ہم جنسیت اور اسلام۔۔۔۔۔سلیم جاوید/قسط3

موجودہ قسط میں ہم فزیکل جنسی ابنارملٹی کی دو سری صورت یعنی “نامردی” پرکچھ مختصر بات کرکے آگے بڑھیں گے- (عورت کا بانجھ پن بھی اسی طرح کافزیکل مسئلہ ہے) –

نامرد ہونا، “شی-میل” سے الگ کیٹیگری ہے-اس میں مرد کے شہوانی جذبات تو ہوتے ہیں پر اسکا عضو تناسل صحیح طرح کام نہیں کرسکتا- یہ مرض پیدائشی بھی ہوسکتا ہے اور عمر کے کسی حصے میں، ذہنی اضطراب ( ٹینشن) کی وجہ سے بھی ظہور میں آسکتا ہے- موخزالذکر کیس توبہرحال قابل علاج مرض ہے مگرپیدائشی نامرد کے علاج بارے مجھے پورا علم نہیں ہے-( البتہ، اردو ادب میں، لفظ”نامرد” اس آدمی کےلیے استعمال ہوتا ہے جو بار بار اپنی زبان سے پھر جاتا ہو- یہ جنسی نامردی سے زیادہ بڑی بیماری ہے چاہےایسا” نامرد”، 6 فٹ کا کسرتی بدن رکھنے والا، وجیہہ  صورت مرد ہی کیوں نہ ہو)-

ایسا کئی بارسنا گیا کہ لڑکی کی شادی ہوئی  تودولہانامرد نکلا- مشرقی حیا کی وجہ سے لڑکی کسی کو بتا بھی نہیں سکتی اور اسکی زندگی برباد ہوجاتی ہے- میرے خیال میں یہ بہت بڑا جرم ہے- لڑکے کوپہلے ہی بتادینا چاہیے  مگرہوتا یوں ہے کہ لڑکے کی ماں جانتے بوجھتے کسی کی بیٹی لے آتی ہے یہ سمجھ کرکہ لڑکی کے آنے سے میرے بیٹے کاعلاج ہوجائیگا- ایسی صورتحال میں ہمیشہ صرف لڑکی کوہی مسئلہ نہیں ہوتا –گاہے ایسے کیس بھی آئے کہ نامرد لڑکا ، ماں باپ کے مجبور کرنے سے شادی کربیٹھا مگربعد میں گھر سے فرار ہوگیا، خود کشی کرلی، بیمار ہوکے جیتا رہا یا  پھربے غیرت بن کر آنکھ بندکرلی-

نامردی بارے مزیدکچھ کہنا، ہمیں اصل موضوع سے ہٹا دے گا- بس یہ کہ وقتی اور دائمی نامردی کافرق ضرور سمجھ لیا جائے( مصیبت یہ ہے کہ ہمارے ہاں دلہا کے کمرے میں مسہری پر سیج وغیرہ سجا کر، نہ صرف سٹیڈیم کا ماحول بنا دیا جاتا ہے بلکہ دوسرے دن بڑی عورتیں ، میچ کا رزلٹ دیکھنے باقاعدہ کنکھیوں سے “پچ” کا جائزہ لیا کرتی ہیں- چنانچہ یہ رات شریف نوجوان کیلئے گویا انڈیا پاکستان کا فائنل بنادیا جاتا ہے اور مردبیچارہ مزید ٹنشن میں آجاتاہے)-

تاہم ، خدا نخواستہ اگر دائمی نامردی کا کیس ہے تو شادی سے پہلے اسکا علاج کرانا، انسانی، اخلاقی، اور دینی فریضہ ہے- اسکو سیر یس لیا جائے- ( یوں تو ہم ایسی باتوں کو سننا بھی گوارا نہیں کرتے گویا پاکستانیوں جیسے ” مرد” بھلا کہاں پائے جاتے ہونگے؟ مگر ہرشہرگاؤں کی دیواروں پرلکھے حکیموں کے اشتہار ہماری عمومی مردانگی کا ایکسرے ہیں)-

اس سماجی المیے کا ایک حل تو یہ ہے کہ حکومت شادی سے پہلے میڈیکل ٹیسٹ  لازمی قرار دے- مگرپاکستان جیسے ملک میں یہ خاکسار اسکی حمایت نہیں کرتا- ایک تو اس لیے  کہ ڈاکٹرنے پیسے لیکر مردے کو زندہ ثابت کردینا ہے- دوسرے یہ کہ مجھے بالتحقیق معلوم نہیں کہ کیا نامردی کا قبل از وقت ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟-

البتہ یہ خاکسار سمجھتا ہے کہ اس ایشوکو حل کرنا بھی مولوی کے ہاتھ میں ہے- دیکھیے کہ یہ خاکسار کس طرح ہرقضیے میں مولوی کو گھسا دیتا ہے- اس خصوصی مہربانی کی ایک دلیل رکھتا ہوں-کسی سڑک پر اگر ایکسڈنٹ کی بہتات ہو تو اسکا پہلا مجرم وہ ٹریفک وارڈن ہوتا ہے جو اپنی ڈیوٹی سے غافل ہو- انسانی سماج کے ہرالمیے کوحل کرنا ہی مولوی کا وظیفہ اصلی ہے-

بہرکیف، ہمیں سوچنا ہوگا کہ علماء اس بارے کیا کرسکتے ہیں؟

شادی دوفریقین کے درمیان ایگریمنٹ ہوتا ہے- مثلاً دوکسان اس شرط پہ پارٹنر بنتے ہیں کہ ایک فریق زمین مہیا کرے گاجبکہ دوسرا بیج، کھاد وغیرہ مہیا کرے گا- فصل مشترکہ ہوگی- ایک نے زمین دے دی تو پتہ چلا کہ دوسرے کے پاس بیج ہی نہیں ہے- اس خیانت کی شرعی سزا مقرر ہونا چاہیے  اور متاثرہ پارٹنر کومعاہدے سے آزاد کرنے کے علاوہ ہرجانہ بھی دیا جائے-( ایسے مرد سے طلاق لینے کیلئے بھی ترلے کرنا پڑتے ہیں اور گاہے، لکھی ہوئی  شرائط سے دستبردار ہونے کے  بعد ہی بے قصور لڑکی کی جان چھوٹتی ہے)- مولوی صاحب سے میری ہزار دشمنی ہومگراپنے سماج میں اب بھی اس پربھروسہ کرتا ہوں- نامردی کے کیس میں طلاق اور ہرجانے کا حق اگر معروف مولوی صاحبان کے ہاتھ آجائے تو امید ہے کہ شادی سے پہلے ہرمرد اپنا درست ٹیسٹ خود ہی کرالیا کرے گا-

مذکورہ جملہ معترضہ کے بعد، اب ہم نفیساتی جنسی تخلیط پر بات کرتے ہیں-

انسان ایک ایسا کمپیوٹر ہے جس کا ہارڈویئر پیچیدہ ہے تو سافٹ وئیر پیچیدہ تر ہے-جسمانی معذورین سب کو نظر آتے ہیں مگر نفسیاتی معذورین کی پہچان ہر ایک کو نہیں ہوتی-

یوں تو سب انسان دنیا بھر میں ایک ہی جنس شمار ہوتے ہیں مگر اسی دنیا میں نہ صرف مردہ کھانے والے انسان موجود ہیں بلکہ غلاظت کھانے کی شدید رغبت رکھنے والے بھی اسی دنیا میں موجود ہیں ، جن کی ذوقِ  طبع کی خاطر”شِٹ ڈاٹ کام” بنائی  گئی – رئیس امروہی مرحوم نے پاکستانی معاشرے میں بعض ایسے عجیب نفسیاتی امراض کی نشاندہی کی ہے کہ آپ پڑھ کر دنگ رہ جائیں گے-

کچھ دیگرنفسیاتی کیسز کی مثال لیجئے-

آپ نے ایسے شکّی مزاج شوہر دیکھے ہونگے جو اپنی بیوی کی زندگی اجیرن کر رکھتے ہیں-دستانوں سے ڈھانپنے کے باوجود انکو ہر لمحہ خدشہ لگا رہتا ہے  کہ کوئی  میری بیوی کو یا میری بیوی کسی کو تاڑ نہ رہی ہو-یہ چونکہ عام کیس ہے، اس لیے سب کو معلوم ہے-مگر اسکے الٹ بعض کیس ایسے بھی ہوتے ہیں کہ خاوند کی شدید تمنا ہوتی کہ اسکے سامنے کوئی  اجنبی ،اسکی بیوی سے ہمبستری کرے۔۔چونکہ یہ روایت سے بہت ہٹا ہوا  کیس ہوتا ہے لہذا عام طورمخفی رہتا ہے لیکن ایسے” مینوفیکچرنگ ڈیفیکٹ” بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں-

جسمانی مرض سب کو نظر آتا ہے مگراسکی تشخیص وعلاج ہرایک کے بس کی بات نہیں ہے- نفسیاتی مرض تو نظر بھی سب کو نہیں آتا تواسکاعلاج ہرایک کے بس میں کہاں؟-

انسان کی نفسیاتی گرہ بندی کو سمجھنے کےلیے، ایک منظر ملاحظہ فرمائیے-

ایک محفل میں ایک معزز شخص، چرمی صوفے کی نرم ہتھی پہ ہاتھ رکھے، ایک خاص انداز سے ہولے ہولے دبا رہا ہے-اسکے تصّور میں ایک نسوانی عضو ہے جو اسکے شعور پہ گرفت پاتا جا رہا ہے-اس محفل میں شریک نارمل لوگ، اس بات کو نوٹ نہیں کر رہے-اگر اہل محفل کو اس آدمی کی اس ذہنی کیفیت کا اندازہ ہو جائے تو اس سے کس قدر نفرت کریں گے؟

اس محفل میں ایک سائیکاٹرسٹ بھی موجود ہے-اپنے علم اور تجربے کی رو سے وہ اس حرکت کو نہ صرف نوٹ کر رہا ہے بلکہ اسکے پیچھے موجود نفسیاتی محرّک کو بھی سمجھ رہا ہے-وہ اس آدمی سے نفرت نہیں کرتا بلکہ اسے ایک مریض سمجھ کر اس پر ترس کھاتا ہے (بعینہ جیسے ہم کسی جسمانی معذور کو دیکھ کر، ترس کھاتے ہیں)- عوام کی بات اور ہے مگر کوئی  معالج، کسی مریض یا معذور سے نفرت نہیں کرسکتا-

زیرنظر مضمون میں ہم چونکہ صرف ہم جنسی کے موضوع پرفوکس کیے ہیں تو آگے صرف نفسیاتی جنسی مریضوں کی بات کریں گے یعنی لوطی اور زنخا-(یہ الگ الگ اصناف ہیں)-

اس بارے مزید گفتگو اگلی قسط میں ان شاء اللہ-

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *