ایک پاؤ”چینی”۔۔۔۔۔علی اختر

راقم کے بچپن میں فلم پانچ روپے اور وی سی آر مبلغ تیس روپے کرائے کے عوض دکانوں پر دستیاب تھا اور کبھی کبھار چھٹیوں کے دوران فلمیں دیکھنے کا پروگرام ترتیب دیا جاتا تھا ۔ ایک ایسے ہی خوش قسمت موقع پر راقم نے ایک فلم میں دبلے پتلے سے چھوٹی آنکھوں اور بے  بی کٹ ہیئر اسٹائل کے حامل آدمی کو لاتوں ، مکوں کی مدد سے کئی  افراد کی ٹھکائی کرتے دیکھا تو پاس بیٹھے چاچو سے اس  بابت دریافت کیا ۔ مختصر جواب “بروس لی” کی صورت ملا ۔ “لیکن یہ لوگوں کو مار نے کے دوران بلی جیسی آواز میں کیا کہہ  رہا ہے” میں نے حیرانی سے اگلا سوال کیا۔ “بیٹا ! وہ چینی ہے ۔ الگ زبان بولتا ہے ۔ گالیاں دیتا ہوگا لوگوں کو مارتے ہوئے ۔ تو جان کر کیا کرے گا ۔ فلم دیکھ ” راقم کا پہلا تعارف کسی چینی کے ساتھ اسی موقع پر ہوا ۔ معلوم ہوا کہ  چینی زبان الگ ہے۔

دوسری بار صدر میں ابو کے ساتھ نمکو کی دکان پر خریداری کرتے ہوئے ابو کے برابر میں کھڑے ایک شخص کی آنکھوں کو دیکھ کر راقم نے ابو سے کہا ” ابو ! ان انکل کی شکل  آپ سے بہت ملتی ہے” جس پر ابو نے بہت پیار سے راقم کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا ” گھامڑ اولاد ! اگر آئندہ ایسا کہا تو منہ توڑ کے ہاتھ میں دیدونگا، وہ چینی ہے اور ہم مسلمان” راقم جان گیا کہ  چینی مسلمان نہیں ہوتے۔

وقت گزرتا گیا راقم پورٹ قاسم کی ایک کمپنی میں اکاؤنٹنٹ لگ گیا ۔ کمپنی میں پندرہ بیس چینی بھی کام کرتے تھے ۔ تنخواہ ڈالر میں لیتے ۔ راقم سے ہر ماہ ملاقات کرتے ۔ مترجم ساتھ ہوتا ۔ ایک چینی لڑکی سے کچھ زیادہ بات چیت ہو گئی  ۔ نام مشکل سا تھا توراقم نے اسے اسٹریٹ فائٹر والی “چن لی ” کا نام دیا ۔ وہ ہر دو تین دن بعد کسی بہانے سے آفس آجاتی ساتھ کوئی  چینی ساتھی بھی ہوتا ۔ کچھ باتوں کے بعد راقم کے ساتھ دونوں کھڑے ہو کر تصویر بنواتے اور چلے جاتے ۔ راقم معصوم اسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ۔ دل میں خیال گزرتا کہ سانپ ، بچھو جانے کیا  الا بلا کھاتی ہوگی ۔ پھر ضمیر نے ملامت کیا کہ مرغی کے بارے میں بھی حکم ہے کے تین دن صاف کھلاؤ تو پاک ہو جاتی ہے ۔ یہ تو پھر بھی انسان ہے ۔ آخر راقم نے ایک دن مترجم سے ہی دریافت کر لیا کہ  “میاں ! یہ محترمہ آخر کس چکر میں ہیں “۔ جواب میں اس نے کہا کہ  چین میں آدمی کا اوسط قد پانچ فٹ ہوتا ہے اور تم ٹھہرے ساڑھے  چھ فٹ کے دیو نما انسان تو محترمہ پانچ ڈالر کے عوض اپنے ساتھیوں کو تمہارے ساتھ تصویر بنانے کو لاتی ہے ۔ راقم کو سینے میں کچھ ٹوٹنے کااحساس ہوا ۔ ہم اسے پیار کا انداز سمجھ رہے تھے اور وہ ہمیں سرکس کے دو منہ والے اژدھے  کی طرح ٹریٹ کر رہی تھی۔۔۔ جسے گلے میں ڈال کر لوگ پکچر بنواتے ہیں ۔ اگلی بار راقم نے بات چیت کے بعد فوٹو سیشن سے “نو پکچر” کہہ  کر منع کر دیا ۔ پھر آفس کی کھڑکی سے چن لی کی جانب سے ساتھ آنے والے چینی کو پیسے واپس کرتے دیکھا تو مترجم کی بات پر بھی اعتبار آگیا ۔ راقم اداس تھا ۔ پتا چلا کہ  چینی دھوکے باز ہیں ۔

وقت پر لگا کے اڑتا چلا گیا ۔ خبر ملی کہ  چینی ایک بہت لمبی سڑک بنا رہے ہیں ۔ سی پیک منصوبے  کا نام ہے اور یہ خطہ میں گیم چینجر ہوگا ۔ ہمارا اہم کردار تھا تو ہم بھی ترقی پا جائیں گے ۔ ہمیشہ کی طرح ایسا کچھ نہ ہو سکا ۔ الٹا چینی دو نمبر موبائل بیچتے اور اے ٹی ایم میں ڈیوائس فٹ کر کے پیسے چراتے گرفتار ہو نا شروع ہو گئے ۔

ہمارے سب حکمران امداد لینے اور انواع و اقسام کے معاہدے کرنے کے سلسلے میں چین ضرور جاتے ہیں ۔ چین آگے بڑھتا جا رہا ہے اور ہم مساوی مگر مخالف سمت میں سفر پر گامزن ہیں ۔ خیر اب تک تو سب بہتر ہی تھا پھر یہ خبر ملی کہ  چین کے مرد پاکستانی لڑکیوں سے شادیاں کر رہے ہیں ۔

راقم کے لیئے یہ عجیب سی خبر تھی ۔ عجیب اس لیئے کے راقم جب کبھی کسی کے گھر رشتہ کے کے پہنچا تو جوابا ً تنخواہ ، گاڑی، سونے کے زیورات، شادی ولیمہ کی مہنگے ہالز میں دعوتوں کے نام پر ریجیکٹ کر دیا گیا اور پھٹیچر چینیوں کی جانب سے یہ سب شرائط و فرمائشیں پوری کرنا راقم کے لیئے حیرت انگیز تھا ۔ ایک بار تو جب ایک انتہائی  درجے  کی  قبول صورت دوشیزہ کے والدین کی جانب سے فرمائشوں کی لمبی لسٹ بمع الگ فلیٹ دی گئی  تو راقم ایک نظر وہ لسٹ اور پھر محترمہ کی صورت دیکھ کر خود چینی رشتہ والوں کا نمبر دینے کی سوچ رہا تھا کہ ان شرائط کے ساتھ پاکستان میں تو رشتہ ناممکن تھا ۔ یہ سب راقم نے خیر سگالی و بھلے کے لیئے ہی سوچا تھا ۔

پھر پتا چلا کہ  یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک منظم گروہ ہے جو پاکستانی لڑکیوں کو چین لے  جا کر جسم فروشی کراتا ہے اور جو جسم فروشی کے لیئے موزوں نہ ہوں انکے جسمانی اعضاء نکال کر بیچ دیتا ہے ۔ بہت سے چینی دولہا اور انکے سہولت کار بھی گرفتار ہونا شروع ہو گئے ۔

راقم حیران تھا کہ  نہ کلچر ایک، نہ مذہب، نہ رہن سہن ،نہ ہی غذا تو پھر یہ پاکستانی لوگ دھڑا دھڑ چینی لڑکوں سے اپنی بیٹیوں  کی شادیاں کیوں کر رہے ہیں ۔ تو صاحبو پس پردہ وہی نوٹ نکلے ۔ پتا چلا کہ چینیوں کی جانب سے کچھ رقم لڑکیوں کے گھر والوں کو دیدی جاتی تھی ۔ گھر والے خوشی خوشی اپنی بیٹیوں کی شادی کر دیتے تھے کہ  لڑکی ٹھاٹ کے ساتھ بیجنگ میں میچنگ کا بیگ اور پمپمی پہن کے آرام کی لائف گزارے گی لیکن اچانک پتا چلا کہ  اوہو یہ تو جسم فروشی کرا رہے ہیں ۔ ارے حکومت کیا کر رہی تھی ۔ ہماری معصوم بیٹیاں وغیرہ وغیرہ۔

راقم کی ناقص رائے میں بی بی سی پر اس چینی نیٹ ورک اور گرفتاریوں کی رپورٹس چلانے کے ساتھ ساتھ کچھ سرزنش ان لالچی ماں باپ کی بھی بنتی ہے  جو  پہلے تو اپنی اولاد چند ٹکوں کے لیئے بیچتے ہیں اور بعد میں واویلا کہ  حکومت سو رہی ہے ۔

راقم آج بھی چار سو چینی ورکرز کے ساتھ برسر روزگار ہے اور وہ چینی ابن انشا کے “چلتے ہو تو چین کو چلیے  ” والے چینیوں سے یکسر مختلف ہیں ۔ سفائی  ستھرائی کا یہ عالم ہے کہ  واشروم کے دروازے پر ایک سویپر کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے جو چینیوں کو  اپنے واشروم کا راستہ دکھاتا ہے اور ہمارے واشرومز سے دور رکھتا ہے ۔ اب چینیوں کے ساتھ گزارے مزید وقت کی یادداشتیں پھر کبھی سہی  ۔

علی اختر
علی اختر
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خو نچکاں ہر چند اسمیں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *