سکھوں کی بہنیں بھی تو ہماری بہنیں ہیں۔۔۔منور حیات

اگرچہ ظلم کی یہ روایت تو پرانی ہے،پر مذہب کے نام پر ہوس کاری کی یہ داستان بالکل نئی ہے،تازہ ہے۔شکاری وہی پرانے ہیں،پر شکار نیا ہے۔اس بار یہ ظلم پنجاب میں ننکانہ صاحب کے ایک سکھ پریوار پر ڈھایا گیا ہے۔سویندر سنگھ کے والد بھگوان سنگھ گرو گھر یعنی گردوارے کے ہر گرنتھی ہیں۔یعنی اپنی کمیونٹی کے ایک سرکردہ عالم دین اور عزت دار آدمی ہیں۔جیسا کہ سویندر سنگھ ویڈیو میں بتا رہے ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے فون نمبر بھی دیا،جس سے دیگر تفصیلات بھی معلوم کی جا سکتی ہیں۔ان کے گھر میں کچھ غنڈے گھسے اور ان کی چھوٹی بہن کو ذبردستی اٹھا کر لے گئے۔اس کے بعد اس کو کلمہ پڑھوانے کی اطلاع اور مظلوم خاندان کو دھمکیاں۔بعد میں وہی پرانا آزمودہ طریقہ واردات استعمال کیا گیا۔یعنی اسلام کے نام پر اپنا منہ  کالا کرنا،ایک عدد جعلی نکاح اور اس کے بعد باقی کا کام مجاہدین اسلام پر چھوڑ دینا،کہ وہ اسے کفر اور اسلام کا معرکہ بنا کر پیش کریں۔

اب کیونکہ باقی کرتوت تو ہم نام نہاد مسلمانوں کے ایسے ہیں کہ کوئی ہمارے جیسی مسلمانی اختیار کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا،تو اشاعت اسلام کا ایک یہی طریقہ کارگر رہ گیا ہے،کہ کسی بھی غیر مسلم کی بیٹی یا بہن کو ورغلاؤ اور اسے نور ِایمانی سے سرفراز کر دو ۔

سندھ میں تو بڑے طویل عرصے سے یہی مشق جاری ہے،جس کی وجہ سے ہزاروں ہندو پریوار پاکستان چھوڑ کر بھارت میں پناہ لے چکے ہیں۔عیسائیوں کے ساتھ ایسے واقعات گنتی سے ماورا ہیں۔سکھ پاکستان میں تعداد کے لحاظ سے بہت ہی چھوٹی سی کمیونٹی ہیں،شاید چھ یا سات ہزار کے قریب،اب ان کے خلاف بھی ایسی ہی وارداتیں شروع ہو گئی ہیں۔پتا نہیں ہمارے کردار یا ہمارے اسلام میں ایسی کونسی مقناطیسیت ہے،کہ غیر مسلموں کی صرف جوان بیٹیاں ہی اس کی طرف راغب ہوتی ہیں۔آخری واقعہ گھوٹکی سندھ کی دو ہندو بہنوں کا یاد آ رہا ہے،جو ایک غریب ہندو ہری رام کی بیٹیاں تھیں۔ان کو بھگانے والے دونوں ہوس کار پہلے سے ہی شادی شدہ اور بچوں والے تھے۔اس تمام تر حقیقت کے باوجود عدالت نے دونوں لڑکیوں کو بھگانے والوں کے ساتھ بھیج دیا تھا،اور غریب والدین آنسو پونچھتے ہوئے خالی ہاتھ گھر لوٹ آئے تھے۔کبھی کبھی ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ان جیسی کئی اور بچیوں کے اس طرح کے نکاح پڑھانے والا مولوی مٹھا کیا اپنی بیٹی کی اسی طریقے سے رخصتی پسند کرتا،جیسے کہ وہ غریب ہندوؤں کی بچیوں کی کرواتا تھا ؟

کیا سویندر سنگھ اپنی بہن کے نام نہاد مسلمان اغواکار کی بہن سے اسی طریقے سے نکاح کرنا چاہتا اور کلمہ پڑھنا چاہتا تو وہ اغوا کار اسے اپنا بہنوئی تسلیم کر لیتے ؟
جب یہ خاندان اپنے متعلقہ تھانے میں اور ڈی سی او تک فریاد لے کر گیا ،جہاں ان کی کچھ شنوائی نہیں ہوئی ،تو ان سرکاری افسران کو کچھ شرم تو آئی ہو گی ؟کچھ خوف خدا آیا ہو؟ آخر اس تھانیدار کی بھی تو کوئی بہن ہو گی،اس ڈی سی او کی بھی تو کوئی بیٹی ہو گی؟اگر ان کے ساتھ خدانخواستہ کوئی واقعہ ہو گیا ہوتا تو کیا وہ سر اٹھا کر چلنے کے قابل رہتے ؟

مذہب کے نام پر اپنی ہوس کی آگ بجھانے سے گھٹیا کام اور کونسا ہو سکتا ہے۔ہم بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر واویلا کیسے کر سکتے ہیں،جبکہ ہم خود موقع ملنے پر اپنے اقلیتی بھائی بہنوں کی عزت پر ہاتھ صاف کرنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔

جناب وزیراعظم سے بھی التماس ہے کہ کرتار پور بعد میں کھولیے گا،پہلے جن کی عزتوں کے دامن تار تار ہو رہے ہیں ،ان کی تو سن لیں۔تبدیلی سرکار والے تو شاید بھنگ پی کر سو رہے ہوں ،لیکن کیا سب پاکستانی بھی سو رہے ہیں ؟۔۔یہ واقعات روکنے کے لئے ظالموں کا ہاتھ روکنا ہو گا۔سب کو آواز اٹھانا ہو گی۔ان مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔
سچ پوچھیے تو آج اپنے پاکستانی اور مسلمان ہونے پر شرم آ رہی ہے۔خدارا اٹھیے اور اپنے بھائی سویندر سنگھ کا ساتھ دیجیے ،اپنی بہنوں کا ساتھ   دیجیے۔

منور حیات
منور حیات
ملتان میں رہائش ہے،مختلف سماجی اور دیگر موضوعات پر بلاگ لکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *