• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر وکیلوں کے مسلح حملہ میں 4 سے زائد مریضوں کی ہلاکت۔۔ غیور شاہ ترمذی

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر وکیلوں کے مسلح حملہ میں 4 سے زائد مریضوں کی ہلاکت۔۔ غیور شاہ ترمذی

مشہور شاعر اکبر الہ آبادی کے مشہور شعر
پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا
لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہو گئے ۔۔کی عملی تفسیر بنتے ہوئے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور پر 2000/2200 جونئیر وکیلوں کے ایک مسلح گروہ نے حملہ کر دیا۔ وکیلوں نے ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او۔پی۔ڈی) ایمرجنسی اور آئی۔سی۔یو وارڈ میں شدید توڑ پھوڑ کی۔ اس واقعہ کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے باہر احتجاج کرنے والے کئی وکلا ہسپتال کا گیٹ کھلوا کر ہسپتال کے اندر داخل ہوتے ہیں اور ایمرجنسی وارڈز کے شیشے توڑ دیتے ہیں، کمپیوٹر، مریضوں کے علاج میں استعمال ہونے والی مشینوں اور فرنیچر کو تباہ کر دیتے ہیں۔ وکلاء کی جانب سے ہسپتال کے احاطے میں کھڑی گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دیئے گئے۔ اس د وران پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اور وکیل وارڈز کے اندر گھس کر ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل  سٹاف کو ڈھونڈ کر تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔ایک کزن کی تیمارداری کے لئے وہاں موجود راقم کے بھائی پروفیسر علی رضا ترمذی کے بقول مریض اور لواحقین ان مسلح حملہ آوروں کی منت سماجت کرتے رہے کہ وہ مریضوں پر رحم کریں مگر یہ وکیل سی۔سی۔یو وارڈ میں بھی گھس گئے جہاں شدید ہنگامہہ آرائی کے دوران 4 سے زیادہ مریضوں کے وینٹی لیٹر اتر جانے سے ان کی وفات ہو گئی۔ اس حملے  کی وجہ سے تمام ڈاکٹر اور سٹاف مریضوں کی تیمار داری چھوڑ کر وکیلوں کے خلاف نعرہ بازی کرتے رہے جس کے دوران ایک مریضہ کی وفات ہو گئی۔

آؤٹ پیشنٹ (او۔پی۔ڈی) ڈیپارٹمنٹ اور ایمرجنسی وارڈ میں وکیلوں کی شدید ہنگامہ خیزی کے بعد پنجاب کے مصروف ترین ہسپتال میں اس وقت ہُو کا عالم ہے۔ جہاں مریضوں کو وہیل چیئر اور بیڈ لینا ایک بہت بڑا مسئلہ تھا، وہاں اس وقت تمام بیڈز بھی خالی ہیں اور وہیل چیئرز بھی مہیا ہیں مگر نہ تو وہاں کوئی مریض ہے اور نہ ان کا علاج کرنے کے لئے ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف مو جود ہیں۔ جان بچانے کے لئے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں آنے والے مریض نامعلوم جگہوں پر چلے گئے یا سڑکوں، پارکوں پر بیٹھے رہے۔ کیا معلوم کہ یہ مریض گئے بھی کہاں ہوں گے کیونکہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی جیل روڈ لاہور صوبہ بھر میں دل کے امراض کے علاج کے لئے واحد معیاری اور جدید سرکاری ہسپتال ہے۔

وکیلوں کا یہ مسلح جتھہ ہائی کورٹ لاہور سے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی طرف نکلا تھا مگر راستے میں انہیں کسی نے نہیں روکا۔ حتیٰ کہ جب ان ہنگامہ کرنے والے وکیلوں میں سے 150/200 وکیلوں نے او۔پی۔ڈی اور ایمرجنسی پر حملہ کیا تو پولیس نے بھی انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی۔ وکیل جب ہائی کورٹ سے نکلے تو انہوں نے فیس بک پراس کی لائیو سٹریمنگ کی، ڈاکٹروں کو دھمکیاں دیں، علی الاعلان کہا گیا کہ “ڈاکٹرو، یہ دیکھو وکیلوں کا سمندر، آج تمہیں گھس کر ماریں گے، تمہیں سٹنٹ ڈالیں گے اور تمہارا بائی پاس کریں گے”۔ شادمان چوک پر یہ جتھہ کافی دیر رُکا رہا۔ اس دوران پولیس اگر ایکشن لیتی تو انہیں منتشر کیا جا سکتا تھا مگر پولیس اپنے بڑوں کے احکامات کا انتظار کرتی رہی جبکہ وہ نا اہل وزیر اعلیٰ اور سلیکٹڈ کابینہ کی طرف دیکھتےرہے۔ صبح ساڑھے 11 بجے سے شروع اس وکلاء گردی کو بالآ خر روکنے کے لئے ایڈیشنل آئی جی نے ایکشن لیا اور ان کی ہدایت پر پولیس نے آ نسو گیس، لاٹھی چارج اور واٹر کینن استعمال کر کے وکیلوں کو منتشر کیا جبکہ اس دوران وکیل پتھراؤ کے ساتھ ہوائی فائرنگ بھی کرتے رہے۔ وکیلوں کی دہشت گردی اتنی زیادہ تھی کہ جب پولیس نے ہنگامہ آرائی کرنے والے 20 کے قریب وکیلوں کو گرفتار کیا تو ان کے ساتھیوں نے ہائی کورٹ کے باہر مال روڈ بلاک کر دیااور پنجاب سیکریٹریٹ کے باہر بھی ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔

تین گھنٹوں سے زیادہ تک جاری رہنے والی اس وکلاء گردی کے دوران پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے او۔پی۔ڈی اور ایمرجنسی وارڈز کا جتنا نقصان ہوچکا ہے، اس کی مرمت اور rehabilitation کے لئے ہفتوں درکار ہوں گے۔ مکالمہ کے قارئین کے لئے اس توڑپھوڑ اور وارڈز کی ویرانی کی خاص طور پر لی گئی تصاویر سے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ وکیلوں کی دہشت گردی سے ہونے والا نقصان ہرگز اس نوعیت کا نہیں کہ فوری طور پراس کی مرمت ہوسکے اور مریضوں کا علاج معالجہ شروع کیا جاسکے۔

وکلاء گردی کے اس بدترین مظاہرہ کے باوجود بھی وکیل راہنما اسے ڈاکٹروں کی غلطی قرار دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ گزشتہ روز وزیر قانون اور ایڈیشنل آئی جی پولیس کی نگرانی میں وکیلوں اور ڈاکٹروں کے درمیان ہونے والی صلح کے بعد ایک مہینہ پرانی وہ ویڈیو کیوں سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی جس میں چند وکیلوں پر ڈاکٹر تشدد کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس ویڈیو کو وکیل اپنی تذلیل قرار دے رہے ہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ اگر ایسی کوئی شکایت تھی بھی تو وکیل ڈاکٹر صلح نامہ کی روشنی میں اسے ثالثی کمیٹی کے پاس بھیجنا چاہیے تھا نا کہ اس ویڈیو کے ریلیز ہونے کے صرف 24 گھنٹوں کے اندر ہسپتال پر چڑھائی کر کے مریضوں کی جانے کھیلا جاتا۔وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے بھی کہا ہے کہ ایک مہینے پہلے ہونے والے جھگڑے کی صرف ایک دن پہلے صلح ہونے کے بعد وکلاء کی طرف سے اس غنڈہ گردی کی کوئی توجیہ پیش نہیں کی جا سکتی۔ معروف ماہر قانون اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ اگر وہ لاہور ہوتے تو یہ ہنگامہ آرائی رکوانے ضرور پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی جاتے جیسا کہ وہ سنہ 2007ء میں وکلاء تحریک کے دوران وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر شیر افگن نیازی کی جونئیر وکیلوں کے ہاتھوں جان بچانے کے لئے پہنچ گئے تھے۔

وکیلوں کی اس غنڈہ گردی کے دوران وہاں آنے والے صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات فیاض الحسن چوہان پر بھی وکیلوں نے تشدد کیا۔ ان کا گریبان پکڑا، انہیں دھکے مارے گئے، ان کے سر پر پیچھے سے تھپڑ مارے گئے اور ان کے بال بھی نوچے گئے۔ وہ بمشکل اپنی جان بچا کر وہاں سے بھاگے۔ ان کے علاؤہ بھی پولیس کی حفاظت میں صو بائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد بھی پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پہنچیں اور انہوں نے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی برادری کے ساتھ کھڑی ہیں اور ہنگامہ آرائی کرنے والے وکیلوں کو عبرت کا نشان بنانے کی پوری کوشش کریں گی۔ اس موقع پر جنگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ورکرز اور عہدے داروں نے وکیلوں اور حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی اور ڈاکٹر یاسمین راشد سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومت اور وزارت سے فوری طور پر مستعفی ہو جائیں ۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس دوران ڈاکٹر یاسمین راشد کو دھکے بھی مارے گئے۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے بھی وکلاء گردی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اس واقعہ پر غور کرنے کے لئے اعلی سطحی اجلاس طلب کر لیا ہے اور چیف سیکرٹری پنجاب و آئی جی پولیس سے ایک گھنٹہ میں واقعہ کے ذمہ داروں کا تعین کرکے رپورٹ بھیجنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔

پاکستان میں وکیلوں اور خصوصاً جونئیر وکیلوں میں اس جارحانہ پن اور مجرمانہ سرگرمیوں کی ابتداء کا ذمہ دار بلا مبالغہ سنہ 2007ء سے 2009ءتک جاری رہنے والی عدلیہ بحالی تحریک کو قرار دیا جا سکتا ہے جس کے دوران سا بق چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی کے لئے و کیلوں کو عدالتوں سے باہر نکال کر سڑکوں پر لایا گیا مگر وکیل راہنما انہیں واپس عدالتوں میں بھیجنا بھول گئے۔ اس 10سالوں کے دوران کالے کوٹ کی حکمرانی جاری ہے اور کسی کی مجال نہیں کہ اس حکمرانی کا بال بھی بیکا کر سکے۔ کوئی چیف جسٹس آف پاکستان، ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور ان کے ماتحت جج حضرات یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ وہ کالے کوٹ والے وکلا کے دباؤ سے آزاد ہیں۔ کہیں نہ کہیں سب کے پر جلتے ہیں۔جب چیف جسٹس صاحبان علی الاعلان یہ کہیں گے کہ بار کونسلیں ان کی طاقت ہیں تو پھر اس طاقت پر غلبہ کیسے پایا جا سکتا ہے۔کوئی بتائے کہ ہمارے ہاں فوری انصاف کے جو خواب دکھائے جاتے ہیں۔وہ کیسے پورے ہو سکتے ہیں۔آپ ججوں کی تعداد فوری طور پر دوگنا بھی کر دیں تو انصاف پھر بھی نہیں ملے گا، کیونکہ انصاف کی باگیں تو وکلا ءکے ہاتھ میں ہیں۔صرف سپریم کورٹ کی سطح پرمعاملات قابو میں ہیں وگرنہ نچلی عدالتوں میں تو ان کا سکہ چلتا ہے۔ کسی جج نے ذرا سی اونچی آواز نکالی تو اس کی شامت آ گئی۔ہڑتال کا اعلان ہو گیا اور عدالتوں کو مجبور کیا گیا کہ فیصلے وکیلوں کی مرضی سے ہوں گے۔

اوّل تو کسی وکیل کے خلاف مقدمہ درج ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر غلطی سے کیس درج ہو بھی جائے تو سنا نہیں جائے گا۔ سنا گیا تو جج خلاف فیصلہ نہیں دے سکے گا اور بالآخر وکلا کی شرائط پر صلح ہو جائے گی۔جب سے یہ رجحان بنا ہے کہ اپنے علاقے میں ہائی کورٹ کا بنچ بنوایا جائے، معاملہ اور بھی بگڑ گیا ہے۔اس کا فراہم کردہ انصاف سے زیادہ فکر معاش سے تعلق ہے۔ اس وقت لاہور بار ایسوسی ایشن کے تحت 25 ہزار وکلاء ر جسٹرڈ ہیں جن کی بنیاد پر لاہور بار کے انتخابات اگلے مہینے کے وسط تک ہونے والے ہیں۔ ان انتخابات میں جونئیر وکیلوں کی ہمدردی اور ووٹ لینے کے لئے کچھ قوتوں نے یہ ڈرامہ سٹیج کیا ہے۔ ایک کالم نگار کو کبھی بھی اس طرح کے جھگڑے کے ضمن میں اپنی طرف سے فیصلہ نہیں دینا چاہیے مگر آج کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے دل کے مریضوں کا جو نقصان ہوا ہے اور جو 4 یا 5 مریض اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اس کی بنیاد پر راقم یہ کہنے پر مجبور ہے کہ حکومت کو انتہائی سنجیدگی سے وکلاء گردی پر قابو پانا چاہئے۔ ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے اور ان کے لائسنس منسوخ کر کے انہیں لمبی سزائیں دے کر جیلوں میں ڈال دینا چاہیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *