ڈاکٹر مختیار ملغانی کی تحاریر

تخلیقی محرک۔۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی/افسانہ

ماہرِ نفسیات نے اپنے چہرے پر حیرت کے تاثرات کو مزید گہرا کیا اور سامنے بیٹھے مشہورِ زمانہ ادیب و شاعر، عالمگیر شناس، کو سوال داغا۔۔۔۔ تو آپ کی بیوی نے آپ پر چھری سے حملہ کرنے کی کوشش کیوں←  مزید پڑھیے

بڑھتی آبادی کے مسائل۔۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

سادہ تجزیئے میں معاملات اتنے خراب نہیں دکھائی دیتے، جتنا کہ اس مسئلے پر آوازیں بلند کی جا رہی ہیں، مثلاً اگر انسانوں کی زمین پہ کثافت پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اگرچہ کچھ ممالک میں آبادی←  مزید پڑھیے

وزیر اعظم کی تقریر۔۔۔۔۔ڈاکٹر مختیارملغانی

اٹلی کے معروف مجسمہ ساز مائیکل اینجلو (Michelangelo) نے کہا تھا کہ شاہکار کوئی چھوٹی چیز نہیں، مگر چھوٹی چیزیں مل کر ہی شاہکار کو جنم دیتی ہیں، سب سے پہلے تو ان لوگوں کی سوچ پر حیرانگی ہے جو←  مزید پڑھیے

لسانیات و معاشرتی شعور۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

زبان کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے، جتنی کہ انسانی شعور کی، شعور (بلکہ خود شعوری) کی نعمت سے دوسرے جاندار محروم ہیں، اسی لئے وہ زبان سے بھی محروم ہیں، بس مختصر اشارے، کنائے اور چند آوازیں ہیں جن←  مزید پڑھیے

خوابی فالج۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

تصوّر کیجئے کہ آپ بیدار ہونے کو ہیں، مگر اس حد تک عاجز کہ اپنی انگلیوں کی پوروں کو بھی حرکت دینے سے قاصر ہیں، آپ کے کمرے میں اگرچہ اندھیرا سا ہے، مگر آپ کسی غیر مرئی مخلوق کی←  مزید پڑھیے

سرتاجِ کائنات۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

سرتاجِ انسانیتﷺ۔ تاریخِ انسانی میں غیرمعمولی شخصیات کی تعداد زیادہ نہیں، عموماً ایسی شخصیات کی کسی ایک شعبے سے وابستگی ہی ان کی وجۂ شہرت و عقیدت ہوا کرتی ہے، دنیاوی و سیاسی فتوحات اور تاریخی و زمانی کامرانیاں ایک←  مزید پڑھیے

توہم پرستی۔۔۔۔۔مختیار ملغانی

اس اصطلاح کیلئے یونانی و عبرانی زبانوں میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں، ان کے مطالب بالترتیب، دھواں اور خود فریبی کے ہیں، گویا کہ توہم پرستی خود کو دھوکہ دینا، سراب کے پیچھے بھاگنا یا کسی ایسے وجود کو←  مزید پڑھیے

روحانی تسلّط۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

 خدائے بزرگ و برتر پر یقینِ کامل انسان کو گناہ و ذلّت کی تاریکیوں اور روح و قلب کے عارضہ جات سے نجات دلانے کا ذریعہ ہے، نہ صرف یہ، بلکہ ان تمام شیطانی طاقتوں سے بھی، جو انسان کے←  مزید پڑھیے

نفسیات:احساسِ جرم, ایک نفسیاتی عارضہ۔۔۔۔ڈاکٹر مختار مغلانی

انسانوں کی اکثریت احساسِ جرم کو سمجھنے کا تکلّف نہیں برتتی، یہ احساس کم و بیش ہر شخص میں موجود ہے، ممکن ہے اچھا انسان بننے یا رہنے کیلئے اس احساس کی ایک خاص اہمیت ہو، مگر زیادہ تر لوگوں←  مزید پڑھیے