آپ ﷺ کا ذکر خیر۔ راجا قاسم محمود

سب سے پہلے تو اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں اس کے ہرگز قابل نہیں ہوں کہ آپ ﷺ کے محاسن بیان کرسکوں ،میری اس تحریر کا مقصد صرف اور صرف آپ ﷺ کے نعت خوانوں میں نام درج کرانا ،اور آپ ﷺ کے ذکر خیر سے آپ ﷺ کی عظمت و شوکت نہ تو بڑھ سکتی اور نہ ہی میرے خاموش رہنے سے اس میں کوئی کمی آ سکتی ہے کیونکہ آپ ﷺپر رب کریم ہر وقت صلاۃ نازل فرما رہا ہےاور اس کے فرشتے بھی آپﷺ کے ذکر مبارک کی ابدی عبادت کرتے رہیں گے۔۔اس لیے
میرا جیسا شخص آپ ﷺکا ذکر کرکے اپنے کثیر فوائد حاصل کر سکتا ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ میری تحریر آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے رب کی بارگاہ میں قبول ہو جائے اور آخرت میں میں اسے سند کے طور پر پیش کر سکوں ۔۔

ایک اور بات بھی تسلیم کہ آپ ﷺ کا مکمل ذکر ناممکنات میں سے ہے کئی ضخیم کتب اپنی تمام تر ضخامت کے باوجود آپ ﷺ کے ذکر خیر کی تکمیل کے لیے ناکافی ہیں لہذا میرا یہ چھوٹا سا مضمون ۔۔۔۔بقول امام احمد رضا خان بریلوی
اے رضا خود صاحب قرآن ہے مداح حضورﷺ
تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسول اللہﷺکی

آپﷺ کی بعثت ایک ایسے معاشرے میں ہوئی جس میں چند برائیاں شدت اختیار کرچکی تھیں اور وہ اپنی ان برائیوں پر فخر کرتے تھے،ان کی اصلاح ایک بہت ہی مشکل اور ناممکن بات تھی بلکہ ان کی ا صلاح کا بیڑہ ایک فرد کے بس کی بات نہیں تھی بلکہ اس کے لیے ایک پوری تنظیم چاہیے تھی اور اس کی کامیابی کی فوری ضمانت نہیں دی جا سکتی بلکہ یہ صدیوں کی کوشش ہوتی۔مگر آپ ﷺ نے ان تمام باتوں کے بر عکس کچھ ہی سال میں ان لوگوں کو جو کہ بدترین اخلاق کے حامل تھے بہترین لوگ بنا دیا۔۔آپ ﷺ کو کتنی مشکل قوم پر بھیجا گیا جو کہ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے پر فخر کرتی تھی تو جو قوم اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دے اس کو سمجھانا بڑا مشکل ہوتا ہے۔آپ ﷺ کی تربیت کی
کامیابی کو آج کے دور میں سمجھناتھوڑا مشکل ہے کیونکہ آج ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہ ہوں گے جو اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کرکے فخر محسوس کرتے ہوں،اس طرح عرب جانتے بھی تھے کہ آپ ﷺ کبھی جھوٹ نہیں بولتے مگر اس پر ایمان لانے کے لیے راضی نہ تھے کہ آپ ﷺ نبی ہیں اور یہ کہنے کی ہمت بھی نہیں رکھتے تھے کہ معاذ اللہ آپﷺ کا دعویٰ جھوٹا ہے، ایک بات ذہن میں رہے کہ تمام تر خامیوں کے باوجود اس وقت بھی عرب جھوٹ نہیں بولتے تھے،اپنی آنکھوں سے چاند ٹکڑے ہوتا دیکھتے تھے مگر پھر بھی نبی تسلیم کرنے پر راضی نہ ہوئے،بڑے بڑے فصیح اور بلیغ لوگ قرآن کی فصاحت و بلاغت کے آگے زچ بھی ہوتے اور یہ بھی مانتے کہ یہ کسی بشر
کا کلام نہیں ہو سکتا مگر اس کے باوجود ایمان نہ لاتے تھے ،ایسے لوگ جب ایمان لانے کے بعد ہدایت کے چراغ بن جائیں تو اس بے مثال کامیابی کی رہتی دنیا تک نظیر ممکن نہیں ہے۔

آپ ﷺ کی عطائے نبوت سے قبل کی زندگی بھی بے مثال اور روشن تھی،آپ ﷺ کی صداقت اور امانت کی گواہی تمام وہ لوگ دیتے تھے جن کو آپﷺ کے بارے میں علم تھا بلکہ آپ ﷺ کا صدق اور امانت کا صرف علم ہی نہیں ایک کثیر تعداد نے آپ ﷺ کے ان اوصاف کا مشاہدہ کیا تھا ۔آپ ﷺنے جب لوگوں کو دعوت دین دی تو رب کریم نے حقانیت کے طور پر آپﷺ کی اس چالیس سالہ زندگی کو پیش کیا۔ارشاد فرمایا۔سورہ یونس آیت نمبر 16 میں
قُل لَّوْ شَاءَ اللَّھُ مَا تَلَوْتُھُ عَلَیْكُمْ وَلاَ أَدْرَاكُم بِھِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیكُمْ عُمُرًا مِّن قَبْلِھِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ

گویا اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی ذات مبارک کو ہی اپنے دین کے لیے معیار حق و باطل قرار دے دیا تھا،اور یہ معجزہ دیکھیں کہ ابو لہب و ابو جہل جیسے بدترین دشمن آپﷺ کی ذات مبارک پر کوئی اخلاقی الزام نہ لگا سکے اور نہ آپﷺ کے کردار کی کوئی کمزوری سامنے لا سکے اگر آپ پر الزام لگائے بھی تو اگلے ہی لمحے خود اس کی تردید کردیتے تھے۔لہذا آپ ﷺ کی عطائے نبوت سے قبل زندگی بھی روشن مینارہ اور قابل فخر ہے ۔تخلیق آدم علیہ السلام سے لے کر آپ ﷺ کی بعثت تک اللہ کا دین ایک ہی رہا ہے وہ اسلام ہے، جس کا رب نے خود قرآن میں ذکر فرما دیا ہے
( إِنَّ الدِّینَ عِندَ اللَّھِ الإِْسْلاَمُ (سورہ آل عمران آیت نمبر 19
ترجمہ : بیشک اللہ کے ہاں اسلام ہی دین ہے۔

مگر کیا آج کوئی دین موسوی یا دین عیسوی کا سچا پیروکار ہو اور توحید خالص پر ایمان بھی رکھتا ہو تو آپ ﷺ کی رسالت کا اقرار کیے بغیر وہ اللہ کے دین کا فرد تصور نہیں ہو سکتا ۔یعنی کہ اب ایمان کا معیار آپﷺ کی ذات اقدس ہے۔آپ ﷺ کو نظرانداز کرکے ایمان قابل قبول نہیں ہے۔بلکہ رب نے تو اس سے بڑھ کر قرآن میں کئی جگہ اپنی اطاعت اور آپ ﷺ کی اطاعت کا حکم یکساں انداز میں دیا ہے۔سورہ النساء کی آیت نمبر 80 میں رب نے فرمایا ہے
ترجمہ؛ جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا!

اسی طرح سورہ النساء کی آیت نمبر 14 میں اللہ نے آپﷺ کی نافرمانی اور اپنی نافرمانی کرنے والے کو جہنم کی وعید سنائی ہے، اس سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور آپ ﷺ کی ذات ویسے تو علیحدہ ہیں مگر حکم کے اعتبار سے ایک ہی ہیں یعنی کہ اللہ تعالی کی اطاعت آپ ﷺکی اطاعت سے الگ نہیں ہے اور اسی طرح سے اللہ تعالیٰ کا باغی آپ ﷺکا بھی باغی ہے۔
اس سے ایک اور نکتہ یہ بھی نکلتا ہے کہ اللہ کے دین اسلام کی تعلیمات کی تنہا ماخذ آپ ﷺ کی ذات پاک ہے ، اسلام کا حصہ صرف وہ ہی بات کہلائی گی جو کہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے بتائے گئے اصولوں کی روشنی پر پوری اترتی ہو اور جس بات سے آپ ﷺ یا آپﷺ کے طے کردہ ا صولوں میں ممانعت ہو۔ وہ چیز مردود اور ناپسندیدہ ہے اور تاقیامت وہ بات دین کا حصہ نہیں بن سکتی ۔

بالعموم جب ہم کسی کی مدح سراعی کرتے ہیں تو بہت کم ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ اس میں مبالغہ آرائی کا پہلو شامل نہ ہو،کسی کی محبت میں کہےگئے الفاظ جب کم پڑھ جائیں تو آدمی مبالغہ آرائی کے میدان میں داخل ہو جاتا ہے۔ تعریف کے لیے وہ وہ خوبیاں بیان کرتا ہے جو اس شخص میں ہوتی ہی نہیں ۔مگر یہ بات دعوے سے کہی جا سکتی ہے کہ آپﷺ کی تعریف میں جتنا کچھ بھی کہا جائے اور لکھا جائے وہ آپﷺ کی ذات پاک کے لیے کم ہے۔اس میدان میں اگر تمام مفکرین کے افکار عالیہ کو جمع کیا جائے تو بھی مبالغے کا دور دور تک شبہ بھی نہیں ہو سکتا،بلکہ میں کہتا ہو ں کہ تعریف کرنے کے سخت ترین معیارات طے کرکے بھی اگر کوئی شخص آپ ﷺ کی سیرت مقدسہ کا مطالعہ
کرے تو اپنے آپ کو وہ آپ ﷺ کے آگے جھکا ہوا پائے گا۔

بطور مسلمان یہ ہم سب کا فخر ہے کہ ہم آپﷺکے امتی ہیں مگریقیناً ہم اس محبت اور احسان کا ذرہ برابر بھی حق ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں جو کہ آپﷺ نے اپنے ہر امتی کے لیے کی ہے، کسی کی پیدائش کے بعد دعا کرنا ایک الگ بات ہے مگر آج سے 14 سو سال پہلے ہم سب کے لیے ایک اس ہستی نے دعا فرمائی جب ہمارا وجود بھی نہ تھا ۔۔اور یہ احسان روز آخرت بھی آپ ﷺ کریں گے، آپ ﷺ کا ایک اور احسان پوری انسانیت پر ہے کہ آپﷺ نے بندوں کو بندوں کی بندگی سے نکال کر رب کی بندگی کا راستہ دکھایا۔اس وجہ سے جو دنیا میں انقلاب آیا کہ انسان نے تحقیق کے میدان میں قدم رکھا اور چاند اور سورج جو کہ پہلے معبود تصور کیے جاتے تھے کو اپنے علم اور تحقیقات کا حصہ بنایا ،انسان اپنے حقوق سے آگاہ ہوا و ررنگ و نسل کی برتری کو ٹھکرا کر فلاح انسانیت پر متوجہ ہوا۔یہ آپﷺ کی سیرت مقدسہ کی محض چند عمومی باتیں ہیں جو کہ اس مضمون کا حصہ بن سکیں ہیں،اگر اس تحریر میں کوئی مضبوطی اور پختگی ہے تو میرے رب اور آپﷺ کی وجہ سے ہے اور اگر کوئی کمزوری یا کوتاہی ہے تو میں اپنے کم علم ہونے کا
اعتراف کرتا ہوں۔!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *