• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • اکیسویں صدی کا سوشلزم کیا ہے؟ ۔ دیمترس کاریگانس، پاویل /ترجمہ:شاداب مرتضیٰ(تیسری،آخری قسط)۔

اکیسویں صدی کا سوشلزم کیا ہے؟ ۔ دیمترس کاریگانس، پاویل /ترجمہ:شاداب مرتضیٰ(تیسری،آخری قسط)۔

نئے فاعل (Subjects)بمقابلہ مزدورطبقہ:

اکیسویں صدی کے سوشلزم کے تمام شارحین میں یہ خیال مشترک ہے کہ آج مزدورطبقے کا انقلابی کرداردوسرے “فاعلوں” سے مغلوب ہے، جنہیں “نئے سماجی فاعل کی تعمیر میں شریک کار” کے طورپرپکارا جاتا ہے۔ وہ “نئے بائیں بازو” کے ، 1960 اور1970 کی دہائی کے ہربرٹ مارکیوزے کے، مزدور طبقے کی اشراف داری (Gentrification)کے، اس کے ٹکڑوں میں تقسیم ہوجانے کے، اور”کام کا اختتام” ہوجانے کے دلائل سے رجوع کرتے ہیں۔ وہ “مزدور” کے تصور پرازسرِ نو غورکرنے کی صدا دیتے ہیں اوراس پرعمل کیے بغیر، وہ “سماجی تحریکوں” یا”دیسی(Indigenous) عناصر، یا “ہجوم” کو تبدیلی کا مرکز قرار دیتے ہیں۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

مارکس ازم-لینن ازم کا ایک نہایت اہم پہلو مزدور طبقے کے کردار کی صراحت ہے۔ لینن اس کا اظہار یوں کرتا ہے،”مارکس کے نظریے کی بنیادی چیز یہ ہے کہ وہ سوشلسٹ معاشرے کے معمار کی حیثیت سے مزدور طبقے کے تاریخی بین الاقوامی کردار پرزور دیتا ہے” اوراسی تصنیف میں وہ مزید کہتا ہے: “سوشلزم کے وہ تمام نظریات جن کا کردار طبقاتی اورسیاسی نہیں ، جو طبقاتی سیاست پر مبنی نہیں، وہ سادہ طورپراحمقانہ نظر آتے ہیں”۔

یہ سچ ہے کہ تبدیلیاں ہوئی ہیں لیکن یہ تبدیلیاں کسی طرح بھی سرمایہ داری کے تضادکو ختم نہیں کرتیں، یعنی، اس تضاد کو جو سرمایہ داراورمزدور کے درمیان ہے، یہ کسی بھی طرح اس حقیقت کو ختم نہیں کرتیں کہ مزدورطبقہ ہی مستقل طورپر واحد انقلابی طبقہ ہے جو ناصرف سرمایہ دارانہ اقتدار کے خاتمے کی جانب لے جاتا ہے بلکہ تمام انسانیت کی آزادی کی جانب بھی۔ وہ اس بات پرغور نہیں کرتے کہ کسی طبقے کا کردارپیداوار میں اس کے مقام سے طے ہوتا ہے، معیشت میں اس کے معروضی کردارسے۔ مزدور، محنت کش طبقہ، محنت کش، اپنے لیے “طبقاتی شعور” حاصل کرنے کی راہ میں نہ صرف خود کو آزاد کرتا ہے بلکہ تمام نسل انسانی کو۔

کوئی اس بات سے انکار نہیں کرے گا کہ اپنی سیاسی جدوجہد میں مزدور طبقے کو عوام کی استحصال زدہ آبادی سے اشتراک کی ضرورت پڑتی ہے اوریہ اشتراک ضرور کرنا چاہیے۔ لیکن اس میں اوران لوگوں کے دعوؤں میں فرق کرنا چاہیے جو “نئے سماجی فاعل” تلاش کرتے ہیں ، انہیں طبقاتی جدوجہد سے ماورا آزاد کردار دیتے ہیں جبکہ حقیقت دکھاتی ہے کہ ایسی تحریکیں کس قدر عارضی ہوتی ہیں۔

اکیسویں صدی کے سوشلزم کا دعویٰ ہے کہ نہ ہی اقتدار پرقبضہ اورنہ ہی ریاست کا خاتمہ ضرور ی ہے۔ صرف حکومت حاصل کر کے یہ ممکن ہے کہ ایک نیا راستہ کھولا جائے۔ اسی وجہ سے، اس کے تمام شارحین سرمائے کے اقتدار کا خاتمہ کرنے، اسے توڑنے، انقلاب لانے کی بات کرنے کے بجائے اس اہم ترین ضرورت سے چھلانگ مارکربچ جانے کی بات کرتے ہیں۔ وہ بعد از سرمایہ داری معاشرے کی بات کرتے ہیں اورایسے پروگرام پیش کرتے ہیں جو اس نئے معاشرے میں منتقلی کو ممکن بنائیں گے۔ اسی وجہ سے، اس سیاسی-نظریاتی فضول گوئی کی زبان میں ایسی حکمتِ عملی کے کم ترین عناصر بھی وجود نہیں رکھتے جو ریاست کے خاتمے کی جانب لے جا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں مزدور طبقے کی کسی انقلابی سیاسی جماعت کی تعمیر ، ہراول دستے کی جماعت ، ایک کمیونسٹ پارٹی کے وجود کے بارے میں کوئی فکرموجود نہیں ہے۔ ایسی پارٹی کس لیے؟ اگر یہ مزدورطبقے کو استحصال کرنے والوں کو دفن کرنے میں دلچسپی رکھنے والا سمجھتی ہی نہیں۔ اگر انقلاب کو ایسا لمحہ سمجھا ہی نہیں جاتا جس میں مزدورطبقہ سرمایہ داری کا تختہ الٹتا ہے، اگر بعد از سرمایہ داری معاشرہ قائم کرنے کا دعوی سرمایہ دارانہ ریاست کے ڈھانچے کے اندررہتے ہوئے کیا جاتا ہے۔

آئیے اس بات کا جائزہ لیں کہ “اکیسویں صدی کے سوشلزم میں” نجی اورسماجی ملکیت ساتھ رہنے کے قابل ہیں اورانہیں ساتھ رہنا چاہیے بشرطیکہ سوشلسٹ مارکیٹ کی تعریف کی جائے۔ جب اکیسویں صدی کے سوشلزم کے پروگرام کے نکتہ نظر کا مشاہدہ کیا جائے تو کوئی اس مشابہت کو دیکھے بغیر نہیں رہ سکتا جو 1910 میں میکسیکو کے انقلاب اوران پیش رفتوں کے مزید پختہ ہونے میں تھی جو 1934سے1940 کے دوران لازارو کارڈیناس کی حکومت کے دوران ہوئیں۔ ان چھ سالوں کے دوران یہ یقینی بنایا گیا کہ سکولوں میں، سماجی تنظیموں میں اورریاستی انتظامی اداروں میں قومی ترانے کے ساتھ ، مارسیلیز اورکمیونسٹ انٹرنیشنل کے ترانے بھی گائے جائیں۔ زمینوں کی متاثرکن تقسیم پرعملدرآمد ہوا ،جو ایک حقیقی زرعی اصلاح تھی۔ تیل، جو تب امریکی اوربرطانوی اجارہ داریوں کے ہاتھوں میں تھا اسے قومیا لیا گیا اور عمومی طورپرقومیانے کی سیاست کا آغاز ہوا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 1980 کی دہائی تک میکسیکو کی 70 فیصد معیشت قومیا لی گئی۔ حتی کہ  سپین کی جمہوریہ کو بڑ ی امداد دی گئی۔

اس عمل سے براؤڈرازم پرعملدرآمد کے تحت یہ فریبِ نظر پھلا پھولا کہ میکسیکو کا انقلاب سوشلزم کی جانب ایک راستہ تھا۔ اکیسویں صدی کے سوشلزم کے موجود ہ پیروکاروں کی طرح ، اس وقت انہوں نے ایسی ریاست کی بات کی جو طبقوں اورطبقاتی جدوجہد سے ماورا تھی اورترقی کا ذریعہ تھی۔ مارکسی-لیننی افراد کے نزدیک ریاست برسرپیکار طبقوں سے ماورا کوئی ریفری نہیں ہے۔ سرمایہ داری کے معاملے میں، یہ اس طبقے کے لیے غلبے کا، جبرکا آلہ ہے جس کے پاس زرائع پیداواراورتبادلے کی ملکیت ہے، یعنی سرمایہ دارطبقہ۔ قومیانا بذات خود سوشلسٹ عمل نہیں ہے، اس لیے میکسیکو میں اس کا نتیجہ سرمائے کے ارتکاز اورمرکزیت کےمیکانزم کی صورت میں سامنے آیا۔ سرمائے اور محنت میں تضاد کے بجائے یہ شمال اورجنوب کے درمیان، مرکز اورمدار کے درمیان تضاد تھا۔

اکیسویں صدی کے سوشلزم میں ایک اوربنیادی تصور یہ ہے کہ امیرشمال اورغریب جنوب کے درمیان تضاد کو حل کیا جائے۔یہ تصوردھوکہ دہی پرمبنی اعدادوشمارپرقائم ہے اوراس حقیقت سے کٹا ہوا ہے کہ شمال اورجنوب، کرہِ ارض کے دونوں اطراف طبقاتی جدوجہد موجود ہے؛ مرکز اورمدار کا خیال بھی اسی قسم کا نقصان دہ خیال ہے جو اس بات کو نظر انداز کرتا ہے کہ ہم سرمایہ داری کے اجار ہ دارانہ مرحلے میں جی رہے ہیں، سرمایہ داری کے ایک زیادہ ترقی یافتہ مرحلے میں ، یعنی سامراجی مرحلے میں، اوردنیا کے تمام ملک اس میں ڈوبے ہوئے ہیں اورباہمی انحصار کے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ یہ معاملہ معمولی نا اتفاقیوں کا نہیں بلکہ مختلف راستوں کا ہے۔

ایک جانب وہ لوگ ہیں جن کا خیال ہے کہ اس قسم کی تجویز آج بحران سے دوچار سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف متبادل کی بحث کو تازہ ترین بناتی ہے،کہ یہ اس کی اہمیت اورمطابقت ہے اوراس کا تنقید ی مرکزِ نگاہ ہے جو سوشلزم کی تعمیر کی غلطیوں سے ماورا ہونے میں مدد دیتا ہے۔ ہم یہاں کچھ ایسے سوالات پیش کرتے ہیں جن میں “اکیسویں صدی کے سوشلزم”کے پیروکار مدغم ہوتے ہیں، تاہم یہ اقرارکرنا ضروری ہے کہ ہمارے سامنے ایک ایسی تجویز ہے جو منضبط نہیں ہے بلکہ مختلف خیالات کا ملغوبہ ہے۔ بعض صورتوں میں مارکس ازم، عیسائیت، بولیویرین ازم کے خیالات کے پہلوؤں کی بنیاد پر اس میں اصطفائیت (eclecticism) کا ،یعنی متفرق یا متضاد نظریات کا من پسند اندازسے مرکب بنا کرنئے تصورات تیار کرنے کا،غلبہ ہے۔

یہ اصطفائی خیالات اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ اشتراکی جمہوریت، کوآپریٹوز اورخود انتظامی ،مزدورطبقے کی آمریت کی “استبدادیت” کا جواب فراہم کردے گی۔ اورمختصراً، یہ بے ربط خیالات اس لیے اچھالے جاتے ہیں تاکہ کمیونسٹ نظریے کو ڈبویا جا سکے،لیکن دلائل کے بغیر، آج ایک موقف اور کل دوسرا، میکسیکو کی ادارہ جاتی انقلابی پارٹی جیسے مزدوروں کے دشمنوں کے ساتھ”پانچویں انٹرنیشنل”کی تعمیر کے مطالبوں جیسی مکمل الجھن کے ساتھ۔

عہدِ حاضر کی جدوجہد کمیونزم کے سرخ پرچم کے گرد مضبوطی سے یکجا ہو کر پیش قدمی کرنے کا، زندگی کے مادی حالات کی تبدیلی کا، پیداوار کے سرمایہ دارانہ رشتوں کے واحد ممکنہ طریقےسے ، انقلابی طریقے سے، خاتمے کا تقاضا کرتی ہے۔الجھن کسی کام میں مددگار نہیں ہوتی، یہ ایسے بے ربط تصورات کا بھنور ہے جنہیں موضوعِ بحث کے ساتھ ابھارا جاتا ہے اور جنہیں آخری تجزیے میں صرف اس لیے پیش کیا جاتا ہے تاکہ سرمایہ داری کو انسان دوست بنانے کے ناممکن کام کو ممکن بنانے کے لیے اسے سدھارا جا سکے۔مزدور طبقے کے لیے، اورصرف لاطینی امریکہ کے ہی نہیں، طبقاتی شعور رکھنے والی قوتوں اورانقلابی قوتوں کے لیے، فرض یہ ہے کہ ان کمیونسٹ پارٹیوں کو مضبوط کیا جائے جو اپنے اصولوں اورپروگرام میں، اپنے عمل میں، پیرس کمیون سے لے کر اکتوبرانقلاب تک، ساری دنیا کے مزدوروں کے تاریخی تجربے کو سرمایہ داری کے خاتمے اورسوشلزم کی تعمیر کے لیےاپنی جدوجہد میں شامل کرتی ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

بہرحال، یہ نتیجہ اخذ کرنا ضروری ہے کہ “اکیسویں صدی کا سوشلزم” ایک اجنبی موقف ہے ۔حتی کہ یہ مارکس ازم-لینن ازم کا اوربین الاقوامی کمیونسٹ تحریک کا نا صرف سیاسی سوالوں پر بلکہ نظریاتی معاملات میں بھی مخالف ہے۔یہ کمیونسٹ پارٹیوں کا فرض ہے کہ طبقاتی شعور کی ترقی کے لیے، مزدور طبقے کی تنظیم ساز ی کے لیے ،استحصال زدہ محنت کشوں کے اجماع کے لیے ، سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کے خواہشمند تمام لوگوں کے ساتھ جو اس مقصد کے ساتھ اس کا خاتمہ چاہتے ہیں جو 1917 سے مکمل قوت اورصداقت کے طور پریعنی سوشلسٹ انقلاب کے طورپر موجود ہے، ضروری اتحاد قائم کرنے کے لیے سرخ پرچم کو بلند کریں۔ (ختم شد)۔

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

شاداب مرتضی
قاری اور لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply