دنیا سے چندرما تک ۔۔۔ میاں ضیاء الحق

کل رات کے پچھلے پہر نیٹ فلکس کی سیکرڈ گیمز 2 دیکھنے کے چکر میں ٹی وی آن کیا تو سوچا پہلے جیو کی خاص خاص خبریں سنی جائیں۔ یو ٹیوب پر موسٹ پاپولرز میں دوسرا نمبر چندریان 2 لینڈنگ لائیو ٹرانسمشن لکھا ہوا تھا۔ ناسا کا شروع سے فین ہوں تو تجسس ہوا کہ انڈیا نے ہالی ووڈ کی تقریبا 30 فیصد قابلیت پالی ہے تو ناسا کی کتنی پالی ہوگی، چلو چیک کرتے ہیں۔ سکرین ٹائمر کے مطابق لینڈنگ 30 منٹ دور تھی اور گرافک تشریح کے مطابق چندریان زمینی مدار لمبے سے لمبا کرکے آہستہ آہستہ چاند کے قریب پہنچ رہا تھا۔ آخر اس نے چاند کے مدار میں گھومنا شروع کیا تو پورا ہال جس میں سائنسدانوں کے علاوہ ملکی اور غیر ملکی طالب علم بھی شامل تھے تالیوں سے گونج اٹھا۔ انڈیا نے آج تک ہمارے اچھے کو برا اور برے کو بہت برا کہا ہے چاہے کوئی معاملہ ہو جبکہ اس کے برعکس ہم میں سے زیادہ تر ان کی برتری کی فیلڈز میں ان کی تعریف کرجاتے ہیں۔اسی جذبے کے ساتھ ان کی دلی سپورٹ میں ساتھ ہولیا۔ ISRO کے سائسندانوں کے درمیان میں مودی دکھائی دیا تو معاملے کی اہمیت کا احساس ہوا۔ یہ پہلی بار تھا کہ اس مشن کو اسرو کے سربراہ کی بجائے ایک خاتون لیڈ کر رہی تھی اور ڈھلتی عمر میں بھی چوکس ہوکر آپ ڈیٹس لے اور دے رہی تھی۔ یہ سب حیرت انگیز تھا۔ فورا سیکرڈ گیمز پر لعنت بھیجی کہ پھر سہی اور مصنوعی ڈرامے کی بجائے حقیقی ڈرامہ دیکھا جائے کہ جب چندرن 2 جس کا نام وکرم دی لینڈر ہے کیسے چاند پر اترتا ہے۔ توقع کے مطابق وکرم دی لینڈر بالکل درست جارہاتھا اور باقائدگی سے اس لانچنگ سٹیشن سے رابطے میں تھا۔ چندریان کے چاند کی سطح سے 35 کلومیٹر دور پہنچا تو مودی پانی کا گلاس خالی کرنے کے بعد متجسس نظروں سے سکرین پر نظریں جمائے ہوئے تھا جبکہ تازہ آپ ڈیٹس لمحہ بہ لمحہ اس کو بتائی جارہی تھیں کہ سکرین پر اب کیا دکھایا جارہا ہے۔
آخری 2 منٹس میں جب فاصلہ 7 کلومیٹر رہ گیا تو وکرم دی لینڈر 60 میٹر فی سیکنڈ میں رفتار سے چاند کی طرف جارہا تھا جو کافی زیادہ محسوس ہوئی لیکن سائسندانوں کے نزدیک بالکل ٹھیک تھی۔ لینڈنگ کے اس حصے کا نام فائن بریکنگ فیز تھا جو کامیابی سے ممکن ہوا۔ اب اس نے چاند کے اردگرد گھومنے کی بجائے عمودی صورت میں چاند کی طرف جانا تھا جو کہ اس مشن کا سب سے اہم حصہ تھا۔
پلان کے مطابق اس وقت چندرن-2 سیلف کنٹرول میں تھا اور سمارٹ ڈیسیزن ایبلٹی کے تحت خود ہی سپیڈ اور لینڈنگ کا طریقہ کار طے کرنا تھا جبکہ اس کے لئے سپیس کنٹرول سنٹر کی ہدایات اب رک چکی تھیں۔
سائنسدانوں کے چہروں پر اڑی ہوایاں بتا رہی تھیں کہ کچھ غلط بھی ہوسکتا ہے۔ اندازہ ہوگیا کہ معاملہ ففٹی ففٹی ہے۔
بالآخر منٹس سیکنڈوں میں بدلے اور پھر زیرو نمودار ہوگیا۔
اب ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔ کمنٹریٹر کے مطابق اکثر ایسا ہوجاتا ہے کہ کچھ وقت زیادہ بھی لگ جاتا ہے حالانکہ گنے چنے لمحات اور خاص کر خلائی سائنس میں اتنا لمبا فرق صرف خطرے کی گھنٹی ہی ہوتا ہے جو بج چکی تھی۔ مودی سمیت ہر بندہ ساکت تازہ اپ ڈیٹ کا انتظار کر رہا تھا اور انتظار طویل سے طویل ہوتا گیا۔
اسرو کے سربراہ کیلاس وادیوو سیون نے باآخر اعلان کیا کہ آخری 2 کلومیٹر میں رابطہ منقطع ہوچکا ہے اور حاصل شدہ معلومات کے ذریعے مزید معلومات دی جائیں گی۔
مودی نے پہلے سائسندانوں سے بات کی پھر ان کی محنت پر فخر کرتے ہوئے اس پروگرام کو جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ یہاں آنے والے طلباء بہت پرجوش تھے لیکن اس ناکامی کی وجہ سے افسردہ بھی۔ مودی نے خاص طور پر ان سٹوڈنٹس کے سوالات کے جوابات دئیے۔
یہ چاند پر پہنچنے اور اس پر چلنے کی ایک بھرپور کوشش تھی جو اب کامیاب تو نہیں ہوئی لیکن انڈین قوم کی سمت ضرور بتا گئی کہ انڈیا کی مستقبل کی ترجیہات کیا ہیں۔
اب اپنی بات کرلیتے ہیں کہ ہمیں ان کی کامیابی یا ناکامی پر کیوں فکرمند نہیں ہونا چاہئے کہ ہماری تو یہ ترجیہات ہی نہیں ہیں۔ ہم ثواب لیتے لیتے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے، اپنی آخرت ایسے سنوار رہے ہیں کہ خود مثال بن چکے ہیں۔ ہر دوسرا بندہ منکر و کافر و سنی و شعیہ و بے ادب و جہنمی و جنتی و صوفی و ولی و علامہ و مولانا و دین فروش ہے۔ ترقی اس طرف ہوتی ہے جس طرف محنت کی جائے۔ ان شب شعبوں میں ہم الحمداللہ سب سے آگے ہیں۔ انڈیا چاہے مریخ پر چلاجائے یا چندرما پر کیا فرق پڑتا ہے کافر ہے کافر رہے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *