شاہد خاقان عباسی ہم شرمندہ ہیں۔۔۔رمشا تبسم

بظاہر آزاد نظر آنے والے نیب نے مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی کو  ٹھوکر نیاز بیگ کے مقام پر ایل این جی کیس میں  گرفتار کر لیا۔ اس طرح کی بے بنیاد اور بغیر ثبوتوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔لہذا گرفتاری سے زیادہ اہم وہ کیس ہے جس کی بنیاد پر  یہ گرفتاری کی گئی۔ اور ان حقائق کو  جھوٹ کی اس فضا میں منظر عام پر لانا  انتہائی ضروری ہے۔شاہد خاقان عباسی نے اپنے دورِ حکومت میں بحیثیت  وزیرِ پٹرولیم  قطر سے ایل این جی درآمد کا معاہدہ کیا۔ان پر الزام ہے کہ  انہوں نے ایل این جی درآمد  اور تقسیم کا  220 ارب کا ٹھیکہ دیا جس میں وہ خود حصہ دار ہیں اور ان کا نام ای۔سی۔ایل میں بھی شامل ہے۔

الزام ہے کہ قطر گیس ڈیل اور ایل این جی ٹرمینیل معاہدے کی مد میں ہمیں مہنگی گیس مہیا کی گئی اور قومی خزانے  کو نقصان پہنچایا۔نیب چونکہ آزاد ادارہ ہے مگر پھر بھی حیرت ہے گرفتاریوں سے قبل فیصل واڈا اور دوسرے حکومتی وزیر گرفتاری کا دعویٰ  کر دیتے ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے اتنے بڑے پروجیکٹ کا فیصلہ خود  نہیں کیا بلکہ ای۔سی۔سی کی نو رکنی کمیٹی کے سامنے ڈیل رکھی جنہوں  نے اس پروجیکٹ کا  فیصلہ کیا لہذا بیوروکریٹس مکمل ڈیل میں شامل تھے اور انکی رضامندی سے تمام ڈیل ہوئی لہذا کسی قسم کے ذاتی مفاد کا الزام شاہد خاقان عباسی پر بے بنیاد ہے اور اگر کوئی شک ہے تو بیوروکریٹس  کا ذکر کیوں نہیں؟۔
تحریک انصاف کی اسی جلد بازی نے انٹرنیشنل ایگریمنٹ ریکوڈک کو تباہ کیا جسکی وجہ سے 6ملین ڈالر  اب بربادکیے گئے اور  فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ پچاس فیصد گر گئی۔
تحریک انصاف حکومت میں آنے سے پہلے بھی ایل این جی معاہدے کے خلاف رہی اور حکومت میں آ کر اس ڈیل پر پریس کانفرنس کر کے ڈیل کے تحت جو ٹرمینل لگائے گئے  ان پر تنقید کرتی رہی۔اس معاہدے کے تحت  جو  کارخانے لگے ان کو  فضول اور مہنگے لگنے کا الزام دیا۔تحریک انصاف کی حکومت کو ایک سال ہو گیا ہے پاکستان آج بھی قطر کے ساتھ شاہد خاقان عباسی کی طے کی ہوئی ڈیل کے مطابق درآمد کر رہا ہے۔موجودہ حکومت نے اس معاہدے پرکوئی سوال نہیں اٹھایا۔لہذا ڈیل جاری ہے۔ لگائے گئے ٹرمینل کی تعریفیں متعدد بار تحریک انصاف کے وزیر کر چکے ہیں کہ شفافیت سے لگائے گے لہذا وہ بھی چل رہے ہیں۔ایل این جی کی وجہ سے جو بجلی کے کارخانے لگے ان کی نجکاری تحریک انصاف  خود کر رہی ہے۔اور وہی دو پلانٹ  پرائیوٹائز  کیے جا رہے ہیں جو مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت میں کنورٹ کیے گئے۔ایل این جی معاہدے کی وجہ سے ڈھائی ارب مہینے کا بچ رہا ہے۔ کم از کم تحریک انصاف کی حکومت  عوام پر یہ واضح کر دیتی اب تک کے قطرکے ساتھ معاہدے میں کیا گڑ بڑ ہے یا کس طرح بے ایمانی کی گئی اور کیا خرابی ہے۔یا جو ایل این جی کا ٹرمینل لگا اس میں یہ غلطیاں اور خرابیاں ہیں۔ یا جو ایل این جی کے کارخانے تھے وہ غلط اور مہنگے لگے اور مہنگی بجلی پیداکر رہے ہیں کسی قسم کے اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھ دیتی پھر یہ تمام خرابیاں واضح ثبوتوں کے ساتھ منظر عام پر لانے کے بعد موجودہ حکومت یہ دعویٰ کرتی کہ   ان سب کو درست کرنے کا کام کر رہی ہے مگر کام تو اب بھی مسلم لیگ ن کے طریقے سے جاری ہے۔۔ایک سال کے عرصے میں حکومت اس کیس میں ایک روپے کی کرپشن ثابت نہیں کر سکی۔کسی حکومتی ارکان یا بظاہر آزاد نظر آنے والی نیب نے اب تک قطر کے ساتھ معاہدے میں کسی قسم کی غلطی کی نشاندہی نہیں کی ۔لہذا اپوزیشن کو صرف  جیل میں ڈالنا مقصد ہے جبکہ نیب اور حکومت ایک واضح کیس کسی بھی اپوزیشن لیڈر کے خلاف نہ بنا سکی نہ ہی ثبوت دے سکی ۔اب تک نہ حکومت کسی قسم کے ثبوت قطر کے ساتھ غلط معاہدے میں, یا ٹرمینل میں کارخانوں کو ایل این جی میں تبدیل کرنے میں کسی قسم کی غلطی نہیں بتا سکی نہ درست کرنے کا دعویٰ  کرسکی۔ لہذا پاکستان کو فائدہ ہی ہوا ہے۔سستی بجلی پیدا ہونے میں کامیابی ہوئی۔۔پاکستان کے سسٹم میں زیادہ بجلی موجود ہونے کا اعتراف تحریک انصاف کے وزیروں نے پارلیمنٹ میں  بھی  کیا۔قطر کی حکومت اگر براہ راست  کسی بھی طرح کرپشن میں ملوث ہوتی تو پاکستان اب مزید معاہدے  قطر سے نہ کرتا ،نہ ہی وہ ہمارے ساتھ کسی قسم کی ڈیل میں آتے۔جبکہ قطر پاکستان کی مدد کرنے کو تیار ہے۔2017میں وفاقی حکومت نے ایل این جی کے پروجیکٹس لگائے جس سے 2400 میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی۔ہمیں بجلی کی ضرورت تھی لہذا طے ہوا  تھا ہم پروجیکٹس لگائیں گے بعد میں نجکاری کریں گے۔ تقریباًدو ملین کے پروجیکٹس لگے۔اس حکومت نے جو واحد کام کیا وہ  یہ کہ ایک نجکاری کمیشن بنایا کمیشن ایک  سال کے اندر اب تک  اسکی نجکاری کو ممکن نہیں بنا سکا۔اور اس معاہدے کو کرپشن زدہ قرار دینے کے باوجود حکومت  اسی معاہدے سے دو ملین کی بجائے  تقریباً   تین ملین کے قریب آمدن کا اندازہ لگا کر بیٹھی ہے وہ بھی ڈالرز میں۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ  فائدہ ہو رہا ہے اور 150بلین روپے منافع کمایا جا رہا ہے۔پھر بجلی بھی حاصل کر رہے اور  نجکاری بھی کرنے جارہے ہیں  اور  اس کے باوجود بھی الزام  یہ  ہے کہ  یہ ایک کرپشن زدہ ڈیل تھی۔اس کیس کو لے کر شیخ رشید سپریم کورٹ گئے  جہاں سے درخواست ریجیکٹ ہو گئی  تھی، یہ کیس بنتا  ہی نہیں۔
650ملین روپے مسلم لیگ ن نے بچائے جس کا دعویٰ   کسی پاکستانی نہیں بلکہ انٹرنیشنل اخبارات نے کیا۔کیونکہ پاکستان سب سے پہلے قطر کے پاس گیا انہوں نے جو ریٹ دیا اسکے بعد پاکستان  پھر انٹر نیشنل مارکیٹ گیا پھر وہاں کم ریٹ ملا تو  یہ کم ریٹ کا  مطالبہ لے کر پاکستان واپس قطر کے پاس گیااور کم ریٹ کی درخواست کی۔لہذا 650 ملین روپے  اس طرح سےمسلم لیگ ن کی حکومت اور شاہد خاقان عباسی نے بچائے۔پھر ایل این جی کارخانوں کی وجہ سے  آپ فرنس آئل باہر سے نہیں لے رہے لہذا دو ڈھائی ارب یہ بچائے، لہذا جو عمران خان کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں کمی کی اب  بات کرتا ہے اس میں  بھی اسی ڈیل  سے ہونے والے فائدے اور بچت  کی وجہ سے بہتری ہے۔نجکاری سے مزید بہتری آئے گی ۔ایک سال سے کیس چل رہا ہے اب تک ایک واضح ثبوت نہیں لہذا  یہ بات اب ہر شعور رکھنے والا شخص جانتا ہے کہ نیب کتنی آزاد ہے اور حکومت کتنی ملک دوست ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *