مگر ہم بہت بھو کے تھے۔۔۔ سلمیٰ اعوان

گہرے سبز پردے کے تلے سانس لیتی سراندیب کی زمین
سُورج فطرت کی پچی کاری پر خراج تحسین پیش کرتا ہے
وہ اپنی دھرتی پر انسان اور چرند پرند کو محبت اور آتشی سے رہنے کا کہتی ہے
گرچہ جنگوں نے اس کی خوبصورتی کو گہنایا اس کے دودھ اور شہد میں خوف گھولا
پھر بھی اس کا دور اور نزدیکی افقی حسن مسلسل یاد دلاتا ہے
کہ آنکھ کی پتلی میں ٹھہرا ہوا ڈر ایک دن ختم ہوجائے گا
(ڈیلانتا گونواردانا)

اس وقت جب دھوپ کا رنگ سونے رنگے قہوے جیسا ہوگیا ہے اور درختوں کے سائے لمبوتری صورت اختیار کرگئے ہیں۔ہم اس زمین کے مرکزی شہر کولمبو کے مضافات سے گزر رہے ہیں۔
میری دائیں بائیں کی مسلسل نظر بازی نے مجھے تیسری کیا دوسری دنیا کے بڑے اور قابل ذکر شہروں کے مضافات کی یاد دلائی ہے۔منظروں کی یکسانیت نے ماضی کے کچھ دریچے کھول دئیے ہیں۔ وہی بے ترتیبی اور بدنظمی کا پھیلاؤ، کہیں آبادی کی شکل میں اور کہیں چھوٹے بڑے صنعتی یونٹوں کی صورت۔غربت کی جھلکیاں بھی نمایاں تھیں۔ لیکن مجھے انہیں بند کرنا پڑا ہے۔
”کہ یہ کولمبو ہے۔“میں نے اپنے گائیڈ کی آواز کو سُنا ہے۔

شہر تو صرف چھ صدیاں پراناہے جو موجودہ سری لنکا کا نہ صرف دارلخلافہ ہے بلکہ کمرشل مرکز،مختلف نسلوں اور تہذیبوں کا دل کش مکسچر بھی ہے۔پرتگیزوں نے سولہویں صدی کے آغاز سے اس کے نقوش سنوارنے شروع کردئیے تھے۔ڈچ اور انگریزوں نے بھی اس میں اپنا حصّہ ڈالا۔اور شہر کا چہرہ مہرہ سچی بات ہے اتنا دلکش اور دیدہ زیب بنا دیا کہ آنکھ جھپکنی مشکل ہورہی تھی۔
اس کے یہ سارے رنگ گاڑی میں بیٹھے دیکھے جارہے تھے۔ بلندو بالا،دلکش، جدید اور قدیم عمارتوں کا جنگل اُگا ہوا تھا۔جس میں شہر تیز تیز سانسیں لیتا تھا۔

ہماری جانب سے بہت ساری شرائط کا بار بار اعادہ ہورہا تھا۔ہوٹل سستا اور اچھا ہو۔لوکیشن بہترین ہونی چاہیے۔ساحل سمندر کے آس پاس ہو تو کیا ہی بات۔۔۔
مسٹر جسٹنن چپ چاپ گاڑی سڑکوں پر دوڑاتے جاتے تھے۔تھری اور فورسٹارہوٹلوں پر رُکتے۔ہماری طرف سے ناں پر آگے چل پڑتے۔کچھ بولے بغیر،کچھ لعن طعن کیے بغیر۔

”مسٹر جسٹنن آپ کیا پہلی بار کولمبو آئے ہیں جانتے نہیں کہ اوسط قسم کے ہوٹل کہاں اور کونسے ہیں؟دو گھنٹے سے چکریاں کاٹ رہے ہیں۔“
اور وہ بڑے دھیمے لہجے میں بولے تھے۔
”ہمارے گاہک زیادہ یورپی لوگ ہوتے ہیں۔وہ میرئیٹMarriott،تا ج سمودرہSaamudra،کولمبو ہٹن،ہولی ڈے ان اور ہوٹل لنکا اوبراے میں ٹھہرنا پسند کرتے ہیں۔یہ سب پانچ اور چھ ستارہ ہوٹل ہیں۔“
بھئی بڑا صلح جو قسم کا آدمی تھا۔کوئی تیز طرار ہوتا تو پھٹ سے ہمارے منہ پر کہتا۔
”تم جیسی چپڑقناتی عورتوں نے وختہ ڈالا ہوا ہے۔تمہاری پیش کردہ شرائط پر پورا اُترتا ہوٹل تلاش کرنا کتنا مشکل ہورہا ہے؟اب تم ہو بھی عورتیں۔مرد ہوتے تو کہیں بھی پھینک دیتا۔تم ادھیڑ عمر ماں جیسی عورتوں کا تو لحاظ کرنا پڑتا ہے۔یوں بھی پانچ دن تم لوگوں کے ساتھ گزارے ہیں۔ہم مشرقی لوگوں کے دیدوں میں ابھی شرم و لحاظ کا پانی باقی ہے۔اور ہم اپنی مشرقی روایات کا بہت احترام کرتے ہیں۔
خدا کا شکر ہی تھا کہ کوششیں بارآور ہوئیں۔وائی ڈبلیو سی اے کی دو منزلہ عمارت اچھی خوبصورت تھی۔محل وقوع بہت موزوں تھا۔دو چھلانگیں مارو تو سمندر میں جا اُترو۔نظاروں سے دل بہلاؤ۔ سیر کرو۔غوطے بھی مارے جاسکتے تھے اور اگر ڈوبنے کو جی چاہے تو اس کی بھی سہولت مہیا تھی۔گلی بہت کشادہ تھی۔مین سڑک کے ساتھ زمباوے کا سفارت خانہ تھا۔آتے جاتے اُن سے شناسائی کی جاسکتی تھی۔

مسٹر جسٹنن پریرا کو ہم نے محبت سے چھوٹے موٹے انعام اور معافی شافی کی عرضی کے ساتھ رُخصت کیا۔کمرہ اوپر کی منزل میں تھا۔کُھلا ڈلا سا۔بسترآرام دہ۔اب بھوک لگ رہی تھی۔
سیڑھیوں کے ساتھ ہی ویٹنگ لاؤنج دوسری طرف ہال نما ٹی وی روم اور ملحقہ چھوٹا سا آفس تھا۔وہیں جا کر میں نے مُدّعا بیان کیا۔کورا چٹا بے نیازی اور روکھے پن سے لبالب بھرا جواب تھا۔
”آپ لسٹ پر نہیں۔آج تو نہ چائے ملے گی اور نہ ہی کھانا۔“
”یہاں کیا ناپ تول کر کھانا پکتا ہے“۔میں نے یہ سوچا۔مگر کہا نہیں اور جب کچھ کہا تو لہجے میں مسکینی تھی۔عاجزی تھی۔
”کوئی کنٹین نہیں ہے یہاں۔“

اُف یہ بتانا مشکل ہے کہ اُدھیڑ عمری عورت کے چہرے پر میرے سوال نے کیسی رعونت بکھیری۔ہونٹوں نے تو کچھ کہنا یا کوئی وضاحت دینے کی زحمت ہی نہ کی۔نہایت ناپسندیدہ سے جذبات کا اظہار فقط آنکھوں نے ہی کیا۔میں نے بھی دل میں کہا۔
”بھاڑ میں جاؤ۔کہیں آس پاس ریسٹورنٹ تو ہوں گے ہی نا۔کچھ نہ کچھ تو مل ہی جائیگا۔

ابھی میں نے کمرے سے باہر آکر بیرونی گیٹ کی طرف رُخ پھیرا ہی تھا کہ ایک بے حد خوبصورت آواز نے مجھے پلٹنے،رکنے،دیکھنے اور سُننے کے لیے کہا۔ٹی وی پر کوئی گارہا تھا۔وہ گیت جسے میں نے سری لنکا کے معتدد شہروں کی سیاحت کے پانچ دنوں میں متعدد بار سُنا تھا۔جس کا ترجمہ جانی تھی۔ایک حساس شاعر کا گیت۔ دل کو اداس کرنے والی آواز میں۔
کتنی تنہا اور اُداس سی تھی میں تمہارا میری زندگی میں آنا
کبھی نہ بھولنے والی یادوں کا خوبصورت تحفہ تمہی نے مجھے دیا تھا
پھر تم نے مجھے چھوڑ دیا میں نے چاہا میرے وہ خواب
جو صرف تمہارے لیے تھے اُس آسمان پر لکھ دوں
جو تم پر سایہ فگن ہے آخر میں یہ کیوں چاہتی ہوں
کہ کبھی وہ وقت آئے جب تم میری آنکھوں کو صرف
ایک بار پھر دیکھنے کی تمنا کرو۔۔۔۔۔

باہر نکلی۔۔گلی خوفناک سناٹے میں ڈوبی ہوئی تھی۔مین سڑک پر پہنچی۔سامنے تاحد نظر پھیلا سیاہی مائل سمندر تھا۔ہواؤں کے زوردار ریلے تھے۔ بڑی کشادہ سڑک اور اس پر بنی دکانیں بڑی خاموش سی تھیں۔قریب کی دو تین دکانوں میں گئی۔پتہ چلا آفسز ہیں۔پوچھنے پر بھی کِسی نے راہنمائی نہ کی۔میں نے گردو پیش کا جائزہ لیتے ہوئے ذرا مضطرب سے لہجے میں اپنے آپ سے کہا تھا۔
”میرے اللہ یہ ہم کہاں آگئے ہیں؟“اب کیا کروں۔واپس آکر پھر لاؤنج سے ملحقہ آفس کے سامنے کھڑی ہوگئی۔وہی چہر ہ پھر سامنے تھا۔میرے لہجے میں مسکینی تھی۔عاجزی تھی۔میں نے اپنی مشکل سے اُسے آگاہ کیا۔وہاں وہی کچھ تھادل کو جلانے والا اصول اور قواعد کا سبق۔

میرے لیے  یہ امر مقام حیرت تھا کہ اِس عورت کے اندر کیسا پتھر دل ہے۔کیا اِس اندھی کو اِس پردیسن کے چہرے پر پھیلے بھوک کے تاثرات نہیں دِکھ رہے ہیں۔
کمرے میں آکر میں نے مہرانساء کو صورت حال سے آگاہ کیا۔
”پلیز کچھ کرو۔میرے اندر تو اٹھنے کی ہمت نہیں ہے۔“
میں بالکونی میں آکر کھڑی ہوگئی۔ کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔دفعتاً میں نے ایک گاڑی کو عین اپنے سامنے والے گھر کے آگے رکتے،سیاہ عبایہ میں لپٹی خاتون کو اُترتے،بیل بجاتے،دروازہ کھلتے اور اندر جاتے دیکھا۔سیاہ عبایہ نے یکدم میرے سارے وجود میں سنسنی کی سی کیفیت پیدا کردی۔ مجھے مانوس سی طمانیت کا احساس ہوا۔
ابھی میں قیاس آرائیوں کی گُھمن گھیریوں میں تھی کہ خاتون باہر آئی۔گاڑی میں بیٹھی اور گاڑی فراٹے بھرتی یہ جا وہ جا۔میں فوراً نیچے اُتری اورپل بھر میں اُسی گیٹ کے سامنے جاکھڑی ہوئی۔
”چلو جو ہوگا دیکھا جائے گا۔گھر اگر کِسی مسلمان کا نہیں بھی ہے تب بھی یہاں آنے والے خاتون مسلمان تھی۔مکینوں کی سوچ شاید مثبت ہی ہو۔عیسائی کی تو پڑھ بیٹھی تھی۔
میں نے بیل کی بجائے چھوٹے دروازے کو دھکا دیا جو کُھل گیا۔ اندر داخل ہوئی۔دائیں بائیں دیکھتی اُس سمت بڑھنے لگی جدھر سے کچھ کھٹ پٹ کی سی آوازیں آرہی تھیں۔یہ یقیناً  باورچی خانہ تھا کہ کھانے کی ملی جلی مخصوص خوشبو اسی سمت سے آرہی تھی۔دروازہ کھلا تھا اور کمرے کی کرسی زمین سے تین پوڈے اونچی تھی۔سیڑھیاں چڑھ کر عین دروازے میں جاکھڑی ہوئی۔
جدید وضع کا کچن میرے سامنے تھا۔ایک خاتون سلیب پر دھری پرات میں کچھ گوندھ رہی تھی۔
میں نے قدرے اونچی آواز میں ”پلیز میری بات سُنیں“کہا۔

کوئی اٹھائیس تیس سال کی موٹے موٹے نقوش کی حامل عورت نے اپنا چہرہ اٹھایااور مجھے حیرت سے دیکھا۔میں نے جلدی جلدی تھوک نگلتے ہوئے کہا۔
”میں پاکستانی ہوں۔سامنے وائی ڈبلیو سی اے میں ٹھہری ہوں۔“
خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ اُس نے اندر آنے اور کرسی پر بیٹھنے کو کہا۔
میں نے بیٹھنے کے ساتھ ہی اپنا مدّعا بتا دیا تھا کہ ہم بھوکے ہیں اور میں کھانے کی بھیک مانگنے آئی ہوں۔اگر وہ گھر والی ہے تب بھی اِس درخواست کو پذیرائی دے اور اگر ملازمہ ہے تو مالکن کو بتائے۔ معلوم ہوا تھا کہ وہ گھر والی ہی ہے۔
اُس نے دو سموسے فریج میں سے نکالے۔مُنے چُنے سے۔انہیں اوون میں گرم کیا اور چھوٹی سی پلیٹ میں ذرا سی ٹماٹو کیچپ کے ساتھ میرے سامنے رکھ دئیے۔
جی تو چاہا تھا پلیٹ اٹھا کر اِس پھینی پھڈکر کے منہ پر ماروں۔اُف انسان اتنا ذلیل ہوسکتا ہے۔دو سموسیاں۔یہ حرام زادہ پیٹ بڑا ذلیل تھا۔دہائیاں دے رہا تھاکہ مرنے جارہا ہوں۔ایک سموسہ اٹھا کر منہ میں ڈالا جیسے اونٹ کے منہ میں زیرہ جانے والی بات تھی۔حلق تالو بھی گیلا نہ ہوا تھا۔
اُس نے فرج سے قیمہ نکالا۔آلو قیمہ کا سالن۔جب وہ سالن گرم کرتی تھی مجھے پتہ چلا تھا کہ اُس کی ساس کراچی سے ہے۔یعنی پاکستانی ہے۔چار بیٹوں کی ماں جو یہاں گارمنٹس کا کام کرتے تھے۔ وہ خود تامل ہندو تھی۔مسلمان ہوئی ہے۔”وہ نام کی مسلمان نہیں۔اسلام کا اُس نے بہت گہرا مطالعہ کیا ہے اور دل سے اسے قبول کیا ہے۔“یہ بات بڑے فخریہ لہجے میں کہی گئی تھی۔
میں نے اسلام کا گہرا مطالعہ کرنے والی سے اِس عورت سے ڈھیٹ بن کر کہا۔کہ وہ مجھے تھوڑا سا کھانا دے کیونکہ ہم پردیسی ہیں اور بھوکے بھی ہیں اور اسلام میں بھوکوں کو کھانا  کھلانے کا بہت ثواب ہے۔
اُس نے گتے کی ایک چھوٹی سی پلیٹ نکالی۔اس میں دو جگہ دونوالوں کی مار جتنی نوڈلز رکھیں۔اُن پر تھوڑا تھوڑا قیمہ رکھا اور وہ میرے ہاتھ میں تھمادی۔
”کیا کہنے ہیں تمہارے فہم اسلام کے۔“ میرا اندر مسلسل نکتہ چین تھا۔

ابھی میں نے شکریہ کہتے ہوئے ایک قدم اٹھایا ہی تھا جب دروازے میں ایک باریش نوجوان سر پر ٹوپی رکھے کچن کی سیڑھیاں چڑھتا نظرآیا۔میں نے فوراً اپنا تعارف کرواتے ہوئے اُسے یہ بتایا کہ میں ان کے ہاں تھوڑا سا کھانا مانگنے آئی تھی۔اُس نے میرے ہاتھ میں پکڑی پلیٹ کو دیکھا اور مطمئن نظروں سے کہا۔
”کوئی بات نہیں۔آپ آئیں۔یہ ہمارے لیے باعث مسرت ہے۔
وہ پاکستانی تھا۔وہ مسلمان تھا۔غالباً نماز پڑھ کر آرہا تھا۔اور اس نے میرے ہاتھ میں پلیٹ اور اس میں رکھا کھانا دیکھا تھا۔دو بندوں کا کھانا جو ہم جیسے لوگوں کے تین نوالوں کی مار تھا۔
اسلام کے ایک پیروکار کے گھر سے میں باہر آئی اور اپنی عارضی رہائش گاہ میں داخل ہوئی جہاں یسوع مسیح کی ایک پرستار نے قیمتاً بھی کھانا دینے سے انکار کردیا تھا۔

جب بستر پر لیٹی زمانوں پہلے کا ایک بھولا بسرا واقعہ یادوں کی تہوں سے سرسراتا ہوا باہر آیا۔

غالباً1953 یا 54 کی بات تھی۔میری دادی فیصل آباد اس وقت لائل پور کی ایک تحصیل سمندری سے ہمارے پاس لاہور چند دن کیلئے آئی تھیں۔جب اُنکی واپسی ہوئی۔ گرمائی تعطیلات کی وجہ سے میری والدہ ہم دونوں بہن کے ساتھ انہیں چھوڑنے اور چھٹیاں وہاں گزارنے ساتھ ہولیں۔ٹرین میں بیٹھی دونوں خواتین ایک دوسرے کے ساتھ باتوں کے لامتناہی سلسلے میں ایسی اُلجھیں کہ تاندلیانوالہ اسٹیشن کب آیا اور کب نکل گیا۔انہیں معلوم ہی نہیں ہوا۔ ہوش اس وقت آیا جب ٹرین اپنے آخری اسٹیشن شورکوٹ پر کھڑی تھی۔
تب حالات آج جیسے تھوڑی تھے۔نہ بسوں ویگنوں کی ریل پیل،نہ گاڑیوں کی۔ٹرین نے اگلے دن صُبح کو پھر چلنا تھا۔ماحول پر سناٹا تھا۔جھٹ پٹے کا سماں تھا۔دو بچے اور دو خواتین پلیٹ فارم پر حق دق،شش و پنج میں مبتلا کھڑی تھیں۔پلیٹ فارم کے کیروسین آئل لیمپ جل گئے تھے اور زمانہ آج جیسا نہ تھا کہ اسٹیشن آباد اور کھانے پینے کی چیزوں سے بھرے ہوں۔اسٹیشن ماسٹر شاید چھٹی پر تھا اور ملازم نے چھوٹا سا کمرہ کھول دیا تھامگر موسم گرمی کا تھا۔باہر بیٹھنے کو ہی ٹھیک سمجھا گیا۔ہم سب بھوکے تھے۔
میری ماں رات کے سناٹے بولتی تاریکی میں مانگنے نکلی اور جب وہ واپس آئی اس کے ساتھ ایک لڑکا تھا جس نے دو بستر سر پر اٹھا رکھے تھے اور میری ماں کی چادر کی جھولی میں روٹیاں اور کٹورے میں سالن تھا۔اُس سالن،تندوری روٹیوں کی لذت اور شورکوٹ کے جانگلیوں کی عنایت اور فراخ دلی کب مجھے کھینچ کر اُسی گم شدہ دنیا میں پھر لے گئی۔معلوم ہی نہ ہوا تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *