یادیں ۔۔۔۔۔عارف خٹک

مجھے ہمیشہ سے اُس کا ہاتھ پکڑنے کی عادت تھی۔ راہ چلتے ہوئے میں اُس کا ہاتھ پکڑ لیتا تھااور وہ ایک ناز سے جھٹک دیتی۔ مسئلہ یہ نہیں تھا،کہ اس کو ہاتھ پکڑنے پر اعتراض ہوتا تھا۔ بلکہ میں بیچ بازار اسے اپنے ساتھ چمٹا لیتا۔اور کبھی کبھار اس کا مُنہ چومنے کی غیر ارادی کوشش تک کرلیتا۔ تو وہ ہمیشہ مُنہ پھلا کر کہتی کہ دفع ہوجاؤ۔ تم اس قابل ہی نہیں ہو،کہ تمھیں گھر سے باہر کہیں لایا جائے۔ تیرے ساتھ باہر نکلتی ہوں تو احتیاطاً نکاح نامہ پرس میں رکھنا پڑتا ہے۔مبادا فحاشی کے الزام میں دونوں کہیں دھر نہ لیے جائیں۔

ایک دن کےلیے میں دُور ہوجاتا،تو غصے میں چیخنا چلانا شروع کردیتی۔قریب ہونے لگتا،تو اور بھی چیخیں مارنے لگتی۔چیخنا جیسے اس کی ایک ناگُزیر سی عادت تھی۔ نہایت ہی ڈرپوک بچوں جیسا دل رکھنے والی تھی۔ کبھی کبھار تو اُس پر شدید غصہ آجاتا۔ لال بیگ یا چھپکلی باتھ رُوم میں دیکھ کر  اُس کا رنگ فق ہونے لگتا،اور زبان گنگ رہ جاتی۔میرے سینے سے لگ کر تھر تھر کانپنا شروع کردیتی۔اور مُجھے اُس پر بے تحاشا  پیار آنے لگتا۔جب تک اُس کا کانپنا جاری رہتا۔تب تک میں اُسے خاموش پیار کرتا رہتا۔

وہ اتنی نازک تھی،کہ اگر تھوڑا زور سے اپنے ساتھ قریب کرتا، تو اُوئی کی آواز نکال کر دُہری ہوجاتی۔ بہت سنبھل سنبھل کر نہایت ہی نزاکت سے اُسے چُھونے کی گستاخیاں کرتا رہتا۔ اُس کو تب نیند نہیں آتی تھی۔ جب تک زور سے  مجھے گلے نہ لگالیتی۔یہ الگ بات کہ اُس کی نرمیاں مُجھے پُوری رات سونے نہیں دیتی تھیں۔غلطی سے اُس کے پیٹ یا کمر سے ہاتھ لگ جاتا،تو اُسے گُدگُدی ہونے لگتی اور ہنس ہنس کر اُس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑتے۔

اکثر اوقات پُوری رات گُزر جاتی۔وہ یک ٹک مجھے دیکھتی رہتی۔ میں بولتا،جان اب سو بھی جاؤ۔ وہ جواب دیتی،یہ وقت نکل جائےگا۔ میں اس کا ایک ایک لمحہ جینا چاہتی ہوں۔

فرطِ محبت میں زیادہ دیوانی ہونے لگتی۔تو چٹر پٹر انگریزی بولنی لگتی۔اور شیکسپئر، شیلے،ٹالسٹائی کی محبتیں بتلاتی رہتی۔ میں اُس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ کر اُسے خاموش کرادیتا یہ کہہ کر،کہ محبت کا اصل مزہ اپنی دیسی بولی بولنے میں ہے۔عشق کےلیے کسی خاص زبان کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ میری انگریزی کا مذاق اُڑاتی،یہ کہہ کر،کہ جان تم انگلش بولا کرو انگریزی نہیں۔ ایک سال میں اُس نے کڑی محنت کرکے مجھے Pre ejaculation کا صحیح تلّفظ سکھایا۔ اُس نے میری اردو کی “چالانگ” کو “چھلانگیں” لگوا دیں۔ نرم لہجے میں بات کرنا اور اپنی مخروطی اُنگلیوں کی پوروں سے میرے بالوں میں اور سینے پر مساج کرنا۔ اُففففف!

پھر میں نے اُسے کھو دیا۔ اب چھپکلیوں اور لال بیگوں سے میری چیخیں نکلتی ہیں۔ اب میں بے انتہاء ڈرپوک ہوچکا ہوں۔کبھی بازار جانا پڑے،اور غلطی سے کوئی لڑکی ٹکرا جائے۔ تو میری آنکھوں سے جیسے چنگاریاں سی نکلنےلگتی ہیں۔کبھی کوئی میرے ساتھ کمرے میں موجُود ہو۔تو میری آنکھوں سے نیند کوسوں دُور بھاگ جاتی ہے۔

اب میں فرفر انگلش بولتا ہوں۔ آج میں نرم لہجے میں بات کرنے کا عادی ہو چکا ہوں۔ مگر میرے چھوٹے سے گھر میں اب اس کی پاگلوں جیسی چیخیں گونجتی رہتی ہیں۔ دیہاتی گالیوں کی غزلیں چلتی ہیں۔ اب میری بیوی کو انگریزی کا شیکسپیئر تو دُور کی بات،اپنے کوہاٹ کا احمد فراز بھی یاد نہیں رہتا۔ کہتی ہے کہ اس کی مت ماری گئی تھی،جو میرے پلے بندھنا چاہا اُس نے۔اب اس کو میرے چار بچے بھی عذاب لگتے ہیں۔

رات کے اس پہر بھی میں بیٹھا اس کی یادوں میں کھویا ہوا ہوں۔ چرس کے  گاڑھے دھوئیں میں اس کا ہیولہ ڈھونڈ رہا ہوں۔ چھوٹا سا قد، گول مٹول اور بچوں جیسا معصوم چہرہ رکھنے والی میری محبت کی مُورتی پتہ نہیں اس وقت کس حال میں ہوگی۔ اُسے یاد کرتے کرتے میری یادداشت اور بینائی دونوں ہی مدھم ہوتی جارہی ہیں۔

اچانک کمرے کی اُداس خاموشی میں میری ایک سوبیس کلو کی “ہیوی ویٹ” بیوی آ دھمکتی ہے۔اور چنگھاڑتی ہوئی آواز میں مُجھے مخاطب کرکے پوچھتی ہے۔کہ میری کزن کو وٹس ایپ پر اپنی شرٹ لیس تصاویر تم نے بھیجی ہیں کمینے انسان؟ریف

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *