، پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے مجھے اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ سے تب اغوا کر لیا تھا جب میں ضمیر نامی افغان سفارتکار کی کار سے اُترا تھا۔ مقصد چونکہ کہانی بیان کرنا نہیں ہے،← مزید پڑھیے
غالباً 1987 کی بات ہے، کہنے کو تو وہ اغوا ہوئی تھی مگر اصل میں وہ اپنے آشنا کے ساتھ۔ بھاگ گئی تھی۔ تب لفظ آشنا ہی استعمال کیا جاتا تھا۔ ویسے بھی ان دنوں بوائے فرینڈ کا معاملہ معروف← مزید پڑھیے
آس، آرزو، خواہش، انتظار تاحتٰی یقین، امید کے ہی پرتو ہیں۔ یہ امید بھی عجب کیفیت ہے جو شاید کائنات کی مانند لامتناہی اور الوہ کی مانند ابدی ہے۔ امید کے لیے بہت سے محاورے اور کہاوتیں ہیں جن میں← مزید پڑھیے
میں پسماندہ پاکستان کے انتہائی پسماندہ ضلع مظفر گڑھ کی ایک زرخیز تحصیل علی پور کے صدر مقام “شہرعلی پور” میں پیدا ہوا تھا۔ جب میں چار برس کا تھا تب بھی میں گھر سے سڑک تک پہنچنے کے لئے← مزید پڑھیے
لوگ فحش فلمیں کیوں دیکھتے ہیں؟ بہت سی نفسیاتی ، سماجی وجوہ کے علاوہ ایک بصری وجہ بھی ہے کہ اپنی جنسی زندگی کے بہت سے ایسے زاویے ہوتے ہیں جنہیں انسان خود نہیں دیکھ سکتا جیسے اگر اپنی پشت← مزید پڑھیے
میں دسویں جماعت میں تھا، زلفی ایک اونچے گھوڑے پر سوار ہو کر ہماری گلی میں داخل ہوتا تھا اور گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے بیٹھے دروازہ کھٹکھٹا دیا کرتا تھا۔ میری بہنوں میں سے کوئی دروازے کی ریخ میں← مزید پڑھیے
کل رات میں نے جھنجھلا کے وٹس ایپ پہ اپنی غلط روسی میں پیغام لکھا تھا: ” یہ کیا ہو رہا ہے۔ مجھے آئے آج دسواں روز ہے، معاملہ نہ ادھر ہو رہا ہے نہ ادھر۔ اگر تم نے طلاق← مزید پڑھیے
ویسے تو پاکستان کی آبادی کا یک معتد بہ حصہ ابھی تک قرون وسطٰی کی نفسیات سے نہیں نکلا جب تحریروں کے ابتدائی صفحات “قاتیلو، یقتلو” کے لفظوں سے بھرے ہوتے تھے۔ کل ہی کی خبر تھی جسے پڑھنے کے← مزید پڑھیے
سائنس کو مقبول عام بنانے کے جتن کرنے میں معروف مستقبل بین اور نامور نظری ماہر طبیعیات میچیو کاکو جنہوں نے طبیعیات کا تازہ ترین نظریہ “سٹرنگ تھیوری” پیش کیا تھا اور جو کچھ عرصہ پیشتر فرما چکے تھے کہ← مزید پڑھیے
ابا، مجھے اس روز اتنی حیرت ہوئی تھی جب آپ ٹامی اور جیمی کو نہلانے نہر پر لے جا رہے تھے۔ چونکہ ہم سب آپ سے ڈرتے تھے شاید اس لیے کہ جونہی آپ ایک عرصے کے بعد اپنے کاروباری← مزید پڑھیے
آمروں سے اشتراکیوں تک اور نازیوں سے جمہوریت کا قصیدہ پڑھنے والوں تک، آخر سبھی عوام عوام کرتے ہوئے، عوام کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار کی سیڑھیاں چڑھ کر جب سنگھاس پر جا براجمان ہوتے ہیں تو وہی← مزید پڑھیے
بجٹ پیش کیا جا چکا ہے۔ میں ماہر اقتصادیات نہیں ہوں جو اس میں سے کیڑے نکالتا پھروں البتہ یہ جو دوماہ میں گردشی قرضے کے پانچ سو ارب یعنی پانچ کھرب روپے ادا کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے← مزید پڑھیے
پیدائش کے ساتھ موت جڑی ہوئی ہے۔ ذی روح پیدا ہی اس لیے ہوتا ہے کہ اسے کسی وقت مر جانا ہوتا ہے۔ علیحدگی اور طلاق کا تعلق اکٹھے رہنے اور بیاہے جانے کے ساتھ ہے۔ کہتے ہیں کہ سکے← مزید پڑھیے
ایک محاورہ جو آج کل بہت عام ہے وہ یہ کہ اگر بلی کو بھی دیوار کے ساتھ لگا دو گے تو وہ بھی (تلملا کر) پنجے مارے گی۔ اس کے علاوہ اب نیٹ پر ایسی فلمیں بہت زیادہ ہیں← مزید پڑھیے
اطالیہ میں فیشن کے مرکز اور معروف شہر میلان سے روانہ ہو کر جب سوئیٹزر لینڈ کی سرحد عبور کی تو میرے ہمراہی فطرتی حسن کو دیکھ دیکھ کر مسحور ہوتے ہوئے ایلپس کی برف پوش چوٹیوں، پہاڑوں کے پہلووں← مزید پڑھیے
نجم سیٹھی صاحب کا تجزیہ سن رہا تھا۔ فرماتے ہیں کہ ” آئی ایس آئی” کا نام اب گھر گھر میں لیا جانے لگا ہے یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ یاد ہے، ہم “حسّاس ادارے” کہا اور لکھا کرتے تھے← مزید پڑھیے
میں ایک بین الاقوامی ذریعہ ابلاغ عامہ سے وابستہ ہوں۔ آج میری ڈیوٹی خبروں پر ہوگی۔ میں ایک بار پھر ایسی اذیت سے گذروں گا جس کا کوئی مداوا نہیں ماسوائے ذریعہ ابلاغ سے علیحدہ ہو کر بیروزگاری بھگتنے کے۔← مزید پڑھیے
بعض اوقات سمندر بظاہر پرسکون دکھائی دیتا ہے لیکن سمندر کی نچلی تہوں میں اضطراب اور تحرک جاری رہتا ہے۔ گرم اور سرد پانی کی روئیں چلتی ہیں۔ آبی جاندار محو خرام رہتے ہیں۔ زندگی کے لیے جنگ چلتی رہتی← مزید پڑھیے
ایم بی بی ایس کے دوران اکٹھے پڑھنے والے ہم کلاس فیلوز کا ایک وٹس ایپ گروپ ہے۔ اس میں ایک ہم جماعت دوست نے مجھ سے خواہش کی تھی کہ اپنی زندگی کے کچھ ” چسکے دار ” واقعات← مزید پڑھیے