یہ عشق کیا ہے؟ کیا یہ نکما بنا دیتا ہے؟

بھائی دیکھو .. عشق کوئی احسن شے نہیں ہے جسکے حصول کیلئے مجاہدہ کیا جائے. اگر کسی بیماری کی طرح زبردستی لگ جائے تو اور بات وگرنہ عشق ایک غیر متوازن رویہ ہے ،جس میں انسان خرد و توازن سے بیگانہ ہوکر ایک ہی جانب مرکوز و مبہوت ہوجاتا ہے. دین نے ہمیں محبت کرنا سکھایا ہے، شدید محبت کرنا سکھایا ہے مگر عشق کی تلقین بالکل نہیں کی. محبت میں توازن و حسن ہوتا ہے، یہ ایک ہی وقت میں بہت سے مخاطب بنا لیتی ہے. والدین سے محبت، رب سے محبت، رسول سے محبت، مسلمانوں سے محبت، انسانوں سے محبت، بچوں سے محبت وغیرہ. عشق میں معشوق کے سوا سارے رشتے معدوم ہو کر رہ جاتے ہیں جو دین کی منشاء نہیں۔معشوق اور محبوب میں فرق ہوتا ہے ، عاشق اور محب ہم معنی نہیں .. مجھے اندازہ ہے کہ اگر کسی عشق کے دعویدار کو یہ کہا جائے کہ وہ عاشق نہیں بلکہ محب ہے تو اسے یہ اپنے جذبہ کی توہین لگتی ہے مگر اکثر عاشق محب ہیں عاشق نہیں۔
عشق میں دوئی ہوتی ہی نہیں ، وہ تو جنون ہے ، پاگل پن ہے، یکسوئی ہے. اس میں محبوب نظر کے سامنے نہ ہو تو سانس نہیں آتی ، صحت چاہ کر بھی ساتھ نہیں دیتی اور فراق جان لے کر دم لیتا ہے. یہی عشق کا دستور ہے. ہر چہرہ اپنے معشوق کا چہرہ دکھتا ہے اور حالت یہ ہوتی ہے کہ پہلے اردگرد بھول جاتا ہے اور پھر اپنا وجود بھی بھول کر محبوب کا عکس بن جاتا ہے. اسی کیفیت کو صوفیاء فنا فی الوجود سے تعبیر کرتے ہیں. عشق مجازی میں فرق بس اتنا ہے کہ اس میں محبوب خالق نہیں بلکہ ایک انسانی پیکر ہوتا ہے. یہ پنجابی شعر سنو
رانجھا رانجھا کر دی نی میں ، آپے رانجھا ہوئی
سدّو نی مینوں دھیدو رانجھا ، ہیر نہ آکھو کوئی
کہتے ہیں کہ مجنوں نے ایک روز اپنی لیلیٰ کی آمد کا سنا تو اسکی جھلک دیکھنے کے لئے اونٹ سے چھلانگ لگا دی. نتیجہ یہ نکلا کہ زخمی ہو گیا مگر شوق بیتابی میں آگے بڑھتا گیا. اب عقلمند یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس بیوقوف نے چھلانگ کیوں لگائی ؟ آرام سے سلیقے سے اتر آتا تو چوٹ نہ لگتی. لیکن انہیں کون سمجھائے؟ کہ عشق میں انسان ایسے حساب کتاب سے ناآشنا ہوتا ہے. البتہ محبت میں شدید طلب میں بھی عقل کا ساتھ رہتا ہے۔
بوعلی سینا کے پاس ایک قریب المرگ لڑکا لایا گیا ۔بوعلی سینا نے معائنےکے بعد ایک بندے کو کہا کہ اس شہر میں جتنے محلے ہیں انکا نام لو ، اس نے نام لیا ،بوعلی سینا نے نبض تھام رکھی تھی پھر ایک محلے پر کہا اسمیں جتنے گھر ہیں انکا نام لو، اس نے نام لیا ایک گھر پر کہا کہ اس گھر میں جو افراد ہیں انکا نام لو ، ایک لڑکی کے نام پر کہا اسکی شادی اس سے کردو یہ مریض عشق ہے۔ یہ ہوتا ہے عشق ۔ نہ بیان ، نہ اقرار ، نہ وصل بس عشق ہی عشق، یعنی کے بندہ عین عشق بن جائے کوئی بڑا حکیم ہی پہچان سکے۔میری دعا ہے کہ الله آپ کے حق میں بہترین راستہ فراہم کریں اور آپ کو اس پر راضی کر دیں آمین. میری اپنی کہانی اگر میں آپ کو سناؤں تو حیران ضرور ہو جائیں ، کوئی پیمانہ تو نانپنے کے لئے نہیں ہے مگر شائد آپ میری کہانی کو زیادہ شدید پائیں مگر اسکے باوجود میں خود کومحبت کرنے والا سمجھتا ہوں عاشق نہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *