سورج کا ساتواں گھوڑا-دھرم ویر بھارتی(2)۔۔مترجم:عامر صدیقی

متفرقات

اس کہانی نے اصل میں ہم لوگوں کو متاثر کیا تھا۔ گرمی کے دن تھے۔ محلے کے جس حصے میں ہم لوگ رہتے ادھر چھتیں بہت تپتی تھیں، اس لئے ہم سب لوگ حکیم جی کے چبوترے پر سویا کرتے تھے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

رات کو جب ہم لوگ لیٹے تو نیند نہیں آ رہی تھی اور رہ رہ کر جمنا کی کہانی ہم لوگوں کے ذہنوں میں گھوم جاتی تھی اور کبھی کلکتے کی ارگنڈی اور کبھی بیسن کے پوئے یاد کرکے ہم لوگ ہنس رہے تھے۔

اتنے میں شیام بھی ہاتھ میں ایک بنسکھٹ اور بغل میں دری تکیہ دبائے ہوئے آیا۔ وہ دوپہر کی محفل میں شامل نہیں تھا ،اس لئے ہم لوگوں کو ہنستے دیکھ کر اسے بیتابی ہوئی اور اس نے پوچھا کہ مانک ملّا نے کون سی کہانی ہم لوگوں کو سنائی ہے۔ جب ہم لوگوں نے جمنا کی کہانی اسے سنائی تو دیکھ کرحیرانگی ہوئی کہ بجائے ہنسنے کے وہ اداس ہو گیا۔ ہم لوگوں نے ایک ساتھ پوچھا کہ ’’کہو شیام، اس کہانی کو سن کر دکھی کیوں ہو گئے؟ کیا تم جمنا کو جانتے تھے؟‘‘تو شیام روندھی ہوئی آواز میں بولا،’’نہیں، میں جمنا کو نہیں جانتا، لیکن آج نوے فیصد لڑکیوں کی حالت زار جمنا جیسی ہے۔ وہ بیچاری کیا کریں! تنّا سے اس کی شادی ہو نہیں پائی، اس کے والدین جہیز جٹا نہیں پائے، تعلیم اور من بہلاؤ کے نام پر اسے ملیں ’’میٹھی کہانیاں‘‘،’’سچی کہانیاں‘‘،’’رس بھری کہانیاں‘‘ تو بیچاری اور کر ہی کیا سکتی تھی۔ یہ تو رونے کی بات ہے، اس میں ہنسنے کی کیا بات! دوسروں پر ہنسنا نہیں چاہئے۔ ہر گھر میں مٹی کے چولہے ہوتے ہیں ‘‘ وغیرہ وغیرہ۔

شیام کی بات سن کر ہم لوگوں کا جی بھر آیا اور آہستہ آہستہ ہم لوگ سو گئے۔

***

دوسری دوپہر

گھوڑے کی نال

یعنی کیسے گھوڑے کی نال خوش قسمتی کی علامت ثابت ہوئی؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسرے دن کھا پی کر ہم لوگ پھر اس بیٹھک میں جمع ہوئے اور ہم لوگوں کے ساتھ شیام بھی آیا۔ جب ہم لوگوں نے مانک ملّا کو بتایا کہ شیام جمنا کی کہانی سن کر رونے لگا تھا تو شیام جھینپ کر بولا،’’میں کہاں رو رہا تھا؟‘‘

مانک ملّا ہنسے اور بولے،’’ ہماری زندگی کی ذرا سی پرت اکھاڑ کر دیکھو تو ہر طرف اتنی گندگی اور کیچڑ پوشیدہ ہے کہ حقیقت میں اس پر رونا آتا ہے۔ لیکن پیارے دوستوں، میں تو اتنا رو چکا ہوں کہ اب آنکھ میں آنسو آتے ہی نہیں، اس لئے لاچار ہو کر ہنسنا پڑتا ہے۔ ایک بات اور ہے کہ جو لوگ جذباتی ہوتے ہیں اور وہ بس روتے ہیں،اور رو دھو کر رہ جاتے ہیں، پر جو لوگ ہنسنا سیکھ لیتے ہیں ،وہ کبھی کبھی ہنستے ہنستے اس زندگی کو تبدیل بھی کر ڈالتے ہیں۔‘‘

پھر خربوزہ کاٹتے ہوئے بولے،’’ہٹاؤ جی ان باتوں کو۔ لو آج جونپوری خربوزے ہیں۔ انکی مہک تو دیکھو۔ گلاب کو مات ہے۔ کیا ہے شیام؟ کیوں منہ لٹکائے بیٹھے ہو؟ اجی منہ لٹکانے سے کیا ہوتا ہے! میں اب تمہیں بتاؤں گا کہ جمنا کی شادی کیسے ہوئی؟‘‘

ہم لوگ تو یہی سننا ہی چاہتے تھے اس لئے ایک آواز میں بول اٹھے،’’ہاں، آج جمنا کی شادی کی کہانی رہے۔‘‘

پر مانک ملّا بولے،’’نہیں، پہلے خربوزے کے چھلکے باہر پھینک آؤ۔‘‘

جب ہم لوگوں نے کمرا صاف کر دیا تو مانک ملّا نے سب کو آرام سے بیٹھ جانے کا حکم دیا، طاق پر سے گھوڑے کی پرانی نال اٹھا لائے اور اسے ہاتھ میں لیااور اوپر اٹھا کر بولے،’’یہ کیا ہے؟‘‘

’’گھوڑے کی نال۔‘‘ہم لوگوں نے ایک آواز میں جواب دیا۔

’’ٹھیک۔‘‘ مانک ملّا نے جادوگر کی طرح نال کو حیرت انگیز تیزی سے انگلی پر نچاتے ہوئے کہا،’’یہ نال جمنا کی ازدواجی زندگی کا ایک اہم یادگاری نشان ہے۔ تم لوگ پوچھو گے نہیں کہ کیسے؟ یہ سب میں پوری تفصیل میں بتاتا ہوں۔‘‘

اور مانک ملّا نے تفصیل سے جو بتایا وہ اختصار میں درجِ ذیل ہے۔۔۔

جب بہت دنوں تک جمنا کی شادی نہیں طے ہو پائی اور مایوس ہو کر اس کی ماں پوجاپاٹھ کرنے لگیں اور باپ بینک میں اوورٹائم کرنے لگے تو ایک دن اچانک ان کے گھر ،دورپرے کی ایک رشتہ دار رامو بی بی آئیں اور انہوں نے بیج چھیلتے ہوئے کہا،’’ ہرے رام رام! بٹیا کی اٹھان تو دیکھو۔ جیسن نام تیسن کرنی۔ بھادوں کی جمنا اس پھاٹی پڑت ہے۔‘‘اور پھر جھک کر ماں کے کان میں دھیمے سے بولیں،’’اے کر بیاہ ویاہ کہوں ناہِیں طے کیو؟‘‘

جب ماں نے بتایا کہ برادری والے جہیز بہت مانگ رہے ہیں،اور کہیں ذات پرجات میں دے دینے سے تو اچھا ہے کہ ماں بیٹی گلے سے رسی باندھ کر کنویں میں گر پڑیں تو رامو بی بی فوراً چمک کر بولیں،’’اے اے! کیسی بات جبان سے نکالت ہو جمنا کی اماں! کہت کچھو ناہیں لگت! اور کنویں میں گریں تمہارے دشمن، کنویں میں گرے اڑوس پڑوس والے، کنویں میں گرے تنّا اورمہیسر دلال، دوسرے کا سکھ دیکھ کے جن کے دل پھاٹت ہیں۔‘‘بہرحال ہوا یہ کہ رامو بی بی نے فوراً اپنی کرتی میں سے اپنے بھتیجے کی کنڈلی نکال کر دی اور کہا،’’بکھت پڑے پرآدمی ای آدمی کے کام آوت ہے۔ جو ہارے گاڑھے کَبو کام نہ آوے۔ اُو آدمی کے روپ میں جناور ہے۔ ابھی ای ہمارابھتیجا ہے۔ گھرکا اکیلا، نہ ساس نہ سسر، نہ نند نہ جٹھانی،کونو کِچائن ناہیں ہے گھر میں۔ نانا اوکے نام جاگیر لکھ گئے ہیں۔ گھر میں گھوڑا ہے، تانگہ ہے۔ پرانا نامی خاندان ہے۔ لڑکی رانی مہارانی اس بل سہے۔‘‘

جب شام کو جمنا کی ماں نے یہ خبر باپ کو دی تو اس نے سامنے سے تھالی کھسکا دی اور کہا،’’اس کی دو بیویاں مر چکی ہیں۔رنڈواہے لڑکا۔ مجھ سے چار پانچ برس چھوٹا ہو گا۔‘‘

’’تھالی کاہے کھسکا دی؟ نہ کھائیں میری بلا سے۔ کیوں نہیں ڈھونڈ کے لاتے؟ جب لڑکی کی عمر میرے برابر ہو رہی ہے تو لڑکے کہاں سے گیارہ سال کا مل جائے گا۔‘‘اس بات کو لے کر شوہر اور بیوی میں بہت کہا سنی ہوئی۔ آخر میں جب بیوی پان بنا کر لے گئی اور شوہر کو سمجھا کر کہا،’’لڑکارنڈوا ہے تو کیا ہوا۔ مرد اور دیوار، جتنا پانی کھاتے ہیں اتنا پختہ ہوتے ہیں۔‘‘

جب جمنا کے دروازے بارات چڑھی تو مانک ملّا نے دیکھا اور انہوں نے اس پختہ دیوار کی جو تفصیل بیان کی، اس سے ہم لوگ لوٹ پوٹ ہو گئے۔ جمنا نے اسے دیکھا تو بہت روئی، زیور چڑھا تو بہت خوش ہوئی، چلنے لگی تو یہ عالم تھا کہ آنکھوں سے آنسو نہیں تھمتے تھے اور دل میں امنگیں نہیں تھمتی تھیں۔

جب جمنا لوٹ کر میکے آئی تو تمام سکھیوں کے یہاں گئی۔ انگ انگ پر زیور لدا تھا، رواں رواں باغ باغ تھا اور شوہر کی تعریف کرتے اسکی زبان نہیں تھکتی تھی۔ ’’اے ری کمّو، وہ تو اتنے سیدھے ہیں کہ ذرا سی تین پانچ نہیں جانتے۔ اے، جیسے چھوٹے سے بچے ہوں۔ پہلی دونوں کے میکے والے ساری جائداد لوٹ کرلے گئے، نہیں تو دولت پھٹے پڑتی تھی۔ میں نے کہا کہ اب تمہارے سالے سالی آویں گے تو باہر ہی سے رخصت کروں گی، تم دیکھتے رہنا۔ تو بولے،’’تم گھر کی مالکن ہو۔ صبح شام دال روٹی دے دو بس، مجھے کیا کرنا ہے۔‘‘چوبیس گھنٹے منہ دیکھتے رہتے ہیں۔ ذرا سی کہیں گئی نہیں کہ ارے سنتی ہو، او جی سنتی ہو، اجی کہاں گئیں! میری تو ناک میں دم ہے کمّو! محلے پڑوس والے دیکھ دیکھ کر جلتے ہیں۔ میں نے کہا، جتنا جلو گے اتنا جلاؤں گی۔ میں بھی تب دروازہ کھولتی ہوں، جب دھوپ سر پر چڑھ آتی ہے اور خیال اتنا رکھتے ہیں کہ میں آئی تو ڈھائی سو روپے زبردستی ٹرنک میں رکھ دیئے۔ کہا، ہماری قسم ہے جو اسے لے نہ جاؤ۔‘‘

لیکن جمنا کو جلد ہی سسرال لوٹ جانا پڑا، کیونکہ ایک دن اس کے باپ بہت پریشانی کی حالت میں رات کو آٹھ بجے بینک سے واپس آئے اور بتایا کہ حساب میں ایک سو ستائیس روپیہ تیرہ آنے کی کمی پڑ گئی ہے، اگر کل صبح جاتے ہی انہوں نے جمع نہ کرادیا تو حراست میں لے لئے جائیں گے۔ یہ سنتے ہی گھر میں کہرام مچ گیا اور جمنا نے جھٹ ٹرنک سے نوٹ کی گڈی نکال کر چھپر میں ٹھونس دی اور جب ماں نے کہا،’’بیٹی ادھار دے دو۔‘‘تو چابی ماں کے ہاتھ میں دے کر بولی،’’دیکھ لو نہ،ٹرنک میں دو چار اکنیاں پڑی ہوں گی۔‘‘لیکن جمنا نے سوچا آج بلا ٹل گئی تو ٹل گئی، آخر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ اتنا تو پہلے لٹ گیا ہے، اب اگر جمنا بھی ماں باپ پر لٹا دے تو اپنے بال بچوں کے لئے کیا بچائے گی؟ ارے ماں باپ کتنے دنوں کے ہیں؟ اسے سہارا تو اس کے بچے ہی دیں گے نہ!

یہاں پر مانک ملّا کہانی سناتے سناتے رک گئے اور ہم لوگوں کی طرف دیکھ کر بولے،’’پیارے دوستو! ہمیشہ یاد رکھو کہ عورت سب سے پہلے ماں ہوتی ہے تب کچھ اور! اس کاجنم ہی اس لئے ہوتا ہے کہ وہ ماں بنے۔نسل آگے بڑھاوے۔ یہی اس کی عظمت ہے۔ تم نے دیکھا کہ جمنا کے من میں پہلے اپنے بچوں کا خیال آیا۔‘‘

مختصریہ کہ جمنااپنے ممکنہ بال بچوں کا خیال کرکے اپنی سسرال چلی گئی اور خوش وخرم رہنے لگی۔ سچ پوچھو تو یہیں جمنا کی کہانی کا خاتمہ ہوتا ہے۔

’’لیکن آپ نے تو گھوڑے کی نال دکھائی تھی۔ اس کا تو ذکر آیا ہی نہیں؟‘‘

’’اوہ! میں نے سوچا کہ دیکھوں تم لوگ کتنے دھیان سے سن رہے ہو۔‘‘اور پھر انہوں نے اس نال کا قصہ بھی بتایا۔۔۔۔

اصل میں جمنا کے رنڈوے شوہر عرف پختہ دیوار، میں اور جمنا میں اتنا ہی فرق تھا، جتنا پلستر اکھڑی ہوئی پرانی دیوار اور لپے پتے تلسی کے چبوترے میں۔ ادھر ادھر کے لوگ ادھر ادھر کی باتیں کرتے تھے پر جمنا دل و جان سے شوہر قربان تھی۔ شوہر بھی جہاں اسکے گہنے کپڑے کا دھیان رکھتے تھے ،وہیں اسے بھجنامرت، گنگا ماہاتمیہ، گٹکا رامائن وغیرہ جیسے گرنتھ رتن لا کر دیا کرتے تھے۔ اور وہ بھی اس میں ’’اُتّم کے اس بس من ماہِیں‘‘ وغیرہ پڑھ کر فائدہ اٹھایاکرتی تھی۔ ہوتے ہوتے یہ ہوا کہ دھرم کا بیج اس کے دل میں جڑ پکڑ گیا اور بھجن کیرتن، کتھاست سنگ میں اسکا من لگ گیا اور ایسا لگا کہ صبح شام، دوپہر رات وہ دیوانی گھومتی رہے۔روز اسکے یہاں سادھو سنتوں کا کھانا ہوتا رہے اور سادھو سنت بھی ایسے تپسیا والے اور روپ وان کہ دماغ سے روشنی پھوٹتی تھی۔

ویسے اس کی بکتی بہت بے غرض تھی ،مگر جب سادھو سنت اسے آشیرواد دیں کہ ’’سنتانوتی بھو‘‘ تو وہ اداس ہو جایا کرتی۔ اس کے شوہر اسے بہت سمجھایا کرتے تھے،’’اجی یہ تو بھگوان کی مایا ہے اس میں اداس کیوں ہوتی ہو؟‘‘لیکن اولاد کی فکر انہیں بھی تھی، کیونکہ اتنی بڑی جاگیر کے زمیندار کا وارث کوئی نہیں تھا۔ آخر میں ایک دن وہ اور جمنا دونوں ایک جیوتشی کی یہاں گئے، جس نے جمنا کو بتایا کہ اسے کارتک مہینے کی ہر صبح گنگا نہا کر چنڈی دیوی کو پیلے پھول اور برہمنوں کو چنا، جو اور سونے کا دان کرنا چاہئے۔

جمنا اس رسم کے لئے فوری طور پرتیارہو گئی۔ لیکن اتنی صبح کس کے ساتھ جائے! جمنا نے شوہر (زمیندار صاحب) سے کہا کہ وہ ساتھ چلا کریں ،مگر وہ ٹھہرے بوڑھے آدمی، صبح ذرا سی سرد ہوا لگتے ہی انہیں کھانسی کا دورہ آ جاتا تھا۔ آخر میں یہ طے ہوا کہ رامدھن تانگے والا شام کو جلدی چھٹی لیا کرے گا اور صبح چار بجے آ کر تانگہ جوت دیا کرے گا۔

جمنا طے شدہ قاعدوں کے مطابق روز نہانے جانے لگی۔ کارتک مہینے میں کافی سردی پڑنے لگتی ہے اور گھاٹ سے مندر تک اسے بس ایک پتلی ریشمی دھوتی پہن کر پھول چڑھانے جانا پڑتا تھا۔ وہ تھرتھر کانپتی تھی۔ ایک دن مارے سردی کے اسکے ہاتھ پیر سُن پڑ گئے۔ اور وہ وہیں ٹھنڈی ریت پر بیٹھ گئی اور یہ کہا کہ رامدھن اگر اسے اٹھا کر تانگے پر نہ بیٹھا دیتا تو وہ وہیں بیٹھی بیٹھی سردی سے جم جاتی۔

آخر میں رامدھن سے نہ دیکھا گیا۔ اس نے ایک دن کہا،’’بہو جی، آپ کاہے جان دییہ پر اُتارُو ہو۔اَ یسن تپسیا تو گورا مائی یو نیں کرن ہوئیں۔ بڑے بڑے جوتسی کا کہا کر لیو اب ایک غریب کا بھی کہا کے لیو۔‘‘جمنا کے پوچھنے پر اس نے بتایاکہ جس گھوڑے کی پیشانی پر سفید تلک ہو، اس کے اگلے بائیں پاؤں کی گھسی ہوئی نال ،چاندگرہن کے وقت اپنے ہاتھ سے نکال کر اس کی انگوٹھی بنوا کر پہن لے توسب تمنائیں پوری ہو جاتی ہیں۔

لیکن جمنا کے لیے یہ قابل قبول نہیں ہوا، کیونکہ پتہ نہیں چاندگرہن کب پڑے۔ رامدھن نے بتایا کہ چاندگرہن دو تین دن بعد ہی ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ نال ابھی نیا لگوایا ہے، وہ تین دن کے اندر کیسے گھسے گا اور نیا کچھ اثرنہیں رکھتا۔

’’تو پھر کیا ہو، رامدھن؟ تم ہی کوئی حل بتاؤ۔‘‘

’’مالکن، ایک ہی حل ہے۔‘‘

’’کیا؟‘‘

’’تانگہ روز کم از کم بارہ میل چلے۔ لیکن مالک کہیں جاتے نہیں۔ اکیلے مجھے تانگہ لے نہیں جانے دیں گے۔ آپ چلیں تو ٹھیک رہے۔‘‘

’’لیکن ہم بارہ میل کہاں جائیں گے؟‘‘

’’کیوں نہیں سرکار!آپ صبح ذرا اور جلدی دو ڈھائی بجے نکل جائیں! گنگاپار پکی سڑک ہے، بارہ میل گھما کر ٹھیک وقت پر حاضر کر دیا کروں گا۔ تین دن کی ہی تو بات ہے۔‘‘

جمنا مان گئی اور تین دن تک روز تانگہ گنگاپار چلا جایا کرتا تھا۔ رامدھن کا اندازہ ٹھیک نکلا اور تیسرے دن چاندگرہن کے وقت نال اتروا کر انگوٹھی بنوائی گئی اور انگوٹھی کی کرامت دیکھئے کہ زمیندار صاحب کے یہاں نوبت بجنے لگی اور نرس نے پورے ایک سو روپے کی بخشش لی۔

زمیندار بیچارے عمردراز ہو چکے تھے اور انہیں بہت تکلیفیں بھی تھی، وارث بھی ہو چکا تھا، اس لئے بھگوان نے ان کو اپنے دربار میں بلا دیا۔ جمنا شوہر کے فراق میں دھاڑے مار مار کر روئی، چوڑی کنگن جلا ڈالے، کھانا پینا چھوڑ دیا۔ آخر میں پڑوسیوں نے سمجھایا کہ چھوٹا بچہ ہے، اس کا منہ دیکھنا چاہئے۔ جو ہونا تھا سو ہو گیا۔ یہ تو مقدرہے۔ اس پر کس کا بس چلتا ہے۔۔ پڑوسیوں کے بہت سمجھانے پر جمنا نے آنسو پونچھے۔ گھر بار سنبھالا۔ اتنی بڑی کوٹھی تھی، اکیلے رہنا ایک بیوہ عورت کیلئے غیر مناسب تھا، اس لئے اس نے رامدھن کو ایک کوٹھری دی اور پاکیزگی سے زندگی بسر کرنے لگی۔

جمنا کی کہانی ختم ہو چکی تھی۔ لیکن ہم لوگوں کی پریشانی یہ تھی کہ مانک ملاّ کو یہ گھسی نال کہاں سے ملی، اس کی تو انگوٹھی بن چکی تھی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ایک دن کہیں ریل کے سفر میں مانک ملّا کو رامدھن ملا۔ سلک کا کرتا، پانوں کا ڈبہ، بڑے ٹھاٹ تھے اسکے۔ مانک ملّا کو دیکھتے ہی اس نے اپنے بھاگ جاگنے کی ساری کہانی سنائی اور کہا کہ واقعی گھوڑے کی نال میں بڑی تاثیر ہوتی ہے۔ اور پھر اس نے ایک نال مانک ملّا کے پاس بھیج دی تھی، اگرچہ انہوں نے اس کی انگوٹھی نہیں بنوائی۔ بلکہ اسے حفاظت سے رکھ لیا۔

کہانی سنا کر مانک ملّا،شیام کی طرف دیکھ کر بولے،’’دیکھا شیام، بھگوان جو کچھ کرتا ہے بھلے کیلئے کرتا ہے۔ آخر جمنا کو کتنا سکھ ملا۔ آپ بیکار میں دکھی ہو رہے تھے؟ کیوں؟‘‘

شیام نے خوشی خوشی قبول کیا کہ وہ بیکار میں دکھی ہو رہا تھا۔ آخر میں مانک ملّا بولے،’’لیکن اب بتاؤ اسکا نتیجہ کیا نکلا؟‘‘

ہم لوگوں میں سے جب کوئی نہیں بتا سکا تو انہوں نے بتایا،’’ اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ دنیا کا کوئی بھی کام برا نہیں۔ کسی بھی کام کو نیچی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہئے پھر چاہے وہ تانگہ چلانا ہی کیوں نہ ہو۔‘‘

ہم سبھوں کو اس کہانی کا یہ انجام بہت اچھا لگا اور ہم سب نے حلف اٹھا لیا کہ کبھی کسی قسم کے ایماندارانہ کام کو نیچی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے ،پھرچاہے وہ کچھ بھی کیوں نہ ہو۔

اس طرح مانک ملّا کی دوسری نان فکشن کہانی ختم ہوئی۔

Advertisements
julia rana solicitors london

جاری ہے

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

عامر صدیقی
لکھاری،ترجمہ نگار،افسانہ نگار،محقق۔۔۔ / مائکرو فکشنسٹ / مترجم/شاعر۔ پیدائش ۲۰ نومبر ۱۹۷۱ ؁ ء بمقام سکھر ، سندھ۔تعلیمی قابلیت ماسٹر، ابتدائی تعلیم سینٹ سیوئر سکھر،بعد ازاں کراچی سے حاصل کی، ادبی سفر کا آغاز ۱۹۹۲ ء ؁ میں اپنے ہی جاری کردہ رسالے سے کیا۔ ہندوپاک کے بیشتر رسائل میں تخلیقات کی اشاعت۔ آپ کا افسانوی مجموعہ اور شعری مجموعہ زیر ترتیب ہیں۔ علاوہ ازیں دیگرتراجم و مرتبہ نگارشات کی فہرست مندرجہ ذیل ہے : ۱۔ فرار (ہندی ناولٹ)۔۔۔رنجن گوسوامی ۲ ۔ ناٹ ایکیول ٹو لو(ہندی تجرباتی ناول)۔۔۔ سورج پرکاش ۳۔عباس سارنگ کی مختصرسندھی کہانیاں۔۔۔ ترجمہ: س ب کھوسو، (انتخاب و ترتیب) ۴۔کوکلا شاستر (ہندی کہانیوں کا مجموعہ ) ۔۔۔ سندیپ میل ۵۔آخری گیت اور دیگر افسانے۔۔۔ نینا پال۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۶ ۔ دیوی نانگرانی کی منتخب غزلیں۔۔۔( انتخاب/ اسکرپٹ کی تبدیلی) ۷۔ لالٹین(ہندی ناولٹ)۔۔۔ رام پرکاش اننت ۸۔دوڑ (ہندی ناولٹ)۔۔۔ ممتا کالیا ۹۔ دوجی میرا (ہندی کہانیوں کا مجموعہ ) ۔۔۔ سندیپ میل ۱۰ ۔سترہ رانڈے روڈ (ہندی ناول)۔۔۔ رویندر کالیا ۱۱۔ پچاس کی دہائی کی بہترین ہندی کہانیاں(۱۹۵۰ء تا ۱۹۶۰ء) ۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۱۲۔ ساٹھ کی دہائی کی بہترین ہندی کہانیاں(۱۹۶۰ء تا ۱۹۷۰ء) ۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۱۳۔ موہن راکیش کی بہترین کہانیاں (انتخاب و ترجمہ) ۱۴۔ دس سندھی کہانیاں۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۱۵۔ قصہ کوتاہ(ہندی ناول)۔۔۔اشوک اسفل ۱۶۔ ہند کہانی ۔۔۔۔جلد ایک ۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۱۷۔ ہند کہانی ۔۔۔۔جلد دوم۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۱۸۔ ہند کہانی ۔۔۔۔جلد سوم ۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۱۹۔ہند کہانی ۔۔۔۔جلد چہارم ۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۲۰۔ گنگا میا (ہندی ناول)۔۔۔ بھیرو پرساد گپتا ۲۱۔ پہچان (ہندی ناول)۔۔۔ انور سہیل ۲۲۔ سورج کا ساتواں گھوڑا(مختصرہندی ناول)۔۔۔ دھرم ویر بھارتی ۳۲ ۔بہترین سندھی کہانیاں۔۔۔ حصہ اول۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۲۴۔بہترین سندھی کہانیاں ۔۔۔ حصہ دوم۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۲۵۔سب رنگ۔۔۔۔ حصہ اول۔۔۔۔(مختلف زبانوں کی منتخب کہانیاں) ۲۶۔ سب رنگ۔۔۔۔ حصہ دوم۔۔۔۔(مختلف زبانوں کی منتخب کہانیاں) ۲۷۔ سب رنگ۔۔۔۔ حصہ سوم۔۔۔۔(مختلف زبانوں کی منتخب کہانیاں) ۲۸۔ دیس بیرانا(ہندی ناول)۔۔۔ سورج پرکاش ۲۹۔انورسہیل کی منتخب کہانیاں۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۳۰۔ تقسیم کہانی۔۔۔۔حصہ اول۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۱۔سورج پرکاش کی کہانیاں۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۲۔ذکیہ زبیری کی بہترین کہانیاں(انتخاب و ترجمہ) ۳۳۔سوشانت سپریہ کی کہانیاں۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۴۔منتخب پنجابی کہانیاں ۔۔۔۔حصہ اول۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۵۔منتخب پنجابی کہانیاں ۔۔۔۔حصہ دوم۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۶۔ سوال ابھی باقی ہے (کہانی مجموعہ)۔۔۔راکیش بھرامر ۳۷۔شوکت حسین شورو کی سندھی کہانیاں۔حصہ اول۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۸۔شوکت حسین شورو کی سندھی کہانیاں۔حصہ دوم۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۹۔شوکت حسین شورو کی سندھی کہانیاں۔حصہ سوم۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) تقسیم کہانی۔ حصہ دوم(زیرترتیب ) گناہوں کا دیوتا(زیرترتیب ) منتخب پنجابی کہانیاں حصہ سوم(زیرترتیب ) منتخب سندھی کہانیاں حصہ سوم(زیرترتیب ) کبیر کی کہانیاں(زیرترتیب )

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply