مغربی تعلیم حرام،قتل و غارت گری حلال!

مغربی تعلیم حرام،قتل و غارت گری حلال!
طاہر یاسین طاہر
سماجی رویوں میں جب قبائلی تفہیم در آئے تو اس کے نتیجے میں،القاعدہ،النصرہ فرنٹ،افغانی و پاکستانی طالبان،لشکر جھنگوی،سپاہ صحابہ اور بوکو حرام جیسی شدت پسند تنظیمیں وجود پاتی ہیں۔ان ہی رویوں کی حامل دوسری دہشت گرد تنظیمیں بھی دیگر ناموں کے ساتھ ٹمٹماتی رہتی ہیں۔ مقصد سب کا ایک ہی ہے۔ اسلام جیسے امن پسند دین کے نام پر قتل و غارت گری۔تاریخی طور پر یہ ثابت شدہ ہے کہ سامراجی مقاصد نے مذہبی جنونیت کو اپنے کام میں لایا،مگر یہ پورا سچ نہیں،۔ہم اس تاریخی ربط پر گفتگو نہیں کریں گے۔ یہ موضوع بھی اہم ہے، مگر اسے کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔یقیناً ہم القاعدہ،النصرہ،داعش اور افغانی و پاکستانی طالبان کے ربط اور فکری اشتراک پر بھی بات کریں گے۔یہ کالم مگر دوسرے موضوع کا تقاضا کرتا ہے۔
پاکستانی معاشرے کی غالب تعداد یا تو افغانی و پاکستانی طالبان کی وحشت ناکیوں سے واقف ہے یا ان کے فکری وارثوں کی مقامی و غیر مقامی تنظیموں سے، یا پھر داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کے وجود کا اسے پتا ہے،یا اسامہ بن لادن والی القاعدہ سے “جہادی شناسائی “ہے۔بوکو حرام جو اپنے فکری رویوں اور دہشت گردی میں کلی طور طالبان،داعش اور القاعدہ کے نقش قدم پر ہے، اس کے بارے ہم بہت کم جانتے ہیں۔
افریقی ممالک دور،غیر تہذیب یافتہ،غریب ترین اور ابلاغ کے کئی مسائل ہیں، جو وہاں کی سماجی مشکلات سے نا شناسائی کی وجہ ہیں۔اخباری دانش انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی۔ورنہ کون ہے جو دہشت گردوں کے لیے بھی “اچھے اور برے دہشت گرد “کی اصطلاح تراشتا پھرے؟المیہ یہ ہے کہ دانش وروں کے بھی ویسے ہی گروہ بنے ہوئے ہیں جیسے انتہا پسندانہ تنظیموں کے مختلف گروہ ہیں۔سوشل میڈیا نے نئی امیدوں کے ساتھ کئی خرابیوں کو بھی جنم دیا، جن میں سے ایک یہ کہ دہشت گرد اور ان کے حواری سوشل میڈیا کو پروپیگنڈا چینل کے طور استعمال کرتے ہیں۔ظواہر پرست بنا کسی تحقیق کے ان کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔داعش کا طریقہ کار یہی ہے۔ یورپ اور ایشیائی ممالک سے اس نےانٹڑنیٹ کے ذریعے ہزاروں افراد کو بھرتی کیا۔ کئی عورتوں کو” جہاد النکاح “کے لیے بھی۔
بوکو حرام کیا ہے اور اس کا فلسفہ کیا ہے؟قتل و غارت گری،مسلمانوں اور غیر مسلموں کو اسلام کے نام پر قتل کرنا۔مجھے اس امر میں کلام نہیں کہ تمام دہشت گرد تنظیمیں،جو خود کو جہادی لکھتی اور کہتی ہیں،فکری مغالطوں کا شکار ہیں۔سب کا فکری و فقہی سلسلہ قریب قریب ابن تیمیہ کے انتہا پسندانہ نظریات سے پھوٹتا ہے۔کئی دنوں سے اس پر سوچ رہا ہوں کہ بوکو حرام کے محمد یوسف نے کیا سوچ کر یہ نعرہ بلند کیا کہ “مغربی تعلیم حرام ہے” بوکوحرام نائجیریا کی مسلم دہشت گردتنظیم ہے۔اس تنظیم کا پورا نام” جماعۃ اہل السنۃ للدعوۃ والجہاد “ہے۔یہ تنظیم مغربی طرز تعلیم کو حرام سمجھتی ہے، اس لیے اس کا نام بوکو حرام پڑ گیا اور اسی نام سے یہ مشہور ہے۔ ہاؤسا زبان میں بوکو حرام کا لفظی مطلب ”مغربی تعلیم حرام ہے“ ہوتا ہے۔سنہ 2002 میں قائم کی جانے والی تنظیم مغربی تعلیم کی مخالف ہے۔تنظیم نے سنہ 2009 میں ’اسلامی ریاست‘ بنانے کے لیے کارروائیوں کا آغاز کیا تھااس کے ہاتھوں نائجیریا بھر میں اور خصوصاً ملک کے مشرقی علاقوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اپریل 2014 میں بوکو حرام نے نائجیریا کے علاقے چیبوک کے سکول سے اس وقت 276 لڑکیوں کو اغوا کر لیا تھا جب وہ سالانہ امتحانات دینے کے لیے وہاں موجود تھیں۔اس گروہ کی تحویل میں 200 لڑکیاں اب بھی موجود ہیں۔اس دہشت گرد تنظیم کی بنیاد محمد یوسف نامی ایک شخص نے رکھی جسے مغربی میڈیا سمیت اردو میڈیا بھی مذہبی سکالر لکھتا ہے،یہ شخص 2009 میں مارا گیا تھا۔ اس کے بعد اس گروپ کے کئی دھڑے ہو گئے۔ سب سے مضبوط دھڑا ابوبکر شیخاؤ کا ہے۔
حیرت اس بات پہ ہے کہ وہ مذہب جس کے واضح احکامات ہیں کہ ماں کی گود سے قبر کی گود تک تعلیم حاصل کرو،اور جس دین کی الہامی کتاب کی پہلی آیت ہی تعلیم کے متعلق ہو، اس دین سے منسلک” سکالر” کیسے جدید عصری تعلیم کو حرام کہہ سکتا ہے؟ یقیناً شدید فکری مغالطہ،تفہیم دین کا شدید فکری مغالطہ ہی پاگلوں کو نفرت اور قتل و غارت گری پہ ابھارتا ہے۔اللہ کے آخری نبی و رسول ﷺ نے جب یہ کہا کہ علم حاصل کرو،خواہ تمھیں چین جانا پڑے، تو کیا چین اس وقت دینی و فقہی تعلیم کا گہوارہ تھا؟ نہیں،اس کا مطلب یہی تھا کہ اپنے عہد کی جدید ترین تعلیم حاصل کرو۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی تھا کہ علم حاصل کرنے کے راستے میں جتنی بھی تکالیف برداشت کرنی پڑیں سہہ جاو،کیونکہ ان ایام میں چین کا سفر جان جوکھوں کا کام تھا۔یہ کیسا مذہبی سکالر ہے جو مغربی تعلیم بلکہ لباس و ایجادات تک کو حرام کہتا ہے ،اس کا کہنا ہے کہ تعلیم صرف دین کی تعلیم ہے۔ مگر اس کے پیرو کار خود مغرب کی بنی جدید ترین گاڑیاں بھی استعمال کرتے ہیں، اور ابلاغ کے جدید ذرائع بھی،کیا کلاشنکوف جو سارے دہشت گردوں کا پسندیدہ ہتھیار ہے اور جسے بوکو حرام والے بھی استعمال کرتے ہیں،وہ کسی مدرسے کی ایجاد ہے؟
یہی فکری کجی جگ ہنسائی کا باعث بھی ہے اور مسلمانوں کی تباہی کا بھی۔ جب تک مسلم معاشرہ جدید تعلیم سے دور رہے گا اور اسے خود پہ حرام سمجھتا رہے گا ،اس پہ داعش،القاعدہ،طالبان اور بو کوحرام جیسے دہشت گرد مسلط ہوتے رہیں گے۔مغرب کے غلبے کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ تعلیم ہے۔دین میں قبائلی و عائلی روایات اور انتہا پسندانہ تفہیم نے غور و فکر کے دروازے بند کر کے قتل و غارت گری کو شعار بنا لیا۔بوکو حرام ہو یا الشباب،داعش ہو یا طالبان،القاعدہ ہو یا النصرہ ،سب ایک ہی سلسلےکے فکری پیروکار،سب دین اسلام کی آفاقی تعلیمات پر رسوا کن داغ ہیں۔دنیا جب چاند پہ جانے کے راستے تلاش کر رہی تھی تو مسلمانوں کے گروہ اس بات پہ بحث کر رہے تھے کہ فلسفہ کی تعلیم حلال ہے یا حرام۔بے شک تاریخ کسی کی رشتہ دار نہیں ہوتی،ہم مگر خوا مخواماضی کے میناروں تلے فکری آرام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔اے کاش ہم علم کی اہمیت کو جان سکتے۔اے کاش۔واللہ علم کے سارے ذرائع حلال اور جائز ہیں۔ عصری علوم کا حصول واجب ہے۔

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *