ایاز نظامی کی گرفتاری اور توہینِ رسالت کے مجرم

یہ خوش آئند خبر دِل میں ایمان اور نبی ﷺ کے لئے محبت رکھنے والے سب مسلمانوں نے بڑےاطمینان سے سُنی ہوگی کہ پاکستان میں الحاد کے فروغ کے لئے باقاعدہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی سطح پر مہم چلانے والوں کے سرغنہ ایاز نظامی کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جو الحاد کی تبلیغ کے علاوہ بدترین گستاخ بھی تھا اور گستاخوں کو مزید گستاخی پر اکسانے والا بھی تھا۔ جی یہ وہی ایاز نظامی ہے جو گستاخوں میں “تمغے” بانٹنے کے لئے مشہور ہوگیا تھا۔
ابھی تک جو کچھ معلوم ہوسکا ہے اُس کے مطابق ایف آئی اے کو کچھ عرصہ پہلے ثبوت فراہم کر دئے گئے تھے جس کے بعد اُنہوں نے اپنی تفتیش کرکے ان ثبوتوں کی تصدیق کی، اور پھر ایاز نظامی کو گرفتار کیا۔ اُس کا اصل نام عبدالوحید ہے، کراچی کا رہائشی، دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کا باپ ہے۔ جن میں سے ایک بیٹا کافی عرصہ پہلے ایک بم دھماکے میں جاں بحق ہوگیا تھا۔ درسِ نظامی کا فاضل ہے اور دس گیارہ سال تک باقاعدہ مدرس بھی رہا ہے۔ بیٹے کی ناگہانی موت سے وہ ردعمل کا شکار ہوگیا جس سے وہ دین سے دور ہوگیا اور دور ہی ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ بالکل ہی اسلام کے دائرے سے نکل کر اس سے ٹکرانے والوں میں جاشامل ہوا۔ پھر اُس نے بیرونی فنڈز بھی حاصل کرنے شروع کئے جس کے بعد اُس نے ترویجِ الحاد کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر گروپس وغیرہ چلانے جیسے کام کئے جبکہ دوسری طرف راج پال جیسے لوگوں کی بدنام زمانہ کتابیں بھی پھیلانا شروع کردیں۔ جو کتابیں دوسری زبانوں میں تھیں، اُن کے باقاعدہ تراجم کرکے شائع کرادئے اور ساتھ کچھ سائنسی اور تاریخی مواد شامل کرکے اس کام کو علم و شعور اور تحقیق جیسے نام دئے۔
ملحدین سوشل میڈیا پر اپنے نام وغیرہ چھپا کر سمجھتے تھے کہ وہ محفوظ ہوگئے ہیں۔ یہ خیال زیادہ غلط بھی نہ تھا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا پر کام کرنے والوں کو ٹریس کرنا نسبتاً مشکل کام ہے ۔لیکن یہاں پر کچھ ایسے لوگ بھی موجود رہے ہیں جو ان لوگوں کی کھوج لگانے میں ذاتی دلچسپی رکھتے ہیں اور مختلف طریقوں سے ایاز نظامی کے علاوہ اور بھی گستاخ ملحدین کی نشاندہی کرچکے ہیں۔ ایف آئی اے کی کوششیں اور محنت اپنی جگہ لیکن ایف آئی اے سے باہر کے کچھ سرپھرے بھی ایک کے بعد ایک فساد کا سبب بننے والے گستاخ تک پہنچ رہے ہیں۔۔۔ ایاز نظامی کی گرفتاری گستاخ بلاگرز کے خلاف موجودہ اقدامات کے سلسلے کی اہم ترین کڑی ہے۔ اس گرفتاری کے ساتھ پی ٹی اے کی جانب سے فیس بُک پر توہین رسالت اور توہینِ مذہب کے حوالے سے بدنام ترین گروپ بھی پاکستان میں بلاک کردیا گیا ہے۔ اگر چہ پاکستان سے باہر یہ گروپ اب بھی دستیاب ہے لیکن اس کی اہمیت تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ پی ٹی اے کا یہ اقدام بھی لائقِ تحسین ہے۔
ایاز نظامی کی گستاخی اور توہین ایک طرف، یہ تو ایسے جرائم ہیں کہ کھڑے کھڑے ان کی سزا سُنائی جاسکتی ہے اور قوم کی طرف سے گویا سُنائی بھی جاچکی ہے۔ ایک اور اہم پہلو جس پر میں اس وقت بات کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ الحاد کی تبلیغ کرتے ہوئے ان لوگوں کا طریقہ واردات کیا ہے، انہوں نے بھیس کیا بدلا ہے اور حقیقت کیا ہے۔ یہ میں اُن لوگوں کو بطورِ خاص سُنانا چاہتا ہوں جو اس دور میں ان فتنوں سے کسی نہ کسی طور پر متاثر ہیں۔
پہلی بات یہ ذہن نشین کرنی چاہئے کہ لفاظی کا مطلب علم نہیں ہوتا۔ آپ کو ایسے لوگ بہت ملیں گے جن کی لفاظی کے آگے سقراط بقراط بھی ٹھہر نہیں سکیں گے لیکن درحقیقت وہ جو کچھ بھی آپ کو باور کرارہے ہوتے ہیں وہ یکسر غلط ہوتا ہے۔ ملحدین کے جو چوٹی کے لوگ ہیں اُن میں اکثریت ایسی ہی ہوتی ہے ،لفاظی جن کے گھر کی باندی ہوتی ہے۔ یہ گستاخی بھی ایسی نستعلیق زبان میں کرتے ہیں کہ رسالت مآب ﷺ کی شان میں اُن کی گستاخیوں کو بھی لوگ ایک طرح سے قبول کرتے چلے جا رہے تھے۔ سب سے خطرناک بات یہی تھی اور اگر اس فتنے پر قابو نہ پایا گیا تو چند سال بعد صورتِ حال یہ ہوگی کہ یہ لوگ نبیﷺ اور دینِ حق کو ننگی گالیاں دیتے پھریں گے اور ہم ہنس کر آگے بڑھ جایا کریں گے۔ آج بھی میں ان لوگوں کے گرد ایسے کلمہ گو بلکہ صوم و صلٰوۃ کے پابند لوگوں کو دیکھتا ہوں جو اِن کی”علمیت”سے متاثر ہوکر یا اِن کی نام نہاد اخلاقیات اور نام نہاد انسانیت سے متاثر ہوکر اِن کے گرد جمع ہیں اور یہ سارا کمال ملحدین کی لفاظی کا ہے یا پھر طوطے کی طرح سائنس سائنس اور ترقی ترقی کی رٹ کا۔کمال کی بات یہ ہے کہ ان ملحدین کے ساتھ ڈیرا ڈالے یہ لبرل مسلمان باقی مسلمانوں کی جس اخلاقی گراوٹ سے شاکی ہیں، وہ اخلاقی گراوٹ ان ملحدین کے ہاں دس گنا زیادہ ہے۔ شائد یہاں بھی وہی چیز کارفرما ہے کہ یہ بداخلاقی بھی ایسی زبان میں کرتے ہیں کہ بندہ عش عش کراُٹھتا ہے۔
جس چیز پر ان ملحدین نے سب سے زیادہ کام کیا وہ دین کے حوالے سے شکوک و شبہات پھیلانے کا کام ہے۔ ایک کے بعد ایک فیس بُک گروپ اور پیج اور اس کے علاوہ بیرونی ممالک سے کنٹرول ہونے والے ویب سائٹس پر وہ سارا مواد موجود ہے جو کسی بھی عام مسلمان کو بھٹکا سکتا ہے۔ اس کام میں انہوں نے اپنی لفاظی اور چرب زبانی میں مہارت کا بھی بخوبی استعمال کیا اور دھوکے بازی سے کام لینے سے بھی دریغ نہ کیا۔ کوئی سادہ لوح مسلمان جو پڑھنے کا ذوق رکھتا ہو، اُس کو الفاظ کے الٹ پھیر میں ماہر کسی بندے کے لئے تاریخ سے کوئی واقعہ اُٹھا کر شکوک و شبہات کا شکار کرنا مشکل کام نہیں ہے۔ ملحدین نے غزوہ بدر سے پہلے انتباہ کے طور پر قریش کا قافلہ روکے جانے کے اقدام سے لے کر واقعہ کربلا اور پھر قرآن و حدیث کی اشاعت تک سب کچھ اُٹھا کر اپنے ہی انداز سے پیش کرنا شروع کردیا۔ دھوکے بازی اور علمی بددیانتی میں یہاں تک چلے گئے کہ احادیث کے غلط تراجم تک پھیلا دئے۔ اسی ایاز نظامی کا یہ کارنامہ ریکارڈ پر ہے کہ ایک حدیث شریف جس میں نبی ﷺ نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ سے اُتنی ہی مزید زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم دیا جتنی اُنہوں نے دی تھی، کو بدل کر یوں کرکے پھیلادیا کہ نبی ﷺ نے دوسروں سے تو زکوٰۃ وصول کرلی، جب اپنے چچا کی باری آئ تو زکوٰۃ وصول کرنے والے سے کہہ دیا کہ جتنی زکوٰۃ اُن (عباس) سے لی ہے وہ اُس کو واپس کردے۔ یہ “قد آور علمی شخصیت”آج کچھ اندر کی خبروں کے مطابق ایف آئ اے کے افسروں کے آگے ناک سے لکیریں نکال رہی ہے۔
دوسری طرف وہ چیزیں جس پر انسان بحث کرنے کا اہل ہی نہیں جیسے کہ وحی، واقعہ معراج، شق القمر وغیرہ، اُن کو اُٹھا کر سائنس کے مخالف دوسرے پلڑے میں تولنا شروع کیا۔ یہ عمل خواہ کتنا ہی غیر منطقی کیوں نہ ہو، اس نے کافی پُرانے وقتوں سے سائنس اور “سائینٹفک میتھڈ”پر ایمان بالغیب رکھنے والے عاشقانِ سائنس کو فتنے میں ڈالے رکھا ہے اور اسی کا فائدہ یہاں ان ملحدین نے بھی اُٹھایا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ خود علم نہیں رکھتے بلکہ زیادہ تر مستشرقین کے کئے کام کو اُٹھا کر اردو میں ترجمہ کرنے سے کام چلایا کرتے ہیں۔
تیسری چیز جس کو ملحدین نے سادہ لوح مسلمانوں کو گھیرنے کے لئے استعمال کیا وہ سیاق و سباق سے ہٹ کر قرآن و حدیث کی تشریح ہے۔ آج بھی غیرت اور حمیت کے ساتھ اقوامِ عالم کے بیچ امن کی زندگی جینے کا درس دینے والی لمبی آیت کا دو لفظی ٹکڑا “فاقتلوھُم حیثُ ثقفتموھم”ملحدین کی والز کی زینت بنتا رہتا ہے اور جب اُن کو سیاق و سباق کا نام یاد دلایا جاتا ہے تو کہتے ہیں سیاق و سباق کچھ نہیں ہوتا، یہ مسلمانوں نے گڑھا ہوا ہے۔ کمال درکمال۔۔۔
اسی بات پر دو سال پہلے کسی فورم پر اسی ایاز نظامی کے ساتھ میرا مختصر سا مباحثہ بھی ہوا تھا جس میں اُس نے یہ دعوٰی کیا تھا کہ سیاق و سباق کی جو محتاج ہو وہ کتاب بچوں کی تو ہوسکتی ہے، کسی خالق کی نہیں ہوسکتی۔ اس پر میں نے اُس کو چیلنچ دیا تھا کہ پوری کتاب کی بات رہنے دیں، صرف دو تین صفحات پر مشتمل ایسی تحریر لکھ کر دکھائیں جس میں کسی بھی لفظ یا جملے کو سمجھنے کے لئے کسی قسم کے بیرونی عوامل یا واقعہ یا سیاق و سباق کو سمجھنے کی ضرورت نہ ہو۔۔ اس پر وہ جواب دینے کی بجائے آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔۔۔ ملحدین کا یہ رویہ صرف ایک آیت یا حدیث کے ساتھ محدود نہیں بلکہ کوئی بھی آیت یا حدیث یا تاریخی واقعہ اُٹھا کر کچھ بھی لکھ کر اُس کو علمیت کا نام دیتے ہیں یا مذاق اُڑاتے ہیں۔۔۔
یہ چند گزارشات اُن لوگوں کی خدمت میں تھیں جو ملحدین کو علم رکھنے والے اور دیانت دار لوگ خیال کرتے ہیں اور اُن کی پروپیگنڈا بازی کے سبب تشکیک یا پھر ردعمل کا شکار ہوجاتے ہیں۔۔۔ سردست مسئلہ گستاخی اور توہین رسالت کا ہے۔ یقیناً یہ عدالت کی طرف سے گستاخ بلاگرز اور سوشل میڈیا پر توہین کا ارتکاب کرنے والے لوگوں کےحوالے سے ایکشن کا نتیجہ ہے کہ اتنی تیزی دکھائی گئی۔ خوشی کی بات ہے کہ جسٹس صاحب کی کوششیں بار آور ثابت ہورہی ہیں جن کے خلاف لبرلز کی مہم بازی تو ایک طرف، کچھ “اپنوں”کی طرف سے بھی “ٹرک کی بتی”جیسی پھبتیوں سے نواز کر حوصلہ شکنی کی پوری کوشش فرمائی گئی تھی۔
گستاخوں کے سرغنہ کی گرفتاری بہت احسن اقدام ہے لیکن اس پر بس نہیں کیا جاسکتا۔ ایک طرف ان لوگوں کا ایک پورا نیٹ ورک ہے جن کو بیرونی فنڈنگ بھی ہوتی ہے اور یہ فساد گردی پھیلانے کے لئے مواد بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف میڈیا پر جبران ناصر جیسے بدمست لوگ ہیں جو کبھی کسی مسجد کے آگے جا کر رقص کرنا شروع ہوجاتے ہیں اور کبھی بھینسے کے باڑے کے آگے جا کر شاباشی اور داد دینے لگ جاتے ہیں، ان سب کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا ضروری ہے۔ پاکستان میں انتشار کے اسباب دودھاری ہیں اور یہ انتشار تب تک ختم نہیں ہوگا جب تک انتشار کا سبب بننے والے ہر طرح کے لوگوں کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جاتا۔۔۔

Avatar
عصمت علی
ایک طالبعلم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”ایاز نظامی کی گرفتاری اور توہینِ رسالت کے مجرم

  1. یہ تحریر روایتی جذباتی لفاظ سے پر ہے. جبکہ ضرورت اس بات کی ہے آ پ ٹهنڈے انداز سے ایک ایک بات کا مدلل جواب دے دیں. اور بس.ز

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *