یہ سجا سجایا گھر ساقی مری ذات نہیں مرا حال نہیں۔۔ خالد منہاس

میرا خمیر پاکستان کی مٹی سے اٹھا، میری اپنی مٹی، اپنی جنم بھومی یعنی پاکستان ۔ وہ پاکستان جہاں میں پیدا ہوا، پلا بڑھا، سکول، کالج کی تعلیم حاصل کی، جس سے میرے ہونے کی یادیں وابستہ ہیں ۔ جس کی مٹی میں میرے پیارے دفن ہیں اور جو میری نس نس میں دوڑتا ہے۔۔

اب دو دہائیاں بیتتی ہیں کہ امریکہ میں مقیم ہوں، پیشے کے اعتبار سے ایک کارڈیالوجسٹ۔، اللہ تعالی نے مجھے سیکڑوں مریضوں کی خدمت کی توفیق دی۔اس کے بدلے میں بہت سے لوگوں کی محبت بھی ملی،عزت بھی اورحسب توفیق مالی فوائد بھی۔ان سب نعمتوں کے لئے میں اپنے رب اور اس کے بعد اپنے اختیار کردہ ملک امریکہ کا جس نے مادر مہربان کی طرح اپنے بازو میرے لئے وا کر دیئے۔اپنی ذات میں اُن نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا خود کو اہل نہیں پاتا، نہ اپنےرب کا نہ اس ملک کا۔۔۔

مجھے نئے دیس میں الحمدللہ دنیا جہان کی نعمتیں میسر ہیں لیکن کس قیمت پر اور کیسے؟ دو واقعات آپ کی نذر کرتا ہوں کہ آپ بھی کاش میرا یہ دکھ جان پائیں کہ۔۔

یہ سجا سجایا گھر ساقی مری ذات نہیں مرا حال نہیں
اے کاش کبھی تم جان سکو جو اس سُکھ نے آزار دیا

سال 2013 میں میرے والد صاحب پاکستان میں وفات پا گئے تو میں بوجوہ پاکستان نہ جا سکا، اب تک یہی لگتا ہے کہ وہ سال میرے اندر کہیں ایک خلش سے بڑھ کر ایک زخم بن کر ٹھہر گیا تھا، ۔ چند روز پہلے میرے پیارے بھائی کی وفات پھر ان زخموں کو ہرا کرگئی ہے کہ میں ایک دفعہ پھر کرونا کی وجہ سےبے دست وپا ہوں اور باپ جیسے بڑے بھائی کولحد میں نہیں اتار سکا۔۔

بے بسی کے ان لمحوں میں ایک سوال یہ تنگ کرتاہے کہ سب کچھ ہونے کے باوجود یہ مجبوری کیوں ، میں اپنی مٹی سے دور رہنے پرمجبورکیوں ہوں اور کس قیمت پر؟

شاید آپ اسے ایک مہاجر کا دکھ سمجھتے ہوں لیکن میری وجہ دوسری ہے اور وہ  یہ ہےکہ میرے وطن کی زمین کس طرح مجھ پر تنگ کردی گئی اور مجھ پر کون کون سا الزام نہیں لگا۔،ان میں دو بھیانک ترین الزامات گستاخئ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور غدار وطن ہونے کا ہے۔ یہ الزام مجھ اکیلے پر نہیں بلکہ میری ساری جماعت اور ہم عقیدہ لوگوں پر ہے۔۔

میرے وجود اور روح کا ذرہ ذرہ میرے پیارے نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سرشار ہے اور میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبین ہونے پر اپنے وجود کے ہونے سے زیادہ ایمان رکھتا ہوں ۔ صبح وشام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور مدح میں درود عرض کرتا ہوں ۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ میں اپنے وطن پاکستان کی محبت میں سرشار ہوں اور یہ دونوں باتیں مجھے نہ کسی کو بتانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی ان دونوں باتوں کے لئے مجھے کسی کا کوئی سرٹیفیکیٹ درکار ہے ،کہ یہ میرا اور میرے رب کا معاملہ ہے ۔ ،میرا اللہ دلوں کا حال بہتر جانتا ہے۔۔

Advertisements
julia rana solicitors

ہاں البتہ ریاست پاکستان اور ارباب اختیار سے یہ ضرور پوچھتا ہوں کہ تمہیں اختیار اور طاقت دئیےگئے ہیں کہ تم ملک میں انصاف قائم کر سکو اور اس ملک کے ہر باشندے کو برابر کے حقوق دے سکو ۔ لیکن افسوس کہ تم ایسا نہ کر سکے اور حالات اس حد تک بگاڑ دئیے گئے ہیں کہ احمدیوں کے لئے وطن عزیز میں سانس لینا بھی دشوار ہو چکا ہے ۔ اس کے مقابل امریکہ میں مجھے ہر طرح کی شخصی، معاشرتی اور مذہبی آزادی ہے۔ ،میرے مریض کو میرے عقیدے سے غرض نہیں، محلے کی دوکان والے نے دل آزاری پہ مشتمل سٹیکر نہیں لگا رکھے، اخبارات میں کسی عقیدے کو لے کر خبریں نہیں چھاپی جارہیں،پاسپورٹ پر مذہب کا خانہ نہیں، نوکری کا فارم یا تعلیمی ادارے کا فارم بھرتے وقت کسی مذہبی ڈیکلریشن کی ضرورت نہیں۔۔۔
اگر اسی طرح کا منظر نامہ میرے آبائی وطن میں بھی ہوتا تو شایدمیں اپنے وطن میں اپنے پیاروں کے ساتھ ہی رہتا اور اپنے لوگوں میں بیٹھا ان کی خدمت کررہا ہوتا ہے۔۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply