جی مدینہ میں ہونا کیسا ہوتا ہے ؟سید جواد احمد شیرازی

جیسے میاں محمد جیسے بے مثال شاعر نے اس مٹیارن کے جذبات کی شاندار ترجمانی کی تھی جو ایک طویل انتظار کے بعد اپنے من پسند میلے میں جانے کیلیے تیار ہوتی ہے ۔اس کا میلے میں جانا ،کھلکھلانا ،اٹھلانا سب ایک ہی شعر میں اظہار ہو گیا ۔
پا پا پھردی چانجھراں تے شوقن میلے دی
مدینہ بھی ایک میلہ ہے ،ایک انٹرنیشنل میلہ جس میں آپ کھلاڑی بھی خود اور تماشائی بھی خود ۔ادھر منحنی قد و قامت ،ایک جیسی پھولدار شرٹ اور لنگی یا پینٹ پہنے اپنے لیڈر کی معیت میں ایک ڈسپلن سے چلتے انڈونیشین ،ان سے ملتے جلتے قدرے خوشحال، اسی طرح پھولدار نیلی شرٹ اور بلیک پینٹ میں ملبوس ملائیشین ،سائوتھ افریقہ کے وہ مرد و زن جو انگریزی بولیں تو معلوم ہوتا ہے انڈین نہیں ،افریقی ہے ،لال گلاب ترک جو سخت گرمی میں بھی کوٹ پہننا اپنا قومی فخر سمجھیں ،چہرے پر گن کر داڑھی کے چار بال سنوارے چینی ،اکا دکا یورپین ،انتہائی دلچسپ انڈین جو بالاتفاق انڈیا کا ربن اپنے گلے میں ڈالے بولاے بولاے سے پھریں ،مراد آباد ،سہارنپور کی “بقیع کہاں ہووے ہے ؟”جیسی چٹپٹی زبان ،کولکتہ سے آیا ایک ریٹائرڈ سرکاری بابو جو انگریزی اور بنگالی کے علاوہ کوئی زبان نہ جانے ،سرینگر سے آئی آنٹی جو پاکستان کے نام سے ہی آبدیدہ ہو جائیں اور پورے میلے میں سب سے الگ ڈسپلنڈ ،پاکستان کی کوئی بھی شناخت کے اظہار (ربن ،آئی ڈی کارڈ ،رسٹ بینڈ ) سے گریزاں اپنے ہم وطن ،سب،اس میلے میں اپنی اپنی خواہشات کی جھانجریں پہنے صرف ایک شوق لیے شوقن بنی مٹیاریں ،اس تمنا میں مبتلا کہ کاش بابا کی قصوی کی ان گھنٹیوں کی آواز کان پڑ جائے کہ جس کے بعد زندگی میں کسی اور آواز کی خواہش نہ رہے۔

کاش بابا کے حجرے کی جالی میں سے ایک نگاہ ایسی اندر پڑ جائے کہ جس کے بعد کسی منظر کی چاہ نہ رہے ،کاش بابا کے قدم جہاں پڑتے تھے وہاں ایک دفعہ صرف ایک دفعہ جبین ٹکانے کا سندیسہ آ جائے کہ اس کے بعد حیاتی میں سندیسوں کی پرواہ نہ رہے ۔کیا عجیب میلہ ہے کہ آپ نے صرف حاضری دینی ہے اور بابا نے آغوش میں لے لینا ہے ۔آپ کو پیاس جس سیکنڈ محسوس ہوئی ،اگلے سیکنڈ میں آب زم زم کا کولر آپ کے سامنے ہو گا ۔جس لمحے آپ کو بھوک کا شایبہ ہو ،اگلے لمحے کھجوروں کی پیٹی اٹھائے کوئی آپ سے لجاجت سے اسے کھانے کی درخواست کر رہا ہے ۔آپ نوافل کی بہتات سے تھک سے گئے ہیں تو آپ کو درک بھی نہیں ہو گی اور وہیں بیٹھے بیٹھے نیند کا ایک میٹھا سا جھونکا آپ کو تازہ دم کر دیتا ہے ۔یہ میلہ صرف مسجد نبوی میں نہیں ،پورا مدینہ رنگوں سے نہایا ہوا ہے ۔عمومی طور پر بد اخلاق سعودی مناسب حد تک خوش اخلاق ہوئے ہوتے ہیں ،پاکستانی ہندوستانی اس بہتات سے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ حرم سے فندق رمادا نہیں ،اچھرہ سے لٹن روڈ کا راستہ دریافت کر رہے ہیں ۔مٹیارن کی جھانجریں صرف کھنکتی نہیں باقاعدہ کلکاریاں مارتی ہیں کہ رنگوں کی اس برسات میں ،خوشیوں کی اس رم،جھم میں صرف ایک ہی نغمہ ،ایک ہی ساز چہار سو جھنجھنا رہا ہے۔۔۔

یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک ،یا حبیب سلام علیک،صلواۃ اللہ علیک ۔۔۔۔۔تو ایسا ہوتا ہے مدینہ میں ہونا ۔

 

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *