لوح ۔۔۔/تبصرہ محمد خان چوہدری

اردو ادب کا سہ ماہی مجلہ جسے ممتاز شیخ اپنی ادارت میں شائع کرتے ہیں۔ آج کل دو شمارے ملا کے چھاپے جاتے ہیں، تو ضخامت چھ سو صفحات سے زائد ہوتی ہے، موجود شمارہ نمبر گیارہ بارہ کے 672 صفحے، ان پر جلدی کور ملا کے وزن اتنا کہ اسے چارپائی  پر لیٹ کے پڑھنا ممکن نہیں، شیخ  صاحب  خود فرماتے ہیں ۔۔
“ غالبا سن 2000 کی بات ہے کہ انقلاب بذریعہ شعر و سخن کی سوچ میرے اندر در آئی  اور میں نے اولڈ راویئنز ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے ادب میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے مشاعروں کا بڑے پیمانے پر اہتمام کیا تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے سالوں میں اس کی اہمیت سہ چند ہو جائے گی”۔

کسی بھی تحریر کا سرنامہ، مضمون کاپیش لفظ، کتاب کا دیباچہ ، رسالے کا اداریہ ان کے نفس مضامین کا تعارف اور خاکہ ہوتے ہیں۔۔
خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا کہیے، کہ  عنوان سے ممتاز شیخ کا بیان قابل غور ہے۔

ممتاز شیخ

ابلاغ عامہ کے موجودہ برقی دور میں کوئی  کتاب بصورت کتاب چھاپنا ماضی کو واپس پکڑ لانے کے مصداق ہے،انٹرنیٹ اور سائٹس نے ہر قسم کے مواد تک رسائی  تو ممکن کر دی ہے لیکن ساتھ قاری سے قرات لے لی ہے۔۔اب ہر شے کو پڑھا جاتا ہے، مطالعہ کی لذت ناپید ہے، الفاظ میں موسیقیت نہیں رہتی، تراکیب میں سُر اور لے کا تاثر باقی نہیں، کثرت نے عجلت پیدا کر دی ہے، مضمون نہیں مفہوم اہم ہے۔

لوح میں شعر و ادب کے سارے انگ اپنے اپنے گروپ میں شامل ہیں، جیّد شعرا ء و ادبا کے ہمراہ نئے لیکن ذرا پکی عمر کے لکھاری بھی صف ِ آرا ہیں۔۔۔اس مبصرانہ تحریر کا رنگ بھی لوح کی مجموعی فضا کی وجہ سے سنجیدہ ہو گیا،ارادہ تو اسے “مرغبانی سے ادب کی نگہبانی تک”۔۔ عنوان سے لکھنے کا تھا،اولذکر ممتاز شیخ کا کاروبار ہے اور دوسرا ان کا شوق۔شوق جتنا بھی شدید ہو کاروباری مہارت اس پہ  سایہ فگن ہوتی ہے، ترتیب مضامین و اصناف ادب سے یہ بھی تو لگتا ہے کہ ہر صنف و نسل کے لئے ڈربے مختص ہیں جیسے انڈے دینے اور بچے پیدا کرنے کے ڈربے جدا ہوتے ہیں۔
اصیل مرغ اور مزدوج کُکڑ بھی علیحدہ رکھے ہیں ، ان سب میں نظم ،تنظیم ،ڈسپلن طے شدہ اور سخت ہے۔۔۔اتنے ضخیم مجلہ کی نشرو اشاعت ، ترسیل و تقسیم کا بندوبست جدید ترین پولٹری شیڈ کے انتظام کے برابر تو ہے۔

 

لوح پرانے نقوش جیسے رسالہ جات سے کہیں آگے ہے، اس کے مداح و شائقین ہر ملک میں موجود ہیں جہاں اردو پڑھی پڑھائی  جاتی ہے،طنز و  مزاح اور ادب لطیف کی وٹامن ڈی کی طرح کمی نوٹ کی گئی  ہے، ہلکا پھلکا  مزاح اور تفنن لکھنا مشکل ترین ہے۔لیکن یہ بزرگ شہریوں کی صحت کے لئے وٹامن اے، ڈی اور ای سے زیادہ ضروری ہے۔
دو جلدیں یکجا کر کے پبلش کرنے سے اخراجات میں بچت اہم تو ہے لیکن بہتر ہے کہ موجودہ ورل ابلاغیات کے زمانے میں ، نئے وسائل نشر و اشاعت سے ہم آہنگ رہا جائے، چھاپی ہوئی  کتاب اور نیٹ پر اسے پڑھنے کی سہولت پیدا کرنی آج نہیں  تو کل لازم ہو گی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *