جرائم پیشہ جمہوریت کی اک اور واردات سامنے آئی ہے جس پر غصہ نہیں آ رہا گھِن آ رہی ہے۔ انگلینڈ کے اخبار ’’ڈیلی میل‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ شہباز خاندان زلزلہ زدگان و متاثرین کو ملنے والی برطانوی← مزید پڑھیے
یہ ایک ایسے صحافی کی کہانی ہے جسے گولی مار کر ختم کر دیا گیا لیکن اُس کی کہانی آج تک تمام نہیں ہو سکی۔ اس صحافی کو ماڈرن میڈیا اور ماس کمیونی کیشن کے کئی ماہرین اور اُستاد محض← مزید پڑھیے
میں ابھی ابھی کلچوں کے ساتھ بونگ، چنے اور آملیٹ کا ناشتہ کرکے فارغ ہوا ہوں، حلوے کے ساتھ کھویا میں نے میٹھے کے طور پر لیا ہے اور اب ڈائٹنگ کے پیش نظر مصنوعی شکر والی چائے پی رہا← مزید پڑھیے
پاکستان کے وجود میں آنے سے پیشتر اردو ادب میں جتنے بھی بڑے ادیب اور شاعر تھے انہیں پسند کرنے والے اور پڑھنے والے ان کے ادب کے علاوہ اُن کے سیاسی اور سماجی رویوں سے آگاہ تھے۔ ترقی پسند← مزید پڑھیے
سانپ:انسان سانپ سے بہت ڈرتا ہے بلکہ یوں کہیں کہ اس میں موجود زہر سے اسے خوف آتا ہے جبکہ دوسری طرف سانپ اگر کسی سے ڈرتا ہے تو وہ انسان ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بہت سے انسان← مزید پڑھیے
انسانی معاشرہ میں محنت یعنی’’ہارڈ ورک‘‘ کو بہت گلیمرائز کیا گیا اور شاید کبھی یہ سو فیصد درست بھی تھا، پھر سب کچھ تبدیل ہوتا چلا گیا لیکن یہ تبدیلی بہت ہی سلو موشن میں اتنی بتدریج اور مرحلہ وار← مزید پڑھیے
سمر قند مشہور سائنسداں ابن سینا اور الجبرا کے موجد محمد الخوارزمی کی علمی شغل کی سرزمین بھی ہے۔ طالب علم خوارزمی سے برہم ہونگے، مگر اس کے علم نے حساب کی دنیا میں انقلاب برپا کردیا۔ گر آپ صبح← مزید پڑھیے
اختلافِ رائے کا احترام میں نے کسی عالم کی بجائے اپنی ایک یہُودی ٹیچر سے اُس وقت سیکھا جب میں اسلام کے بارے میں ٹھیک سے جانتا بھی نہیں تھا۔ میری یہ خاتُون یہُودی ٹیچرعُمر کے ساٹھویں سال میں تھیں۔← مزید پڑھیے
جس طرح ایک پھل جب درخت پر پک جائے تو وہ توڑنے کے قابل ہوجاتا ہے، اسی طرح جب ٹیکس واجب الادا ہو جائے تو اس کی ادائیگی کارِ سرکار چلانے کیلئے ضروری ہوجاتی ہے، حکومت کو ٹیکس کی وصولی← مزید پڑھیے
وطنِ عزیز میں سیاستدانوں اور اہل ادب و صحافت کو وطن فروش قرار دینے کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ اقتدار کے نشے میں بے ہوش ایک ڈکٹیٹر ایوب خان نے تو بڑے پُرجوش انداز میں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح← مزید پڑھیے
چشم تصور سے دیکھیں، ایک آدمی تُوڑی یعنی بھوسے کی بھری بہت بڑی گٹھڑی اٹھائے جا رہا ہے کہ اچانک گٹھڑی کھل جاتی ہے اور بھوسہ بکھرتے ہی تیز آندھی چلنا شروع ہو جاتی ہے تو کیا دنیا کی کوئی← مزید پڑھیے
حملہ کتنا بھی افسوس ناک کیوں نہ ہو، نریندر مودی کےلیے یہ ایک شاندار سیاسی موقع تھا ایسا کچھ کرنے کا جس میں وہ ماہر ہے—شاندار نمائش۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں نے مہینوں پہلے پیش گوئی کرکے آگاہ← مزید پڑھیے
دہلی پر جب بہادر شاہ ظفر کی ’’حکمرانی‘‘ تھی تو عالمِ پناہ کی سر پرستی میں آئے دن مشاعرے ہوا کرتے تھے، غالب، داغ، مومن، شیفتہ، آزردہ اور ذوق جیسے اساتذہ وہاں حاضر ہوتے، بادشاہ سلامت کے روبرو اپنی غزلیں← مزید پڑھیے
مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پچھلے کچھ عرصے سے ’’کتاب‘‘ باقاعدہ زندہ ہو گئی ہے۔ سانس لینے لگی ہے اس کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے اور مجھے تو لگتا ہے کہ کتاب کے اندر ایک ایسی روح بھی← مزید پڑھیے
رات کے وقت اچانک فائرنگ کی تیز آواز سے آنکھ کھل گئی۔ بوکھلا کر جلدی سے مین گیٹ کھول کر باہر آیا تو گلی میں بہت سے لوگ موجود تھے۔ سب نے فائرنگ کی آواز سنی تھی لیکن سمجھ نہیں← مزید پڑھیے
وہ ایک سادہ اور سیدھے سے انسان تھے لیکن ان کے بارے میں لکھنا بہت مشکل ہے۔ پروفیسر وارث میر کی زندگی اور کردار کے ہر پہلو پر بے شمار صفحات لکھے جا سکتے ہیں۔ آج میں ان کے حوالے← مزید پڑھیے
پیارے’’چا چا‘‘ شہباز شریف نے بہت مایوس کیا۔ ان سے ہرگز توقع نہیں تھی کہ وہ تفتیشیوں کی تسلی کرنے کی بجائے انہیں ڈانٹنا ڈپٹنا اور دھمکیاں دینا شروع کردیں گے کہ ’’دیکھ لوں گا، نمٹ لوں گا، نہیں چھوڑوں← مزید پڑھیے
عمران سیریز کی تازہ ترین قسط کی کہانی کچھ یوں بن رہی ہے کہ خان صاحب نے اس تازہ پھڈے میں دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے نہ صرف گیند عدلیہ کے کورٹ میں پھینک← مزید پڑھیے
ایک عیا لدار شخص ایک حاجی صاحب کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ دو ماہ بعد ان کی بیٹی کی شادی ہے، اس نے تین لاکھ روپے شادی کے لئے جمع کئے ہوئے ہیں یہ رقم اپنے پاس امانت← مزید پڑھیے
یہ ایک ایسے جج صاحب کی کہانی ہے جو کسی زمانے میں بڑے مشہور وکیل ہوا کرتے تھے۔ وکالت کے زمانے میں اُن سے کچھ ایسی غلطیاں سرزد ہو گئیں جن کا خمیازہ اُنہوں نے جج بن کر بھگتا۔ ان← مزید پڑھیے