قلم کی طاقت۔۔۔۔عزیز خان

کُچھ تحریریں لکھتے وقت لکھنے والے کو اس بات کا وہم وگماں بھی نہیں ہوتا کہ اُسکی یہ تحریر کتنی مقبول ہو گی ،خاص طور پر جب لکھنے والا بالکل  نیا ہو۔۔

کُچھ دنوں پہلے میں نے اپنے ذاتی تجربات پر مبنی ایک تحریر قیدی نمبر 420 لکھی جو میں بطور SHO کوٹ سبزل بٹ صاحب کو لاہور سے اُٹھا کر لایا تھا اور اپنے افسران کے حکم سے پیسوں کی ریکوری کرائی تھی۔
کالم لکھتے وقت یا کالم کا عنوان لکھتے وقت میرے ذہین میں کسی خاص شخصیت کا خیال بھی نہ تھا البتہ موجودہ حالات کے پیش نظر ایک دُکھ ضرور تھا کہ اگر ان لوگوں نے کرپشن کی ہے تو ان کے ساتھ یہ VVIP والا سلوک کیوں ہے؟

گھر کے کھانے، کمروں میں   اے سی،روز ملاقاتیں، پروڈکشن آرڈرز ایسا نہیں ہونا چاہیے اور قانون کے مطابق ایک عام قیدی والا سلوک ہونا چاہیے تھا۔۔
عدالتیں تو ایسا کوئی حُکم نہیں دیتیں کہ  اے سی  لگا دیں یا ملاقاتیں کروائیں۔

میرے علم میں بہت سے ایسے افسران ہیں جو اب بھی جج محمد ارشد کی طرح جاتی عمرہ (عمرہ) کرنے جاتے ہیں۔
یہ کام تو اُن افسران اورملازمین کا ہے جو قانون کی پاسداری نہیں کرتے بلکہ دولت یا بااثر لوگوں کی غلامی کرتے ہیں۔

وہ تحریر غلط تھی یا صحیح پر مجھے نہیں معلوم تھا کہ لوگ اُسے اتنا پسند کریں گے مجھے پوری دنیا اور پورے پاکستان سے اتنی کالز آئیں کہ میں حیران رہ گیا کہ کیا میرے دل کی آواز کی طرح سب کے دل کی آوازبھی یہی ہے؟

میرے لیے ادب اور کالم کی دنیا بالکُل اجنبی اور نئی ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ٹرین کے ایسے ڈبے میں نیا مسافر سوار ہو جو کھچا کھچ بھرا ہوا ہو اور مسافر کے پاس ٹکٹ بھی نہ ہو۔

میرا یہ کالم بہت سے دوستوں نے فیس بک اور واٹس ایپ پر شئیر کیا تو میرا نام اور فون نمبر ڈیلیٹ کر دیا۔۔
کُچھ دن قبل میرے ایک جاننے والے MNA کی کال آئی تو مجھ سے پوچھنے لگے عزیز خان یہ بتائیں کہ 1999 میں کوٹسبزل SHO کون تھا مزید بولے کہ ایک تحریر ہمارے پارلیمانی گروپ میں بُہت پڑھی جا رہی ہے جس میں ایک بٹ کا ذکر ہے۔۔
میں بولا کہ میں ہی SHO تھا اور میں نے ہی وہ کالم لکھا ہے تو بڑی خوشگوار حیرت سے بولے یار کمال لکھا ہے آپ کا کالم بہُت ہٹ جارہا ہے۔۔
اسی طرح کُچھ دن قبل فیاض چوہان اور فردوس اعوان صاحبہ نے بھی نواز شریف کو قیدی نمبر 420 لقب دیا شاید اُنہوں نے بھی میرا کالم پڑھا ہو۔۔
کسی بھی نئے لکھنے والے کے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ اُس کا کالم یا تحریر لوگوں کے دل کی آواز ہو۔۔

میرے لیے اتنے سال پولیس کی نوکری کرنے کے بعد جہاں بندہ اپنی ذات کے ساتھ ساتھ ادب اور آداب سب کُچھ بھول جاتا ہے میں 37 سال گزارنے کے بعد ادب کی دنیا میں قدم رکھنا مریخ پر قدم رکھنے سے بھی زیادہ مشکل تھا۔۔

پر میں نے یہ ضرور محسوس کیا کہ سچے دل سے لکھی گئی کوئی بھی تحریر جہاں پڑھنے والوں کے دل میں گھر کرتی ہے وہاں اقتدار کے ایوانوں تک بھی پہنچتی ہے۔

آج سے ایک دہائی قبل جب تک سوشل میڈیا نہیں تھا اخبارات اور ٹی وی پر مخصوص اور محدود لوگوں کی حکمرانی تھی۔۔
کسی نئے لکھنے والے کے لیے بہت مُشکل تھا کہ اپنے ضمیر اور دل کی آواز لوگوں تک پُنہچا سکے۔۔
صحافت کے فرعون کسی کو آگے آنے کا موقع ہی نہیں دیتے تھے اور آج کے اس دور  میں   بھی میں نے اخبارات کی طرف رجوع کیا تو اُسی سرد مہری نے میرا استقبال کیا۔

مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میرا کالم کسی اخبار میں چھپے نہ چھپے اور نہ ہی مجھے سستی شہُرت حاصل کرنے کی کوئی خواہش ہے بس دل چاہتا ہے کُچھ ایسا لکھوں جو سچائی اور حقیقت پر مبنی ہو۔

میرا کسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے نہ ہی مجھے لفافوں کی ضرورت ہے۔
جو اچھا کرے گا اچھا لکھوں گا جو بُرا کرے گا بُرا لکھوں گا۔۔

پوری دنیا اور پاکستان سے مجھے بے تحاشا کالز آئیں اُن میں خاص طور پر فضل الرحمان صاحب آسٹریلیا سے، شیخ حامد جرمنی ،محمود رضا جرمنی ,سید ہمایوں ڈنمارک ، رانا عبدلمجید اٹلی , پاکستان سے روف کلاسرہ صاحب اسلام آباد، قصور، کلاسرہ اسلام آباد ، سجاد حیدر بھٹو اسلام آباد،سید عرفان احمد لاہور ،طاہر کلاسرہ لاہور اور اُن تمام دوستوں کا مشکور ہوں جنہوں نے میرے کالم کو پسند کیا اور مجھے ٹیلی فون کالز کیں۔۔
خاص طور پر  مکالمہ ویب کی پوری ٹیم کا،جنہوں نے بغیر کسی سفارش کے میرے کالم کو اپنے پیج کا حصہ بنایا۔۔
میں جناب ارشاد عارف کا بھی بہُت مشکور ہوں جنہوں نے اپنے  کالم (نسخہ کیمیا )میں میرے کالم کا ذکر تو کیا پر میرا نام نہ لکھا۔۔
اتنی عزت اور پیار جو مجھے صرف ایک کالم لکھنے سے ملا ہے وہ شاید میں اپنی پوری سروس حاصل نہیں کر سکا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مجھے سچ اور حق لکھنے کی ہمت اور طاقت دے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *