• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ’’سینئر صحافی‘‘ اور ’’دانشور‘‘۔۔آصف محمود

’’سینئر صحافی‘‘ اور ’’دانشور‘‘۔۔آصف محمود

وزیر اعظم کی ’’ سینیئر صحافیوں ‘‘ سے ہونے والے گفتگو سے عمران خان بد مزہ اور ان کے وابستگان خفا ہیں۔ جان کی امان پائوں تو عرض کروں کہ ’’ سینئر صحافیوں سے ملاقات‘‘ کے عنوان سے جو محفل آپ نے برپا کی یہ آپ ہی کی نگاہ ناز کا انتخاب تھا۔ اب اگر خطبوں کی صورت سوال پوچھے گئے اور گاہے صحافتی اقدار سے بھی بے نیازی برتی گئی تو وفور غم کی یہ روبکار صحافت کے نام کیوں بھیجی جا رہی ہے؟ جھنجھلاہٹ اور تلملاہٹ کا یہ کوڑا اپنے ذوق ، اپنے انتخاب اور اپنی ترجیحات کی پشت پر برسائیے۔نوحے دھیمے کیجیے صاحب اور فہم و ادراک کا کوئی دیا ایوان اقتدار میں باقی رہ گیا ہے تو اس کی لو بڑھائیے۔ وزیر اعظم ہائوس میں دو عنوانات سے محفلیں سجتی ہیں ۔وزیر اعظم کی دانشوروں سے ملاقات اور وزیر اعظم کی سینئر صحافیوں سے ملاقات۔ عنوان دل لبھا دینے والا ہوتا ہے لیکن یہ عنوان غلطی ہائے مضامین کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔عنوان کچھ اور ہوتا ہے ، متن کچھ اور۔ نالہِ سر کہیں اور کھچتا ہے ، شور کہیں اور اٹھتا ہے۔سوال یہ ہے کہ سینئر صحافی کسے کہتے ہیں؟ لیکن ٹھہریے اس سے پہلے سوال یہ ہے کہ دانشور کون ہوتا ہے۔ محفل چونکہ ان دو عنوانات کے تحت سجتی ہے لیکن ہر عنوان پر الگ سے بات ہو نی چاہیے۔ وزیر اعظم ہائو س میں دانشوروں سے ملاقات کے نام پر جو محفل برپا ہوتی ہے وہ اصل میں ایوان اقتدار سے جڑی حکومتی مشینری کے فکری افلاس کا اعلان عام ہوتا ہے۔چند اینکرز اور کالم نگار اکٹھے کر کے ان کے نام دانشوری کی تہمت دھرنا ایک ایسی فکری بد ذوقی ہے جس کا نہ دفاع کیا جا سکتا ہے نہ جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔اہل اقتدار کو آج تک یہ بات سمجھ نہیں آ سکی کہ کالم نگار اور اینکر پرسن دانشور نہیں ہوتا۔ یہ ہمارے طبقے کا زعم ہے کہ وہ جملہ امور میں خود کو ماہر مطلق بنا کر پیش کرتا ہے۔ کرکٹ ہو ، معیشت ہو ، سماجیات ہو ، دفاع ہو ، ایک انجمن ستائش باہمی کی صورت کارٹل بن چکا ہے اور اینکرز حضرات ایک دوسرے کے شو میں ایک دوسرے کی رہنمائی فرماتے پائے جاتے ہیں۔اس چاند ماری کو مگر دانشوری نہیں کہا جا سکتا۔اینکرز ابلاغ میں ایک عامل ضرور ہے وہ دانشور نہیں ہے۔لکل فن رجال،ہر کام اور ہر شعبے کا ایک آدمی ہوتا ہے۔ سیاسیات کا اپنا آدمی ہو گا ا، امور خارجہ کا اپنا۔ معیشت وہی جانتا ہے جس نے اس میں عمر کھپائی ہے اور مذہب و سماج کے باب میں دانشور وہی ہو گا جسے ان علوم میں دسترس ہو گی۔ اینکر اور کالم نگار ان تمام موضوعات پر بات ضرور کرتے ہیں کیونکہ جب کوئی موضوع سماج میں اٹھ کر آ جاتا ہے تو اس پر بات کرنا صحافتی تقاضا ہوتا ہے۔ لیکن اس بیانیے میں اینکر کا کام ابلاغ کے عامل کا ہے ، دانشور کا نہیں۔اور کالم نگار بھی دستیاب علمی ذخیرے کی روشنی میں رائے قائم کرے گا یا اسے آگے بڑھائے گا ۔ چند مستثنیات بلاشبہ موجود ہیں لیکن عمومی منظر نامہ وہی ہے جس کا میں نے ذکر کر دیا ہے۔ حکومتوں کا مسئلہ یہ ہوتا ہے انہیںکسی دانشور سے بات کرنے کی حاجت ہی نہیں ہوتی۔ چنانچہ وہ دانشوروں سے ملاقات کے عنوان سے بھی اہل صحافت سے ملاقات کرتی ہے تا کہ اس کے موقف کو اہل صحافت عوام تک پہنچا دیں۔ اہل صحافت میں سے کچھ اگرHostile ہیں تو ذرا نرم ہو جائیں اور کچھ نرم ہیں تو ان میں مزید وارفتگی آ جائے۔مقصد مشاورت ہوتا ہے نہ اہل دانش سے گفتگو۔ مقصد کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ اسی لیے غلطی ہائے مضامین کا عنوان اور کچھ ہوتا ہے اور متن کچھ اور۔ یہی مضمون اب ’’ سینئر صحافیوں‘‘ سے ملاقات کے نام سے لکھا جاتا ہے اور شرکاء میں ایک آدھ کی استثناء کے ساتھ آدمی دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ وزیر اعظم جن سے ملاقات فرما رہے ہیں کیا یہ ’’ سینیئر صحافی‘‘ ہیں۔سوال یہ ہے کیا وزیر اعظم ہائوس کی نظر میں صحافی صرف وہ ہے جو الیکٹرانک میڈیا پر سر شام جلوہ افروز ہوتا ہے ؟ وزیر اعظم پاکستان اگر پاکستان کے ’’ سینئر صحافیوں‘‘ سے ملاقات فرما رہے تھے تو پرنٹ میڈیا کہاں تھا؟ مدیران کرام کدھر تھے؟ سی پی این ای کے لوگوں کو مدعو کیوں نہ کیا گیا؟ چند صحافی ، وہ بھی ایک ہی شہر سے؟ کیا کرونا صرف اسلام آباد میں ہے؟یہ اسلام آباد کے میئر کی مقامی صحافیوں سے ملاقات تھی یا یہ وزیر اعظم ملک کے سینئر صحافیوں سے مل رہے تھے؟رپورٹر حضرات ہماری صحافت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے ہیں۔ وہ فرنٹ لائن پر ہوتے ہیں۔ کئی تو جان سے بھی گزر جاتے ہیں۔ کرونا کے معاملے میں بھی خطرات مول لے کر ہم تک خبر پہنچانے والا یہی رپورٹر ہوتا ہے۔ کیا وجہ ہے اس ملاقات میں پورے پاکستان سے ایک بھی رپورٹر مدعو نہ تھا؟ کیا وزیر اعظم ہائوس کی نظر میںکوئی رپورٹر ساری زندگی کی محنت کے باوجود ’’ سینیئر صحافی ‘‘ کے بلند درجے پر فائز ہونے کے قابل نہیں ہوتا؟وزیر اعظم ہائوس کو قوم کی رہنمائی کرنی چاہیے کہ سینئر صحافی کون ہوتا ہے؟ اہل اقتدار جس کی تندی سے گھبراتے ہوں اور اس سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں یا جس پر مائل ہوں اور اس کا قصیدہ انہیں لطف اندوز کر دے؟ ملک میں ایڈیٹرز ہیں ، سنجیدہ لکھنے والے ہیں ، رپورٹر ہیں ، فیچر لکھنے والے ہیں ، کرونا پر بھی کچھ اہل صحافت کا غیر معمولی کام ہے ۔’’سینیئر صحافیوں ‘‘ ہی سے ملنا تھا تو شرکاء کی فہرست میں ایک توازن تو پیدا کر لیا ہوتا۔ آپ کی نگاہ ناز میں صرف وہی کیوں جچتے ہیں جو رات آٹھ سے گیارہ تک ٹاک شوز کی میزبانی فرماتے ہیں ؟کیا صحافت صرف الیکٹرانک میڈیا کا نام رہ گیا ہے؟ اپنے منتخب ’’ سینیئر صحافیوں‘‘ کے سوال بھی آپ کو بد مزہ کر دیتے ہیں تو کسی دن’’ غیر منتخب جونیئر‘‘ صحافیوں نے دو چار سوال پوچھ لیے تو بے تابی دل کا عالم کیا ہو گا؟ اب اگر سوال کی جگہ خطبہ آتا ہے ، لب ولہجے میں ریٹنگ کا آزار امڈ امڈ آتا ہے تو اتنی ناگواری کیوں؟یہ آپ ہی کا انتخاب تھا۔وفور غم کی روبکار اب صحافت کے نام کیوں بھیجی جا رہی ہے؟جھنجھلاہٹ اور تلملاہٹ کا یہ کوڑا اپنے ذوق ، اپنے انتخاب اور اپنی ترجیحات کی پشت پر برسائیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *