• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ میں کوئی ڈیل ہوئی ہے یا نہیں ، فیصلہ منطق سے کریں۔۔ غیور شاہ ترمذی

سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ میں کوئی ڈیل ہوئی ہے یا نہیں ، فیصلہ منطق سے کریں۔۔ غیور شاہ ترمذی

SHOPPING
SHOPPING

تحریک انصاف کے ذرائع یہ دعوی کر رہے ہیں کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف 16.7 ارب ڈالرز کی پلی بارگین ڈیل کر کے باہر نکلے ہیں جس کا 20% جمع بھی کروا دیا گیا ہے اور اس میں 2 عرب ممالک کی گارنٹی ہے کہ وہ باقی کے 80% بھی لندن جاتے ہی فوراً جمع کروا دیں گے۔ اسی طرح یہی ذرائع زارداری صاحب کے بارے میں بھی 14 ارب ڈالرز کی پلی بارگین کے بارے ابھی سے افواہیں پھیلانا شروع ہو چکے ہیں۔ اس طرح کے دعوے وہی کر رہے ہیں جنہیں ہنوز تحریک انصاف سے تبدیلی کی امید ہے یعنی کہ 200 ارب ڈالرز واپس آئیں گے ، کرپشن کا خاتمہ ہو گا ، دوسرے ملکوں سے لوگ نوکری کرنے آئیں گے، ریڑھی لگانے والا بھی ٹیکس دے رہا ہو گا، غربت کا خاتمہ ہو جائے گا ، ایف ڈی آئی چھت پھاڑ کر باہر نکل جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ تحریک انصاف کے ان سیاسی نابالغ   لوگوں کے مقابلہ میں عام عوام کچھ نہ کچھ شعور حاصل کر چکے ہیں اور جان چکے ہیں کہ سال سے اوپر وقت ہو گیا ہے لیکن بدقسمتی سے شیخ چلی کے ان خوابوں میں سے کسی کی بھی تعبیر نہیں ہو سکی بلکہ الٹا ہر سفید پوش انسان کو ہلاکت خیز مہنگائی کی وجہ سے جان کے لالے پڑ گئے  ہیں ۔

تحریک انصاف سوشل میڈیا سیل اراکین کی طرف سے پلی بارگین افواہوں کے برعکس وفاقی وزیر فواد چوہدری, چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال اور بذات خود وزیر اعظم دعوی کر چکے ہیں کہ وہ نہ تو ڈیل دیں گے اور نہ ہی ڈھیل بلکہ اگر ایسا ہوا تو استعفی دے دیں گے۔ ماضی میں وہ یہ اعلان بھی کر چکے ہیں کہ نواز شریف اور زارداری کی جیل بیرکوں سے ائیر کنڈیشنر بھی اتار دیں گے اور کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

ان دونوں متضاد معاملات میں سے صحیح کا فیصلہ کرنے کے حوالہ سے عقل اور منطق کہتی ہے کہ پلی بارگین ڈیل ہونے کے بارے میں اصل بات وہ ہے جو وزیر اعظم, وفاقی وزیر اور چئیرمین نیب کہہ رہے ہیں۔ یعنی نواز شریف کی ہو چکی ضمانت اور ہنگامی بنیادوں پر فوراً ہی مریم نواز اور زارداری صاحب وغیرہ کی ممکنہ ضمانت کے معاملہ میں کسی ڈیل اور ڈھیل کا عنصر شامل نہیں ہے۔ اور اگر ایسا عنصر شامل ہے تو پھر یقیناً وزیر اعظم سمیت, فواد چوہدری اور چئیرمین نیب جھوٹے ثابت ہو چکے ہیں جن کے خلاف آئین کی دفعہ 62, 63 کے تحت کاروائی ہونی چاہیے۔

دوسری طرف دونوں بڑی پارٹیوں سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کی ضمانت پر رہائی کسی ڈیل کا نہیں بلکہ مولانا فضل الرحمن کے ملک گیر دھرنے میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی شمولیت سے تحریک انصاف اور اس کے آقاؤں پر بڑھتے دباؤ کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کے دوسرے دھڑے کی طرف سے معاملات کو کنٹرول کرنے کی کوشش ہے۔ اس کوشش کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کسی بھی طرح اپوزیشن کے اکٹھ کو توڑا جائے اور اسی لئے نواز شریف اور زارداری کو جعلی کیسوں میں ضمانت کی سہولتیں دے کر اسٹیبلشمنٹ اپنے لئے اس دھرنے کے دوران اور بعد میں آسانیاں لینا چاہتی ہے۔

تحریک انصاف کے ذرائع کی پھیلائی افواہوں کے حساب سے نواز شریف کے ساتھ اس پلی بارگین کا دوسرا اہم نقطہ نواز شریف فیملی کی لندن روانگی اور سیاست سے مکمل بےدخلی ہے۔ لیکن اس دعوے  کے برعکس اور اسٹیبلشمنٹ کی خواہش کے باوجود بھی میاں نواز شریف نے علاج کے لئے بھی پاکستان سے باہر جانے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ یہاں رہ کر ہی سارے مقدمات کا سامنا کریں گے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ میاں نواز شریف کی طرف سے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اس طرح ڈٹ جانے سے سول سپریمیسی کے حصول کی کوششوں کو بہت تقویت حاصل ہوئی ہے کیونکہ اس سے پہلے آصف زارداری کیسوں میں ضمانت کی پیشکش کو کئی دفعہ مسترد کر چکے ہیں۔ زارداری صاحب کے بارے میں تو خود فردوس عاشق اعوان اور شیخ رشید بھی بیانات دے چکے ہیں کہ ان کی صحت تو نواز شریف سے بھی زیادہ متاثر ہے مگر وہ جیل کی سختیوں کو جھیلنے کے لئے پوری طرح تیار اور مصمم ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی تمام شرطوں کو مسترد کرتے ہوئے صاف کہہ دیا ہے کہ جمہوریت, آئین اور سول سپریمیسی پر کسی بھی طرح کا سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

بادی النظر میں اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں کے درمیان ڈیل کی خبریں افواہیں نہیں تھیں بلکہ یہ حقیقت ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ اس مرتبہ ڈیل کی ڈیمانڈ سیاستدانوں کی طرف سے نہیں تھی بلکہ پیشکش اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے سیاستدانوں کو تھی۔ حیرت انگیز طور پر دونوں بڑے سیاستدانوں نے اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ڈیل کی اس پیشکش کو یکسر مسترد کرتے ہوئے شدید بیماری میں بھی جیل میں رہنے اور مقابلہ کرنے کو ترجیح دی۔ سب سے خوشی کی بات یہ ہے کہ جیل کی ان سختیوں نے نواز شریف کو ایک سیاستدان سے تبدیل کر کے ایک لیڈر بنا دیا اور اب پنجاب کے پاس بھی ایک لیڈر موجود ہے جس کا اگر سندھ سے زارداری صاحب سے پُرخلوص اتحاد ہو گیا تو یہ جمہوریت کے لئے اچھی خبر ہو گی۔ میاں نواز شریف نے اپنی زندگی کو لاحق شدید خطرات کے باوجود بھی  ڈیل نہیں کی اور اپنی شرائط پر ہی باہر آئے۔ اسٹیبلشمنٹ کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ زندہ نواز شریف سے (خدانخواستہ ۔ اللہ نہ کرے) جیل میں وفات پانے والا نواز شریف بہت زیادہ خطرناک ہوگا, اسی لئے نواز شریف کی صحت کو لاحق خطرات کے شدید ہوتے ہی ان سمیت تمام بڑے سیاسی راہنماؤں کی فوری ضمانت کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ضمانت پر فوراًرہائی پانے والے ان راہنماؤں کی فہرست میں بہت جلد حمزہ شہباز شریف, فریال تالپور, شرجیل میمن اور رانا ثناء اللہ سمیت دوسروں کا بھی اضافہ ہو جائے گا۔

دوسری طرف وزیراعظم عمران خان اپنےمخالف سیاسی راہنماؤں کی اسٹیبلشمنٹ سے ممکنہ کسی ڈیل کے امکانات کو اپنے خوف کی وجہ سے مسترد کررہے ہیں۔ دراصل وزیراعظم عمران خان اتنی زیادہ مرتبہ ڈیل کے امکانات کو مسترد کرچکے ہیں کہ شک ہورہا ہے کہیں واقعی ڈیل تو نہیں ہو رہی مگر اس طرح کی کسی ڈیل میں بشمول میاں نواز شریف کو ریلیف دینے میں عمران خان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ لگ یہ رہا ہے کہ عمران خان بھی احتجاجاً کسی سے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے ڈیل نہیں دینی ۔ ڈیل کے بارے میں افواہیں ہماری سیاسی تاریخ میں درست ثابت ہوتی رہی ہیں۔ سنہ 2000ء میں پارٹی کو کچھ نہیں پتا تھا مگر میاں نواز شریف فیملی سمیت ملک سے اچانک چلے گئے تھے۔ ممتاز تجزیہ نگار مظہر عباس کہتے ہیں کہ وزیراعظم اسٹیبلشمنٹ اور اپنے سیاسی مخالفین کی خود سے بالا بالا اس طرح کی ڈیل کی اس لئے بھی مزاحمت کر رہے ہیں کہ اس صورت میں ان کی سیاست ختم ہو جائے گی۔

SHOPPING

فوری طور پر ضمانت پر رہائی کے باوجود بھی میاں نواز شریف کو مکمل ریلیف ابھی تک نہیں ملا جس کی بنیاد وہ معاملات ہیں جو ابھی تک اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں میں طے نہیں ہو سکے۔ کیا میاں نواز شریف کے علاوہ دوسرے سیاستدانوں کو بھی ضمانت کی صورت میں فوری ریلیف ملے گا, اس کا امکان مولانا فضل الرحمن کے لانگ مارچ کی کامیابی اور پیپلز پارٹی و مسلم لیگ نون سمیت دوسری سیاسی جماعتوں کی اس میں بھرپور شمولیت سے ہو گا۔مولانا فضل الرحمان کے زیر اثر دیوبندی مدارس میں طلباء کی تعداد قریبا” 20 لاکھ ہے ، جن میں لاکھوں کی شمولیت کو چندہ مہم اور 100 روپے کے ٹکٹ کے ذریعے یقینی بنایا جا چکا ہے ۔ جس قسم کا نصاب ان مدارس میں پڑھایا جاتا ہے اور جس قسم کے طلباء پروان چڑھائے جاتے ہیں ، وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔ یہ سیاسی کارکن نہیں، مذہبی کارکن ہیں جو ٹھوس ہوتے ہیں اور امیر کے حکم کے بغیر ہلتے نہیں ہیں ۔ اگر آزادی مارچ کے شرکاء کی تعداد 50 ہزار تک بھی چلی جائے ، اور اس مجمع کو مذہبی تقاریر و نعروں کے ذریعے چارج کیا جائے تو آنے والے دنوں کا مستقبل کیا ہو گا ، سوچ کر بھی جھرجھری آ جاتی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی دوسری جماعتیں بھی اگر عام آدمی اور اپنے کارکنوں کی کچھ تعداد کو اس لانگ مارچ اور دھرنے میں کھینچ لانے میں کامیاب ہو گئیں تو سیاستدانوں کے لئے بہت آسان ہو جائے گا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے اپنی شرائط پر ڈیل کرے ورنہ اسٹیبلشمنٹ کی جمہوریت میں دخل اندازی بھی چلتی رہے گی اور سول سپریمیسی کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *