یوم دفا ع

 یہ غازی ، یہ تیرے پراسرار بندے جنھیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
6 ستمبر1965کو رات کی تاریکی میں دشمن نے بین الاقوامی سرحدوں کو عبور کیا اور ہم پر جنگ مسلط کردی دشمن اپنے مذہبی عقیدے اکھنڈ بھارت کی تکمیل چاہتا تھا اور اس قدر غرور اور گھمنڈ میں مبتلا تھا کہ اس نے یہ بھڑک ماری تھی کہ وہ اگلی صبح گیارہ بجے لاہور میں شراب پئیں گے اور بدمعاشی کی محفل سجائیں گے لیکن ہماری بہادر افواج خراج تحسین کی مستحق ہیں کہ جنہوں نے جرات اور بہادری کی وہ داستان رقم کی کہ تاریخ میں ان کے ناموں کو ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا ، سب سے پہلے دشمن نے لاہور پر حملہ کیا تھا اور لاہور پر اس اچانک حملے کے باوجود کہ دشمن نے اپنی دو بریگیڈ کے ساتھ ہم پر حملہ کیا تھا ہماری صرف ایک کمپنی نے دشمن کی دو بریگیڈ کو 9گھنٹے تک روک کے رکھا اور بی آر بی کا پل کراس کرنے نہیں دیا اور جب دشمن کو یہاں سے پسپائی اختیار کرنا پڑی تو دشمن نے اس بار حملے کو کارگر ثابت کرنے کے لیے قصور پر حملہ کردیا اور قصور کے محاذ پر بھی دشمن کو منہ کی کھانی پڑی اور دشمن کو اس محاز پر اس قدر بری شکست ہوئی کہ ہم انڈیا میں داخل ہوگئے اور ہم نے انڈیا کا شہر کھیم کھڑن فتح کرلیااور پھر دشمن نے تین دن کے اندر جنگ کو سیالکوٹ کے اندر داخل کردیا اور سیالکوٹ کے محاذ پر حملہ کیا اور سیالکوٹ کے محاذ پر انسانوں نے دیکھا کہ جذبے اور حوصلے کس طرح سے فولاد کو بھی پگھلا دیتے ہیں۔
تقریباً ۶۰۰ ٹینکوں  کے ساتھ حملہ ہوا ۵۰۰۰۰ فوج نے حملہ کیا تھا لیکن ہمارے فوجیوں کے جذبے یہ تھے کہ انہوں نے اپنے سینوں پر بم باندھ کر سینکڑوں ٹینک اڑا دیے آئی ایس پی آر کی رپورٹ ہے کہ ہم نے انڈیا کے۴۷۲ ٹینک تباہ کیے اور ہمارے صرف اور صرف ۱۰۶ ٹینک تباہ ہوئے ۔ یہاں ہم نے 4 گنا زیادہ ٹینکوں کے حوالے سے کامیابی حاصل کی اور پھر دشمن جب ہر طرف سے پسپا ہوا تو دشمن نے سندھ کی طرف سے ہم پر حملہ کیا ۔تھرپارکر کی طرف سے ہم پر حملہ کیا گیا تو دشمن نے اس سوچ کے ساتھ حملہ کیا تھا کہ ہم حیدرآباد تک فتوحات کے جھنڈے گاڑتے چلے جائیں گے ہمارے فوج کو ایک ہزار رضاکار مقامی لوگوں کی ضرورت پڑی تو جب ہم نے سندھی بھائیوں سے اس بات کا تقاضا کیا تو تقریباً ۵۰۰۰۰ ہزار حر مجاہدین اس وطن عزیز کے دفاع کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہو گئے اور اس شدّت سے دشمن پر حملہ کیا کہ ہم انڈیا کے اندر تک گھس گئے اور تقریباً ۱۳۰۰ میل تک کا علاقہ ہم نے فتح کرلیا اور کرشن گڑھ کے اندر ہم نے پاکستان کا جھنڈا لہرا دیا ہماری فضائیہ نے بھی کمال کارکردگی  دکھائی۔ آئی  ایس۔پی آر کی رپورٹ کے مطابق ہم نے تقریباً ۱۱۰ دشمن کے جہاز تباہ کیے تقریباً ۱۷ کے قریب دشمن کے جہازوں کو نقصان پہنچایا جبکہ ہمارے صرف اور صرف ۱۹ جہاز تباہ ہوئے ہمارے صرف ایک پائلٹ ایم ایم عالم نے پوری جنگ کے اندر ۹ جہازوں کو نشانہ بنایا اور اسی وجہ سے ان کو دو دفعہ تمغہ بسالت سے نوازا گیا ۔نیوی نے  بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ حملے کا انتظار کیے بغیر پونے دو سو میل اندر تک دشمن کے علاقے میں داخل ہو گئے اورہم نے دوارکہ میں  دھماکے کیے اور دوارکہ میں دشمن کی توپوں  کو خاموش کرا دیا اورممبئی  جو ان کا مرکز تھا  ، کو  ہماری نیوی نے   پورے 17دن جب تک جنگ چلتی رہی  محاصرہ میں لیے  رکھا اور اسے آگے  نہ بڑھنے  دیا۔۔ لیکن میں یہاں پر ایک اور بات بھی کرنا چاہتا ہوں  یہاں پر ایک spiritual intelligence کی بھی بات ہے جسے اقبال فضائے بدر کہتے ہیں
” فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو ,
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی ۔
اس کی وضاحت ہمیں ۱۹۶۵ کے اخباروں میں تفصیل سے ملتی ہے کہ کیسے ہماری  غیبی امداد ہوئی ۔اس حوالے سے قدرت الله شہاب نے شہاب نامہ میں اور  ممتاز مفتی نے الک نگری میں بعض واقعات کو بڑی تفصیل سے درج کیا ہے لیکن میں اپنی تحریر کے اختتام پر اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہو کہ  آج انڈین میڈیا یہ بات کر رہا تھا کہ جناب پاکستان تویہ جنگ ہار گیا ہے اور پاکستان نے تو یہ جنگ جیتی ہی نہیں اور ہمارے بھی بہت سارے ایسے مفکرین اور صحافی ہیں جو ٹی وی کے مختلف پروگراموں  میں ایسی ہی باتوں کو دوہرا چکے ہیں کہ پاکستان تو ۶۵ کی جنگ ہار گیا تھا پاکستان نے تو جنگ جیتی ہی نہیں اس کے جواب میں ان بھارت نواز صحافیوں سے صرف اتنی گزارش کروں گا کہ YouTube پر فتح مبین ایک پوری documentary ہے وہ اسے دیکھ سکتے ہیں 1964 میں PTV بن چکا تھا اور ہماری فوج کے ساتھ تمام کیمرے موجود تھے جب کھیم کھڑن فتح ہوا اس کی ویڈیو موجود ہے جب کرشن گڑھ پر پرچم لہرایا گیا اس کی ویڈیو موجود ہے ہمارے پاس تصویریں موجود ہیں ہم ۶ ستمبر مناتے ہیں اگر انڈیا جیتا تھا تو وہ ۶ ستمبر کیوں نہیں مناتا ؟۔۔وہاں پر اس طرح کے پروگرام کیوں نہیں ہوتے ؟۔تو ہمارے پاس وہ تمام ثبوت موجود ہیں پھر  ہمیں ان پروپیگنڈوں   میں آنے کی ضرورت نہیں ہے ہم نے یہ جنگ جیتی تھی اور دشمن کو وہ تاریخی شکست دی تھی کہ ساڑھے ۹ ہزار انڈیا کے فوجی  جہنم واصل  ہوئے تھے اور ہمارے صرف ۱۹۱۸ فوجی اس   جنگ کے نتیجے میں  شہید ہوئے تھے۔اللہ پاک اس ملک کی سرحدوں کی حفاظت فرمائے ۔آمین!

لیئق احمد
لیئق احمد
ریسرچ سکالر شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ کراچی ، ٹیچنگ اسسٹنٹ شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ کراچی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 3 تبصرے برائے تحریر ”یوم دفا ع

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *