• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • خلائی تحقیق بھارت بمقابلہ پاکستان۔۔۔منور حیات سرگانہ

خلائی تحقیق بھارت بمقابلہ پاکستان۔۔۔منور حیات سرگانہ

آج صبح سے ہی پاکستان میں لڈیاں ڈالی جا رہی ہیں۔اکثر لوگوں کی باچھیں کھلی ہوئی ہیں۔سوشل میڈیا پر بغلیں بجانے والے بے شمار ہیں ۔حتیٰ کہ ملکی میڈیا میں بھی جشن کا سماں ہے،اور کیوں نہ ہو ؟ ازلی دشمن بھارت کا چاند پر اترنے کا خواب جو چکنا چور ہو گیا ہے۔۔اور تو اور ہمارے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری صاحب ،جنہوں نے ابھی پرسوں ہی الیکٹرک چنگ چی رکشہ کامیابی سے چلا کر پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا،نے بھی اس ناکامی پر ایک عدد ٹویٹ کر کے بھارتیوں کو شرم سے منہ چھپانے پر مجبور کر دیا ہے۔

برصغیر اور خاص کر پنجاب میں ایک لفظ “شریکا” عام استعمال ہوتا ہے،شریکے والی دشمنی میں مبتلا دونوں فریق اپنی کامیابیوں پر خوش ہونے کی بجائے دوسرے کی ناکامی پر خوش ہوتے ہیں۔اور دوسرے کی کامیابی پہلے کے لئے سوگ کی سی کیفیت پیدا کرتی ہے۔یہ ایک بیمار ذہنیت سے پیدا ہونے والی منفی کیفیت کا نام ہے۔دیکھا جائے تو ہماری پوری قوم بد قسمتی سے اسی منفی کیفیت کا شکار ہے۔خود کچھ کرنے کی بجائے دوسرے کی کسی بھی معاملے میں ناکامی و سبکی ہمیں فرحت کا احساس بخشتی ہے۔اور اسی احساس سے سرشار ہو کر ہم بے عملی کے تاریک گڑھے میں پڑے پڑے بھی آسمانوں کی وسعتیں ناپ رہے ہوتے ہیں۔

چلیں پہلے تو یہ دیکھتے ہیں کہ بھارت کا حالیہ خلائی مشن کیا تھا؟ ۔۔اس کے بعد بھارتی خلائی پروگرام اور اس کی کامیابیوں کا کچھ تعارف حاصل کریں گے اور آخر میں پاکستانی خلائی پروگرام کے بارے کچھ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

بھارت اس سے پہلے 2008 میں چاند کی طرف اپنا پہلا مشن روانہ کر چکا تھا۔اگرچہ بھارت کا یہ پہلا مشن چندریان ون چاند کی سطح پر اترنے میں ناکام رہا تھا،لیکن اس خلائی مشن نے اپنے ریڈارز کے ذریعے سے چاند کی سطح پر سب سے پہلے پانی کی موجودگی کو دریافت کر لیا تھا۔بھارت نے چاند کی طرف روانہ کیے جانے والے اپنے دوسرے مشن کے ذریعے سے چاند کے جنوبی قطب پر اترنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔۔۔یاد رہے چاند کے اس انتہائی دور اور تاریک حصے پر اترنے کی منصوبہ بندی اس سے پہلے کوئی اور ملک نہیں کر سکا۔اس مشن کے لئے بھارت نے اپنے پاس موجود ملکی ساختہ سب سے بھاری اور طاقتور راکٹ (GSLV) مارک تھری استعمال کیا تھا، اس کا وزن 640 ٹن تھا, اور اس کی لمبائی 44 میٹر تھی جو کہ کسی 14 منزلہ عمارت کے برابر ہے۔اس سیٹلائٹ سے منسلک خلائی گاڑی کا وزن 3792 کلو تھا اور اس کے تین واضح مختلف حصے تھے، جن میں مدار پر گھومنے والا حصہ ‘آربیٹر’، چاند کی سطح پر اترنے والا حصہ ‘لینڈر’ اور سطح پر گھومنے والا حصہ ‘روور’ شامل تھے۔مدار میں گردش کرنے والا حصہ ایک سال تک خلا میں زیرگردش رہ کر وہاں کی تصاویر لیتا۔

سطح چاند پر اترنے والے حصے کا نام اسرو کے بانی کے نام پر ‘وکرم’ رکھا گیا تھا۔ اس کا وزن نصف تھا اور اس کے اندر 27 کلو کی چاند پر چلنے والی گاڑی’ پراگیان’ (دانشمندی )تھی جس پر ایسے آلات نصب تھے جو چاند کی سرزمین کی جانچ کر سکیں اور وہاں پر موجود پانی کے بارے ٹھوس معلومات جمع کر سکیں۔ اس کی زندگی 14 دن کی تھی۔ یہ لینڈر سے نصف کلو میٹر تک کا فاصلہ طے کرنے کی اہلیت رکھتا تھا،جہاں سے وہ زمین پر تصاویر اور اعدادوشمار تجزیے کے لیے روانہ کرتا۔بدقسمتی سے بھارتی خلائی گاڑی وکرم چاند کی سطح سے محض 1۔2 کلومیٹر پہلے بے قابو ہو گئی اور 172 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کی سطح سے جا ٹکرائی۔یوں بنی نوع انسان کی چاند کے قطب جنوبی پر اترنے کی پہلی کوشش بظاہر ناکام ہو گئی

پوری دنیا کی نظریں اس مشن پر تھیں،اور اس طرح کی کسی بھی سائنسی کوشش کو عام طور پر پوری دنیا کی مشترکہ سائنسی کاوش گردانا جاتا ہے ۔
بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے (INCOSPAR)کا قیام 1962 میں عمل میں آیا تھا،جس کو 1969 میں انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO)کا مختصر نام دے دیا گیا۔اس کے بانی اور پہلے سربراہ خلائی سائنسدان وکرم سارا بھائی تھے،اور اس کا ہیڈکوارٹر بھارتی شہر بنگلور میں واقع ہے ۔اس وقت اس خلائی تحقیقاتی ادارے کا سالانہ بجٹ ڈیڑھ ارب ڈالرز ہے ،اور اس میں 16800 سے زیادہ سائنسدان کام کر رہے ہیں۔

اسرو نے 19 اپریل 1975 کو اپنا پہلا مصنوعی سیارہ ‘آریہ بھاٹیا’سوویت یونین کی مدد سے خلا میں پہنچایا۔1980 میں بھارتی ساختہ پہلےخلائی راکٹ(SLV3)کے ذریعے سے’روہنی’نامی مصنوعی سیارے کو کامیابی سے خلائی مدار میں چھوڑا گیا۔اس کے بعد بھارت نے مقامی طور پر دو خلائی راکٹ ڈیویلپ کیے،جن میں سے ایک(PSLV) پولر مدار کے لئے اور دوسرا (GSLV)جیو سٹیشنری مدار تک مصنوعی سیارے پہنچانے کے لئے بنایا گیا تھا۔ ان کے ذریعے سے ‘گگن’ اور (IRNSS) جیسے متعدد مواصلاتی سیارے اور نیوی گیشن سسٹم کامیابی سے خلا میں پہنچائے گئے۔2014 میں اسرو نے ہندوستانی ساختہ (GSLV.D5) راکٹ کی مدد سےاپنے مواصلاتی سیارے GSAT 14 کو کامیابی سے خلا میں چھوڑا۔22اکتوبر2008 کو بھارت کا پہلا خلائی مشن چندریان ون چاند کے مدار میں بھیجا گیا۔اور 5 نومبر 2015 کو مریخ کی طرف پہلا بھارتی خلائی مشن روانہ ہوا،جو کہ24 ستمبر 2014 کو مریخ کے مدار میں پہلی ہی کوشش میں کامیابی سے داخل ہونے والا دنیا کا پہلا خلائی مشن بن گیا۔18 جون 2016 کو انڈیا نے ایک ہی راکٹ کے ذریعے سے 20 مصنوعی سیارے اکٹھے خلا میں بھیج دیے،اور 15 فروری کو اپنے ہی تیار کردہ طاقتور خلائی جہاز(PSLV_C37) کے ذریعے ایک ہی فلائٹ میں 104 مصنوعی سیارے خلا میں کامیابی سے بھیج کر اب تک کا نہ ٹوٹنے والا عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔اسرو نے اسی پر ہی اکتفا نہیں کیا،بلکہ5 جون 2017 کو اپنے جدید ترین خلائی راکٹ (GSLV_MK3) کے ذریعے سے 4 ٹن وزنی مواصلاتی سیارے GSAT19 کو خلائی مدار میں بھیج کر امریکہ اور روس کے ساتھ خلا میں سب سے وزنی سیارے بھیجنے والے ممالک میں اپنی جگہ بنا لی۔ اسرو کا حالیہ مشن چندریان ٹو تھا،جس میں اسے جزوی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

ان کی مستقبل کی منصوبہ بندی میں مکمل ہندوستانی خلائی اسٹیشن کی تعمیر، مصنوعی سیارے چھوڑنے والا،انتہائی چھوٹا کم خرچ خلائی جہاز ،انسان بردار خلائی مشن،بار بار استعمال ہو سکنے والا خلائی راکٹ اور شمسی توانائی سے چلنے والا خلائی جہاز شامل ہیں۔
ان بے مثال کامیابیوں کے دوران کئی بار بھارتی سائنسدانوں کو ناکامیوں کا منہ بھی دیکھنا پڑا،جن کو ہمارے میڈیا میں خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا تھا،تاکہ اسرو کو ایک نکما اور ناکام ادارہ ثابت کیا جا سکے۔

اب ذرا اپنے خلائی تحقیقاتی ادارے سپارکو(SUPARCO)کا احوال بھی جان لیں۔اس کا قیام 1961 میں عمل میں آیا ،یعنی ہم خلائی تحقیق کی دوڑ میں انڈیا سے ایک سال پہلے ہی داخل ہو گئے تھے۔بس ذرا رفتار ایسی رہی کہ آج خلائی تحقیق کے عالمی اداروں میں ہمارا نام شاید خوردبین سے دیکھنا پڑ جائے۔انڈیا کے اسرو کے ڈیڑھ ارب ڈالر کے سالانہ بجٹ کے مقابلے میں سپارکو کا بجٹ محض چار کروڑ اور تیس ڈالرز ہے .اس کا پورا نام ‘اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن ‘ ہےجو کہ افواج پاکستان کے اسٹریٹیجک پلاننگ ڈویژن کا ایک حصہ تھا ۔شروع میں اس کا   ہیڈ کوارٹر  کراچی میں تھا،جبکہ اب اسے پاکستان ائیر فورس کے ماتحت کر دیا گیا ہے ،جس کا مرکز اب آرمی ڈسٹرکٹ چکلالہ میں ہے۔اپنے قیام کے ابتدائی برسوں میں اس کی ترقی کی رفتار شاندار تھی۔1962 میں اس نے مقامی ساختہ پہلے سالڈ فیول کے حامل بغیر انسان بردار راکٹ ‘رہبر’ کی کامیاب اڑان بھری ،اور اسطرح پاکستان ایشیا کا تیسرا اور دنیا کا دسواں ایسا ملک بن گیا جس نے خلائی راکٹ کا کامیاب تجربہ کیا۔اس وقت کے خلائی پروگرام میں پاکستانیوں کو امریکہ کی تکنیکی معاونت میسر تھی۔1967 تک پاکستان خلائی ٹیکنالوجی میں کامیاب پرواز کرنے کی اہلیت رکھنے والا جنوبی ایشیا کا واحد ملک تھا۔یہ خلائی تجربات 1970 تک جاری رہے،اور سونمیانی کے خلائی اسٹیشن سے 200 کے قریب ایسے راکٹ چھوڑے گئے۔بدقسمتی سے اس کے بعد کئی طرح کی مالی،انتظامی اور سیاسی مشکلات کے علاوہ سائنسی بجٹ کا زیادہ حصہ جوہری صلاحیت کے حصول کی طرف لگانے کی وجہ سے خلائی تحقیق کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔1991 میں پاکستان نے چینی تعاون سے اپنا پہلا مصنوعی سیارہ چینی راکٹ کے ذریعے سے خلا میں بھیجا۔اور اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔بعد میں آنے والی حکومتوں نے خلائی تحقیق کو فضول گردان کر کئی ترقیاتی منصوبے کینسل کردیے۔سپارکو کے سائنسدانوں کو میزائل سازی کے منصوبوں میں مصروف کر دیا گیا اور آج سپارکو کے نام سے شاید اسکولوں کے بچے بھی واقف نہ ہوں۔ کئی سال بعد چین کی مدد سے دو مصنوعی سیارے فضا میں بھیجے گئے ہیں۔ اور سپارکو کی تحقیق کا محور اب نظام شمسی کا مشاہدہ،خلائی موسم،آسٹرو فزکس،خلائی مشاہدات،ماحولیاتی تحقیق،سپیس اینڈ ٹیلی میڈیسن،ریموٹ سینسنگ،زمین کا مشاہدہ اور رویت ہلال تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔جی ہاں ہر ماہ رمضان کی آمد پر جو آٹھ دس ضعیف العمر اور کمزور نظر والے بابے مفتی منیب الرحمٰن کی قیادت میں کراچی کی اونچی عمارتوں پر دوربینیں لے کر چاند دریافت کرنے کے لئے چڑھے ہوئےے ہوتے ہیں،وہ دور بینیں سپارکو ہی کی ملکیت ہوتی ہیں۔

دراصل اب ہم عمل کی دنیا سے نکل کر صرف باتوں کی دنیا تک محدود ہو چکے ہیں ۔کہاں ‘ناسا’ کا مقابلہ کرنے والا ،اسرو، اور کہاں عید کا چاند دیکھنے والا سپارکو۔پتا نہیں کب ہم “شریکے” کی کیفیت میں مدہوش رہنے والے بے ہنگم ہجوم سے حقیقت کی دنیا میں رہنے والی با شعور قوم بن پائیں گے

منور حیات
منور حیات
ملتان میں رہائش ہے،مختلف سماجی اور دیگر موضوعات پر بلاگ لکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *