مردم شماری، مہاجر سندھی بن جائیں…!

بالآخر سپریم کورٹ کے حکمنامے کے بعد وفاقی حکومت نے تقریباً 20 سال بعد ملک بھر میں مرحلہ وار مردم شمار و خانہ شماری کرانے کا اصولی فیصلہ کرہی لیا. واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے 1998 کے بعد سے مردم شماری نہ کرانے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو طلبی کا نوٹس جاری کیا تھا جسکے بعد سپریم کورٹ نے یکم دسمبر 2016 کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے مردم شماری کرانے اور دو ماہ میں اِس عمل کو مکمل کرنے کا حکم صادر فرمایا تھا جس کے بعد وزیراعظم کے زیرصدارت ایک اجلاس میں مردم شماری و خانہ شماری کا اصولی فیصلہ کرتے ہوئے چاروں صوبائی حکومتوں کو 15 مارچ 2017 سے فوج کی نگرانی میں مردم شماری و خانہ شماری کرانے کے احکامات جاری کیے گئے. جوکہ وفاقی حکومت کی جانب سے عوام کے لیے بظاہر خوش آئند اقدام ہے لیکن جس طرح سندھ کے حکومتی وزراء بیانات دے رہے ہیں ایسا معلوم دیتا ہے کہ وہ سندھ میں مردم شماری کے حوالے سے سندھ کے عوام بالخصوص شہری علاقوں میں اردو بولنے والے جنھیں عام اصطلاح میں مہاجر کہا جاتا ہے کے ساتھ مخلص نہیں ہیں. گزشتہ دنوں سندھ حکومت کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس میں مشیرِ اطلاعات مولا بخش چانڈیو جہاں ایک طرف نادرا کے پاس سندھ کی آبادی کا مکمل ریکارڈ نہ ہونے اور مردم شماری کے حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے مکمل تفصیلات فراہم نہ کرنے کا رونا روتے دکھائی دئیےتو دوسری جانب سندھ کی شہری آبادی کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہتے نظر آئے کہ سندھ میں آباد اردو بولنے والے مہاجر اپنی اصل شناخت چھوڑ کر مردم شماری کے فارم میں اپنا اندراج سندھی زبان کے خانے میں کراتے ہوئے سندھی ہونے کا ثبوت دیں تاکہ من چاہی حلقہ بندیاں کرکے چانڈیو صاحب اور انکی جماعت اگلی مردم شماری تک اقتدار کے مزید مزے لوٹتے رہیں جبکہ اردو بولنے والے مزید دس سال کے لیے اختیارات نہ ملنے کا رونا اپنے نصیب میں لکھوالیں. چانڈیو صاحب آج اعدادوشمار کی بات آئی تو آپ کہتے ہیں مہاجر سندھی بن جائیں کبھی آپ نے یا آپ کی جماعت نے کسی مہاجر کو سندھی سمجھتے ہوئے سندھ کا اقتدار سونپا. بلکہ ماضی میں ایم کیوایم کے بانی کی جانب سے سندھی مہاجر کی تفریق کو ختم کرنے کی غرض سے سندھی ثقافت کو اپنانے کی جب بھی بات کی گئی  سندھی قوم پرستوں کی جانب سے یہی کہاجاتا رہا کہ سندھی ٹوپی اجرک پہن لینے سے کوئی سندھی نہیں بن جاتا. جبکہ آج بھی ایسے وقت میں جب اردو بولنے والے سیاسی یتیمی کا شکار ہیں آپ کی جماعت کسی قسم کا سیاسی کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں.
ایسی صورتحال میں مردم شماری سے متعلق سندھ کے مشیرِ اطلاعات کی جانب سے اس طرح کا غیر سنجیدہ بیان سامنے آنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے جوکہ سندھ میں آباد اردو بولنے والے طبقے کی اکثریت کو قبول نہیں کئے جانے کا واضح پیغام ہے.
چانڈیو صاحب کے اس بیان سے لسانیت کی نہ صرف بو آرہی ہے بلکہ مردم شماری کے حوالے سے سندھ حکومت کی نیت کا بھی صاف پتا لگتا ہے جیسا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت 2018 میں عام انتخابات نئی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق منعقد ہونے ہیں جس میں نئے اعداد و شمار کے مطابق قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں واضح اضافہ ممکن ہے جبکہ اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ اگر سندھ میں مردم شماری کا صاف شفاف طریقے سے انعقاد کرایا جاتا ہے تو سندھ میں اکثریت اردو بولنے والوں کی سامنے آئے گی جوکہ سندھ کی اسٹیبلشمنٹ اور برسوں سے اقتدار کے مزے لوٹنے والی اندرونِ سندھ کی نمائندہ جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کو کسی طور قبول نہیں ہے. لہذا سپریم کورٹ کی جانب سے شدید دباؤ اور وفاقی حکومت کی ایماء پر سندھ حکومت نہ چاہتے مردم شماری کرانے پر آمادہ تو ہوگئی ہے لیکن شفافیت کے عمل کو ممکن بنانے میں مشکوک نظر آتی ہے. ایسی صورتحال میں وزیر داخلہ سندھ کی جانب سے اِس طرح کا بیان اِسی امر کی تائید کرتا نظر آتا ہے۔ جبکہ اِس طرح کے بیانات سے سندھ میں آباد اردو بولنے والوں کے احساسِ محرومی میں مزید اضافہ ہوتا ہے جو پہلے ہی اپنی حالت پر ماتم کناں ہیں۔ یاد رکھیں سندھ دھرتی پر جتناحق سندھیوں کا ہے اُتنا ہی حق اردو بولنے والوں کا بھی ہے. اس حوالے سے ضروری ہے کہ وفاقی حکومت سندھ میں اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے فوج کی نگرانی میں مردم شماری اور خانہ شماری کے عمل کو شفاف اور درست اندراج کے ساتھ ممکن بنائے. تاکہ ایوانوں میں تمام طبقات کی نمائندگی کو موثر طریقے سے پہنچاتے ہوئے جمہوری اقدار کو پروان چڑھایا جاسکے.

علی راج
علی راج
سوشل میڈیا بلاگر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *