میرا جسم میری مرضی ۔۔عظمان غوری

آج کے اس ابلاغی دور میں کسی بیانیے کا زبان زد عام ہونا کوئی اچنبے کی بات نہیں اس لیے کوئی بات جو ہمارے مزاج کے برعکس ہو اس کو سن کر جذبات میں آنے سے بہتر ہے کہ اس بات کے ضمن میں دیگر پہلوؤں کا منطقی جائزہ لیا جائے۔
جی بالکل میں بات کر رہا ہوں
“میرا جسم میری مرضی” والے بیانیے کی۔۔

آجکل یہ بیانیہ نہ صرف نجی محافل بلکہ میڈیا پر بھی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔

tripako tours pakistan

مجھے بھی یہ بیانیہ سن کے تھوڑے وقت کے لیے غصہ آیا کیونکہ میں بھی ایک “Male Dominent” معاشرے کا حصہ ہوں لیکن جب غصّہ ٹھنڈا ہوا تو اس بیانیے سے متعلق کچھ پہلو میرے ذہںن سے گزرے جو میں آپکے ساتھ ابلاغ عامہ کاطالب علم کی حیثیت سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔۔

1-اس بیانے میں موجود دو concepts
2-ان concepts کی وضاحت
3-بحث
4-نتائج

اگر ہم غور کریں تو اس ( میرا جسم میری مرضی ) بیانیے میں “جسم” اور “مرضی”دو concepts موجود ہیں

اب جسم ایک ایسا concept ہے جو مختلف اعضاء بشمول اعضائے مخصوصہ کے ملاپ سے بنتا ہے مثال کے طور پہ اگر کوئی دورانِ گفتگو سائیکل کا لفظ استعمال کرے تو ہمارے ذہن میں سائیکل کی تصویر آ جاتی ہے کہ دو ٹائر ایک سیٹ ‘ ہینڈل لوہے کا فریم اور کچھ دیگر پرزوں کے ملاپ سے سائیکل بنتی ہے۔

اس بیانیے میں دوسرا concept ہے “مرضی”

اب مرضی بھی کئی طرح کی ہو سکتی ہے مثلاً ایک بندہ کوئی کام نہ کرے اور کوئی اس سے کہے کہ تم کام کیوں نہیں کرتے تو وہ جواب میں کہے کہ میری مرضی – یا پھر بھوک ہڑتال پہ بیٹھے کسی انسان سے ہم کہیں کہ تم کوئی اور رستہ کیوں نہیں اپناتے اور ہمیں جواب ملے کہ “آپ کو اس سے کیا مطلب میری مرضی میں جو بھی کروں” دونوں صورتوں میں ہم ان سے الجھنے کے مجاز نہیں۔

لیکن اگر کوئی انسان برہنہ حالت میں بیچ سڑک بیٹھ کے کہے کہ میری مرضی تو پھر اس کی اجازت نہ تو ہمارا معاشرہ دیتا ہے اور نہ مذہب

انسان خواہ مرد ہو کہ عورت ایک سوشل animal ہے جو کہ مذہبی اور معاشرتی اقدار میں جکڑا ہوا ہوتا ہے جہاں مذہب اسے good اور bad کے بارے میں بتاتا ہے جبکہ معاشرتی اقدار اسے جس معاشرے میں وہ رہ رہا ہوتا ہے اس کے متعین کردہ رستوں سے جوڑے رکھتی ہیں ۔
جو بھی معاشرتی اقدار سے انحراف کرتا ہے وہ سو شل نہیں رہتا البتا animal ضرور بن جاتا ہے جو صرف اپنی من مانی کو ترجیح دیتا ہے۔ اس میں نقصان کا ذمہ دار بھی وہ خود بن جاتا ہے۔
ایسا بھی ممکن ہے کہ انسان اپنے جائز معاشرتی مطالبات میں ایسی بوکھلاہٹ کا شکار ہو جائے کہ اسے فائدے کی بجائے نقصان کا سامنا کرنا پڑے ۔۔
اب ہم واپس اس “میرا جسم میری مرضی” بیانیے اور اس سے جڑے ہوئے طبقے کی طرف آتے ہیں۔

ایک پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس طبقے کا کوئی جائز معاشرتی مطالبہ ہو جسے کسی بھی وجہ سے غلط رنگ دے دیا گیا ہو یا پھر اس مطالبے  کو خود اس طبقے نے غلط انداز سے پیش کیا ہو۔
یا پھر اس مطالبے کے پیچھے کوئی bad intention بھی ہو سکتی ہے
اس صورت میں پھر یہ ملحوظ خاطر رکھنا پڑے گا کہ یہ طبقہ تعداد میں کتنا ہے اور اس طبقے سے وابستہ افراد کس حد تک اپنے معاشرے سے جڑے ہیں یا کسی دوسرے معاشرے سے متاثر ہیں کیونکہ ہر معاشرے کی اقدار مختلف ہیں جو اسی معاشرے کا حصہ ہیں ان کو دوسرے معاشرے میں نافذ کرنے کی خواہش جہدِ لا حاصل کے مترادف ہے۔

ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم مذہب اسلام کی چھتری کے نیچے ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں دیگر معاشروں کی نسبت عورت کا بہت مقام ہے جس کی حقیقت کا اندازہ مغربی معاشرے میں  تقابلی جائزے سے لگایا جا سکتا ہے ۔
اسلام میں عورت کے حقوق پورے کرنے کی تلقین کی گئی ماں،بہن،بیٹی، بیوی کے الگ الگ حقوق ہیں اور اگر کوئی فردِ واحد ان حقوق کو پورا کرنے سے قاصر ہے تو اس میں مذہب یا معاشرے کا کوئی عمل دخل نہیں، اس لیے وہ خود اس کا ذمہ  دار ہے اور اس کے لیے اسلام میں سزا اور جزا کا قانون موجود ہے ۔
عورت کے لیے بھی ان حقوق کے ساتھ کچھ حدود متعین کر دی گئیں جن سے تجاوز کا مطلب بے راہروی کے رستے پہ چلنے کے سوا کچھ نہیں، جس کی اجازت ہمارا معاشرہ نہیں دیتا۔

لہٰذا اُلجھنےکی بجائے اس گروہ سے پہلے ایک بات واضح  کروائی جائے کہ “میری مرضی” سے ان کی مراد کیا ہے اگر مقصود من مانی کرنا اور مرضی کی آڑ میں بے حیائی کو فروغ  دینا ہے تو پھر اس بیانیے کے نتائج خطرناک حد تک سنگین ہو سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں میڈیا کو ریٹنگ بڑھانے کی بجائے مثبت رول پلے کرنا ہو گا۔ دوسری طرف سٹیٹ کو اس معاملے میں بہت احتیاط برتنی ہو گی کہ کہیں معاشرے میں انتشار نہ پھیلے ۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ہر فرد کو اپنا محاسبہ کرنا پڑے گا۔۔۔
کیونکہ معاشرے کا حسن مرد اور عورت دونوں کے وجود سے ہے اور ان دونوں کا اختلاف معاشرتی بگاڑ کو جنم دینے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *