• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • سچ کو لغوی معنی سے برتر ہوکر بیان کرنا ہوگا۔۔اسد مفتی

سچ کو لغوی معنی سے برتر ہوکر بیان کرنا ہوگا۔۔اسد مفتی

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق خبر یوں ہے دہشت گرد مبینہ طور پر یورپ میں اپنے نشانوں پر کیمیائی و حیاتیاتی ہتھیاروں سے حملہ آور ہونے کا خطرناک منصوبہ بنا رہے تھے۔
فنانشل ٹائمز کی اس رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک میں خطرناک کیمیائی ہتھیاروں اور کیمیائی مادوں کے ماہرین کے گروپوں کے نیٹ ورک سے پرد ہ اٹھایا گیا ہے،جو کہ بڑے منظم طریقوں سے کام کررہے ہیں،اور انہوں نے کیمیائی و حیاتیاتی ہتھیار بنانے کی مکمل صلاحیت حاصل کرلی ہے،ان گروہوں سے اگرچہ چیچنیا میں بھی یہ مہارت حاصل کی گئی ہے،مگر اب یہ لندن اور یورپ کے دوسرے ممالک میں داخل ہوچکے ہیں،جہاں ان شہریوں کو نشانہ بنایاجائے گا۔
سوال یہ ہے کہ برطانیہ کے فنانشل ٹائمز کے اس “سچ” کایقین کون کرے گا؟
آج دنیا کو اس بچے کا انتظار ہے جو برہنہ بادشاہ کو یہ بتا سکے کہ وہ برہنہ ہے۔ترقی،امداد اور خیر سگالی کے جتنے خوش نما لباس آج یورپ اور امریکہ نے پہن رکھے ہیں،وہ سب کے سب ہر چند کہیں کہ ہیں نہیں ہیں اس لیے کہ انسانوں او رانسانوں میں تفریق کرنے والا نظام خواہ کتنی ہی کامیابیوں کا دعویٰ دار کیوں نہ ہو،اس وقت تک ناکام کہلائے گا،جب تک کہ فلاح کا دائرہ کارپوری انسانیت کو یکساں طور پر اپنے گھیرے میں نہیں لے لیتا۔اس کی مثال میرے حساب سے یوں ہے کہ جراثیمی،کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے بارے میں دنیا آج کتنا جانتی ہے؟۔۔۔ان ترقی یافتہ ممالک امریکہ و برطانیہ نے اعلان شدہ تجربات کے علاوہ جراثیمی،کیمیائی۔حیاتیاتی۔ریڈیائی اور تابکاری کے کتنے خفیہ تجربات کیے ہیں،؟دنیا میں انسانوں کی ایک پوری نسل ایسی بھی ہے جس کی حیثیت ترقی یافتہ بے لباس شہنشاہوں کے نزدیک “تجرباتی چوہوں “سے بھی کم ہے۔اپنی بات کے ثبوت کے لیے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ایٹم بم اور ہائیڈروجن بموں سے کہیں زیادہ خطرناک وہ جراثیمی اور کیمیائی ہتھیار ہیں،جو امریکہ اور برطانیہ نے بڑے پیمانے پر تیار کررکھے ہیں،اسرائیل،چین،ورس اور فرانس ان سے سہی لیکن وہ بھی اسی زمرے میں شامل ہیں،
2005کے جون یاجولائی کے شمارے ٹائم میگزین میں شائع ہونے والی رپورٹ اس کی شاہد ہے،اس کیعلاوہ جنوری2009کے نیوز ویک اور ٹائم کی متعلقہ رپورٹیں دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہوتیں،اگر واقعی دنیا کے مستقبل کی اسے فکر لاحق ہوتی اور اگر اس کی آنکھوں پر دبیز پردے نہ پڑے ہوتے۔
ابھی چند سال پہلے ایڈز کے جرثومے کے بارے میں ایک امریکی سائنس دان ڈاکٹر ایلن جونئیر کا دعویٰ تھا کہ ایڈز کا وائرس بھی امریکن جراثیمی پروگرام کی پیداوار ہے،اسی ڈاکٹر ایلن جونئیر کی کتاب جو ایڈز کے “سوداگروں “کے بارے میں ہے،دوسرے ایڈیشن کے ساتھ شائع ہوائی تھی،اور اس کے کچھ اقتباسات نیو افریقین میگزین میں بھی شائع ہوئے تھے،پھر اسی کتاب کے حوالے سے کھانا کے ایک ماہراقتصادیات ڈاکٹر اوضو نے اپنی کتاب تحریر کی جس میں نئی تحقیقات کے علاوہ افریقن میگزین کے طویل پیراگراف بھی شامل کیے،لیکن یہ ڈاکٹر ایلن جونئیر کی کتاب نے وہ شہرت پائی جس کا وہ حقدار تھااور نہ ڈاکٹر اوضو کی مایہ ناز کتاب کو پذیرائی مل سکی جس کی وہ مستحق تھی۔
ڈاکٹر ایلن جونئیر نے لکھا ہے،”ایڈز کے وائرس کی پیچیدہ سالمی بناوٹ کی بِنا پر یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ یا تو اس وائرس کو بنایا گیا ہے،یا انجینئر کیا گیا ہے،یا مکس کیا گیا ہے،یا پھر یہ دوسرے کسی مہلک وائرس یا کسی قدیم جراثیم کی پیداوار ہے،ڈاکٹر اوضو کی ریسرچ ہے کہ باخبر امریکی سائندانوں کو یقین ہے کہ ایڈز وائرس جراثیمی ہتھیاروں کی تیاری کی امریکی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے”۔
کچھ ایسا ہی دوسرے شعبوں میں ہورہا ہے،یورپی دنیا میں اس وقت سائنس سفید فام کے قبضے میں ہے،ترقی کے جو مثبت مظاہر ہمیں اپنے چاروں طرف دکھائی دیتے ہیں ان سے کہیں زیاہ معنی مظاہر دنیا سے پوشیدہ رکھے جاتے ہیں،کبھی کسی میگزین یا کسی کتاب میں کچھ شائع بھی ہوجاتا ہے تو اس بات کا بھرپور انتظام کیا جاتا ہے کہ بات جہاں کی تہاں ختم کردی جائے،اور افشائے راز کو شہرت کی کُھلی فضا نصیب نہ ہوسکے۔
آخر پہ میں ایک واقعہ کے بعد اپنی بات ختم کرتا ہوں،۔۔۔
1982میں جبکہ میں نیوز پاکستان میں مقیم تھا،مجھے ایک روسی کتاب پڑھنے کو ملی،یہ کتاب ماسکوکے”غیر ملکی کتابوں کا اشاعت گھر”کے ادارے نے شائع کی تھی جسے پڑھ کر میرے رونگھٹے کھڑے ہوگئے،اس میں لکھا تھا،امریکہ کی ریاست پانامہ میں 1982جون کے مہینے میں امریکی جراثیمی اسلحہ پروگرام کے تحت سوزاک کے چار سو غریب سیاہ فام امریکی مریضوں پر ایسے تجربات کیے گئے جن کا مقصد یہ پتہ لگانا تھا کہ سوزاک کا علاج نہ کرنے کی صورت میں مریض پر کیااثرات مرتب ہوتے ہیں،اس زمانے میں اینٹی بائیو ٹک دوائیں ایجاد ہوچکی تھیں،لیکن سوزاک کے ان سیاہ فام مریضوں کو ان سے مھروم رکھا گیا تھا،یہاں تک کہ وہ سب مرگئے،لیکن “تجربہ”کرنے والوں کا مقصد حاصل ہوچکا تھا،اُسی کتاب میں یہ بھی لکھا تھا کہ امریکہ کے پاس اس وقت 30 ہزار ٹن ہلاکت خیز کیمیاوی ہتھیار موجود ہیں۔
.

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *