قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے۔حکیم حامد تحسین

کون ہے وہ سور ما نیزے پہ جس کا سر اٹھا
حامد جی! میں صحرائے کربلا کا ایک بے تاب بگولہ ہوں میں دریائے فرات کی ایک بے چین لہرہوں میں اس کی ایک ایسی بدنصیب بوند ہوں جو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے خشک لبوں کے پیاسے صحرا تک پہنچنے کو ترستی رہی مچلتی رہی تڑپتی رہی میں حضرت امام حسینؓ کی خون شہادت کی خوشبو ہوں ،میں اصغرؔ کی پیاس ہوں میں حضرت زینبؔؓ  کی  ممتا ہوں ،میں حضرت حر ؔکی سرفروشی کی تمناہوں ،میں حق کی آواز ہوں، میں حقیقت کا آفتاب ہوں، میں باطل کی تاریکیوں میں ماہتاب ہوں میں سچائی کی روشنی ہوں میں یزید کے ظلم کے لرزہ خیز واقعات کا معتبر گواہ ہوں، میں تاریخ شہادت کا ایک مہکتا لہو رنگ ورق ہوں میرے سینے پر72  شہداء کی عظیم الشان قربانی کی تاریخ درج ہے۔
میرا نام مرثیہ ہے ، میرے لغوی معنی وصف میت کے ہیں میں فارسی زبان و ادب و شاعری سے اردو اصناف سخن کی رزم گاہ میں آیاہوں ،میرا خمیر میدان کربلا کی اس مہکتی مٹی سے اٹھاہے جو شہدائے کربلا کے خون سے  گندھی ہے ۔

ہندوستان میں میری ابتداء دکن کے شاہوں سے ہوئی میں ان ہی کے مقدس جذبات کی جلوہ گری ہوں، مجھے اعزاز حاصل ہے کہ میں نے اردو شاعری میں رزمیہ شاعری Epic Poetry  کی کمی کو پورا کیا،مشہور مثنوی سحرالبیان کے خالق میر حسنؔ کے بیٹے میر خلیقؔ نے مجھے فنی اعتبار سے باعزت متعارف کرایا اور انہی خلیق کے ہونہار بیٹے میر انیس ؔنے اردو شاعری میں مرثیہ گوئی کی نئی نئی راہیں نکالیں،مرزا دبیرؔ نے اپنے خون جگر سے میری آبیاری کی اور میری آنکھوں میں فصاحت و بلاغت کے چراغ روشن کیے ۔ میر انیسؔ نے ہی مجھے جیتا جاگتا بولتا چالتا چلتا پھرتا منظر بناکر پیش کیا، میر انیسؔ نے ہی مجھے گھر گھر پہنچایا اور لکھنؤ کے ہر گھر کو ماتم کدہ بنادیا اور شہادت حسینؔ کی خوشبو سے اردو ادب و شاعری کی فضاؤں کو عطر بیز کردیا اور اس فن سخن کو جمال و کمال کے ارفع و اعلیٰ مقام تک پہنچایا،میر انیس ؔنے ہی مجھے گلاب کے پھولوں کی شگفتگی اور تازگی بخشی اور پہاڑی جھرنوں کی روانی دی۔

ابتدائی عمر میں میں مکمل طو رپر واقعات کربلا سے منسوب تھا لیکن دھیرے دھیرے مجھ میں ملی غم کا اظہار کیاجانے لگا فرخیؔ نے محموؔد کی میت کو میرے ہی فن کارانہ انداز سے منظوم کیا، ہلاکوؔ کا بغداد پر حملہ ، بغداد کی بربادی اور پانچ سو سالہ تہذیب کے کھنڈر پر کھڑے ہو کر شیخ سعدیؔ خون کے آنسو روتارہا۔ اس نے دولت عثمانیہ کے زوال اور خلیفۂ وقت معتصم ؔباللہ کے غم مرگ کے انگارے اپنے آنسوؤں سے میرے ہی دامن پر بجھائے۔فرخ سیر ؔکے حکم سے حق گوئی کی پاداش میں جان گنوانے والے سید جعفر زٹلی ؔنے اورنگ زیبؔ کی میت پر آنسوؤں کے پھولوں کی مالائیں میرے ہی ہاتھوں پیش کیں۔ بدروں نے غرناطہ کا غم بیان کرنے کے لئے میرا ہی دامن تھاما، داغؔ نے دلیؔ کی اور علامہ اقبالؔ نے سسلیؔ کی بربادی پر مجھے ہی رونے پر مجبور کردیا اور میری آنکھوں میں آنسوؤں کے سمندر بھر دیے۔ اس طرح اصناف سخن کے صفحہ پر ملی غم کی روایت کی بناء پڑی ۔

شمالی ہند کے غزل گوشعرا نے بھی مجھے اپنے ذاتی غم کے اظہار کا ذریعہ بنایا غالبؔ نے اپنے جواں مرگ بھتیجے عارفؔ کی درد ناک تعزیت منظوم کی، حالیؔ نے اپنے استاذ غالبؔ سے متعلق داستان غم دل میری ہی زبان سے ادا کی اور شیخ ہمدانیؔ مصحفیؔ نے حالی ؔکی جدائی میں اپنی آنکھوں کے آنسو میرے دامن سے پونچھ کر ذاتی غم کی شجر کاری کی روایت ڈالی۔عربوں کی فصاحت و بلاغت کی بلندیوں اور علم بیان کی روشن شمعوں سے کون واقف نہیں زمانۂ جہالت میں بھی ان کی سخنوری بے مثال تھی پھر عربوں میں سب سے فصیح ترین عظیم شخصیت کی بیٹی حضرت فاطمہ زہراؓ کی قادر کلامی پر کیاکلام ہوسکتاہے اور جب وہ اپنے خون جگر سے اپنے شفیق باپ ہادی عالم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جودنیا کے لیے رحمۃ للعالمین بناکر بھیجے گئے تھے مرثیہ لکھنے بیٹھیں تو لوگوں کے جگرٹکڑے ٹکڑے ہوگئے اور آنکھوں سے غم و اندوہ کے دریا بہنے لگے اور آج میں اردو ادب و شاعری کی عدالت میں شہید کربلا حضرت امام حسین ؓ کی شہادت اور بے نظیر قربانی کا گواہ بنا کھڑاہوں،

میں حلف لیتاہوں کہ جو کچھ کہوں کا سچ کہوں گا اور سچ کے علاوہ اور کچھ نہ کہوںگا۔
میں اردو اصناف سخن کی رزمیہ صنف مرثیہ ، ادب و شاعری کی عدالت میں حلفیہ بیان کرتاہوں کہ میں نے شہادت حسینؓ کے دن آفتاب کا چہرہ غم و غصہ سے شعلہ بنادیکھاہے ،میں نے دیکھاہے کہ حسینؓ کی پیاس کی شدت کے احساس نے فرات کے لب خشک کردیے تھے،اس کی موجیں تلوار بے نیام بن کر یزیدی لشکر پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تڑپ رہی تھیں، باد صر صر آہ و بکاء میں مصروف اور ماتم کناں تھیں ، کیوں کہ بھوکے پیاسے حق پرست شہدائے کربلا کے خون نے صحرائے کربلا کے ہر ذرے کو سرخ کفن پہنادیاتھا اور فرش تاعرش فضائیں خون شہادت کی خوشبوؤں میں بسی مہک رہی تھیں۔
قارئین حضرات آئیے میں میدان کربلا میں گرمی کی شدت دکھاتا چلوں
گرداب پر تھا شعلہ جوالہ کا گماں
انگارے تھے حباب تو پانی شرر فشاں
منہ سے نکل پڑی تھی ہر اک موج کی زباں
تہہ میں تھے سب نہنگ مگر تھی لبوں پہ جاں
پانی تھا آگ گرمی روز حساب تھی
ماہی جو سیخ موج تک آئی کباب تھی
اسی جھلسا دینے والے ماحول میں باد صرصر چیختی اور اعلان کرتی پھر رہی تھی کہ
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہاہے
رن ایک طرف چرخ کہن کانپ رہاہے
رستم کا جگر زیر کفن کانپ رہاہے
خود عرش خداوند زمن کانپ رہاہے
شمشیر بکف دیکھ کے حیدر ؔؓکے پسر کو
جبرئیل لرزتے ہیں سمیٹے ہوئے پر کو!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *