دو دو، تین تین اور چار چار شادیوں والی آیت کا اصل تناظر۔۔۔

بہت دفعہ یہ بحث ہوتے سنی پڑھی اور دیکھی بھی، جس کا مطمحِ نظر اسلام کے ایک مسئلے پر اشکال رہا ہے، اور گتھی ہے کہ الجھے چلی جاتی ہے۔ کبھی لوگ یوں کہتے ہیں کہ یہ جو چار بیاہ کا مسئلہ ہے یہ عبث ہے اور اس کا وہ مطلب نہیں جو مرد بیان کرتے ہیں، اور یہ کہ یہ سب باتیں مردوں نے گھڑ لی ہیں اور چار شادیاں واحد مسئلہ ہے جس پر تمام مسلمان مردوں کا اجماع ہے۔ اور ایک قدم آگے بڑھ کر یہ کہا جاتا ہے کہ تفاسیر تو سب کی سب مردان خانے کی ملکیت ہیں، زنان خانہ تفسیر کے کارخانے سے قطعی بے دخل ہے۔

اصحابِ ایمان بھی اس مسئلے کے اپنے اپنے انداز سے قائل ہیں اور درست بات لکھنے اور کہنے میں ان کے انفرادی و گروہی مفادات پر زد پڑتی ہے، گویا اس میں ان کو جائز معاشرتی و معاشی مشکلات ہیں۔

ایمان والیاں بھی بہت مجبور ہیں اور ان کا نقطہ نظر سمجھنا اور اس کو مخاطب (Address) کرنا لازمًا ایک تعلیمی ضرورت ہے، جس سے عمومًا ان کو کورا رکھنا شاید معاشرے کا فرض بنا ہوا ہے۔ چنانچہ یہ مسئلہ غلط معلومات کی بنیاد پر سماجی دباؤ اور غلط تر تفہیم کا شکار ہے۔

اس ضمن میں ایک اشکال یہ ہے کہ خدا نے دو دو تین تین چار چار شادیاں کرنے کی اجازت دی ہے، اس کا حکم نہیں دیا۔ اور چونکہ مردوں سے عدل کی توقع بیکار ہے لہٰذا ان کو ایک ہی شادی کرنا چاہیے۔ (آیت اس بحث کے بالکل آخر میں ترجمے کے ساتھ آئے گی ان شاء اللہ۔)

ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ دوسری عورت کرنے سے پہلی والی تو مر ہی جاتی ہے (یہ دل کی افسردگی کی طرف اشارہ ہے ورنہ جہاں دو ہیں وہاں بعض اوقات تو دونوں ہی حیران کن طور پر زندہ بھی ہیں اور ٹھیک ٹھاک ہیں، لیکن چونکہ ایسے گھرانوں کی تعداد کم ہے اس لیے یہ مطالعہ ایک کیس سٹڈی ہی رہے گا نہ کہ عام واقعہ۔) ہاں، یقینًا ایسے لوگ بھی ہیں جو دوسری کے چکر میں پہلی کا استحصال کرتے ہیں۔ برائے گفتگو یہ تسلیم کیے لیتے ہیں کہ ایسے لوگ تعداد میں زیادہ ہیں۔

ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ دوسری شادی کرنا ٹھرکی مردوں کا کام ہے۔ ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ دوسری شادی کوئی اولاد کے لیے کرے تو ٹھیک ورنہ غلط ہے، یا یہ کہ عورت بدزبان ہو تو مرد دوسری شادی کرے ورنہ نہ کرے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اگر عورت جنسی ضرورت پوری کرنے سے قاصر ہو تو خاوند دوسری عورت لائے ورنہ نہیں۔

یہ طعنہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ شادیاں بچوں کی کرنا تھیں لیکن خود بیاہ رچا بیٹھا، کس قدر گھٹیا اور اوباش شخص ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی نے اس سے پوچھا کہ تمھیں اصل مسئلہ کیا تھا؟ بس خود ہی فیصلہ کر دیا! کیا وہ خود بتائے کہ میری موجودہ بیوی کو میری جائز جسمانی ضرورت پوری کرنے فلاں طبی یا نفسیاتی مشکل ہے اور میں زنا نہیں کرنا چاہتا اور یوں اپنی پہلی بیگم کو بھی طنز کا نشانہ بنوائے؟ شریف مرد اپنی چادر کبھی نہیں پھاڑتا (اگرچہ ایسے بھی ہوں گے جو اپنی چادر خود ہی پھاڑ لیتے ہوں)۔ اپنی بیگم سے متعلق کسی ایسی بات کو لوگوں کی زبانوں کا مزہ بنانا اپنی چادر پھاڑنا ہے۔ چناچہ مرد باتیں سن لیتا ہے اور یہ نہیں کہتا کہ میرا (یعنی میری بیوی کا) فلاں مسئلہ ہے جس کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا۔

ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ دوسری شادی کی اجازت اس لیے ہے کہ جنگوں کی وجہ سے مرد زیادہ مارے جاتے ہیں اور یوں معاشرے میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے۔ بہت مناسب نکتہ ہے لیکن اس کا کوئی بیان اس آیت میں کیوں نہیں ہے جس میں دو دو تین تین چار چار عورتیں کرنے کی بات ارشاد فرمائی گئی ہے؟ یہ آیت تو ایسی کسی وجہ کو بیان نہیں کرتی۔

عورت اگر بدزبان ہے (جس کی وجہ سے اگر دوسری شادی کا ارادہ ہے) تو اس کا حل کوئی اور ہے۔ اس کا اول حل شادی سے پہلے دیکھ بھال کرنا تھا، اور بعد کا حل اس عورت کو احسان کے ساتھ الگ کرنا ہے جو آخری درجے کا حل ہے۔ اگر ایک بدزبان عورت کو الگ کیے بغیر کوئی مرد دوسری شادی کر لیتا ہے تو کیا مسئلہ حل ہو جائے گا؟

ایک اشکال یہ ہے کہ پہلی عورت مرد کا ساتھ دیتی ہے۔ مرد کماتا ہے اور جائیداد بناتا ہے۔ دوسری عورت آکر جائیداد میں حصے دار بن جاتی ہے۔ یہ عدل نہیں ہے۔ اس ضمن میں خوب واضح بات ہے کہ مرد کماتا ہے تو اس کی کمائی ہے۔ اور اس کی ذمہ داری ہے نفقے کا بوجھ اٹھانا۔ اگر عورت کمائے تو سب اس کا۔ دیکھیے، گھر میں اگر کمانے والی عورت ہے اور وہ مر جائے تو وراثت میں باقی سوکنیں بے دخل ہیں سوائے شوہر اور اس کی اولاد کے جن کی وہ ماں ہے۔ اس عورت کے مال پر شوہر کی کسی اور بیوی اور اس کے بچوں کا کوئی حق نہیں ہے۔ مرد تمام بیویوں اور ان سے ہونے والی اپنی تمام تر اولاد کا ذمہ دار ہے، زندہ ہے تب بھی اور مر گیا ہے تب بھی، کہ مر کے بھی ان سب کو دے کے جائے گا۔

یہ ہے فرق زنا کاری کے ذریعے (یعنی بغیر ذمہ داری کا بوجھ اٹھائے) عیاش بننے اور کسی کو عزت کے ساتھ گھر کی زینت بنانے میں۔ اس میں عورت کے حقوق محفوظ ہیں۔ جب کہ بدکاری کی صورت میں حقوق کا کون نام لیوا ہوتا ہے؟ نہ وراثت نہ اولاد کا کوئی حق۔

دیکھیے، زنا تو زیادہ آسان ہے۔ جب کرو جتنا کرو، کوئی ذمہ داری ہی نہیں۔ اس کے جواب میں کوئی اگر گرل فرینڈ بوائے فرینڈ تہذیب لے آئے اور اس گفتگو کو ون نائٹ سٹینڈ قسم کی حرکتوں کے مقابل لائے، کہ بعضے مغربی ممالک میں تو بغیر شادی کے بھی وراثت مل جاتی ہے، تو اس عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دو شادیاں کرنا ہیں تو پہلی شادی اپنے سے پندرہ سال بڑی بیوہ سے کرو کہ نبی کریم علیہ السلام نے پہلی شادی عمر رسیدہ بیوہ سے کی اور ان کے ہوتے کسی سے نہیں کی۔ گزارش ہے کہ اپنے سے پندرہ سال بڑی بیوہ سے شادی محمد بن عبد اللہ نے کی اور نبوت ملنے سے قبل کی اور ان کی وفات تک اسے نبھایا، لیکن نبوت کے بعد کے جو نکاح ہیں وہ محمد رسول اللہ نے کیے۔ عائشہ بنتِ ابوبکر ان کی زوجہ بنیں تو غور کیجیے کہ نبی کریم نے عائشہ کے مقابلے میں دوسری بیگمات کو نکال باہر نہ کیا، حالانکہ آپ کو عائشہ سے محبت بھی زیادہ تھی اور ان کے والد کے لاتعداد احسانات بھی یقینًا تھے۔ یہ بات عدل کے ایک اور پیرائے کی وضاحت کرتی ہے اور یہ بھی کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اوپر بیان کردہ کسی ایک بھی بات کی وجہ سے نبی کریم علیہ السلام نے شادیاں رچائیں۔ نبی کریم علیہ السلام نے تو کنواری سے بھی شادی کی اور مطلقہ سے بھی۔ بچوں والی سے بھی کی اور بیوہ سے بھی۔ کمرو سے بھی کی اور خوبرو سے بھی۔

عرب اور ملحقہ علاقہ جات میں بہت سی بیبیاں دہائی دیتی ہیں کہ اگر تم مرد ہو تو دو دو تین تین چار چار کرو۔ مردوں نے یہ کرنا چھوڑا تو ایک گروہ سڑک پر نکل آیا۔ تاہم یہ یاد رکھا جائے کہ وہ گروہ اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں دوسری شادی کا عام رجحان ہے اور عورت کا اپنے نکاح کی بات کرنا معیوب نہیں جانا جاتا، لیکن اس کے باوجود بھی وہاں لڑکیاں بن بیاہی ہیں، اور اتنی بڑی تعداد میں کہ اب وہ اپنے احتجاج کو سڑک تک لے آئی ہیں۔

لیکن یہاں برِعظیم میں کتنی لڑکیاں یونہی زندگی گزار دیتی ہیں کہ کوئی تو زندگی کا ساتھی ہو لیکن معاشرہ کہتا ہے کہ بولو بھی نہیں اور پاکیزہ بھی رہو۔ ان کی مجبوری یہ ہے کہ وہ جائز تعلق یعنی بیاہ چاہتی ہیں جس کا سب سے اول ثمرہ جنسی تسکین ہے، جو کہ فطری ضرورت ہے۔ اللہ نے جسم کا نظام ہی ایسا بنایا ہے۔ اگر یہ لڑکیاں چاہیں تو بیاہ کے بغیر بھی یہ ضرورت آزو بازو سے پوری کرلیں، لیکن ان ایمان والیوں کو ایمان روکتا ہے (اور سماج کا دباؤ بھی)۔ یہ لڑکیاں بیچاریاں تو بیوہ یا مطلقہ بھی نہیں۔ ان کا کوئی پرسانِ جذبات ہے یا نہیں؟ جو لوگ دوسری شادی کو صرف بیواؤں کے لیے مقید کرتے ہیں وہ خدا کی نازل کردہ آیت پر قید لگا رہے ہیں اور اس آیت میں انسانوں کو دیے گئے عمومی منافع کو روک رہے ہیں۔ یہ آیت انسانی منافع کے لیے ہے، اپنی اغراض کے لیے نہیں۔ غرض تو کسی کو ایک رات پیسے دے کر گزارہ کر لینے سے بھی پوری ہو جاتی ہے، اور یہ پیسے مرد و عورت دونوں دے کر کام چلا سکتے ہیں اور چلاتے ہیں۔

پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ مرد خود اولاد کے قابل نہیں ہے لیکن اولاد نہ ہونے کی وجہ سے دوسری شادی کر رہا ہے جب کہ جانتا ہے کہ سقم خود میں ہے۔ اسی لیے عرض کیا ہے کہ نکاح کے لیے وہ قید نہ لگائی جائے جو اللہ نے نہیں لگائی۔ یہی اصول ہے قرآن کا کہ بس جو عورتیں اچھی ہیں صرف ان کو گھروں کی زینت بناؤ۔

قرآن نے اولاد کے نہ ہونے کو دوسری شادی کی وجہ نہیں بتایا بلکہ مختلف منافعے بتائے جن کے حصول کی خواہش مختلف لوگوں میں مختلف ہوسکتی ہے۔ ان میں سے ایک نفع کسی اکیلی عورت کا شریکِ زندگی اور مددگار بننا بھی ہے۔ کوئی کسی اکیلی عورت سے بھی پوچھ لے تو دل لرز جائے اس ظلم پر جو ہم سب بحیثیتِ معاشرہ اس پر کر رہے ہوتے ہیں۔ قارئین میں سے شاید ہی کوئی ہو جس کے خاندان میں ایسی دو ایک تنہا لڑکیاں موجود نہ ہوں۔ رہا اولاد نہ ہونا، تو آج کل تو میڈیکل سائنس کافی ترقی کرچکی۔ اب تو اولاد کا نہ ہونا مسئلہ نہیں رہا۔ باقاعدہ فرٹیلائزیشن کے کلینک ہیں جہاں ایک بیگم ہو یا چار بیگمات، اولاد لائی جانا ممکن ہے۔ فرٹیلائزیشن کا کم ہی کوئی طریقہ ہوگا جس سے شرع منع کرتی ہو۔

اسی طرح بیوہ ہی سے دوسری شادی کی قید لگانا، بدزبانی، یا مردوں کا تعداد میں کم ہونا یا جنسی تسکین نہ ملنا، وغیرہ وغیرہ کی قید لگانے کا حال ہے۔ یہ سب قیود من مرضی سے آتی ہیں۔ اپنی اپنی دلیل اپنے اپنے مقاصد۔ چنانچہ واضح ہوا کہ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ مرد کی جنسی خواہش ایک عورت سے ٹھنڈی نہ ہوتی تھی اس لیے دو دو تین تین چار چار کی بات کی گئی اور یہ مسئلہ قرآن میں آیا، ورنہ وحیِ غیر محرف میں جہاں نکاح و طلاق کی اور باتیں بہت تفصیل کے ساتھ ذکر کر دی گئی تھیں، خدا کو یہ ایک بات یا باقی باتیں بیان کرتے کیا مشکل تھی؟ نبی کریم علیہ السلام ہی کی مثال سے دیکھ لیجیے کہ ان کی متعدد شادیاں تھیں، لیکن ان میں سے کسی میں کوئی ایسی وجہ سے نہیں کی گئی جن کو آج کی عمومی گفتگو میں وجوہ بنایا جا رہا ہے۔

صنفِ مذکر کو خدا نے شریک بڑھانے کی صفت پر پیدا کیا ہے، چاہے وہ مذکر انسان ہو یا کسی اور مخلوق کا نر۔ اس کا کلی مقصد اپنے وجود کی زیادہ سے زیادہ تقسیم ہے تاکہ اس کا وجود زیادہ سے زیادہ باقی رہے۔ یہ بات تمام جانوروں میں بے حد نمایاں ہے، حتیٰ کہ پالتو جانوروں میں بھی نر کم ہی ہوتے ہیں۔ جنگلی جانوروں کا تو خیر بیان ہی کیا۔ مثلًا پورے گاؤں میں ایک ہی خوش قسمت سانڈ ہوتا ہے جو سال میں ایک دفعہ سب کے کام آتا ہے۔ (یہ جملہ صرف مزاحًا لکھا گیا ہے۔) مختلف ڈاکومنٹریز دیکھیں جن میں مثلًا چمپینزی کی نسل کا مطالعہ کیا گیا، جس کی ہمیشہ چار بیگمات کا ذکر نیشنل جیوگرافک میگزین میں میں نے خود پڑھا ہے۔ ماداؤں کا زیادہ ہونا بلکہ نروں سے کئی کئی گنا زیادہ ہونا گویا کائنات کے نظام کو چلانے کے لیے ایک فطری بات اور الٰہی نظام ہے۔ ایک قسم کے چوہے پر ڈاکومنٹری دیکھی جو صرف ایک جنسی تعلق کی امید پرزندہ رہتا ہے اور جیسے ہی یہ تحفہ ملے وہ مرجاتا ہے۔ اس کوریج میں کمنٹری کرنے والا کہتا ہے کہ یہ چوہا اپنا وجود بڑھا کر مرگیا، گویا کہ یہی اس کا بنیادی وظیفہ زندگی اور مقصدِ حیات تھا۔

ہم نہیں کہتے کہ مرد چمپینزی یا چوہا یا سانڈ ہے لیکن مرد بھی کسی نہ کسی طریقے سے اس فطری نظام کو پورا کرنے پر ہی مجبور ہے۔ مرد ہمیشہ سے خود کو تقسیم کرتا چلا آیا ہے اور اپنے وجود کو بڑھانا ہی اس کا مقصدِ اصلی ہے، اور یہی انسان کی اس دنیا میں بقا (Survival) ہے۔ یہ بات مرد کے صرف جنسی اعمال کے فطری تناظر میں کہی گئی ہے اگرچہ عورت کا بھی اس پروسیس میں اہم ترین مقصد یہی بنے گا۔ لیکن مرد چوہے کی طرح مرے گا نہیں بلکہ ذمہ داریاں نبھائے گا، اور ماں کے ساتھ مل کر اولاد کی پرورش کرے گا۔ اور یہ کام وہ لمبا عرصہ بغیر کوئی احسان جتائے کرتا ہے۔

دوبارہ ٹھرک کی طرف آئیے۔ اوپر کی گفتگو کی روشنی میں ٹھرکی صرف اس مرد کو کہا جا سکتا ہے جو عورت سے نزدیکی کا کام خاموشی سے اور کوئی ذمہ داری اٹھائے بغیر کر آئے۔ ایسی صورت میں بیگم بھی بے غم اور ساری دنیا کی زبانیں بھی خاموش، گو میاں کی لگاوٹی وارداتوں کا علم بیگم کو ہوتا رہتا ہو۔

ذرا غور کیجیے تو اسلام کی بیان کردہ دوسری تیسری چوتھی شادی ٹھرک نہیں ہے بلکہ یہ تو ذمہ داریاں اٹھانے کا نام ہے۔ اور اسی لیے خدا نے عدل کا نام بھی لیا۔ اس آیت کا ایک ثمرہ معاشرے سے مروجہ بدکاری کو روکنا ہے اور مروجہ بدکاریوں کو ذمہ داریوں اور حقوق کی درست ادائیگی سے تبدیل کرنا ہے۔ مثلًا اگر عورت ایک مرد کے ساتھ قانونًا و شرعًا علی الاعلان نتھی ہے تو اب مرد نفقہ کا ذمہ دار ہے اور عورت اس کے مال اسباب کی ذمہ دار۔ (صرف اتنی ہی بات نہیں ہے، یہ بات صرف مثالًا عرض کی۔) یہاں یہ بھی واضح رہے کہ دوسری تیسری چوتھی کی خدا نے نہ اجازت دی ہے نہ حکم دیا ہے۔ خدا نے ان جیسیوں کی خاطر کہ جو بوڑھی ہوگئیں، کسی اکیلے، غیر تقسیم شدہ مرد کی تلاش میں، دوسری تیسری چوتھی کی بات کی ہے، عین اسی لمحے، اسی ایک جملے میں، اسی خدا نے مرد کی اپنی ذات کی تقسیم کی فطرت کی خاطر، مثنیٰ یعنی دو دو سے بات شروع کی ہے اور چار چار پر ختم فرمائی ہے۔ اور ہندوستانیوں یا پاکستانیوں جیسوں کو ان کی جگہ رکھتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر (تم اور تمھاری موجود بیوی میں اس دوسری تیسری چوتھی سے) عدل کر سکنے کی طاقت و اہلیت نہ ہو تو پھر ایک پر ہی رکو۔

اب بات عدل کی بھی ہو جائے۔ یہ بھی زور ہے کہ عدل تو ہو نہیں سکتا لہٰذا دوسری عورت مت کرو۔ عدل تو خانگی معاشرت کی ہر بات کو محیط ہے۔ اور عدل نہ کر سکنا دوسری لانے سے قبل معلوم نہیں ہو سکتا۔ یا پھر یہ ایک گمان و وجدان ہے کہ عدل ممکن نہیں ہوگا، اور یہ گمان یا وجدان طے ہوگا کسی آدمی کی صحت، مالی حالت یا عادات وغیرہ سے مثلًا جھوٹ کی عادت، غبن کرنا، دھوکہ دینا، چوری کرنا، نکھٹو ہونا، شرابی ہونا، جواری ہونا، چرسی ہونا، بدکار ہونا، وغیرہ وغیرہ طے کریں گی کہ یہ آدمی عادل نہیں ہوسکتا۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی اہم ہوگی کہ مثلًا پہلی والی ہی اس قدر تنگ ہے کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن والی کیفیت میں ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بات نہیں ہے تو دوسری آئے گی تو ہی عدل کے ہونے نہ ہونے کا پتہ چل سکے گا۔ اگر عدل ہو تو سبحان اللہ، وگرنہ دین فیصلہ دے گا کہ جناب آپ ایک ہی پر قائم رہتے تو بہتر تھا۔ واللہ اعلم بالصواب۔

اس آیت سے قبل اسلام میں بیگمات کی تعداد مقرر نہیں تھی۔ جتنی مرضی کریں اور عدل کریں نہ کریں۔ اس آیت کے ذریعے سے اس معاشرتی نابرابری کی روک تھام کی گئی۔ چنانچہ عورتوں میں عدل رکھنے کو Address کرنا بھی اسی آیت کا نفع ہے۔ عورتوں میں عدل رکھنے والی یہ بات پہلی کسی آسمانی کتاب میں نہیں کہی گئی۔ نبی کریم علیہ السلام کی زیادہ شادیاں کرانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انسانیت کے نام خدا کے آخری پیغام میں عورتوں کے ساتھ عدل کرنے کے احکامات اور تنبیہات اتاری جا سکیں۔

عدل سے متعلق جملہ اہم باتوں میں جنسی ضرورت، نفقہ اور گھریلو پرائیویسی شامل ہے۔ خصوصی لگاؤ عدل سے باہر کی بات ہے۔ جو مرد دوسری عورت لاکر صرف انہی باتوں میں برابری کرلے، تیسری کی جانب قدم اٹھانا اس کے لیے ممکن ہے۔ جو ان میں عدل نہ کرے تو اسے کچھ دن بعد خود ہی یا تو طلاق پر جانا پڑے گا یا مظلومہ خلع لے کر نکل لے گی۔ اور خصوصًا جنسی معاملات اور نفقہ میں فارغ انسان کو تو دونوں مل کر ویسے ہی فارغ کر دیں گی۔

وہ تمام خواتین جو قربانی کی مثال بنتے ہوئے احسان دھرتی ہیں کہ ہم اولاد کی خاطر اس منحوس مرد سے بندھی ہوئی ہیں، وہ قطعًا کوئی کمال نہیں کر رہیں یا قربانی دے رہیں۔ اگر انھیں مرد پسند نہیں تو شریعت نے اجازت انھیں بھی دے رکھی ہے کہ اس مرد کا کھیڑا چھوڑ دیں۔ بعضی عورتیں مرد کو بچے نہ دے کر دوہری اذیت کا شکار ہوتی ہیں۔ پورے قرآن میں کہیں نہیں لکھا کہ اولاد کی خاطر زوجین اپنا آپ مار کر بیٹھے رہیں۔ قرآن میں محبت، مودت، موافقت کی بات ہے وگرنہ احسن طریقے سے علیحدہ ہو جائیں۔ یہ بھی قرآن نے کہا ہے۔ عمل تو کیجیے قرآن پر۔

عورت کو بلاوجہ باندھ کے رکھنے کو خدا سخت ترین ناپسند کرتا ہے چنانچہ اسی لیے طلاق کے قوانین خاصی طوالت سے بیان ہوئے۔ یاد رہنا چاہیے کہ نکاح کی تمام تر باتیں طلاق کی تمام تر باتوں سے آپس میں لازم و ملزوم کی طرح منسلک ہیں۔ چنانچہ نکاح و طلاق کے قوانین عورت و مرد کے تعلق میں ایک زبردست چیک اینڈ بیلنس ہیں۔ ورنہ جس زمانے میں قرآن نازل ہوا تھا اس وقت عورت کے لیے مرد اور گائے بھینس کے لیے گاؤں کے سانڈ میں عملًا کوئی فرق نہ رہا تھا، مطلب کہ شادی کے لیے عورت کی پسند ناپسند کا خیال رکھنے کا کوئی حکم کسی آسمانی کتاب میں موجود نہ تھا۔

یہ بھی اہم ہے کہ ایک میاں بیوی اگرچہ ان میں کوئی سوکن شریک نہ بھی ہو تب بھی عدل کا دونوں جانب سے ہونا بیان کیا جانا چاہیے نہ کہ مرد کو عدل پر لگانا اور خود اس کے خلاف کھڑے رہنا۔ اس کی عملی صورت یہ ہے کہ مرد نفقہ لائے تو قدر کی جائے، جسمانی تسکین دے تو جوابًا اتنا ہی قدر دان بنا جائے، وغیرہ۔ عدل کا مطالبہ مرد سے وہ عورت ضرور کرے جو اپنی جانب سے عدل میں مکمل ہو۔ اور اگر جوابًا عدل نہ ملے تو اللہ کا عطا کردہ طلاق و خلع والا راستہ استعمال کیا جائے نہ کہ چیخ چیخ کر گھر کو جہنم بنایا جائے یا رو رو کر ہمدردیاں سمیٹی جائیں۔

یہ ایک خوبصورت سوال ہے کہ مرد کا عدل صرف اس وقت معلوم ہوگا جب اس کی زوجیت میں کم سے کم دو عورتیں بیک وقت رہ رہی ہوں۔ فرض کریں اگر مرد دونوں بیویوں میں محبت کو چھوڑ کر باقی معاملات میں عدل نہیں کر پا رہا، اور پھر تنگ آ کر ایک کو طلاق دے دیتا ہے، تو ایسی صورت میں شریعت کیا کہتی ہے کہ تم نے عدل نہیں کیا اس لیے اب ایک پر اکتفا کرو اور وہ جسے طلاق دی گئی ہے اس کا کیا ہوگا؟ اس مسئلے کا تعلق (جہاں تک ہمارے معاشرے کا تعلق ہے) شادی اور طلاق ہر دو کا آسان و عام (Frequent) نہ ہونا ہے۔ عرب میں یہ دونوں چیزیں عام ہیں۔ انھیں مشکل نہیں۔ ہمارے ہاں ستی ساوتری میاں اور ستی ساوتری بیویاں ہیں اور ساتھ میں یہ قول جہیز اور بری کا حصہ کہ جنازہ اسی گھر سے نکلے، تو یہی مزاج ہر جگہ کاموں کو اور زندگیوں کو مشکل تر بنا دیتا ہے۔ قرآن ہندوستانی مزاج کی خاطر نہیں اترا بلکہ انسانی مزاج و منافع کی خاطر اترا ہے۔ ہندوستانی مزاج اب تک ایک لاینحل مسئلہ ہے جو ہندوتوا کا شاندار عکس ہے۔

یہ سب دو وجہ سے آسان ہو سکے گا۔ ایک تو یہ کہ اچھا ایمان عدل کروائے اور اپنے خلاف فیصلہ کرواتے بھی نہ ہچکچائے۔ اور اگر ایسا اچھا ایمان نہ ہو تو معاشرہ، خاندان اور بالآخر ملکی قانون مسائلِ نکاح و طلاق و خلع میں مددگار ہو نہ کہ مصیبت، تاکہ زوجین اور ان کے متعلقین ایک دوسرے کے ظلم سے محفوظ رہیں اور شریعت کے خلاف عمل کرنے کے گناہگار نہ ہوں۔

اور سب سے آخر میں وہ بات جو سب سے اہم ہے۔ جس آیت کے ذیل میں یہ ساری بات کی گئی ہے وہ مکمل آیت یہ ہے:
وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثنیٰ و ثُلٰثَ و رُباع۔۔۔
ترجمہ: اگر تمھیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرکے تم انصاف نہ رکھ سکو گے تو (ان کے علاوہ) اور عورتوں میں سے جو بھی تمھیں اچھی لگیں، تم ان سے نکاح کرلو، دو دو، تین تین، چار چار سے، لیکن اگر تمھیں عدل نہ کر سکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا تمھاری ملکیت کی باندی، یہ زیاده قریب ہے، کہ (ایسا کرنے سے نابرابری اور) ایک طرف جھک پڑنے سے بچ جاؤ۔

اس آیت سے پچھلی آیت کہہ رہی ہے کہ یتیم لڑکیوں کی پرورش کرو اور ان کے اموال کی نگہبانی کرو، اور اس آیت کا بیان ہے کہ ان سے بیاہ کرو۔ لیکن اگر بیاہ کرنے میں تمھیں خوف ہو کہ تم بوجہ ان کی یتیمی اور بے آسرا ہونے کے، ان کا استحصال کرو گے تو پھر وہ عورتیں جو دیکھنے بھالنے میں، سلیقہ شعاری، رہن سہن ، عادات میں، شکل و صورت میں اور سیرت میں اچھی ہوں، انھیں اپنے گھروں کی زینت بناؤ اور دو دو کرو، تین تین کرو، یا چار چار کرو۔ لیکن اگر یہاں بھی خوف ہو بوجہ تعداد کی زیادتی یا کوئی اور بات جو عدل میں مانع ہے، جس کو تم خود سب سے اچھا جانتے ہو، تو ایک ہی پر اکتفا کرو۔ یہ بات واضح ہے کہ قرآنِ کریم میں یہاں پر بیان یتیم لڑکیوں کی پرورش اور شادی کا تھا جس کے ذیل میں شادی کے باقی احکام ضمنًا ذکر ہوئے۔ ایک اعتراض یہ اٹھایا جا سکتا ہے کہ ہر پہلی، دوسری، تیسری یا چوتھی عورت کو پہلے یتیم لڑکیوں کی پرورش کرنا ہوگی ورنہ شادی کی شرط پوری نہیں ہوگی، یعنی اگر کوئی بغیر یتیم لڑکیوں کی پرورش کیے پہلی شادی کرے تو کیا یہ قرآن کے حکم کے خلاف ہوگا؟ جواب ہے: بالکل نہیں۔ یہی حال دوسری تیسری اور چوتھی کا بھی ہے۔

عرض ہے کہ آیت مثنیٰ و ثلث و رباع کسی قسم کی قید نہیں لگا رہی بلکہ آزاد چھوڑ رہی ہے۔ اصل مطمحِ نظر صرف معاشرے کے گھروں کا اور آنے والی نسلوں کا درست چلنا ہے۔ چنانچہ ماطاب لکم سے بتا دیا گیا ہے کہ وہ خواتین جو اچھی ہیں، تم ان کو اپنے گھروں کی زینت بناؤ، گھر اور نسل سب سنور جائیں گی۔ بدسلیقہ، بدتمیز، زبان دراز یا خدانخواستہ بدکار عورت کو گھر میں لا ڈالنے کا خدا نے نہ حکم دیا ہے اور نہ ترغیب ہی دی ہے۔ جو مرد ایسی عورتوں کو گھروں میں ڈال کر پریشان زندگی گزار رہے ہیں وہ خدا کی نافرمانی میں مبتلا ہیں اور اسی کا بھگتان بھگت رہے ہیں۔

نیز اچھی لگنے سے مراد کیا ہے؟ اس کی تشریح بھی اوپر کی جا چکی ہے مبادا اس اچھی لگنے کو بھی ٹھرک کے معانی پہنائے جائیں۔ خدائے پاک نے تو اس آیت سے پچھلی والی آیت میں ٹھرک پنے کی خصوصًا نفی فرمائی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

نوٹ: اس تحریر میں تمام تر مہربانی اللہ کی ہے اگر یہ سب درست ہے۔ اس گفتگو کو لکھنے میں وہ تمام لوگ مددگار ہیں جو کسی نہ کسی قسم کا اشکال لے کر آئے یا اس کے جوابات ایک بحث کی شکل میں پیش فرماتے رہے۔ میں ان سب کا شکر گزار ہوں۔ خدا ہم سے راضی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *