دل کےہسپتال میں انسانیت کو دل کا دورہ پڑ گیا۔۔رمشا تبسم

انسانی جسم میں سب سے اہم عضو دل کو تصور کیا جاتا ہے۔یوں تو موت کی وجہ کچھ بھی ہو سکتی ہے کسی بھی عضو  میں خرابی کی وجہ سے انسان موت کے دامن میں جا سکتا ہے۔مگر دل کا معاملہ زیادہ حساس تصور کیا جاتا ہے۔دل کی دھڑکن بہت تیز یا بہت کم , یا پھر اسکا بند ہو جانا ایک دم انسان کو مار سکتا ہے۔اور اس کے مرنے سے کئی  لوگ تمام عمر لمحہ بہ لمحہ مرتے اور سسکتے رہتے ہیں۔کئی لوگوں کی امیدیں اور خوشیاں مر جاتی ہیں۔

دل کے ہسپتال میں داخل ہوئے اکثر لوگ پہلے ہی موت کے منہ میں ہوتے ہیں۔آپ ایک گھنٹہ دل کے  ہسپتال میں کھڑے رہیں پانچ دس لوگ لازمی دل کے مرض سے مرتے نظر آئیں گے۔اکثر ان کو لے کر آنے والے فوراً  ہی ان کی موت کی تصدیق ہونے پر  صبر کر کے واپس ہو جاتے ہیں اور جن کی فوری موت نہ ہو یا جن کی دھڑکن کچھ بحال ہو تو ان کے عزیز امید کا دامن تھام کر کئی کئی  دن, رات بھوکے پیاسے, سوئے بغیر بھی وہاں کھڑے رہنے کو تیار رہتے ہیں۔بس تھوڑی س دھڑکن بہت سے اپنوں کی دھڑکنوں  کو کئی  لمحوں کے لئے پرسکون کر دیتی ہے۔اور ہر کوئی امید رکھتے ہوئے دعا کا دامن تھام لیتا ہے کہ خدا اب بس خیر کر دے۔

2010 میں ایک عزیز کی اچانک طبیعت خراب ہوئی۔ان کو قریبی پرائیویٹ ہسپتال لے کر گئے۔جہاں ڈاکٹرز نے معائنہ کر کے کہا ان کو فوراً کارڈیالوجی لے جائیں  ۔اور وقت ضائع کیے بغیر ان کو وہاں لے جایا گیا۔ہسپتال داخل ہوتے ہی فوری طبعی معائنے میں ڈاکٹرز نے اس کی بیوی کو کہا۔۔۔۔۔بی۔بی آپ کا خاوند اس وقت موت کے انتہائی قریب ہے۔ان کی جان کا بچنا ایک کرشمہ ہو گا۔ لہذا یہ نہ  ہو  کہ یہ فوت ہو جائیں اور آپ کہیں کہ ہم صحت مند مریض لائے تھے اور ڈاکٹروں نے لاپرواہی سے مار دیا۔اس خاتون نے کہا آپ کوشش کریں باقی میرا نصیب۔
امید کی چھوٹی سی کرن اس وقت ملی جب ڈاکٹروں نے علاج شروع کیا اور یہ کرن بڑی ہوتی گئی  اور مکمل روشنی زندگی میں پھیلنا شروع ہو گئی ۔اللہ کا کرم ہوا کہ ا ن کی جان محفوظ ہو گئی،اور ہر گزرتے لمحے ہماری امیدیں  بڑھتی  گئیں ۔

جس لمحے ڈاکٹر کسی کے  قریبی عزیز  کو  ہسپتال میں داخل کرتے ہیں ہر گزرتے لمحے امیدیں  زیادہ ہوتی جاتی ہیں۔جو ہمیں اپنوں کی زندگی کی مزید یقین دہانی کرواتی ہیں۔کچھ اسی طرح کی امیدیں تھام کر آج کارڈیالوجی میں اپنے مریضوں کے ساتھ موجود وہ لوگ تھے جو موت سے نظریں چرانا چاہتے تھے۔جو ہر نا امیدی کو چیر کر امید کو تھامنا چاہتے تھے۔جو موت کے اندھیرے سے بچا کر اپنوں کو زندگی کی روشنی دکھانا چاہتے تھے۔جو ہر گزرتے لمحے اپنوں سے بچھڑنے کا ڈر کم اور صحت مند ہونے کی خواہش زیادہ کر رہے تھے۔ جن کو اب اعتبار ہو گیا تھا کہ دل کا دورہ یا دل کا کسی قسم کا مرض اب ان کے اپنے کو دور نہیں کر سکتا۔امیدوں کا دامن تھامے یہ لوگ کئی کئی راتوں کے جاگے ہوں گے۔کئی کئی دن کے بھوکے اور بے سکون ہوں گے۔کتنی قسم کی پریشانیوں کا شکار ہونے کے باوجود بھی اپنوں کی زندگی سے پُر امید تھے کہ اچانک انسانیت کو دل کا دورہ پڑ گیا جب وکلاء حملہ آور ہو گئے۔اور اس دورے کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال کے ڈاکٹرز فرار ہو گئے۔یوں تو انسانیت کو دل کا دورہ اکثر ڈاکٹروں کی وجہ سے بھی پڑتا رہتا ہے جب ذرا ذرا سی بات پر یہ کام روک کر ہڑتال پر چلے جاتے ہیں اور مریض بے یارو مددگار تڑپتے رہتے ہیں۔اور آج بھی ڈاکٹروں اور وکیلوں کی وجہ سے انسانیت کا دل کام کرنا چھوڑ گیا۔

انسانیت کو دل کا دورہ پڑا تو انسانیت تڑپ رہی تھی ۔انسانیت کا دل بند ہو رہا تھا۔انسانیت کی دھڑکن رک رہی تھی ۔اور جب انسانیت اس دورے کی تاب نہ لا سکی تو انسانیت کی وفات ہو گئی ۔اور انسانیت کے فوت ہوتے ہی ڈاکٹر فرار اور وکلاء نے دل کے مریضوں کی دھڑکنیں بھی بند کرنا شروع کر دیں۔وہ کئی کئی  دنوں ,مہینوں اور گھنٹوں سے امید کا دامن تھامے ہوئے لوگوں کی امیدوں اور دعاؤں کو پاؤں کے نیچے کچل دیا۔

ذرا سوچیے!کتنی تکلیف ہوئی ہو گئی  جب کسی کی بیٹی,کسی کا بیٹا,ماں ,باپ یا بھائی ,بیوی یا شوہر کو بغیر کسی وجہ اپنی انا,ضد اور بدلے کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔وہ اُمید تھامے لوگ ایک دم انسانیت کی موت پر اپنوں کو موت سے بچانے کی جدوجہد کرتے کتنا تڑپے ہونگے۔کتنی کوشش کی ہو گی،کتنی بار امید ٹوٹی ہو گی۔کتنی بار روئے ہوں گے۔کتنی بار مدد کو پکارا ہو گا۔کتنے واسطے دیئے ہونگے جب انسانیت کے قاتل وکلاء انکے اپنوں کو وینٹی لیٹر پر کچھ سانسیں لینے سے بھی روک رہے تھے اور زبردستی انکی زندگی کا چراغ بجھا رہے تھے۔

انتہائی شرم کا مقام ہے۔انتہائی دکھ کی گھڑی ہے کہ کچھ گھروں میں کچھ وکلاء اور ڈاکٹروں نے اپنی انا اور ضد کی خاطر صف ماتم بچھا دیا۔اس واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ہم ریاست پاکستان سے کسی قسم کے انصاف کے طالب نہیں ہاں انسانوں سے انسانیت کے طالب ضرور ہیں۔ہم انسانوں سے درخواست کرتے ہیں کہ انسانیت کو مزید اس طرح کے دل کے دورے پڑنے سے روک لیں۔اپنی انا اور ضد کی خاطر لوگوں کی زندگیوں کے چراغ  نہ بجھائیں۔اپنی بدمعاشی اور غنڈہ گردی میں لوگوں کے امید کے دامن چاک نہ کریں۔۔انسانیت کا علاج کریں۔اپنی انسانیت میں پیدا ہوتی خرابی کے مرض کو دور کریں۔انسانیت کے دل کی دھڑکن بحال کریں۔انسانیت کے دل کو صحت مند رکھیں کہ صحت مند معاشرہ تخلیق کیا جا سکے۔انسانیت کے دل کو حیوانیت کا دورہ پڑنے سے روکیں اور اس حیوانیت کو انسانوں کی قربانی سے پروان نہ چڑھائیں کہ کہیں کسی دن تمہارے کسی اپنے کے لئے بھی انسانیت کو اسی طرح دل کا دورہ  پڑ جائے اور اس وقت تم بے یارو مددگار التجا کرتے ہوئے بھی شرماؤ۔ کیونکہ انسان تو تم بھی ہو رشتے تو تمہارے بھی ہیں۔اپنوں سے محبت تم بھی رکھتے ہو اور اپنوں کی موت پر ماتم تم بھی کرو گے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *