محبّت کے بغیر۔۔۔فیصل عظیم

محبّت کے بنا کیا کچھ نہیں ہوتا
تمہاری سانس رکتی ہے؟
ہمارا دم نکلتا ہے؟
کہیں سورج نہیں اُگتا،
کہیں بادل نہیں چلتے،
ستارے رات بھر آنکھیں نہیں مَلتے،
ستانا چھوڑ دیتی ہے بدن کو بھوک،
کہ آنکھیں بند ہوجاتی ہیں چہروں پر؟
محبّت کے بنا ۔۔۔
بھلا کیا کچھ نہیں ہوتا۔
قلم چلنا نہیں رکتا
سیاہی کام اپنا کرتی رہتی ہے
نظر پتھر کی ہو جاتی ہے
پھر بھی پڑھتی رہتی ہے۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *