• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ریکوڈک منصوبہ کی اصلی اور مکمل کہانی ۔۔۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

ریکوڈک منصوبہ کی اصلی اور مکمل کہانی ۔۔۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

ریکوڈک بلوچستان کے ضلع چاغی کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جو نوکنڈی علاقے سے تقریبا 70ً کلومیٹر کے فاصلے پر ایران اور افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اس قصبے کا اصل نام “ریکو دق” ہے جو بلوچی زبان کا لفظ ہے جس کےمعنی ہیں “ریتیلی پہاڑی”۔ اسی علاقے میں ایک قدیم اور مردہ آتش فشاں کو بھی اسی نام سے پکارا جاتا ہے جبکہ اسی علاقے کے قریب سے وہی مشہور زمانہ “ٹیتھیان بیلٹ” گزرتی ہے جو ایران، ترکی سے ہوتی ہوئی یورپ تک جاتی ہے اور جسے دنیا میں تانبے و سونے کے ذخائر کے لحاظ سے اہم ترین قرار دیا جاتا ہے۔اس علاقے میں قیمتی معدنیات کی تلاش کے لیے کئی سروے کیے گئے لیکن کہا جاتا ہے کہ مئی 1998ء میں پاکستان کے ایٹمی تجربات جب اس علاقے میں ہوئے تو زمین نے اپنی ساری چھپی ہوئی معدنیات ظاہر کردیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس علاقہ میں تانبے اور سونے کے ذخائر اپنی مقدار کے لحاظ سے دنیا میں پانچویں نمبر پر ہیں۔

بلوچستان کی حکومت نے پہلے اس علاقے میں بین الاقوامی مائننگ کمپنی بی ایچ پی بلیٹن کے ساتھ 1993ء میں دستخط کیے تھے جس میں یہ طے پایا تھا کہ ایک مشترکہ پروجیکٹ شروع کیا جائے گا جس میں بلوچستان کا حصہ 25 فی صد اور بی ایچ پی کا حصہ 75 فیصد ہوگا۔ اُس وقت ہونے والے معاہدہ میں یہ طے ہو چکا تھا کہ معدنیات تلاش کرنے والی کمپنی کو ہی معدنیات نکالنے کا لائسنس ملے گا۔ بعد ازاں دی آسٹریلین مینکو ریسورسز کمپنی نے سنہ 2000ء میں بی ایچ پی بلیٹن کے حصص خرید لیے۔ اس سلسلے میں جون 2000 ء میں ایک تحریری دستاویز کے ذریعہ بی ایچ پی بلیٹن کے حقوق سے دست برداری اور ٹیتھیان کمپنی کو منتقلی کا ایک معاہدہ بھی ہوا تھا- ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) دراصل مینکور ریسورسز کی ایک ذیلی کمپنی ہے۔ یہ ٹیتھیان کمپنی مزید آگے بارک گولڈ آف کینیڈا اور چلی کی انتوفاگستا منرلز کمپنیوں کا جوائنٹ وینچر ہے۔ اس کے بعد اپریل 2006ء میں ایک تجدیدی معاہدہ ہوا جس کے ذریعہ ریکوڈک منصوبہ میں اینٹوفگسٹا کا حصہ 5 .37 فیصد، بیرک گولڈ کا حصہ 5 .37 فیصد اور بلوچستان کا حصہ 25 فیصد بنا۔ اسی تجدیدی معاہدہ کے تحت سال 2006 میں ٹیتھیان کاپر کمپنی کو “ڈیٹیلڈ بینک ایبل فزیبلٹی اسٹڈی” (تفصیلی بین الاقوامی قابل اطلاق مطالعہ) کے لیے پراجیکٹ دیا گیا۔

ٹیتھیان کمپنی نے اگست 2010ء میں اپنی رپورٹ بنا کر حکومت پاکستان اور حکومت بلوچستان کو سونپ دی۔ جس میں بتایا گیا کہ اس مقام پر اتنا تانبہ اور سونا موجود ہے جسے 56 سال تک متواتر نکالا جاسکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق ریکوڈک سے 2 لاکھ ٹن خالص تانبا اور 180 من خالص سونا سالانہ نکالا جاسکتا ہے۔ ٹیتھیان کمپنی کی رپورٹ کے بعد دسمبر 2010ء میں قومی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع سونے اور تانبےکے ریکوڈک منصوبے کو چلانے کی اجازت دے دی۔ اس وقت کوئٹہ میں سرکاری ذرائع نے قومی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اس فیصلے کو وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ اس کے علاوہ اسلم رئیسانی نےبھی اس سے ایک مہینہ پہلے کہا تھا کہ چاغی کے علاقے ریکوڈک میں ایک کھرب ڈالرسے زیادہ سونے اور تانبے کے ذخائر موجود ہیں۔

یہاں تک تو معاملات ٹھیک ہی چل رہے تھے کہ اچانک تانبے اور سونے کے وسیع ذخائر اور اُن کی مالیت کے بارے میں بلوچستان حکومت کے وزیر معدنیات مشتاق رئیسانی ایک نجی محفل میں وزیر اعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی توجہ اس جانب مبذول کروا دیتے ہیں۔ یہ وہی مشتاق رئیسانی ہیں جو بعد میں سیکریٹری خزانہ بنے اور مئی 2016 میں ان کے گھر سے 65 کروڑ 32 لاکھ روپے نقدی، تین کلو سونا جس کی مالیت ایک کروڑ 35 لاکھ روپے برآمد ہوئے جبکہ کوئٹہ میں 6 کروڑ روپے مالیت کا مکان، ڈی ایچ اے کراچی میں7 کروڑ مالیت کی جائیداد بھی نیب نے قبضے میں لی ۔ اس جائیداد اور نقدی کے علاوہ دورانِ تفتیش مشتاق رئیسانی نے 11 جائیدادیں بھی نیب کے حوالے کی ہیں جن کی قیمت تقریباً ایک ارب 25 کروڑ روپے ہے۔ بعد میں دسمبر 2016 ء میں نیب سے پلی بارگین کر کے مشتاق رئیسانی 2 ارب روپے کی ادائیگی کے عوض رہا کردیئے گئے تھے۔

چوہدری افتخار اور اسلم رئیسانی جب اس منصوبہ میں سینکڑوں کھرب روپے کی معدنیات کا ذکر سنتے ہیں تو وہ مشتاق رئیسانی کو کسی بھی طرح اس منصوبہ سے اپنا حصّہ نکلوانے کے لیے منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ مشتاق رئیسانی نے ٹیتھیان کمپنی کو اپروچ کیا اور اُس سے کھربوں روپے کے شئیرز کی ڈیمانڈ کی۔ کوئی کتنا بھی پردہ ڈالنے کی کوشش کرے مگر سچ یہی ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اتنے بڑے بڑے ٹھیکے کک بیکس (رشوت) کے بغیر نہیں دئیے جاتے۔ ٹیٹھیان کاپر کمپنی والے بھی مناسب حد تک کک بیکس دینے میں آمادگی ظاہر کر رہے تھے مگر کھربوں روپوں ایڈوانس شئیرز ہولڈنگ کوئی بھی کمپنی کک بیکس کی شکل میں ادا نہیں کر سکتی۔ ایسی بےتکی ڈیمانڈ نہ تو کی جاتی ہیں اور یقیناً  پوری بھی نہیں کی جا سکتیں۔ ٹیتھیان کے انکار کے بعد یکا یک میڈیا میں حُب الوطنی اور کھربوں روپے کے قومی نقصان کا واویلا شروع کیا جاتا ہے۔ ان خبروں کی اشاعت کے ساتھ ہی یہ کام ہوتے ہیں:۔

1- اخبارات میں یہ مہم چللائی گئی کہ ریکوڈک منصوبے پر دنیا کی بڑی کمپنیوں کی نظریں گذشتہ کئی دہائیوں سے لگی ہوئی تھیں اور 18 جولائی 1993ء سے 19 اکتوبر 1993ء تک برسراقتدار رہنے والے نگران وزیر اعظم معین الدین احمد قریشی نے عالمی طاقتوں اور ورلڈ بنک کے ایجنٹ ہونے کے ناطے  23 جولائی 1993ء کو یہ ملک دشمن معاہدہ فوراً  ہی کروا دیا وگرنہ میاں نواز شریف ایسا معاہدہ ہرگز کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ (اور تو اور سازشی تھیوریوں کی دنیا میں زندہ رہنے والے ایک خود ساختہ دانشور نے مجھے یہ بھی بتایا کہ دراصل معین قریشی کو نگران وزیر اعظم بنوانے کی اصل وجہ بھی یہی تھی وگرنہ وہ پاکستانی صرف اس حد تک ہی تھے کہ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے۔ اُن کا اصلی وطن امریکہ تھا۔ ویسے یہ تو سچ ہے کہ جب معین قریشی کو وزیراعظم بنایا جا رہا تھا تو اُن کا شناختی کارڈ اور پاکستانی پاسپورٹ بھی راتوں رات بنوایا گیا تھا۔ مگر یہ کہنا کہ انہیں ریکوڈک منصوبہ کروانے کے لیے وزیر اعظم بنوایا گیا تھا، یہ ایک لغو الزام ہے کیونکہ اُس وقت تک ریکوڈک منصوبہ کا سروے بھی مکمل نہیں ہوا تھا اور کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہاں سے کون سی معدنیات، کتنی مقدار میں ملیں گی)۔

2- ان خبروں کی اشاعت کے ساتھ ہی وزیراعلیٰ نواب محمد اسلم رئیسانی ٹیتھیان کے ساتھ ہونے والے ریکوڈک منصوبہ کو ملک کے لیے  نقصان دہ قرار دیتے ہیں اور اسے بلوچستان کے لیے زہرقاتل تک قرار دیتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے ایسے بیانات کے علاوہ بلوچستان حکومت کے دیگر وزراء اور مشیر بھی ٹیتھیان کمپنی کے ساتھ ہونے والے اس معاہدہ پر اپنا شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

3- اس اخباری مہم اور بلوچستان حکومت کے ایسے بیانات سے پریشان ہو کر ٹیتھیان کمپنی کی جانب سے صوبائی حکومت سے بارہا مذاکرات کی کوششیں کی گئیں۔ نواب اسلم رئیسانی کو صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے بلایا اور ٹیتھیان کاپر کمپنی کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کرنے کے لیے کہا۔ صدرزرداری چاہتے تھے کہ یہ کمپنی پاکستان میں کام کرے۔ تاکہ ملک میں کان کنی کی صنعت عالمی معیار کے مطابق استوار ہو۔ اسلم رئیسانی نے صدر آصف علی زرداری کو انکار کر دیا کیونکہ انہیں مشتاق رئیسانی خاص طرح کی معلومات دے رہے تھے۔

4- اسی دوران ایک نامعلوم شخص عبدالحق بلوچ کی طرف سے ٹیتھیان کمپنی کے ساتھ ریکوڈک معاہدے کو بلوچستان ہائیکورٹ میں یہ کہہ کر چیلنج کیا گیا کہ ریکوڈک منصوبہ ملکی مفادات کے خلاف ہے، اس لیے اسے کالعدم قرار دیا جائے مگر ہائیکورٹ نے مقدمے کو ناقابل سماعت قرار دے دیا جس کے بعد عبدالحق بلوچ کے ذریعے  ہی اس معاملہ پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔ یہ درخواست جمع کروانے کے بعد آج تک عبدالحق بلوچ کے بارے معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کون تھا اور کہاں سے آیا تھا؟۔ یہ بات نہایت غور طلب ہے کہ جب حکومت بلوچستان سپریم کورٹ نہیں آئی اور ٹیتھیان کاپر کمپنی بھی نہیں آئی تو ایک غیر متعلقہ شخص کی درخواست پر حکومتوں کے کیے ہوئے بین الاقوامی معاہدے عدالتوں میں کیسے زیر سماعت آ سکتے ہیں؟۔

5- مضحکہ خیز طور پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اس سادہ درخواست پر از خود نوٹس لیتے ہوئے ریکوڈک معاہدہ کے جائز ہونے یا نہ ہونے پر سماعت شروع کر دیتے ہیں۔ اُس وقت ریکو ڈک منصوبہ میں عمران خان  کے موجودہ چہیتے وزیر اعظم سواتی ایک فریق بن کر سپریم کورٹ جا پہنچے۔ ایک سیاستدان جب اس معاملے میں پڑا تو عدالت سے چٹ پٹی خبریں نکلنے کا سلسلہ تیز ہوگیا اور اس شور شرابے میں کوئی انجام کے بارے میں کہی ہوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں تھا۔

6- سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران کچھ لوگ از خود سپریم کورٹ پہنچے اور انہوں نے ببانگ دہل دعویٰ کر دیا کہ وہ ٹیتھیان کاپر کمپنی کی نسبت کہیں کم قیمت پر ریکو ڈک سے تانبا اور سونا نکال کر دکھائیں گے۔ عدالت کی تھپکی کے بعد یہ ہوائی منصوبہ بجلی کی سی رفتار سے پلاننگ کمیشن سے گزرا۔ اس سے بھی زیادہ رفتار سے ایکنیک سے پاس ہوا اور یہ لوگ حکومتِ بلوچستان سے 2 ارب روپے لے کر بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومنے لگے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے کبھی بیلچے سے مٹی بھی نہیں ہٹائی تھی لیکن افتخار چوہدری کے فراہم کردہ قانون کے تیشے سے یہ لوگ سنگلاخ پہاڑو ں کو کھودنے چل پڑے۔ اِن فراڈیوں کی کُل معلومات یہ تھیں کہ مٹی کھودنے کے لیے ”کوئی“ مشین ہوتی ہے لہٰذا انہوں نے کھدائی کرنے والی عام سی مشین خریدی، اُسے کوئٹہ پہنچایا اور خود بھاگ نکلے۔ جو لوگ معدنیات سے ذرا سی بھی دلچسپی رکھتے ہیں، وہ اس مشین کو دیکھ کر ہنستے چلے جاتے۔ آخر کار یہ مشین کوئٹہ کی میونسپل کارپوریشن کو دے دی گئی۔ کاریگروں کا یہ گروپ سندھ حکومت کو تھر سے کوئلہ نکالنے کے چکر میں بھی مبینہ طور پر ایک ارب روپے کا چونا لگا چکا ہے۔ جبکہ اسی گروہ نے چند سال پہلے اسی طریقۂ واردات کے ذریعے پنجاب حکومت کو چنیوٹ کے قریب لوہے اور نجانے کن کن دھاتوں کی موجودگی بتائی۔ اس وقت مسلم لیگ (ن) کی مرکز و صوبے میں حکومت تھی۔ وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ شہباز شریف تھے۔ دونوں کی سادہ لوحی کا عالم دیکھیے کہ چنیوٹ میں جلسہ کرکے کان کُنی کا اعلان بھی کر ڈالا۔

سپریم کورٹ میں قانونی سماعت، قومی خزانہ کو لوٹ لیے جانے کے جذباتی ڈائیلاگز اور آسمان کو فتح کر لینے کے جعلی دعوؤں کی موجودگی میں اور پہلے سے طے شدہ منصوبہ کے تحت افتخار چوہدری نے ٹیتھیان کمپنی سے کیا گیا معاہدہ کالعدم قرار دے دیا۔ یاد دہانی کے لیے عرض ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری نے اُس وقت یہ کہا تھا کہ اس فیصلے سے پاکستان کو شدید نقصانات ہوں گے۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اپنے فیصلے میں بتایا کہ 23 جولائی 1993 کو کیا جانے والا یہ معاہدہ ملک کے قوانین سے متصادم ہے۔ جسٹس چوہدری نے اس فیصلہ میں خود لکھا کہ ”ریکوڈک میں معدنیات کی موجودگی کی حتمی رپورٹ آنے کے بعد صورتحال بدل گئی‘‘۔ جب یہ معاہدہ ہوا تو طے ہو چکا تھا کہ معدنیات تلاش کرنے والی کمپنی کو ہی معدنیات نکالنے کا لائسنس ملے گا۔ جب معدنیات کی موجودگی کا یقین ہوا تو وہ کونسا قانون ہے جس نے ”صورتحال“ کو بدل ڈالا۔ یہ بھی حیران کن بات ہے کہ بلوچستان حکومت نے ہائیکورٹ میں ٹیتھیان کاپر کمپنی سے ہونے والے معاہدے کا دفاع کیا تو اسے سپریم کورٹ میں اپنا مؤقف بدلنے کی اجازت کیوں اور کیسے ملی؟۔ دراصل ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ تک سماعت کے اس مختصر عرصہ میں اسلم رئیسانی اور افتخار چوہدری کے فرنٹ مین مشتاق رئیسانی کے مذاکرات ٹیتھیان کمپنی سے ناکام ہو چکے تھے، اس لیے بلوچستان حکومت کو یہ مؤقف بدل لینے کی اجازت دے دی گئی۔

افتخار چوہدری کے  یہ فیصلہ آنے کی دیر تھی کہ  نومبر 2011 ء میں حکومت بلوچستان نے بھی ریکوڈک سے سونے اور تانبے کے ذخائر خود نکالنے اورچلانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ٹیتھیان کمپنی کو دیا گیا لائسنس منسوخ کردیا ۔ اس وقت لائسنس کی منسوخی کی وجوہات بتاتے ہوئے صوبائی سیکرٹری معدنیات “مشتاق رئیسانی” نےکہا کہ ٹیتھیان کمپنی کو سونا نکالنے کے لیے جتنا علاقہ مختص  کیا گیا تھا، اس نے فزیبلٹی رپورٹ میں تمام علاقے کو شامل نہیں کیا اور محض ایک قلیل رقبہ کی رپورٹ بنا کر حکومت کو پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے معدنی وسائل سے متعلق سنہ 2002ء کے قوانین کے تحت صوبائی حکومت کواختیارحاصل ہے کہ جو کمپنی شرائط پر پورا نہیں اترتی، اُس کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔ سیکرٹری معدنیات نے مزید کہا کہ ’’ اب حکومت بلوچستان نے اپنے ہی وسائل سے اس منصوبے پر پیش رفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔

حکومت بلوچستان کے اس فیصلے کے بعد ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) نے کہا تھا کہ انہوں نے اگست 2010ء میں فزیبلٹی اسٹڈی جمع کرانے کے بعد فروری 2010ء میں EL5 ایریا کے لیے  کان کنی کے لائسنس کے اجراء کے لیے درخواست جمع کرائی تھی۔ کمپنی کے بقول بلوچستان حکومت نے مسئلہ کےحل کے لیے ملاقات کی متعدد درخواستوں کا خاطر خواہ جواب نہیں دیا جبکہ ٹی سی سی نے ہمیشہ مسئلہ کے حل کے لیے مذاکرات کی راہ اپنانے کو ترجیح دی ۔ کمپنی کا مؤقف تھا کہ یہ فیصلہ بلوچستان حکومت کے ساتھ ہونے والے “چاغی ہل جوائنٹ وینچر ایگریمنٹ” کی مکمل خلاف ورزی ہے۔

ان فیصلوں کے بعد اپنے مفادات اور سرمایہ کے تحفظ کے لیے ٹیتھیان کمپنی نے نومبر 2011 ء ہی میں آسٹریلیا ( جہاں ٹی سی سی رجسٹرڈ ہے) میں حکومت پاکستان کے خلاف اور انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس میں حکومت بلوچستان کے خلاف مقدمہ دائر کردیا۔ ان مقدمات میں اس نے پاکستان پر 16 ارب ڈالرز ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا۔ پاکستان نے جن قانونی ماہرین کی خدمات حاصل کیں، اُن میں برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی اہلیہ بھی شامل تھیں۔ حکومت پاکستان نے اس حوالہ سے جو مؤقف اختیار کیا اُن میں یہ نکتہ بھی شامل تھا کہ ٹی سی سی نے بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے افسران کو رشوت دے کر ابتدائی معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مزید علاقے اپنے لیز میں شامل کرائے۔

جس دوران ٹیتھیان کمپنی کے مقدمات پر سماعت چلتی رہی، اُس بیچ بلوچستان حکومت نے بلوچستان انویسٹمنٹ بورڈ کے ذریعہ ریکوڈک منصوبہ سے معدنیات خود نکلوانے کے لیے کوششیں کیں۔ انہوں نے پہلے تو بلوچستان انویسٹمنٹ بورڈ میں وائس چیئرمین کے طور پر ڈاکٹر ارسلان افتخار کا تقرر کیا۔ ارسلان افتخار کے ذمہ یہ ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ بین الاقوامی کمپنیوں کو بلوچستان اور خصوصاً ریکوڈک منصوبہ میں سرمایہ کاری کے لیے آمادہ کریں گے۔ ارسلان افتخار کی تقرری پر اُس وقت کی اپوزیشن جماعتوں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے سخت احتجاج کیا اور کہا کہ جو شخص ایف ایس سی کی جعلی ڈگری اور اپنے باپ کے عہدے کے ناجائز استعمال کی وجہ سے ڈاکٹر بنا ہو، اُس کے پاس ایسی کیا قابلیت تھی کہ اُسے بلوچستان انویسٹمنٹ بورڈ کا وائس چیئرمین لگا دیا گیا۔ اس موقع پر ارسلان افتخار کی تعیناتی سے متعلق نون لیگ کے وزیراعلیٰ عبدالمالک نے بیان دیا تھا کہ ’’ارسلان افتخار کو میں نے بلوچستان انویسٹمنٹ بورڈ کا وائس چیئرمین تعینات کیا ہے، ان کی تعیناتی پر جسے اعتراض ہے تو وہ مجھ سے بات کرے‘‘۔ ارسلان افتخار نے بھی ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کہا کہ ’’میری تعیناتی وزیراعلیٰ بلوچستان کے قائم کردہ بورڈ نے کی تھی۔ میں نے صوبہ میں روزگار پیدا کرنے کی تجاویز دی تھیں۔ عالمی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے لیے خط لکھے تھے۔ طے ہوا تھا کہ جو کچھ ہو گا عوام کے سامنے ہو گا اور کوئی ڈیل نہیں ہو گی۔ مگر بعض لوگ برساتی مینڈک کی طرح باہر نکل آئے۔ الزام لگانے والوں کو بلوچستان کے مسائل کا پتہ ہی نہیں۔ بعض سیاستدان بغیر تحقیق الزام لگانا شروع کر دیتے ہیں‘‘۔ ان تمام صفائیوں کے باوجود بھی اپوزیشن کا احتجاج اتنا بڑھا کہ ارسلان افتخار نے اپنے عہدے سے چند دنوں بعد ہی استعفیٰ دے دیا اور کہا کہ ’’مجھ پر تنقید کرنے والے یہ تک نہیں جانتے کہ بلوچستان کا محل وقوع کیا ہے۔ بعض سیاسی عناصر اور ٹیلی ویژن اینکرز بے بنیاد باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ اپنے صوبے کی خدمت کے لئے مجھے کسی عہدے کی ضرورت نہیں‘‘۔

دریں اثناء ان مقدمات میں 8 برس کے بعد بین الاقوامی ثالثی فورم انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (ایکسڈ) نے گذشتہ دنوں اپنے فیصلے میں پاکستان ٹیتھیان کمپنی کو 5 ارب 97 کروڑ ڈالرز (9 سو 44 ارب روپے) کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ چھ ارب ڈالر کا مطلب ہے بلوچستان کے چار سالانہ بجٹ کے برابر رقم۔ اگر یہ رقم ہمیں دینی پڑی تو آپ اندازہ کرلیں ہمارے ساتھ کیا ہوگا؟۔ عالمی بینک کے ٹریبونل کا فیصلہ 700 صفحات پر مشتمل ہے، فیصلے کے پیرا گراف 171 میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سپریم کورٹ آف پاکستان معاہدہ کو کالعدم کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین سے نابلد تھی اور اُس کے پاس پیشہ وارانہ مہارت بھی نہیں تھی۔ افتخار چوہدری کے علاوہ عالمی عدالت انصاف ایسے ہی ریمارکس کلبھوشن کیس میں بھی ہماری عدالت عظمیٰ کی استعداد کار کے بارے بیان کر چکی ہے۔

اس فیصلہ کے حوالہ سے کئی معاملات غور طلب ہیں۔ جیسا کہ:۔

1):- ریکوڈک منصوبے میں ٹی سی سی کی طرف سے معدنیات کا کل تخمینہ ڈھائی ارب ڈالر جبکہ حکومت بلوچستان کی جانب سے ایک کھرب ڈالر لگایا گیا تھا۔ ٹی سی سی سے معاہدہ بھی منسوخ ہونے کے بعد کیا ہوا اور ان 8 برسوں میں وہاں سے کتنا تانبہ اور کتنا سونا نکالا گیا؟۔ کس نے نکالا، یہ تفصیلات کسی کو نہیں معلوم۔ ایسی صورت میں پاکستان کو 6 ارب ڈالرز کی ادائیگی اگر کرنی پڑی تو یہ اس کی کمزور اقتصادی حالت کو مزید تباہ کردے گی۔

2):- ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو حکومت بلوچستان کی طرف سے ریکوڈک منصوبہ کا پراجیکٹ ڈائریکٹر بنائے جانے کی اطلاعات بھی تھیں مگر اس بارے میں مزید تفصیلات عام نہیں کی گئیں۔ ڈاکٹر ثمر مبارک کے بیان کے مطابق پاکستان کو ریکوڈک سے سالانہ ڈھائی ارب ڈالرز کی آمدنی متوقع تھی تو وہ ڈھائی ارب ڈالرز سالانہ کہاں گئے اور ان 8 برسوں میں تو ان کا حجم 20 ارب ڈالرز ہوجانا چاہیئے تھا، اتنی بڑی رقم کہاں گئی؟۔

3):- ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب سنہ 2000ء میں ریکوڈک پراجیکٹ بین الاقوامی شہرت یافتہ کمپنی بی ایچ پی بلیٹن سے ٹی سی سی کو منتقل کیا جارہا تھا تو جنرل مشرف کابینہ نے اسے مسترد کیوں نہیں کیا؟۔ آج اسی مشرف کابینہ کے بیشتر لوگ موجودہ عمران خاں حکومت کا حصہ ہیں۔

4):- اطلاعات کے مطابق بلوچستان حکومت نے ٹیتھیان کمپنی کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے ایک بار پھر سے کوششیں شروع کر دی ہیں اور جلد ہی اس حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے۔ ٹیتھیان نے بھی معاہدہ پر نظرثانی کرنے کے لیے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ اچھی خبر ہے تاہم جب معاملہ مذاکرات کے ذریعہ ہی حل ہونا ہے تو ان 8 برسوں کے دوران بڑے غیر ملکی وکلاء اور دیگر شخصیات کو ادا کی جانے والی اربوں روپے بھاری رقوم کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔

5):- ہماری اپنی استعداد کار چونکہ کم ہے اس لیے یہ تو طے ہے کہ ریکوڈک میں موجود معدنیات غیر ملکی کمپنیاں ہی نکالیں گی۔ اگر (ایک بہت بڑا اگر) ٹیتھیان کے ساتھ معاملات طے ہو جاتے ہیں اس کے عوض وہ پاکستان کو مجموعی طور پر 131 ارب ڈالر دیں گی۔ اصل مسئلہ ہی یہ ہے کہ ٹیتھیان کمپنی کے ساتھ مذاکرات اور تجدیدی معاہدہ میں یہ نقطہ لازمی شامل کیا جائے کہ پاکستان کو مکمل علم ہونا چاہیے کہ ان ذخائر اور زمینوں سے ٹیتھیان کیا لے کر جائے گی۔ پہلے معاہدہ کے تحت اس کی نگرانی پاکستان نہیں کرسکتا تھا اور کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ سونا، تانبا یا اور دیگر قیمتی معدنیات کس مقدار میں ٹیتھیان لے کر جا رہی تھی۔ تیسری دنیا میں معدنیات کے ذخائر سے مالا مال ممالک کے ساتھ ٹیتھیان جیسی کمپنیاں ایسے ہی معاہدے کرتی ہیں۔ اسی قسم کے معاہدے آج کل گیس کے حوالے سے بھی کیے گئے ہیں۔ پاکستانی گیس پاکستانیوں کے لئے نکالی جا رہی ہے لیکن نکلنے کے بعد وہ بین الاقوامی کمپنیوں سے بین الاقوامی شرح سے خریدی جا رہی ہے جس کے نتیجہ میں گیس دن بدن مہنگی ہو رہی ہے۔

6):- قابل غور بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے 3 سال میں پاکستان کو جو قرضہ ملنا ہے وہ جرمانے کی رقم کے برابر ہے۔ بعض سیاسی حلقوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر موجودہ حکومت نے ٹیتھیان کمپنی کی جانب سے مذاکرات کی دعوت قبول کی تو اس کا مقصد یہ ہوگا کہ موجودہ حکومت اور بین الاقوامی سرمایہ دار بلوچستان کے خلاف ایک پیج پر آچکے ہیں۔ وہ ہمارے وسائل لوٹنے کے لیے یہ ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ لہٰذا اگر وفاقی حکومت نے کوئی معاہدہ کرنا ہے تو اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے اور صوبائی حکومت سمیت صوبے کے عوام اور سیاسی قیادت کو اس معاملے میں اعتماد میں لے۔

7):- سنہ 2011ء سے اب تک تمام حکومتوں بشمول موجودہ حکومت کو بھی معلوم تھا کہ یہ مقدمہ چل رہا ہے۔ جرمانہ بھی ہوگا اس حوالے سے کسی حکومت نے کوئی کام نہیں کیا حالانکہ اگر ٹھیکہ دینے کے معاملے میں رشوت دینے کا معاملہ ثابت کردیا جاتا تو معاملہ بالکل برعکس ہو جاتا۔ کوئی کتنا بھی پردہ ڈالنے کی کوشش کرے مگر سچ یہی ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اتنے بڑے بڑے ٹھیکے کک بیکس (رشوت) کے بغیر نہیں دئیے جاتے۔ تفصیل سے تحقیقات کی جاتی تو پتا چلتا کوئی نہ کوئی ’’بڑا‘‘ لپیٹ میں آتا۔ اس زمانے میں یہ الزامات بھی لگے تھے کہ رشوت لی گئی ہے۔ تکلیف دہ بات یہی ہے کہ حکمران کوئی بھی ہوں انہیں قومی دولت سے کوئی غرض نہیں، اُن کا دل نہیں دکھتا کہ جرمانہ ہو رہا ہے تو ہوا کرے۔ ان کا تو مضحکہ خیز دعویٰ ہے کہ ٹیتھیان کے 16 ارب ڈالرز کے دعوے کے برعکس صرف 6 ارب ڈالرز جرمانہ کروا کر 10 ارب ڈالر بچا لیے گئے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے ریکوڈک منصوبہ کی تباہی اور پاکستان کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کے اسباب کے تعین کے لیے جس کمیشن کا اعلان کیا ہے، اُس نے ابھی اپنی تحقیقات کرنی ہیں مگر یہ اس کمیشن کو جن لوگوں سے باز پرس کرنی چاہیے، اُن میں سابقہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، اُن کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان افتخار، سابق وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی، سابق بیوروکریٹ مشتاق رئیسانی اور سپریم کورٹ میں ٹیتھیان کمپنی کے مقابلہ میں کہیں کم ریٹ پر تانبہ اور سونے کے ذخائر نکالنے کا دعویٰ کرنے والے اُن فراڈیوں کا گروپ بھی شامل ہونے چاہئیں۔ ان کے علاوہ سپریم کورٹ میں درخواست جمع کروانے والے عبدالحق بلوچ اور سب سے بڑھ کر عمران خاں کے چہیتے وزیر اعظم سواتی کو بھی یہ کمیشن طلب کرے اور اُن سے پوچھے کہ انہوں نے کیوں اور کس کے اشارے پر سپریم کورٹ میں ایسی درخواست جمع کروائی جو اُن سے متعلقہ ہی نہیں تھی۔ وہ کون سی طاقت ہے جس نے اُن کے ذریعہ ایسی احمقانہ درخواستیں کروا کر ملک کو کھربوں روپے نقصان کروانے کی بڑی وجہ بنوا دیا۔ یہ طے ہے کہ اگر اس کمیشن نے دیانتداری سے کام کیا تو قوم کو پتا چلے گا کہ کس درجے کے نالائق، خود غرض اور بدعنوان لوگ اعلیٰ عہدوں پر بیٹھ کر تباہی کی داستانیں رقم کرتے رہے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کمیشن کے ذریعے سامنے آنے والے حقائق ہمیں اس 6 ارب ڈالر کے تاوان سے بھی شاید بچا لیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *