• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • ـخامہ بدست غالب۔۔۔۔ساٹھ نظموں پر مشتمل نیا تجربہ/ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ـخامہ بدست غالب۔۔۔۔ساٹھ نظموں پر مشتمل نیا تجربہ/ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ساٹھ نظموں پر مشتمل یہ نیا تجربہ غالب کے اشعار کو رو پرو اور دو بدو مکالماتی فارمیٹ میں سمجھنے کی ایک ایسی کوشش ہے جس سے بہتوں کا بھلا ہو گا۔ مرزا غالب اور یہ خاکسار پہلو بدل بدل کرالفاظ اور معانی کی ہاتھا پائی میں بلی ماران کے گلی کوچے میں بلیوں اچھل رہے ہیں۔ یہ کتاب جو پہلے مطبوعہ کتاب ـخامہ بدست غالب ‘‘ کا جڑواں sister volume ہو گا، ’’خامہ بگوش غالب‘‘ کا اسم ِ موصول اختیار کرے گا۔ (ستیہ پال آنند)
؎
غیر کی منت نہ کھینچوں گا پے ِ توفیر درد
زخم مثل خندہ ٗ قاتل ہے سر تا پا نمک
۔۔۔۔۔۔
ستیہ پال
شعر مشکل ہی نہیں، مہمل بھی ہے، بندہ نواز
خندہ ٗ قاتل کی نمکینی تو رکھیئے اک طرف
زخم کا نمکین ہونا بد قوارہ ہے بہت !

مرزا غالب
یہ بھلا کیسے؟ ذرا تفصیل سے کہنا، عزیز

ستیہ پال
سیدھی سادی ہے مری دریافت کی وجہ ِ جواز
’’غیر‘‘ کا مطلب ہے کیا اس شعر میں، فرمائیں تو !
کیا وہی جس کو ’’رقیب ِ رو سیہ‘‘ کہتے ہیں آپ؟
جو عدو ہے، معترض ہر بات میں ہے، ’’غیر دوست‘‘؟
یا کہیں کچھ اور بھی مطلب ہے اس کا ؟ مہرباں؟

مرزا غالب
غیر کا مطلب سمجھنے کی ذرا کوشش کرو
’’وہ‘‘ کہ جو تم ’’خود‘‘ نہیں ہو، کوئی بھی، ’’مَیں‘‘ کے بغیر

ستیہ پال
کوئی ‘‘ میں پھر آپ کا معشوق بھی شامل ہے کیا ؟

مرزا غالب
کیوں نہیں ؟ ’’قاتل‘‘ تو بپتسمہ ہی اک معشوق کا ہے!

ستیہ پال
واقعی؟ یعنی سرا پا کل حقیقت! خوب ہے !!
’’غیر‘‘، یعنی ہر کوئی جو دوسرا ہے ، ’’میں‘‘ نہیں
اس کا ’’خندہ ‘‘ اور میرا ـ ’’زخم‘‘ اپنی طرح سے
دونوں ہی ہیں نمک پاشی کے برابر ملتجی
غرض دونوں کی فقط یہ ہے کہ عاشق کے لیے
نمک پاشی درد کی تو فیر کا باعث بنے!
واہ ! کیا نکتہ ہے ، جس میں آپ کا معشوق بھی
اور زخم خندہ رو بھی، دونوں دارو گیر ہیں !!

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *