جہاں کیلاشے بستے ہیں ۔۔جاوید خان/14،آخری قسط

بے خار جھاڑیوں اور پتھروں پر چھوٹی چھوٹی چڑیاں اُچھل کود رہی تھیں اور چہک رہی تھیں۔مشرقی جنگل پوراانہی سے بھرا ہواتھا۔مشرقی سمت چڑیوں کی چہکاریں تھیں تو مغربی سمت نیچے پانیوں کی گونج۔سوائے اس کے یہاں زندگی سوئی ہوئی تھی۔ندی کا پانی دیاروں کے درمیان جیسے چاندی بہہ رہا ہو۔دیار کی ٹہنیوں سے اس کی سفید جھلکیاں نظر میں آرہی تھیں۔
تین لکڑ ہارے اس کچے راستے پر اوپر کی طرف تیزی سے بڑھ رہے تھے۔جب میرے پاس سے گزرے تو سلام کہا۔میں نے پوچھا۔
کدھر جارہے ہیں۔؟
اُوپر
کیوں؟
بَس کام ہے؟
ان میں سے آگے والے کے ہاتھ میں تیز کلہاڑی تھی۔درمیان میں پچاس کی عمر کے بزرگ لاٹھی کی مدد سے چل رہے تھے۔بڑھاپا ان کے حلیے میں تھا،چال میں نہیں۔پیچھے والے نوجوان کی پشت پر ڈوریاں تھیں او رکھانے کاسامان تھا۔اگر یہاں درختوں کو کاٹنا منع ہے تو یہ خاموش قافلے کس غر ض سے جنگل کی طرف جارہے تھے۔؟یا پھر سوکھی شاخیں او رجھاڑیاں کاٹنے جارہے تھے۔لکڑیوں کے گٹھے آگے کئی جگہوں پر پڑے ہوئے تھے۔

انہی مشرقی اور شمالی پہاڑیوں کے پیچھے کَشن بانڈھا،گل شیر بانڈھا اَورشازوبانڈھاہیں۔بانڈھایہاں چراہ گاہ کوکہتے ہیں۔موسم میں چرواہے مویشیوں کو لے کر ان بانڈھوں میں آجاتے ہیں۔مَیں کافی اوپر آگیاتھا۔وادی کامنظر نیچے پھیلا ہوا تھا۔سورج کی کرنیں ابھی تک ساری وادی پر نہ اتریں تھیں۔صرف اس کے کچھ حصوں پر اترسکیں تھیں۔

لکڑ ہاروں کا ایک اور قافلہ میرے پاس سے گزرا۔ان سب کی رفتار مجھ سے بہت تیز تھی۔مَیں نے سامنے کے پہاڑ پر پھیلے جنگل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا اس گھنے جنگل میں کون کون سے جانور ہیں۔ایک لکڑہارے نے چند نام لیے۔اِن میں سے کچھ ہی میرے ذہن میں رہ گئے۔
سولانڈے۔نقصانی
شرماخم۔سخت نقصانی

ساتھ ہاتھ کے اشارے سے سمجھایا کہ ان کا قد اتنا اتنا ہے۔شرماخم اور سولانڈے اگرچہ قدمیں چھوٹے ہیں۔لیکن مویشیوں کا بہت نقصان کرتے ہیں۔”سیلو ں“ بھی نقصانی شیر ہے۔پالتو جانوروں کی تباہی کرتا ہے۔جنگلی مرغ اس جنگل میں بہت ہیں۔زبان میرے لیے انجان تھی۔لِہٰذ ا ساتھ ٹوٹی پھوٹی اُردُو بولنے والے مترجم اور اشاروں نے میرے لیے بات کاسمجھنا آسان کردیا۔
سڑک ختم ہوگی تھی۔ایک چھوٹی آب شار ٹوٹ کر پتھریلے نالے میں بہہ رہی تھی۔اب آگے راستاتنگ تھا۔نالے میں دیار کی لکڑیاں پڑی تھیں۔نالا پار کیاتو پھر ایک کچی سڑک کے آثار تھے۔شاید کبھی یہ کچی سڑک ہوئی ہو مگر نالے نے اسے اپنے راستے سے ہٹا دیاتھا۔

گزشتہ تمام اقساط پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے”جہاں کیلاشا بستے ہیں

اب یہاں سے وادی کامنظر تھا۔ایک ہرابھرا منظر ِ،حد نگاہ جنگل اورجو درمیان کا حصہ بچا تھا۔اس پر آلوؤں کے کھیت تھے۔میرے نزدیک ہی ایک چھوٹا ساچشمہ پھوٹ کر نیچے بہہ رہاتھا۔یہاں کی زمین میں پانی بہت ہے۔آلوؤں کوپانی دینے کی ضرورت نہیں۔زمین خود ضرورت کاپانی مہیاکردیتی ہے۔یہاں چشموں کی بہتات ہے۔مسلسل چڑھائی چڑھنے کی وجہ سے تھک گیاتھا۔مَیں چلتے چلتے رک گیا۔نیچے کامنظر محو کردینے والا تھا۔ندی کے پانی کی گونج،جنگل میں سے گزرتا اس کا دُودھیا پانی۔شمال و جنوب کی چوٹیوں پر گلیشر،جو اب چمک رہے تھے۔لمبائی میں یہ وادی شمالاًجنوباً میلوں تک پھیلی ہے۔چوڑائی میں یہ کم ہے۔اس کے مناطر کو نظر بھر کر دیکھنا ہو تو کسی بُلندی سے ہو کردیکھاجائے۔مَیں نے ایک نظر خیمہ گاہوں پر ڈالی وہاں ابھی خاموشی تھی۔رات کو جنگل میں سےّاحوں نے گیس اور پتھر کے چولھوں پر من پسند کھانے پکائے تھے۔گیس کے چولھے یہ لوگ ساتھ لائے تھے۔

شمالاً جنوباً پہاڑوں پر،جنھیں میں سنگ مرمر کے کے سفید ٹکڑے سمجھا تھا،وہ گلیشر تھے۔جو اب قدرے بلندی سے اور کرنوں نے واضح کردیے تھے۔آگے سڑک میں دیا ر کی عمارتی لکڑی پڑی تھی۔کٹی ہوئی یہ لکڑی نہ جانے کیوں اس ویرانے میں محفوظ تھی۔اورمحکمہ جنگلات نے اسے ابھی تک نہیں دیکھا تھا۔

سڑک کے دائیں بھنگ اُگی ہوئی تھی۔نیلے نیلے پھولوں سے زمین بھری ہوئی تھی۔رستا تنگ ہورہاتھا۔یہ صرف کسی طاقت ور گاڑی کے آنے کارستا ہو سکتا ہے۔جو اب موسموں نے مٹا دیاتھا۔پھر ایک موڑ پر نالے نے اسے اپنے آگے سے مکمل مٹا دیا۔پتھر بھر کر انسانوں اور جانوروں کے گزرنے کی جگہ بنائی گئی تھی۔

سڑک اَب صرف وہ رستہ  ر ہ گیا تھاجس پر بَس انسان اَو ر چوپائے چل سکتے تھے۔بلندی بڑھ ہی رہی تھی۔میرے دائیں اَور بائیں ڈھلوان تھی۔اس پر حدنظر پودے،پھول دار گھاس اور جڑی بوٹیاں اُگی ہوئیں تھیں۔بائیں ہاتھ دُور نیچے جہاں ڈھلوان اختتام پذیر ہوتی تھی۔زمین کے ایک حصے پر آلوؤں کے کھیت اَور ایک کچا جھونپڑا تھا۔اس سارے حصے تک ابھی سورج نہیں پہنچا تھا۔مجھے ایک انگریزی شاعر کی نطم یادآگئی۔جو ایسی ہی جگہ کی منظر کشی کرتی تھی۔

پگڈنڈی،جو کبھی سڑک رہی ہوگی،موڑ کاٹ کر اوپر کے جنگل کی طرف چلی گئی تھی۔یہاں سے سڑک اور کشن بانڈھا کا رستہ الگ ہوگئے تھے۔یہاں لکڑہاروں نے یہ عقدہ دشوار حل کیا کہ یہ سڑک جنگل کے اوپر والے حصے میں 100 کے قریب دیار کے درخت کاٹ کر لانے کے لیے بنائی گئی تھی۔ان میں سے اکثر درخت سوکھے ہوے تھے۔اوریہ کام محکمہ جنگلات نے خودکیا۔مَیں کئی کلومیٹرکھڑی چڑھائی چڑھ آیا تھااور تھک گیاتھا۔یہیں ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔چھوٹے قد کے گول پتوں والے درخت،سرخ پھلوں سے بھرے ہوئے تھے۔یہ سرخ دانے (پھل) پرندے توڑ تو ڑ کر کھارہے تھے۔یہاں اُگی ہوئی بھنگ اَور خوب صورت وادی فر قہ باطنیہ کے سربراہ حسن بن صبا کی جنت میں لے جاتی ہے۔

دُودھیا دریا جنگل میں کہیں کہیں نظر آرہا تھا۔باقی اس کی موجوں کی آواز تھی۔جو اس ساری وادی میں گونج رہی تھی۔پرندے سرخ دانے چگ رہے تھے کچھ بول رہے تھے۔

سورج اب بھی آدھی وادی سے دُور تھا۔مشرقی پہاڑ آدھے حصے پر سایہ کیے ہوئے تھا۔میلوں تک پھیلے یہاں کے جنگل میں اکثر درخت صدیوں پرانے ہیں۔لکڑہاروں کے ایک دوسرے قافلے نے بتایا تھا،اس جنگل میں ریچھ عام ہیں۔پہلے نیچے تک ہوتے تھے۔اب جب سیاحوں کی سرگرمیاں بڑھ گئیں ہیں تو اوپر چوٹیوں پر اور جنگل کے بالائی حصوں میں چلے گئے ہیں۔

لکڑ ہاروں کے قافلے برف پوش چوٹی کے دوسری طرف لکڑیاں لانے جارہے تھے۔مَیں یہاں دیر تک بیٹھاپانی کی گونج،وادی میں پھیلی خاموشی اور اس خامشی میں پرندوں کو سنتا رہا۔دوستوں نے کہا تھا آٹھ بجے اٹھیں گے۔آٹھ بج گئے تھے۔برفانی چوٹی کو پار کرکے کشن بانڈھا کی چراگاہ میں جانے کا وقت نہیں تھا۔

مَیں اٹھا اور آہستہ آہستہ اسی راستے پر نیچے اترنے لگا۔ہُو کاعالم  تھا۔انسانوں میں صرف لکڑہاروں کے قافلے چڑھے آرہے تھے۔کھڑی چٹان پر کوئل کی شکل کاایک پرندہ بیٹھا بولتا رہا۔اگر یہ کوئل تھی تو کمراٹ کی کوئل عام چڑیا جتنی ہوتی ہے۔سیاہ برقعوں میں خواتین اپنے مردوں کے لیے ناشتا اور دن کا کھانا لے جارہی تھیں۔انھوں نے ٹوکریوں میں کھانا اور برتن اٹھائے ہوئے تھے۔ان خواتین نے صرف کھانا ہی نہیں پہنچانا تھا بل کہ مردوں کا ہاتھ بھی بٹانا تھا۔ان کے کاٹے اور چیرے ہوئے لٹھ،گٹھوں میں باندھ کر سر پر رکھ کر لانے بھی تھے۔

جب سرائے میں پہنچا تو ناشتے سے سلوک ہورہاتھا۔پراٹھے،آملیٹ اور چائے۔مَیں نے باورچی سے پوچھا خشک چپاتی مل سکتی ہے۔ایک خشک چپاتی او ر چائے کا کپ سامنے آگیا۔ناشتے کے بعد منصور اسماعیل نے میرے او پر کمبل ڈالا تو باقیوں نے زمین پر اوندھے لیٹا کر میری بھر پور گوشمالی کی۔اٹھا تو کمر ٹوٹی ہوئی محسوس ہوئی۔خداوند کے نیک بندوں نے اَپنے گھروں کا غصہ مجھ پر نکالا تھا۔شفقت نے اس کاروائی کی اِک ویڈیو جاری کی۔سمندر پار سے اکرام اللہ نے اظہار ہمدردی کیا۔9:20 پر ہم واپسی کے لیے روانہ ہوئے۔سیاح ابھی تک سورہے تھے۔کوؤں کے جھنڈ یہاں منڈلارہے تھے۔یہ مینا سے تھوڑے بڑے تھے۔یہاں کے پرندے چھوٹے،تتلیاں چھوٹی چھوٹی،درخت بڑے ہیں۔

ہم کمراٹ زیریں،کی وادیوں میں اترتے گئے۔انہی رستوں پر چلتے چلتے رات کوراول پنڈی پہنچے۔مجھے اسلام آباد سے کچھ کتابیں خریدنا تھیں۔وقاص نے ایک جگہ اتارا۔سڑک پار کی تواسلام آباد کی گاڑی مل گئی۔سپر مارکیٹ میں مسٹر بکس کھلا تھا۔کتابیں لیں۔فوفیرے بھائی سردار رشید کو فون کیا،رات اسلام آباد میں گزاری دوسرے دن راولاکوٹ پہنچا۔

 

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *