صفائیاں جو واجب بھی نہیں تھیں۔۔سانول عباسی

کافی دنوں سے نگوڑے کرونے نے مقید کیا ہوا ہے ،سارا گھر چڑچڑا ہوا پڑا ہے، بیگم ہر وقت مجھے اور بچوں کو ڈانٹتی رہتی ہے کہ سارا دن گھر میں دھماچوکڑی مچائی ہوتی ہے، ساری چیزوں کو ادھر اُدھر الٹ پلٹ کیا ہوتا ہے گو کہ ہم کھیلنے کے بعد ہر چیز ترتیب کے ساتھ رکھ دیتے ہیں مگر ویسے نہیں رکھتے جیسے رکھی ہوتی ہیں، تو بیگم مطمئن نہیں ہوتیں اور ہمیں سننا پڑتی ہیں کہ ہم سب کسی کام کے نہیں بس چیزیں الٹ پلٹ کرنا ہمارا کام ہے۔

آج سوچا بیگم کو ایمپریس کیا جائے اور سرپرائز کیا جائے ،تو صبح نماز کے بعد ناشتہ بنانا شروع کر دیا تو سارے لوازمات پورے کرنے کے چکر میں ایک تو کچن کسی ایسی جگہ کا منظر پیش کرنے لگا جیسے کسی نے سارا کچن باہر نکال دیا ہو ،اس پہ المیہ یہ کہ مائیکرو ویوو میں انڈے ابالنے کے لئے رکھ دیے، 5 منٹ کا ٹائم سیٹ کیا ابھی دو سے تین منٹ ہی ہوئے ہونگے کہ ایک زور دار دھماکہ ہوا  اوون کے اندر سے پانی نکلنا شروع ہو گیا ،جلدی سے سوئچ آف کیا، باہر نکالا اور جب اوون کھولا تو دیکھا کہ انڈے پھٹ چکے ہیں اور اندر سے سارا  اوون انڈوں میں نہایا ہوا ہے۔

یہاں تک تو سب ٹھیک رہا مگر جو بھی کچن کا تہس نہس کیا ہوا تھا سارے سنک کو جو کباڑ خانہ بنایا ہوا تھا تھوڑا بہت قابل قبول تھا مگر جیسے ہی انڈے پھٹے نیک بخت کا پیمانہ صبر چھلک پڑا ،اور انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، وہ سنائیں جو کبھی نہیں سنی تھیں، میری بیٹی سہمی سہمی اندر آئی جو میرے ساتھ مصروف تھی اور  کسی کام سے کچن سے باہر گئی تھی، آ کے کہتی ابو یار جب نہیں آتا تھا بنانا تو نہیں بنانا تھا نا، یار ایسے ہی امی کی ڈانٹ سننا پڑی ، اب کیا کریں ایسے میں ایک زور دار آواز سماعتوں سے ٹکرائی کہ اب جب تک سارا کچن صاف نہیں کیا باہر نہیں آ سکتے اور میری بیٹی مجھے چپکے چپکے دیکھ کے ہنس پڑی۔

بس پھر کیا ہونا تھا اس کرونے نگوڑے نے ہم سے وہ صفائیاں بھی کرائیں جو واجب بھی نہیں تھیں اور ہم مجاہد بن کر بےخطر کچن میں کود پڑے اور جب تک ساری صفائی نہیں کر لی باہر آنا نصیب نہ ہوا ،بُرا ہو اس کرونے کا ،ناس جائے اس کا، اچھے بھلے بندے بیچاروں کی سی زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں۔

ہیرو بننے کے چکر میں سارا کیا کرایا بھی زیرو بلکہ جو گراف حصص کی کم ترین سطح پہ تھا وہ اب اور بھی زیادہ بلکہ مائینس میں چلا گیا ہے اور سارا دن ایسے گزرا جیسے کوئی گناہگار جرم کی سزا کا منتظر اس حالت پہ آ جاتا ہے کہ اٹھ کے خود ہی خود کو سزا دینے لگتا ہے اور مجبوراً یہ عہد کیا کہ آج کے بعد مجال ہے ہماری ویسے ہی کچن سے باہر ویکیوم لگا لیں گے بستر سمیٹ دیں گے مگر کبھی کچن کا رُخ نہیں کریں گے کچن کو ہم اب علاقہ ممنوعہ میں شمار کرنے لگے ہیں۔

سانول عباسی
سانول عباسی
تعارف بس اتنا ہی کہ اک عام انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *